1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

قادیانی مربی ملک صباح کی پوسٹ ”واقعہ اسراء ہرگز جسمانی نہیں تھا“ کا جواب

حمزہ نے 'فیس بک قادیانی پوسٹس کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 25, 2015

  1. ‏ جون 25, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    قادیانی مربی ملک صباح کی پوسٹ ”واقعہ اسراء ہرگز جسمانی نہیں تھا“ کا جواب


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    آج مرزائی مربی صباح کی ایک پوسٹ نظر سے گذری، مناسب سمجھا کے اس کا جواب لکھ دو۔

    سب سے پہلے ہم مربی صباح کے منگھڑت اصول کی طرف آتے ہیں کہ اس کی کتنی حقیقت ہے۔ مربی صباح کہتے ہیں کہ :”اولیت بہر حال خد تعالیٰ کے فرمان کو ہے“۔ جی ہاں جناب اولیت خدا تعالیٰ کے فرمان کو ہے۔ آگے لکھتے ہیں ”اگر کسی مفسر، صحابی، حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب ہونے والی حدیث میں بھی کوئی ایسی بات لکھی ہو جو قرآن کریم کے منافی ہو تو ہم ہرگز اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرار نہیں دے سکتے“۔ جناب من! یہ ہمیں بھی منظور ہے کہ خلاف قرآن بات حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتی، لیکن کیسے پتا چلا گا کہ یہ بات خلاف قرآن ہے یا نہیں؟ کیا مرزائی عقل فیصلہ کرے گی کہ کون سی بات قرآن کے خلاف ہے اور کون سی نہیں؟ یا وہ شارحین، مجددین، مفسرین جن پر آپ لوگ بھی متفق ہو ان کی بات سند مانی جائے گی؟ یقیناً سلف کی بات مقدم ہو گی۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آئی ہے تو سن لیں کہ احادیث صحیحہ ہرگز قرآن مجید کے خلاف نہیں ہیں، اگر کہیں یہ آپ کو خلاف نظر آتی ہیں تو اس میں آپ کا قصور اور آپ کی سوچ کا قصور ہے، جہالت کا قصور ہے۔ کتب اصول حدیث و شرح احادیث کو پڑھیں انشاء اللہ آپ کے ہر شبہات کا جواب وہیں مل جائے گا۔ اور حیرت ہے وقت آنے پر آپ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے قول(حالانکہ یہ بھی ثابت نہیں کہ وہ انہیں کا قول ہے)کو ”حدیث رسول“ بھی کہہ دیتے ہیں جس کی سند ہے ہی ضعیف اور ان احادیث کو جو صحیح ثقہ راویوں سے ہم تک پہنچیں ان کو ریجیکٹ کر دیتے ہو جن کو سلف امت نے صحیح قرار دیا اور ان پر عمل واجب قرار دیا۔ یہ دہرا معیار صرف اور صرف اس لئے کہ بشکر خدا مسلمانوں کا وہی دین ہے جس پر خیر القرون تھے اور وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت مانتے ہوئے اس پر عمل کرتے تھے اور ان کی تفاسیر مرزائیت کے لئے زہر قاتل ہیں اس لئے مرزائی ان سے جان چھڑاتے ہیں۔

    مرزا قادیانی اصول تفاسیر لکھتے ہوئے دوسرا معیار لکھتا ہے:
    ”دوسرا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی تفسیر ہے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کے معنے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم تھے ۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلادغدغہ قبول کرؔ ے نہیں تو اُس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی“۔(روحانی خزائن جلد ۶- بَرَکاتُ الدُّعا: صفحہ 18)
    اور مرزائیت کا پورا جسم ہی الحاد بن چکا ہے۔ باتفاق امت بعد از حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے قرآن کو بہترین سمجھا۔ اس لئے جو قرآن کی تفسیر جو صحیح سند کے ساتھ ان سے ثابت ہو جائے مسلمان کے لئے لازم ہے کہ اس پر خاموشی اختیار فرما لے۔ خود مرزا قادیانی لکھتا ہے:
    ”تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے ۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علمِ نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا اُن پر بڑا فضل تھا اور نصرتِ الٰہی اُن کی قوتِ مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ اُن کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا“۔(حوالہ ایضاً)
    اور سلف کی تفاسیر کے متعلق مرزائی مربی صباح ظفر کا یہ قول کہ ان کی تفاسیر حجت نہیں ان کے فعل کے خلاف ہے۔ اسی پوسٹ میں مرزائی مربی ہم پر تفاسیر کو حجت کر رہے ہیں۔ اور مرزا قادیانی نے بھی لکھا تھا:
    ”کیونکہ سلف خلف کے لئےؔ بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنیوالی ذرّیت کو ماننی پڑتی ہیں“۔(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 293)

