1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(قتل مرتد کا مسئلہ؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 9, 2015

  1. ‏ فروری 9, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قتل مرتد کا مسئلہ؟)
    جناب یحییٰ بختیار: وہ ’’مرتد‘‘ کے بارے میں کچھ آپ کہیں گے یا بعد میں کہیں گے؟
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی! میں ابھی عرض کرتا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ٹھیک ہے۔
    جناب عبدالمنان: قتل مرتد کے بارے میں میری گزارش یہ ہے کہ ہماری اردو زبان میں اس بارے میں جو سب سے اہم لٹریچر شائع ہوا وہ ۱۹۲۵ء میں اخبار ’’زمیندار‘‘ میں ایک سلسلۂ مضمون تھا۔ جتنے حوالے پیش ہورہے ہیں یا یہ جو بحث ہو رہی ہے، یہ سب اس کے بارے میں ہے۔ اس کے متعلق میں اتنی سی عرض کروں گا کہ اس وقت مولانا محمد علی جوہر نے ایک سلسلۂ مضامین اپنے اخبار ’’ہمدرد‘‘ دہلی میں اس کے جواب میں شائع کیا اور انہوں نے یہ ثابت کیا کہ مرتد کے قتل کے بارے میں قرآن مجید میں کوئی آیت نہیں ہے۔ چنانچہ خود ’’زمیندار‘‘ کے مضمون نے یہ تسلیم کیا۔ ’’بلا شبہ یہ صحیح ہے کہ…‘‘
    Mr. Chairman: I, I had already said that the witness should give his own view-point, his Jamaat's view-point, not what "Zamindar" had written. We are least concerned with what "Zamindar" had written in 1925.
    (جناب چیئرمین: میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ گواہ اپنا اور اپنی جماعت کا نقطہ نظر بیان کرے، نہ کہ زمیندار نے کیا لکھا۔ ہمیں اس سے قطعاً سروکار نہیں کہ ۱۹۲۵ء میں زمیندار نے کیا لکھا تھا)
    1791Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, he says that "Zamindar" is confirming his view.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ (گواہ) کہہ رہا ہے کہ زمیندار نے اس کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے)
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    Mr. Chairman: No, no, his own view should come. (جناب چیئرمین: نہیں،نہیں۔ اس کے اپنے نظریات آنے چاہئیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں. He said that…
    Mr. Chairman: His views are more important. We are here to get his views.
    (جناب چیئرمین: اس کے نظریات زیادہ اہم ہیں۔ ہم یہاں پر گواہ کے نظریات معلوم کرنے کے لئے بیٹھے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, he has recorded his views that there is no punishment for Murtad(مرتد)in Quran.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس نے اپنے نظریات ریکارڈ کروائے ہیں کہ قرآن میں مرتد کی سزا نہیں ہے)
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now he is confirming that.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ اب اس کی تائید کررہے ہیں)
    Mr. Chairman: No, we need no confirmation. We will believe whatever the witness says, we will believe his views. We don't need any support.
    (جناب چیئرمین: ہمیں تائید کی ضرورت نہیں۔ جو گواہ نے کہا ہے۔ ہم مانتے ہیں۔ ہم اس کے نظریات بھی مانتے ہیں۔ ہمیں کسی تائید کی ضرورت نہیں)
    جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں کہ آپ کے Views (نظریات)ریکارڈ ہو چکے ہیں کہ نہیں۔ وہ تو ریکارڈ کرا چکے ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔ نہیں، ہمارا نقطہ نگاہ یہ نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے۔
    جناب چیئرمین: آیت کے متعلق انہوں نے جواب نہیں دیا۔
    جناب مفتی محمود: آیت…
    جناب چیئرمین: …اور حدیث کے متعلق۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں، حدیث کا عرض کرتاہوں۔
    1792جناب مفتی محمود: آیت میں، ایک سوال یہ تھا اس وقت…
    جناب چیئرمین: جی۔
    جناب مفتی محمود: …کہ آیت جو ہے:
    ’’ومن یرتد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالہم فی الدنیا والآخرۃ واولئک اصحاب النار ہم فیہا خالدون‘‘
    اس آیت کو امام بخاری نے (صحیح بخاری ج۲ ص۱۰۲۲) پر باب ’’حکم المرتد والمرتدہ‘‘میں مرتد کے قتل کے سلسلے میں اس کو پیش کیا۔ اس پر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری اس آیت کو مرتد کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا جواب اگر عنایت فرما دیں۔
    جناب چیئرمین: اس میں کیا Views (نظریات) ہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: بخاری میں، اگر وہ پوری حدیث پڑھ دی جاتی، تو یہ مسئلہ اتنا صاف ہو جاتا کہ شاید اس میں بحث کی ضرورت نہ ہوتی۔ بخاری میں یہ مضمون موجود ہے کہ وہاں حربی کافر یا حربی مرتد کا ذکر، یعنی ایسا شخص جو حکومت وقت کا باغی ہوکر دوسروں سے جاملتا ہے،اور اس کی سزا یقینا یہی ہے۔مگر وہ سزا بغاوت کے ساتھ شامل ہے۔ اگر ایک شخص بغاوت نہیں کرتا۔ محض اپنا دین بدلتا ہے۔ اس کے لئے قرآن مجید میں کوئی سزا نہیں۔ اس کے لئے حضرت امام بخاری نے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی ہے۔ وہ حربی کافر کے علاوہ کی کوئی حدیث اگر مجھے دکھائیں تو میں کچھ عرض کر سکتاہوں۔
    Mr. Chairman: Next question.
