1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

قرآنی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآنی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت
    پہلی آیت:
    ’’واذ قالت الملائکۃ یٰمریم ان اﷲ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیہا فی الدنیا والآخرۃ (آل عمران:۴۵)‘‘
    {اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم بے شک اﷲتعالیٰ تم کو خوشخبری سناتا ہے۔ اپنے ایک کلمہ کی (یعنی بچے کی) اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے جو دنیا میں بھی صاحب عزت ووجاہت ہے اور آخرت میں بھی۔}
    اس آیت میں اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کا ذکر ہی نہیں کیا۔بلکہ اس کی خوشخبری دی۔ اب یہ وجاہت وہ وجاہت وعزت تو ہے نہیں جو دنیاداروں کو عام طور پر حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ خاص کر ذکر انعام واکرام کے موقعہ پر؟
    روحانی وجاہت بھی مراد نہیں ہے۔ وہ تو حضرت مریم علیہا السلام کو لفظ کلمہ سے اور اُخروی وجاہت سے معلوم ہوسکتا تھا۔ وجیہاً فی الدنیا کے بیان کا کیا مقصد ہے؟ پھر اﷲتعالیٰ کی دی ہوئی عزت ووجاہت معمولی عزت ووجاہت بھی نہیں ہوسکتی جو خاص طور پر بطور نعمت وبشارت کے ہو۔
    2513اب ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلی عمر میں دنیوی وجاہت تو حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ یہود کی مخالفت نے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ لازماً اس سے وہی وجاہت مراد ہے جو نزول کے بعد ہوگی۔ اس وقت تمام اہل کتاب بھی آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ ساری دنیا مسلمان ہو جائے گی۔ وہ چالیس سال تک دنیا بھر میں شریعت محمدیہ کی روشنی میں دین کی خدمت کریں گے۔ بیوی اور اولاد بھی ہوگی۔ اس سے بڑھ کر دنیوی وجاہت کیا ہوسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں مرزائی حوالہ جات بھی ملاحظہ ہوں۔
    ۱… رسالہ (مسیح ہندوستان میں ص۵۱، خزائن ج۱۵ ص۵۳) میں مرزاجی کہتے ہیں:
    ’’دنیا میں مسیح علیہ السلام کو اس زندگی میں وجاہت، عزت، مرتبہ، عظمت وبزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی، اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرودیس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی۔ بلکہ غایت درجہ تحقیر کی گئی۔‘‘
    ۲… مولوی محمد علی لاہوری (امیر جماعت لاہوری مرزائی) نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ:
    ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود بیت المقدس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔‘‘
    (تفسیر بیان القرآن جلد نمبر۱ ص۲۱۱)
    ۳… مرزاجی کو جب تک خود عیسیٰ ابن مریم بننے کا شوق نہیں چرایا تھا تو خود انہوں نے بھی (براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) میں لکھا:
    ’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلّہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے دوبارہ آنے سے ظہور میں آئے گا۔‘‘
    پس مسلمانوں کے اس معنی کو مانے بغیر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آکر دنیوی جاہ وجلال کے مالک ہوں گے چارہ ہی نہیں ہے۔ اس کے سوا سری نگر میں کسی 2514وجاہت کی بات کسی مفسر یا مجدد کے قول سے مرزائی ثابت نہیں کر سکتے۔

