1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی فرق نہیں)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 8, 2015

  1. ‏ فروری 8, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی فرق نہیں)
    جناب یحییٰ بختیار: تو اب تو بالکل بات صاف ہوگئی۔ صاحبزادہ صاحب! آپ میں اور ربوہ میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ غیر شرعی نبی تھا، شریعت والا نہیں تھا۔
    جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں گزارش کرتاہوں، مجھے علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے سامنے کیا بیان دیاہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کہ غیر شرعی، امتی۔
    جناب عبدالمنان عمر: دیکھو جی، میں عرض کرتاہوں کہ میرے سامنے ان کا پچھلا پچاس سال کالٹریچر ہے۔ میں اس کی روشنی میں عرض کرتاہوں، وہ غیر شرعی نبی بمعنی محدث نہیں مانتے۔ میں نہیں جانتا یہاں ان کا کیا Stand (مؤقف) ہے۔ جو ان کا گذشتہ پچاس سال کا Stand (مؤقف) …
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس معنی میں جیسے حکیم نور الدین صاحب نے فرمایا…
    جناب عبدالمنان عمر: مجدد۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’مجدد‘‘ توکہا…
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں، مجدد۔
    جناب یحییٰ بختیار: …ساتھ ہی کہا’’بغیر شریعت کے، بغیر شریعت کے نبی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بغیر…لغت کے لحاظ سے، لغوی معنوں میں۔ پورے لفظ لیجئے ناں ان کے۔
    1774جناب یحییٰ بختیار: لغوی معنی، وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آنحضرتa کی امت سے تھے۔ ان کے قدموں میں بیٹھے۔‘‘…
    Mr. Chairman: Let us get out of this lughat (لغت). We have please,نہیں، نہیںgot so many lughats in our library. (Interruption) confine yourself. No further question, no further answers about the lughat or the double meaning or three meanings or four meanings.
    (جناب چیئرمین: ہم لغت سے باہر آ جائیں۔ ہماری لائبریری میں کئی ایک لغات ہیں۔ آپ موضوع کے اندر رہیں لغت کے بارے میں یا الفاظ کے دو معانی، تین معانی یا چار معانی کے بارے میں کوئی مزید سوال و جواب نہیں ہوگا)
    جناب یحییٰ بختیار: اچھاجی، یہ آگے پھر ایک اورحوالہ ہے کہ:
    ’’مولوی صاحب، حکیم نور الدین صاحب، خلیفہ اول قادیان، فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ حضرت مسیح (غلام احمد قادیانی صاحب) صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کومنسوخ قرار دیں توبھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے ان کو واقعی صادق اور من جانب اﷲ پایا ہے۔ تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے، وہی حق ہوگا۔‘‘ (سیرت المہدی ج۱ص۹۹، روایت نمبر۱۰۹)
    جناب عبدالمنان عمر: یہ کہاں فرمایا جی؟
    جناب یحییٰ بختیار: یہ، آپ کو اس کا علم نہیں ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: جناب!میں ان کی گیارہ کتابوں کو جانتاہوں۔ میرے علم میں ان کی گیارہ کی گیارہ کتابوں میں سے کسی جگہ یہ لفظ نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: کسی خط میں؟ کتاب نہ سہی کسی اور…
    جناب عبدالمنان عمر: میرے سامنے خط پیش کیا جائے کیونکہ خط ایک پرائیویٹ چیز ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ خط…
    جناب یحییٰ بختیار: کسی اور تحریرمیں ؟ نہیں، نہیں، کسی اورتحریر میں؟ آپ کے علم میں نہیں یہ بات؟
    1775جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بالکل۔ اگر کوئی خط ایسا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بس ٹھیک ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جب، بالکل۔
    جناب یحییٰ بختیار: اب آپ…
    جناب عبدالمنان عمر: Forged (جعلی) بھی چیزیں ہوتی ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہیں ناں، اسی واسطے میں پوچھتاہوں کہ آپ اتھارٹی ہیں اس پر، آپ جانتے ہیں۔
    اب یہ ایک حوالہ ہے ’’الفرقان‘‘ ربوہ سے، کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ مگر انہوں نے Quote (پیش) کئے ہیں۔ آپ کے کچھ، جو پارٹی ہے، ان کے خیالات۔ وہ کہتے ہیں کہ:
