1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(قادیانی، لاہوری گروپ)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 7, 2015

  1. ‏ فروری 7, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانی، لاہوری گروپ)

    تو یہ جو سوال تھا بڑا Pertinent، میں مختصر اس کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ وہ سوال بڑا صحیح تھا۔ تو میں، یہ نہیں کہ میرے بھائی میں وہ اِستعداد نہیں تھی۔ میں نے کہا کہ میں شاید اس کا مختصر جواب دے سکوں۔ تو جناب نے پوچھا کہ آپ نے کیا رنگ دیکھا مرزا بشیرالدین کی ڈکٹیٹرشپ کا، اور وہ سب جماعت نے ان کو Elect کیا۔
    تو حضور! مرزا صاحب کی وفات ہوئی، ۱۹۰۸ء میں۔ ۱۹۰۸ء سے ۱۹۱۴ء تک، جس میں حضرت مولانا نورالدین صاحب کی وفات ہوئی، ان چھ سال میں اِختلافات کی بنیاد رکھی جاچکی تھی۔ یہ نبوّت کا عقیدہ بھی اسی عرصے میں گھڑا گیا اور تکفیرالمسلمین کی طرف بھی مرزا صاحب، خلیفہ نہ ہونے کے باوجود مرزا محمود احمد صاحب مضامین لکھا کرتے تھے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب نے ایک دو دفعہ فرمایا کہ: ’’یہ کفر کا مسئلہ بڑا نازک ہے، ہمارا میاں ابھی سمجھا نہیں اس کو۔‘‘جس وقت اِنتخاب ہوا تو یہ صحیح ہے کہ اِنتخاب میں زور سے وہ خلیفہ منتخب ہوگئے۔ دھاندلی بھی ہوئی تھی۔ یہ صحیح بات ہے اور لوگوں نے مولانا نورالدین صاحب کی وفات کے آخری ایام میں، ان کے اعزّاء نے چکر لگاکے، سفر کرکے لوگوں کو تیار کیا تھا اور حضرت صاحب کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ان کا اِنتخاب بڑا آسان تھا۔ لیکن لاہوری جماعت کے عمائدین، مولانا محمد علی اور دُوسرے لوگ جماعت کے اِتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، وہ برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جماعت میں اِفتراق نہ ہو اور میاںصاحب کہتے تھے کہ: ’’ہم آپ کے عقیدے کے ساتھ متفق نہیں ہیں… یہ نبوّت اور تکفیر کا جو ہے… لیکن ہم جماعت کی وحدت چاہتے ہیں۔‘‘ تو مرزا صاحب نے پہلا کام… جو جناب کے سوال کا جواب ہے… ڈکٹیٹرانہ کیا، وہ یہ تھا کہ مرزا صاحب کی وصیت کے مطابق انجمن جو 1532تھی وہ متبوع تھی، انجمن حاکم تھی۔ حضرت مرزا صاحب نے وصیت یہ کی تھی کہ: ’’میرے بعد خدا کے خلیفہ کی جانشین یہ انجمن ہے۔ جو کثرتِ رائے سے انجمن فیصلہ کرے گی۔ وہ فیصلہ ناطق ہوگا۔‘‘ یہ حضرت مرزا صاحب کی وصیت تھی اور ۱۹۰۵ء میں ہی انہوں نے انجمن بنادی اور مولانا نورالدین صاحب کو اس کا صدر بنایا اور خود تمام معاملات سے الگ ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ: ’’جو انجمن کثرتِ رائے سے فیصلہ کرے گی وہ صحیح ہوگا؛ البتہ میری زندگی تک یہ نظام رہے کہ مجھے اِطلاع دی جایا کرے کہ یہ فیصلے ہوئے ہیں۔ شاید کسی فیصلے میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہو تو پھر میں آپ کو بتاؤں۔ لیکن میرے بعد ہر معاملے میں کثرتِ رائے سے یہ فیصلہ ہوگا۔‘‘ تو مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے پہلا کام یہ کیا، اپریل ۱۹۱۴ء میں، اس ریزولیوشن کو منسوخ کردیا۔

اس صفحے کی تشہیر