    اب ذرا مربی صباح کے دلائل کی طرف آتے ہیں۔

    قرآن مجید سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 60:
    وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةًo
    اور اس کا ترجمہ مربی صباح یوں کرتے ہیں:
    ”اور ہم نے اس خواب کو جو ہم نے تجھے دکھائی تھی محض لوگوں کیلئے ایک آزمائش بنایا تھا“۔

    بہت خوب! قارئین ہم اس سے پہلے کے اس آیت کی تفصیل میں جائیں مرزائی عقیدہ بمتعلق معراج واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مربی صباح اسی عقیدہ کی ترجمانی کر رہے ہیں جو مرزا قادیانی کا تھا یا کسی اور کے عقیدہ کی۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

    ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہیئے. ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسبؔ استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے سو درحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے. میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفٰی اور اجلٰی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے“۔(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 126)

    قارئین مرزا قادیانی کی اس تحریر کے الفاظ ” نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہیئے“ اور ” میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا“ پر غور فرمائیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ مربی صباح نے جو آیت پیش کی ہے وہ وہی عقیدہ بیان کر رہی ہے جو مرزا قادیانی کا تھا؟ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی معراج کو ایک کشف بتا رہا ہے اور مربی صباح ایک خواب۔ مرزا قادیانی نے کشف کی تعریف یوں کی ہے:
    ”کشف کیا ہے اسی بیداری کے ساتھ کسی عالم اور عالم کا تداخل ہو جاتا ہے اس میں حواس کے معطل ہونے کی ضرورت نہیں دنیا کی بیداری بھی ہوتی ہے اور ایک عالم غیوبت بھی ہوتا ہے یعنی حالت بیداری ہوتی ہے اور اسرارِ غیبی بھی نظر آتے ہیں“۔(ملفوظات جلد 3 صفحہ 261 پانچ جلدوں والا ایڈیشن)
    یعنی کشف حالت بیداری میں ہوتا ہے خواب میں نہیں۔ اس لئے سب سے پہلا ہمارا مطالبہ مربی صباح سے یہ ہے کہ وہ دلیل پیش کی جائے جو اس عقیدہ کے مطابق ہو۔

    اس آیت کی ذیل میں مربی صباح نے ایک لفظ ”الرؤیا“ پر زور دیتے ہوئے معراج کو خواب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ: ”اگر آپ ثابت کر دیں کہ الرؤیا کا لفظ ظاہری سفر کے لئے بولا جا سکتا ہے تو میں ابھی اور اسی وقت اپنا موقف چھوڑ دوں گا“۔ آئیے دیکھتے ہیں ”الرؤیا“ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔

    الرؤیا کا عام استعمال خواب کے دیکھے کے لئے ہوتا ہے، مگر لغت عرب میں الرؤیا بیداری میں دیکھنے کے لئے بھی مستعمل ہے۔ علامہ ابن منظور رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب لسان العرب(زہن میں رہے یہ کتاب مرزا قادیانی کی پسندیدہ لغت عرب تھی)میں فرماتے ہیں:
    وَقَدْ جَاءَ الرُّؤْيا فِي اليَقَظَة“۔(لسان العرب جلد 14 صفحہ 297 مطبوعہ دار صادر بیروت)یعنی ”بلاشبہ ”الرُّؤْیا“ حالت بیداری میں مشاہدے کے لئے بھی آتا ہے“۔مزید یہ کہ صاحب لسان نے اس معنی کے ثبوت میں قرآن مجید کی یہی آیت پیش فرمائی ہے۔(حوالہ ایضاً)
    اس معانی کے ساتھ مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہو گا: اور ہم نے اس نظارہ کو جو تمہیں دکھایا گیا لوگوں کے لئے آزمائش بنایا۔ اور یہی صحیح ہے، روایات صحیحہ اسی پر دلالت کرتی ہیں۔ لیں مربی صباح صاحب! ہم نے لغت کی رو سے ثابت کر دیا کہ الرؤیا ظاہری سفر پر بھی بولا جا سکتا ہے۔ اب اپنے کفریہ عقیدہ سے باز آ جائیں۔

    مربی صباح نے الرؤیا بمعنی ”خواب“ قرآن مجید سے ثابت کیا ہے۔ جناب ہمیں اس پر اختلاف ہی نہیں کہ الرؤیا بمعنی خواب نہیں ہوتا۔ بات تو تب بنتی جب آپ الرؤیا بمعنی ”کشف“ قرآن سے ثابت کرتے اور ہمیں چیلنج کرتے کہ ہم الرؤیا کا تیسرا معنی قرآن مجید سے ثابت کریں، اس کے بغیر آپ کی سعی بیکار ہے۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ جن کے متعلق مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ: ”حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 225)اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