    (جناب چیئرمین: اگلا سوال کریں)
    مولانا مفتی محمود: وہ بھی صحیح بخاری کی روایت ہے:
    ’’من بدّل دینہ فاقتلوہ‘‘ {جو اپنے دین کو بدل دے، اس کو قتل کردو۔}
    یہ (بخاری ج۲ ص۱۰۲۳، باب حکم المرتد والمرتدہ) کی روایت ہے۔
    1793جناب عبدالمنان عمر: قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: (عربی)
    سورۃ النساء کی آیت(۱۳۷) ہے کہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں۔ ’’ثم کفروا‘‘ پھر وہ کافر ہو جاتے ہیں۔ وہ اس ایمان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مسلمان کا مذہب چھوڑ دیتے ہیں۔ ’’ثم امنوا‘‘ پھر ایمان لے آتے ہیں۔مسلمان ہو جاتے ہیں۔ ’’ثم کفروا‘‘ پھر کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ثم…(عربی) پھر وہ اس کفر میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اب اگر مرتد ہونے کی سزا قتل ہے تو یہ سارا process تو ہو نہیں سکتا کہ پہلے مسلمان ہوئے، پھر کافر ہوگئے، پھر مسلمان ہوئے، پھر کافر ہو گئے۔ پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے اگر ارتداد کی سزا محض ارتداد کے نتیجے میں اس کو مار ڈالنا ہے تو وہ تو پہلے ارتداد کے بعد مر جائے گا۔ قتل ہو جائے گا۔ تو یہ کہنا کہ ارتداد کی سزا قرآن نے قتل قرار دی ہے۔ یہ تو خود قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے۔
    جناب چیئرمین: یہ تو مناظرے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ چھوڑیں اسے۔ It's (یہ تو تعبیر کاسوال ہے)a question of interpretation
    جناب یحییٰ بختیار: ہم اپنی بحث میں کرسکتے ہیں۔
    Mr. Chairman: It's a question of interpretation. ہاں Yes. Attorney-General, next question.
    (جناب چیئرمین: یہ تو تعبیر کا سوال ہے جی۔ اٹارجی جنرل صاحب! اگلا سوال کریں)
    Sardar Maula Bakhsh Soomro: (In audiable)
    جناب یحییٰ بختیار: وہ حدیث کا جواب فرمائیں۔
    جناب چیئرمین: دوسری حدیث جو مولانا مفتی محمود…
    Sardar Maula Bakhsh Soomro: (In-audiable) Sir, Because…some reply should come from there that you 1794can……some reply should come from there…
    (سردار مولابخش سومرو: اس طرف سے کوئی جواب آنا چاہئے…)
    جناب چیئرمین: نہیں، یہ سوا ل جو ہے(مداخلت) دوسری حدیث کے بارے میں…
    جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! جناب والا! میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اگر یہ حدیث انہی لفظوں میں ہے کہ ’’جس شخص نے اپنا دین بدل دیا اس کو قتل کردو۔‘‘ تو میرا سوال یہ ہے کہ جو شخص عیسائیت سے اپنا دین بدل کر مسلمان ہو جاتا ہے، ’’من بدّل دینہ‘‘ اپنے دین کو بدل دیتا ہے۔ اس کا دین عیسویت ہے۔ وہ اپنے دین کو بدل کر مسلمان ہو جاتا ہے۔ کیا اس کو قتل کر دیا جائے گا؟ یہ بات ہی غلط ہے۔
    مولانامفتی محمود: ’’من‘‘ سے مراد مسلمان۔
    جناب عبدالمنان عمر: یہ’’من‘‘ کے معنی مسلمان توکسی جگہ نہیں ہیں۔ ’’من‘‘ کے ساری عربی زبان میں کہیں یہ معنی نہیں کہ…’’من‘‘معنیٰ،’’من‘‘ کے ’’معنی کون۔‘‘
    Mr. Chairman: Next question by Attorney- General. That's all.
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب!اگلا سوال کریں۔ یہ کافی ہے)
    جناب یحییٰ بختیار: مولانا کچھ کہنا چاہتے ہیں۱؎۔
    جناب چیئرمین: نہیں، کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی ضرورت نہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ یہاں پر مولانا مفتی محمود صاحب کا مؤقف تھا کہ قرآن مجید میں ’’دین‘‘ سے مراد اسلام ہے۔ ان الدین عند اﷲ الاسلام۔ اس آیت کی رو سے حدیث کا ترجمہ یہ ہو گا۔ ’’من بدّل دینہ‘‘ جو شخص اپنے دین یعنی اسلام کو چھوڑ دے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس صفحے کی تشہیر