    ’’ہم ذیل میں فریق لاہور کے اکابر کے وہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ سب خلافت ثانیہ سے اپنی علیحدگی یعنی ۱۹۱۴ء تک سیدنا حضرت مسیح موعود کی نبوت پراسی طرح اعتقاد رکھتے تھے، جس طرح جماعت احمدیہ رکھتی ہے…‘‘
    اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’جناب مولوی مودودی صاحب نے تحریر کیا… میں Quote (پیش) کرتاہوں:
    ’’ہمارے نبیﷺخاتم النّبیین ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی، خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا، آ نہیں سکتا کہ اس کو بدوں وساطت آنحضرتﷺ کے نبوت ملی ہو۔‘‘
    پھر مولوی صاحب آگے بیان کرتے ہیں:
    ’’مخالف کوئی ہی معنی کرے۔مگر ہم تو اس پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کرتا ہے۔ صدیق بنا سکتا ہے اور شہداء کو صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے۔ مگر چاہئے مانگنے والا۔1776ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا وہ صادق تھا۔ خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔ پاکیزگی کی روح اس میںکمال تک پہنچی ہوئی تھی۔‘‘
    یہ ہے ۱۹۰۸ء کا ’’الحکم‘‘ پہلے ۱۰؍مارچ ۱۹۰۶ء کا ’’الحکم۔‘‘ پھر ہے ۱۸؍جولائی ۱۹۰۸ء کا ’’الحکم۔‘‘
    پھر آگے مولوی کرم الدین آف بھیں کے مقدمہ میں بطور گواہی مولوی صاحب نے یہ حلفیہ بیان دیا…
    جناب عبدالمنان عمر: (ناقابل سماعت)
    جناب چیئرمین: ابھی، ابھی نہیں، وہ ختم کر لیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: مجھے یہ حوالے پڑھنے دیجئے۔ پھر آپ پھر دیکھیں کہ…انہوں نے اس زمانے کے اخبارات سے دیئے ہوئے ہیں، ’’الحکم ‘‘ سے:
    "There is another view of the matter according to Mohammadan theology. One who beleives a person claiming to be a Prophet is Kazzab. And this has been admitted by prosecution evidence. Now the complainant knew perfectly well that the first accused claimed that position…"
    First accussed was Mirza Sahib there:
    "…that positoin and notwithstanding that he believed the accused- notwithstanding that he believed the accused. Consequently, in religions terminology, the complainant was a Kazzab."
    ترجمہ: ’’اسلامی علم الکلام کے مطابق اس معاملہ کا ایک اور بھی پہلو ہے، اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مدعی نبوت و رسالت پرایمان لاتا ہے، کذاب ہے۔ یہ بات شہادت استغاثہ 1777میں تسلیم کی گئی۔ اب مستغیث مولوی کرم الدین نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی مرزا، حضرت مرزا صاحب) نے اس حیثیت( یعنی نبوت و رسالت) کا دعویٰ کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔‘‘
    اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں… خواہ وہ دعویٰ عدالت میں اس کا جھوٹا ہو…کہ مرزا صاحب نے… یہ ابھی کوئی مجازی بات نہیں ہے… ایسے ہی کہتے ہیں کہ:
    ’’مستغیث (مولوی کرم الدین) نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی مرزا صاحب) نے اس حیثیت (یعنی نبوت و رسالت) کا دعویٰ کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔ پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔‘‘
    کیونکہ ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے اور وہ ان کو سچا سمجھتے ہیں تو یہ جو ہے۔
    پھر ایک اور حوالہ ہے "Review of Religions"۱۹۰۴ء میں مولانا محمد علی صاحب نے اخبار "Pioneer" الہ آباد کے ایڈیٹر کو جواب دیا:
    ’’جس طرح اس نے ہندوستان کے متعلق یہ لکھا کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی…‘‘
    "Pioneer" نے یہ لکھا تھا مرزاصاحب کے دعویٰ کے متعلق ان کو کہ ’’ہندوستان کو کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ تو اس کے جواب میں کہتے ہیں:
    ’’جس طرح اس نے ہندوستان کے متعلق یہ لکھا کہ ہندوستان کو اس وقت کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔ اس طرح یہ بھی کسی اخبار میں شائع کرے کہ اس سے 1778۱۹۰۰ء سال پہلے ملک شام کو کسی اور نبی کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ ("Review of Religions"مارچ ۱۹۰۴ء ص ۴۶)