    قال: شيء أُرِيَه النبی صلى الله عليه وسلم فی اليقظة، رآه بعينه حين ذُهِبَ به إلى بيت المقدس“۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 464 الرقم:3500 مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ تحقیق شاکر)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ مذکورہ آیت کی وضاحت میں فرماتے ہیں کے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات بیداری کے عالم میں چشم سر سے دکھائی گئیں۔

    یہی روایت ”وَلَيْسَتْ بِرُؤْيَا مَنَامٍ“(اور اس سے ہرگز خواب کا نظارہ مراد نہیں)کے الفاظ کے ساتھ معجم الکبیر میں بھی موجود ہے۔ نیز یہی روایت صحیح بخاری میں بھی تھوڑے مختلف متن سے درج ہے:

    قال هي رؤيا عين أريها رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به إلى بيت المقدس“۔(صحیح بخاری الرقم:3888)
    فرمایا کہ اس میں رؤیا سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے . جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کو معراج کی رات میں د کھایا گیا تھا جس میں آپ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا۔

    اس کی شرح میں امام کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    وإنما قيل الرؤيا بالعين إشارة إلى أنها في اليقظة أو إلى أنها ليست بمعنى العلم“۔(شرح کرمانی جلد 17 صفحہ 185 الرقم:4401 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)
    یعنی ”الرؤيا بالعين“ یہ اشارہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ یہ (الرؤيا) حالت بیداری میں تھا یا یہ بتا نے کے لیے کہ یہاں الرؤيا علم کے معنی میں نہیں ہے۔

    قارئین جب بات چلی ہے لغت کی تو امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی قول نقل کرنا بہتر ہو گا کیوں کہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے: ”علّامہ امام زمخشری لسان العرب کا مسلّم عالم ہے اور اس فن میں اسکے آگے تمام ما بعد آنے والوں کا سرِ تسلیم خم ہے ۔ اور کتبِ لغت کے لکھنے والے اس کے قول کو سند میں لاتے ہیں ۔ جیسا کہ صاحب تاج العروس بھی جابجا اس کے قول کی سند پیش کرتا ہے“۔(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ382)
    امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:

    تعلق بِهَذِهِ الْآيَة من قَالَ: كَانَ الْإِسْرَاء فِي الْمَنَام، وَمن قَالَ كَانَ الْإِسْرَاء فِي الْيَقَظَة فسر الرُّؤْيَا بِالرُّؤْيَةِ“۔(عمدۃ القاری جلد 17 صفحہ30 الرقم:3888 مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت، تفسیر کشاف جلد 2 صفحہ 674تا675 مطبوعہ دار الکتاب العربی بیروت)
    امام ذمخشری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں (بنی اسرائیل 60) اس آیت کا تعلق اُس معراج سے ہے جو نیند میں ہوئی اور جنہوں نے معراجِ بیداری (جو کہ ہمارا موضوع ہے) پر استدلال کیا ہے انہوں نے الرؤیا کو بمعنی الرویۃ لیا ہے۔

    الغرض امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی الرؤیا بمعنی جاگتی آنکھوں کے دیکھنے پر اختلاف نہیں۔ یہاں یہ بات زہن میں رہے کہ بعض سلف کے نزدیک معراج کئی مرتبہ ہوئی جن میں سے ایک مرتبہ جسمانی تھی اور باقی روحانی تھیں۔ اور امام زمخشری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

    مربی صباح آپ نے تفاسیر کے نام تو لکھ دیئے کہ فلاں فلاں تفسیر میں اس آیت سے واقعہ معراج پر استدلال کیا گیا ہے۔ کاش کبھی ان کو کھول کر پڑھ بھی لیا ہوتا تو شاید آپ کے دل کا کفر ٹوٹ جاتا۔ میں ایک دو تفاسیر پیش کرتا ہوں باقی اہل تحقیق خود مطالعہ کریں۔

    تفسیر ابن کثیر میں ہے:
    فَإِنَّ العبد عبارة عن مجموع الروح والجسد، وقال تعالى أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا وقال تَعَالَى: وَما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْناكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ (الاسراء: 60)قال ابن عباس: هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةُ أسري به... وَقَالَ تَعَالَى: مَا زاغَ الْبَصَرُ وَما طَغى (النجم17) وَالْبَصَرُ مِنْ آلَاتِ الذَّاتِ لَا الرُّوحِ، وَأَيْضًا فَإِنَّهُ حُمِلَ عَلَى الْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ بَيْضَاءُ بَرَّاقَةٌ لَهَا لَمَعَانٌ، وَإِنَّمَا يَكُونُ هَذَا لِلْبَدَنِ لَا لِلرُّوحِ لِأَنَّهَا لَا تَحْتَاجُ فِي حَرَكَتِهَا إِلَى مَرْكَبٍ تَرْكَبُ عَلَيْهِ“۔(تفسیر ابن کثیر جلد 5 صفحہ 40 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