    دوسری آیت:
    ’’فلما احسّ عیسیٰ منہم الکفر قال من انصاری الیٰ اﷲ قال الحواریّون نحن انصار اﷲ آمنا باﷲ واشہد بانا مسلمون ربنا اٰمنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاہدین ومکروا ومکراﷲ واﷲ خیر الماکرین (آل عمران:۵۲تا۵۴)‘‘
    {پھر جب عیسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کی طرف سے انکار محسوس کیا فرمایا کون کون اﷲ کی راہ میں میرے مددگار ہوں گے۔ حواریین نے کہا ہم اﷲ کے دین کی مدد کریں گے۔ ہم اﷲ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو آپ نے نازل کیا اور پیغمبر کی ہم نے اطاعت کی تو ہم کو گواہوں میں لکھ دے اور انہوں (یہودیوں) نے تدبیر کی اور اﷲ نے بھی تدبیر کی اور اﷲتعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (تمام مدبروں سے بڑھ کر)}
    اس آیت میں اﷲتعالیٰ نے بتایا کہ یہودیوں نے تدبیر کی اور ہم نے بھی تدبیر کی اور ہماری تدبیر سے کس کی تدبیر بہتر ہوسکتی ہے؟
    یہودیوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرا کر سولی پر چڑھادیں کہ بقول مرزاجی تورات کی تعلیم کے مطابق (معاذ اﷲ) وہ لعنتی ہو جائیں۔
    اﷲتعالیٰ کی تدبیر یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتے کے ذریعے آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شکل وصورت کے مشابہ ایک اور آدمی کو کر دیا کہ جس نے جاسوسی کر کے آپ کو پکڑوا کر سولی دلانی تھی۔
    چنانچہ وہی (جاسوس) سولی پر چڑھایا گیا۔ اس کا سارا واویلا فضول گیا۔ سب نے اس کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا۔ وہ لوگوں کو پاگل سمجھ رہا تھا کہ مجھ بے گناہ کو کیوں قتل کر 2515رہے ہیں اور لوگ اس کو پاگل سمجھتے اور کہتے تھے کہ اب موت سے بچنے کے لئے یہ پاگل بنتا ہے۔ اب آپ مرزاجی کی قابلیت کی داد دیں کہ تورات کی تعلیم یہ تھی کہ جو سولی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ کیا کوئی بے گناہ سولی پر لٹکائے جانے سے خدا کے ہاں لعنتی ہوسکتا ہے؟ تورات میں بھی گنہگار اور مجرم آدمی کا ذکر ہے۔ بے گناہ تو کتنے پیغمبر خود قرآن کے ارشادات کے مطابق قتل کئے گئے جو شہید ہوئے۔
    ----------
    [At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)]
    (اس موقع پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے صدارت چھوڑ دی۔ جسے مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)
    ----------
    مولانا عبدالحکیم: مرزاجی کی دوسری قابلیت کی بھی داددیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گرفتار ہوئے۔ ان کے منہ پر (معاذ اﷲ) تھوکا گیا۔ طمانچے مارے گئے۔ سولی پر چڑھائے گئے۔ میخیں ٹھوکی گئیں۔ خوب مذاق اڑایا گیا اور وہ چیخ چیخ کر خدا کو پکارتے رہے اور آخر کار ان کو مقتول سمجھ کر اتار دیا گیا۔ بھلا یہ خدا کی تدبیر تھی! جو بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اس طرح تو یہود کی تدبیر کامیاب ہوئی اور بقول مرزاجی کے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہر طرح ذلیل کیاگیا اور جو یہودی چاہتے تھے وہ کر گزرے۔ حتیٰ کہ نصرانیوں کو بھی یقین دلادیا کہ ہم نے یسوع مسیح کو قتل کر دیا۔ مرزاجی کہتے ہیں کہ خدا کی تدبیر یہ ہوئی کہ جان نہیں نکلنے دی۔
    کیا یہی وہ تدبیر تھی کہ جس کو قیامت میں اﷲتعالیٰ بطور احسان کے جتلائیں گے؟ پس معلوم ہوا کہ جو مسلمان سمجھے ہیں وہ حق ہے۔
    اس آیت کریمہ کے ضمن میں مجددینؒ نے کیا لکھا ہے وہ سن لیجئے۔
    ۱… حضرت مجدد صدی ششم امام فخرالدین رازیؒ نے (تفسیر کبیر ص۶۹،۷۰، ج۴ جز نمبر۸، آل عمران:۵۴) میں لکھا ہے کہ یہود کی تدبیر تو قتل کی تیاری تھی اور خدا کی تدبیر یہ تھی کہ جبرائیل 2516علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روزن سے آسمان کو اٹھالے گئے اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل پر کر دیا۔ جس کو یہودیوں نے سولی پر چڑھادیا۔ اس طرح اﷲتعالیٰ نے یہود کا شران تک نہ پہنچنے دیا۔

اس صفحے کی تشہیر