    پھر آگے، مولوی محمد علی صاحب آگے فرماتے ہیں، ہندوؤں کو مخاطب کرکے:
    ’’ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیاگیاتھا۔ وہ خدا کی طرف سے تھا اوراس کو ہندوستان کے مقدس نبی…مرزاغلام احمدقادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔‘‘
    نومبر ۱۹۰۴ء ص۴۱۱)"Review of Religions"(
    پھرآگے لکھا ہے کہ:
    ’’مولوی کرم الدین نے حضرت مسیح موعود اور حکیم فضل الدین صاحب پرمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کیاتھا۔ کیونکہ حضرت نے اپنی کتاب میں مولوی صاحب…‘‘ یہ اس کا میں ذکر کرچکاہوں، جو انہوں نے اس کو کذاب کہاتھا۔ آگے جی میں اور کچھ حوالے چھوڑ دیتاہوں۔
    پھر بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب کی اس تقریر کی طر ف آپ کی توجہ دلاتاہوں۔ جو ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ کو لکھتے ہیں۔ یہ ہے جی ’’الحکم ۱۴؍مئی ۱۹۱۱ئ‘‘
    ’’بٹالوی نے اپنے روزنامہ ’’پیسہ اخبار‘‘ والے مضمون میں ذکرکیاتھا کہ خواجہ صاحب نے پھر بریکٹ میں نعوذ باﷲ حضرت مسیح موعود کے نبی یا رسول ہونے سے انکار کیا ہے۔ مگر بٹالوی کے لئے یہ خبر جانفرسا ہوگی کہ ان کے گھر بٹالہ ہی میں خواجہ صاحب نے اپنے لیکچر میں صاف طور پر بیان کیا اور بٹالہ والوں کو خطاب کر کے کہاکہ تمہارے ہمسایہ میں ایک نبی اور رسول آیا ہے، تم خواہ مانو یا نہ مانو۔‘‘
    1779یہ ان کی تقریر کا حوالہ دے رہے ہیں’’الحکم۱۹۱۱ء میں۔‘‘
    پھر اسی طرح آپ کے، کئی اور اکابرین کے باربار یہ حوالے انہوں نے دیئے ہیں۔ جن کویہاں دے کر میں وقت ضائع نہیں کرناچاہتا کہ وہ مرز اصاحب کو نبی اور رسول سمجھتے تھے…
    Mr. Chairman: What is the question?
    (جناب چیئرمین: کیا سوال ہے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: …اب ایک حلفیہ شہادت ہے، اس کی طرف بھی آپ کی توجہ دلاتاہوں: ’’نبوت حضرت مسیح کے متعلق جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ۔ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری لاہوری کی حلفیہ شہادت۔
    ہم ذیل میں خود شیخ عبدالرزاق صاحب کی دستخطی حلفیہ گواہی درج کرتے ہیں جو ۲۴؍ اگست ۱۹۳۵ء کو شیخ صاحب مذکور نے حضرت ناظر صاحب تالیف و تصنیف کے جواب میں تحریر کی ہے۔ لکھتے ہیں:
    ’’میں حضرت صاحب(یعنی مسیح موعود علیہ السلام) کے زمانہ کا احمدی ہوں۔ میں نے ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تھی۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس طرح کا نبی یقین کرتاتھا اور کرتا ہوں جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں۔ نفس نبوت میں، میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا اور نہ اب کرتاہوں۔ لفظ استعارہ اورمجاز اس وقت میرے کانوں میں کبھی نہیں پڑے تھے۔ بعد میں حضور علیہ السلام کی کتب میں یہ الفاظ جس معنی میں میں نے استعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہیں۔ وہ میرے عقیدے کے منافی نہیں۔ ان ہی معنوں میں اب بھی حضور علیہ السلام (مرزا) کو… صحیح مجازی نبی 1780ہوں۔ یعنی شریعت جدید کے بغیر نبی، اور نبی a کا اتباع کی بدولت، حضور کی اطاعت میں فناہوکر، حضور کا کامل بروز ہوکر مقام نبوت کاحاصل کرنے والا نبی ہے۔ میرے اس عقیدے کی بنیاد حضرت مسیح کی تقاریر اور تحریرات اور جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔‘‘
    تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ آپ کا اور ربوہ کا بالکل ایک ہی عقیدہ ہے۔
    Mr. Chairman: What is the question? These are the references and on these references, what question Mr. Attorney-General bares
    (جناب چیئرمین: سوال کیا ہے؟ یہ حوالہ جات ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب! ان حوالہ جات پر کیا سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا؟)
    Mr. Chairman: These are the references, What is the definite question out of these?
    Mr. Yahya Bakhtiar: I say, does he deny these allegations, these statements?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں کہتاہوں کہ کیا گواہ ان الزامات سے انکاری ہے۔ ان بیانات سے انکاری ہے)
    Mr. Chairman: Yes, the first question.