    ”عبد کا اطلاق روح اور جسم دونوں کے مجموعے پر آتا ہے ۔ پھر اسری بعبدہ لیلا کا فرمانا اور وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس کی تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا فرماتے ہیں کہ یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا... (بخاری) خود قرآن فرماتا ہے ما زاغ البصر وما طغی(النجم17) نہ تو نگاہ بہکی نہ بھٹکی ۔ ظاہر ہے کہ بصر یعنی نگاہ انسان کی ذات کا ایک وصف ہے نہ کہ صرف روح کا ۔ پھر براق کی سواری کا لایا جانا اور اس سفید چمکیلے جانور پر سوار کرا کر آپ کو لے جانا بھی اسی کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ جاگنے کا اور جسمانی ہے ورنہ صرف روح کے لئے سواری کی ضرورت نہیں “۔

    اسی طرح تفسیر خازن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قول نکل کر صاحب تفسیر فرماتے ہیں:
    وهو قول سعيد بن جبير والحسن ومسروق وقتادة ومجاهد وعكرمة وابن جريج وغيرهم. والعرب تقول: رأيت بعيني رؤية ورؤيا“۔
    ”کہ سعید بن جبیر، حسن بصری،مسروق بن الاجداع، قتادہ، مجاہد، عکرمہ ابن جریر وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور عرب کہتے ہیں رَأَيْتُ بِعَيْنِي رُؤْيَةً وَرُؤْيَا میں نے اپنی دونوں آنکوں سے دیکھا ، دیکھنا“۔

    اسی طرح دیگر تفاسیر میں بھی یہی بیان ہے۔

    مربی صباح صاحب فرماتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ میں اسے رؤیا بنایا ہی اس لئے تھا کہ یہ لوگوں کے لئے آزمائش بنے۔ اگر یہ ایک ظاہری سفر ہوتا تو اس پر اعتراض کیونکر ہوتا؟“۔

    سبحان اللہ! مربی صباح کے نزدیک اگر کوئی شخص مکہ سے بیت المقدس ایک رات میں چلا جائے تو اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا، مگر وہی شخص اگر خواب میں یہی مسافت طے کرتا ہے اس پر ہی اعتراض ہو گا۔ حالانکہ ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ خواب میں کسی خاص دوری کو طے کرنا ممکن ہے جو بیداری میں نہیں کی جا سکتی اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں بنتا، کیونکہ بالآخر یہ ہے تو خواب ہی۔ ہاں اگر کوئی شخص وہی دوری بیداری میں طے کرے تو بضرور اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟ وغیرہ۔ مگر قادیانی فہم! اللہ کسی کو نہ عطا فرمائے۔ مربی صباح سے ہم گذارش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس سوال کا جواب دیں کے چلیں کفار تو منکرین تھے ہی مگر وہ لوگ جو پہلے ہی مسلمان تھے اور دن رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کو بھی مانتے تھے، جبریل امین کا آسمان سے آنا بھی مانتے تھے ان کے لئے معراج کے بیان میں کیا آزمائش تھی؟

    بڑھیا والی حدیث جو امام بیہقی نے اپنی کتاب میں نقل کی وہ ضعیف ہے۔ بالفرض اگر وہ صحیح بھی ہو تو بھی کیا عجب؟ اگر دوران معراج کوئی واقعہ ایسا تھا جو تاویل طلب ہو تو اس میں غلط ہی کیا ہے؟ اور معراج تو تھی ہی معجزۃ، اس لئے اس کو منطق پر جانچنا ہی غلط ہے۔
    [​IMG]
    قرآن مجید، احادیث صحیحہ، قول صحابہ و سلف سے معراج کی حقیقت اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    Tags:
    Waqia Israa Aur Mairaj - Ruhani Yah Jismani
    • Like Like x 3
  2. ‏ جون 25, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    گریٹ ورکنگ
    • Like Like x 1
  3. ‏ جون 25, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آپ کی یہ پوسٹ فیس بُک پوسٹس کے سیکشن سے نکال کر فیس بُک قادیانی پوسٹس کے جوابات والے سیکشن میں منتقل کر دی گئی ہے۔
    • Like Like x 2
  4. ‏ جون 25, 2015 #4
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جزاک اللہ خیر
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر