1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

فیصلہ عدالت عالیہ و دیگر شہادتیں

ضیاء رسول امینی نے 'شہر سدوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 21, 2015

  1. ‏ جون 21, 2015 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    فیصلہ عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور
    بہ نگرانی شیخ عبدالرحمٰن مصری، قادیان
    ڈپٹی کمشنر گورداس پور نے جو حکم شیخ عبدالرحمٰن مصری کی اپیل کے خلاف دیا ہے اس پر نظر ثانی کے لیے موجودہ درخواست ہے ۔ شیخ عبدالرحمٰن مصری نے مجسٹریٹ فسٹ کلاس کے حکم کے ماتحت 14 مارچ 1938 کو ضمانت حفظ امن طلب کی گئی تھی اور اس حکم کے خلاف ڈپٹی کمشنر نے 24 مئی 1938 کو اپیل کو مسترد کردیا تھا لہذا اب وہ عدالت ہذا میں نظر ثانی کی درخواست دے رہا ہے چنانچہ اس عدالت کے ایک فاضل جج نے حکومت کو حاضری کا نوٹس دیا۔
    موجودہ کاروائی کی تحریک کا اصل باعث وہ اختلاف ہے جو جماعت احمدیہ قادیان کے اندر رونما ہوا ہے درخواست کنندہ اس انجمن کا صدر ہے جو خلیفہ سے شدید اختلاف کے باعث علیحدہ ہو چکا ہے۔ درخواست کنندہ کے خلاف اصل الزام یہ ہے کہ اس نے دو پوسٹر شائع کیے۔ اولاََ پی اے اگزبٹ جو مورخہ 29 جون 1937 کو شائع ہوا ، اور ثانیاََ اگزبٹ پی جی جو 13 جولائی 1937 کو شائع کیا گیا ۔ ان پوسٹروں کے ذریعے درخواست کنندہ نے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ پوست بجائے خود قابل اعتراض نہیں۔ مدعی نے اگزبٹ پی جی میں ایک پیرا کی بنا پر اپنا دعویٰ قائم کیا ہے جو اس طرح شروع ہوتا ہے
    ''میرے عزیزو، میرے بزرگو، آپ نے اپنے ایک بے قصور بھائی ، ہاں اپنے اس بھائی کو جس نے محض آپ لوگوں کو ایک خطرناک ظلم کے پنجہ سے چھڑانے کے لیے اپنی عزت ،اپنے مال، اپنے ذریعہ معاش اور اپنے آرام کو قربان کردیا ہے''
    مدعی کا دارومدار اس پیرا پر بھی ہے جس کا خلاصہ یوں دیا جاسکتا ہے ''موجودہ خلیفہ میں ایسے عیوب ہیں کہ اسے معزول کرنا ضروری ہے اور میں نے اپنے آپ کو جماعت سے اس لیے علیحدہ کیا ہے تاکہ میں ایک نئے خلیفے کے انتخاب کے لیے جدوجہد کرسکوں''
    میری رائے میں متذکرہ بالا قسم کے بیانات بجائے خود ایسے نہیں ہیں کہ ان کی بنا پر کسی شخص کی حفظ امن کی ضمانت کی جائے مگر عدالت میں درخواست کنندہ نے ایک تحریر بیان دیا ہے ،جس کے دوران میں اس نے کہا ، '' موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے اس کام کے لیے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے ۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے''۔
    درخواست کنندہ نے آگے چل کر بیان کیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کو اس قسم کے گندے شخص سے آزاد کرائے۔ اب اگر اس پوسٹر کو جس کا خلاصہ میں نے اوپر بیان کیا ہے درخواست کنندہ کے بیان کی روشنی میں جو اس نے عدالت میں دیا ہے پڑھا جائے ، جیسا کہ بہت سے پڑھنے والے تو ان کا رنگ کچھ اور ہی ہوجائے گا اور میری رائے میں یہ امر قابل اعتراض ہوجاتا اور حفظ امن کی ضمانت کا متقاضی ہے۔