    (جناب چیئرمین: جی ہاں، پہلا سوال تو یہ ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will give these copies to them. They will verify and, after the break, they can…
    (جناب یحییٰ بختیار: میںان کی نقول انہیں دے دوں گا۔ وہ ان کی تصدیق کر لیں اور چائے کے وقفے کے بعد…)
    Mr. Chairman: Yes, No. (1) I will ask the witness, whether these are admitted? If they are admitted…
    (جناب چیئرمین: جی ہاں، پہلی بات تو یہ ہے کہ گواہ اسے تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They have their "Review of religions."
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ یہاں ریویو آف ریلیجنز رکھتے ہیں)
    Mr. Chairman: …Then the explaination, And if they are not admitted, that's all right, We will be going for a…
    (جناب چیئرمین: تو پھر وضاحت کریں اور اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر ٹھیک ہے…)
    جناب یحییٰ بختیار: (گواہ سے)آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف مجازی Sense (معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟
    1781Mr. Chairman: The Delegation…just minute, just a minute…
    (جناب چیئرمین: وفد صرف ایک منٹ، صرف ایک منٹ…)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھئے ناں…
    Mr. Chairman: The Delegation can look into all these references, We will break for fifteen minutes, Then they will reply about it, Yes.
    (جناب چیئرمین: وفد ان تمام حوالہ جات کو ملاحظہ کر سکتا ہے۔ ہم اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کریںگے اوراس کے بعد وہ ان کاجواب دیںگے)
    جناب یحییٰ بختیار: آپ ان کو دیکھ لیجئے! پندرہ بیس منٹ کے بعد…
    جناب چیئرمین: آپ ان کو دیکھ لیجئے! دس پندرہ حوالہ جات ہیں۔ You can look into them.... (آپ ان کو دیکھ لیجئے…)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کس Sense (معنوں) میں انہوں نے کہا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟
    Mr. Chairman: …then you can explain, the Delegation can explain.
    (جناب چیئرمین: …تب آپ وضاحت کر سکتے ہیں وفد وضاحت کر سکتاہے)
    جناب عبدالمنان عمر: (ناقابل سماعت)
    جناب چیئرمین: ہاں، آپ دیکھ لیجئے اسے ۔
    Mr. Chairman: The Delegation will keep sitting while the House is adjourned.
    (جناب چیئرمین: وفد تشریف رکھے، اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Let them have a cup of tea also, They can discuss it there.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ(وفد) چائے نوش کرلیں اوروہیں پر مشورہ بھی کر لیں)
    Mr. Chairman: They can discuss, yes, they can discuss in the room.
    (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ وہ کمرے میں مشورہ کرسکتے ہیں)
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ بھی چائے پی لیجئے۔ وہاں ڈسکس کر لیجئے۔ اس پر غور کیجئے۔
    Mr. Chairman: Yes. At 12: 15.
    (جناب چیئرمین: ہاں جی،12:15پر)
    1782(The Delegation left the Chamber)
    (وفد ہال سے چلاگیا)
    Mr. Chairman: The House is also adjourned to meet again at 12:15.
    (جناب چیئرمین: ایوان کا اجلاس ملتوی کیاجاتاہے۔ دوبارہ 12:15 بجے ہوگا)
    ----------
    [The special Committee adjourned for tea break re-assemble at 12:15 p.m.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کرنے کے لئے ملتوی ہوا پھر 12:15 پر شروع ہوگا)
    ----------
    [The special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman(Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد مسٹرچیئرمین(صاحبزادہ فاروق علی ) کی صدارت میں ہوا)
    ----------
    جناب چیئرمین: بلائیں ان کو۔ (Pause)
    میراخیال ہے کہ ایک گھنٹے میں ختم ہو جائے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: پونے دو تک…
    Mr. Chairman: We should try to.
    (جناب چیئرمین: ہمیں کوشش کرنی چاہئے)
    جناب یحییٰ بختیار: …یا شاید دو بجے، زیادہ سے زیادہ۔
    جناب چیئرمین: وہ لغت…ایک منٹ، ابھی نہ بلائیں…وہ لغت سے باہر تو نکلتے نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں ابھی ان کو چھوڑ رہاہوں۔
    Mr. Chairman: And he has clearly said کہ:"two meanings".
    ----------
    SUBMISSIOON OF WRITTEN REPLIES TO QUESTIONS
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will tell them whathever reply they have got to give…
    1783Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: …they may send it to you in writing. To some of these question, they want time.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ اسے تحریری طور پر بھجوا سکتے ہیں۔ وہ وقت چاہتے ہیں)
    Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
    ----------

اس صفحے کی تشہیر