    ایک اور بھی امر ہے ۔مورخہ 23 جولائی کو خلیفہ نے ایک خطبہ دیا جو بعد میں یکم اگست کے اخبار ''الفضل'' میں جو کہ جماعت کا سرکاری پرچہ ہے،چھپا ہے(یہاں ایک بات یاد آگئی کہ 1974 کی اسمبلی کی کاروائی کے دوران مرزا ناصر صاف مکر گیا تھا کہ یہ ہمارا اخبار ہے ہی نہیں نہ جماعت سے اسکا کوئی تعلق ہے، یہ ہے ان قادیانیوں کی حالت کہ ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔راقم)۔ اس خطبہ میں جماعت سے علیحدہ ہونے والے شخصوں پر حملے کیے ہیں اور ایسے الفاظ ان کی نسبت استعمال کیے ہیں جن کی نسبت میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ منحوس (Unfortunate) اور افسوس ناک تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فخرالدین نے جو انجمن کا سیکرٹری تھا جس کے صدر شیخ عبدالرحمٰن مصری ہیں ،ان کا جواب لکھا جس میں اس نے کہا، '' اسی لیے تو ہم بار بار جماعت سے آزاد کمشن کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس کے روبرو تمام امور اور شہادتوں اور مخفی در مخفی حقائق پیش ہو کر اس قضیہ کا جلد فیصلہ ہوجائے کہ کس کا خاندان ''فحش کا مرکز'' یا بالفاظ دیگر وہ ہے جو خلیفہ نے بیان کیا''۔ اس بیان میں خلیفہ کے خطبہ کے بیان کی طرف اشارہ ہے جس میں اس نے اپنے دشمنوں اور مخرجین کے خاندانوں کے متعلق یہ کہا تھا '' ان میں سے حیا اور پاکیزگی جاتی رہے گی اور فحاشی کا اڈہ بن جائیں گے ''۔ میری رائے میں فخرالدین کے اس پوسٹر کا مطلب صاف اور واضح ہے اور ایسا ہی قادیان میں اس کا مطلب سمجھا گیا کیونکہ صرف دو دن بعد سات اگست کو ایک متعصب مذہبی مجنون نے فخرالدین کو مہلک زخم لگایا۔
    میاں محمد امین خان نے جو کہ درخواست کنندہ کا وکیل ہے اس امر پر زور دیا ہے کہ شیخ عبدالرحمٰن مصری اس آخری پوسٹر کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ واقعات یہ ہیں کہ انجمن ایک مختصر سی حیثیت رکھتی تھی ، جس کا صدر عبدالرحمٰن تھا اور سیکرٹری فخرالدین تھے ۔ اصل پوسٹر ہاتھ کا لکھا ہوا تھا جو اب دستیاب نہیں ہوسکتا البتہ اس کی نقل ایک کانسٹیبل نے کی تھی ، جس کا یہ بیان ہے کہ نیچے فخرالدین سیکرٹری مجلس احمدیہ کے دستخط تھے ، مگر اس امر کے برخلاف فخرالدین کے لڑکے نے اصل مسودہ پیش کیا ہے جو اس کے باپ نے اس کی موجودگی میں لکھا تھااور جس کے نیچے صرف اس قدر دستخط ہیں ، فخرالدین ملتانی
    میں کانسٹیبل کے بیان کو قابل قبول سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے جھوٹ کہنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ، جو وجہ صفائی کے گواہ میں پائی جاتی ہے۔ اس کا مقصد اپنے لیڈر کو چھڑانا ہے۔
    یہ امر کہ فخرالدین نے اصل مسودہ میں ''سیکرٹری'' کے الفاظ نہ لکھے تھے، ظاہر نہیں کرتا کہ صاف کردہ اور شائع کنندہ کاپی پر بھی یہ الفاظ نہیں لکھے گئے تھے۔ میری رائے میں شیخ عبدالرحمٰن پر بھی اس پوسٹر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے خصوصاََ اس بیان کے پیش نظر جو انہوں نے عدالت میں دیا ہے ۔ ان حالات میں مقامی حکام نے شیخ عبدالرحمٰن کے برخلاف جو کچھ کاروائی حفظ امن کی ضمانت کی ، کی وہ مناسب تھی۔ ایک ہزار روپیہ کی ضمانت کچھ بھاری ضمانت نہیں ہے اور یہ ضمانت دی جاچکی ہے اور نصف سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ، لہذا درخواست مسترد کی جاتی ہے ۔
    دستخط ، ایف ڈبلیو سکیمپ جج
    عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور
    مورخہ 23 ستمبر 1938
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شیخ مصری صاحب اور میر محمد اسماعیل
    مصری صاحب نے مؤلف کو بتایا کہ کہ جب انہوں نے اپنے صاحبزادے کے انکشاف پر مرزا محمود کے بارے میں تحقیقات شروع کی تو اس قدر الم انگیز واقعات سامنے آئے کہ وہ حیران رہ گئے اسی اثناء میں انہوں نے مرزا محمود کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو وہ کہنے لگے ''حضور سلسلے کا اتنا کام کرتے ہیں اگر تھوڑی بہت یہ تفریح بھی کرلیتے ہیں تو کیا حرج ہے'' (واہ واہ کیا خوب کہی ماموں۔ راقم)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شیخ صاحب اور قاضی اکمل
    شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں نے خلیفہ صاحب کی اہلیہ مریم کی موت کی تفصیلات کے بارہ میں ''پیغام صلح'' میں لکھنا شروع کیا اور یہ بتایا کہ اس کے ''رحم'' سے اس قدر پیپ خارج ہوتی تھی کہ مرنے کے بعد بھی بند نہیں ہوتی تھی اس لیے چار مرتبہ کفن تبدیل کیا گیا تو اس مضمون کی اشاعت کے بعد قاضی اکمل نے مجھے خط لکھا اور میری تصحیح کرتے ہوئے بیان کیا کہ چار نہیں بلکہ پانچ کفن تبدیل کیے گئے تھے۔ (یوں آتا ہے جب کوئی زیر عتاب آتا ہے۔راقم)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مولانا محمد اسماعیل غزنوی مرحوم کی تحقیق
    مولانا محمد اسماعیل غزنوی حکیم نوالدین کے نواسے تھے اور مرزا محمود سے ان کی خاصی بے تکلفی تھی ۔ انہوں نے متعدد افراد کو بتایا کہ ''مرزا محمود ایک عورت کو شب باشی کا پانچ صد روپیہ ادا کرتا تھا '' مجھے علم ہوا تو میں نے کھوج لگانا شروع کیا اور بالآخر اسے ڈھونڈ نکالا اور پوچھا کہ تم کیسے مرزا محمود سے ایک رات کا پانچ سو روپیہ وصول کرلیتی ہو ؟ اس عورت نے بے باکانہ جواب دیا :
    ''مولوی توں راتیں میرے نال سوں ،جے صبح توں مینوں پنج سو روپیہ نہ دتا تے میں تینوں ہزار روپیہ دیواں گی''
    مولوی صاحب یہ جواب سن کر حیران رہ گئے، ملک عزیز الرحمٰن صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بیگم عثمانی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قادیان کا راجہ اِندر۔۔۔۔۔۔ دریا کے کنارے
    مولانا موصوف ہی نے بتایا کہ مرزا محمود دریائے بیاس کے کنارے پھیرو چچی میں پکنک منایا کرتا تھا اور ایسے موقع ہر وہاں متعدد خیمے لگائے جاتے تھے ۔ایک مرتبہ وہاں ڈاک بنگلہ تعمیر کرنے کا پروگرام بھی بنایا تھا ۔ایسے ہی ایک جشن کے موقع پر وہ وہاں گئے تو گیٹ کیپر نے انہیں روک لیا ۔ ازاں بعد خلیفہ جی کو اطلاع دی گئی اور انہیں اندر بلا لیا گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مرزا محمود پندرہ بیس بالکل عریاں لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھا ہوا ہے اور اس کے اپنے جسم پر بھی کوئی کپڑا نہیں ۔ وہ اس منظر کی تاب نہ لا سکے اور نگاہیں نیچی کرلیں تو مرزا محمود نے نہایت اوباشانہ انداز میں پوچھا '' مولانا کیا ہوا ہے؟''
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مولوی ظفر محمد صاحب ظفر کا مقاطعہ کیوں ؟
    مولوی ظفر محمد صاحب ظفر عربی زبان کا نہایت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے اور عربی اور اردو ہر دو زبانوں میں اس قدر خوبصورت شعر کہتے ہیں کہ ان کے قادیانی ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے ۔ ایک مرتبہ پاپائے ثانی نے ان کا سوشل بائیکاٹ کردیا اور پھر بڑی مدت کے بعد ان کی جان چھوٹی ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ
    ''کہ جن باتوں کا مجھے علم ہے اگر میں تمہیں بتا دوں تو تم مرتد ہوجاو''
    یہ فقرہ کسی تفسیر کبیر کا محتاج نہیں البتہ قادیانیوں کی پختہ زناکاری کی داد دینی پڑتی ہے کہ ''وہ سب کچھ جان کر بھی انوار خلافت اور برکات خلافت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں''۔ جب میں نے مولوی صاحب ایسے بے ضرر انسان کے ساتھ اس بدترین سلوک کی تحقیقات شروع کیں تو پتہ چلا کہ انہیں بھی یہ سزا ''اس جرم'' کی پاداش میں ملی ہے کہ انہیں اپنے مصلح موعود کی عدیم المثال جنسی انارکی کا علم ہوگیا تھا اب ذرا تفصیل مطالعہ فرمائیں۔
    1۔ مولوی ظفر محمد صاحب قادیانی امت کے گسٹاپو(نظارت امور عامہ) میں ملازم تھے اور مولوی فرزند علی ان کے افسر اعلیٰ کے طور پر کام کر رہے تھے یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب خلیفہ جی کا مصری صاحب سے یدھ ہورہا تھا ۔ جن لوگوں کو قادیان اور ربوہ کے نظام حکومت کے بارہ میں علم ہے وہ جانتے ہیں کہ وہاں ہر کام ، خواہ وہ کسی سطح پر ہو ، خلیفہ جی کی آشیرباد اور اشارے کے بغیر نہیں ہوسکتا مگر مرید سادہ بعض اوقات ''حسن ظنی'' کے چکر میں پھنس جاتا ہے اور پھر قادیانی طلسم ہوشرباء کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ ظفر صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ خلیفہ جی نے سیکورٹی فورس کے نچلے عملہ کو بلاواسطہ یہ حکم دیا کہ مصری صاحب کی بیٹی ''امتہ الرحمٰن کو اغوا کرلیا جائے ۔ انہیں محافظین میں سے کسی نے مولوی ظفر صاحب کو بتایا کہ
    ''حضرت صاحب نے حکم دیا ہے کہ مصری صاحب کی بیٹی امتہ الرحمٰن کو اغوا کرلیا جائے''
    مولوی صاحب موصوف کو یقین نہ آیا کہ ہمارے حضرت یہ کام بھی کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی اس بے یقینی کا ذکر اپنے افسر مولوی فرزند علی سے کیا اور اس نے فوراً مولوی ظفر علی کی اس ''ایمانی کمزوری'' کی رپورٹ خلیفہ جی کو پہنچا دی اور اس طرح ان کا نام مقربین کی فہرست سے کٹ گیا۔
    2۔ جرم بہر حال جرم ہے خواہ وہ کھلے بندوں کیا جاے یا تقدس کی جعلی رداؤں میں لپیٹ کر ۔ جب خلیفہ جی کے نت نئے معرکوں کا چرچہ بڑھنے لگا تو مولوی ظفر صاحب نے اپنے طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کے بیانات لے کر انہیں ایک کاپی میں محفوظ کرنا شروع کردیا ۔ ایک دن وہ کاپی دفتر میں چھوڑ آئے اور مولوی تاج دین نے یہ کاپی اٹھا کر خلیفہ جی کو پہنچا دی اور اس طرح ''خدا کے مقرر کردہ'' کو یقین ہوگیا کہ مولوی ظفر محمد کا ایمان بہت کمزور ہوگیا ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ اس کا منہ بند کرنے کے لیے فوراً اس کا بائیکاٹ کردیا جائے کیونکہ ''چپ کا روزہ'' بعض قویٰ کی تقویت کے لیے خاصا مفید ہے۔
    اب یہ بھی شبہ ہوا کہ کہیں انہوں نے کچھ ریکارڈ گھر میں نہ چھپا رکھا ہو ۔ اس شک کو دور کرنے کے لیے امور عامہ کے ذریعے مولوی صاحب کے گھر میں چوری کروائی گئی اور معمولی معمولی چیزیں بھی اٹھوا لی گئیں ۔ انہی چیزوں میں سے مولوی صاحب کے بیٹے ناصر احمد ظفر کے بچپن کا ایک فریم شدہ فوٹو بھی ہے ، جو اب کچھ عرصہ ہوا مرزا ناصر احمد پاپائے سوم نے ناصر احمد ظفر کو واپس کیا ہے مگر دانشمند مرید نے نہ تو اپنے والد سے دریافت کیا اور نہ مرزا ناصر احمد سے کہ ''حضور میرا یہ بچپن کا فوٹو کس 'معجزہ'' کے نتیجے میں آپ کے گھر پہنچا ہے۔
    مولوی صدر دین امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کا بیان
    مولوی صدر دین صاحب کا بیان ہے کہ ''مجھے یقینی ذرائع سے یہ علم ہوگیا تھا کہ مرزا محمود عجمی ذوق کا دلدادہ ہے اس وجہ سے میں نے ہائی سکول میں مرزا محمود کا داخلہ بند کردیا تھا اور جب تک میں ٹی آئی ہائی سکول قادیان کا ہیڈ ماسٹر رہا ہوں میں نے کبھی اس کو سکول میں گھسنے نہیں دیا۔
    ڈاکٹر اللہ بخش سابق جنرل سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کا بیان
    ڈاکٹر صاحب نے متعدد مرتبہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ مرزا محمود کو ملنے کے لیے گئے تو مرزا محمود کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی ۔کیمیکل ایگزامینر ہونے کی وجہ سے انہوں نے فوراََ ہی پتہ لگا لیا کہ یہ شراب کی بو ہے
    عبدالعزیز نو مسلم کی صاحبزادی ''خلافت ماب'' کے چنگل میں
    عبدالعزیز نو مسلم کی صاحبزادی ایک مرتبہ بدقسمتی سے ''قصر خلافت'' چلی گئی ۔وہاں کشتہ زدجام عشق کی معجزہ نمائی سے وجود میں آنے والی ذریت مبشرہ پہلے ہی تاک میں بیٹھی تھی ۔ مرزا محمود نے اپنے روحانی و جسمانی فیوض سے اس مالا مال کردیا ۔ لڑکی نے ساری بپتا اپنے والد کو کہہ سنائی تو قادیانی ریاست کی خاندانی انتظامیہ حرکت میں آگئی ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ خود عبدالعزیز کی تحریر میں پڑھیے۔
    ''مجھے ایک روز ولی اللہ شاہ (سالار خلیفہ قادیان) نے اپنے دفتر میں بلایا اور کہا تمہارے متعلق جو افواہ فضل کریم عبدالکریم صاحبان نے پھیلائی ہے اس کے متعلق تم ایک تحریر لکھ دو کہ وہ سراسر غلط ہے ۔ میں نے بہت ٹالنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ایک مسودہ لکھ کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ دستخط کردو، میں نے کہا کہ میں غلط بات پر کیوں دستخط کردوں؟، انہوں نے جواب دیا کہ بات تو دراصل تمہاری ٹھیک ہے مگر سلسلہ کی بدنامی ہوتی ہے اس لیے تم دستخط کردو۔ (اندازہ کریں کہ یہ کلٹ کس طرح لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے فقط اپنے کرتوت چھپانے اور دیگر مقاصد حاصل کرنے کے لیے۔ کیا اسلام اجازت دیتا ہے ایسی زنا کاریوں ایسی بے راہ رویوں اور ایسے ظلم کرنے اور جھوٹ بول کے دھوکہ دہی کرکے حقائق کو چھپانے اور عوام الناس پہ ظلم کرنے کی؟ راقم)۔ میں نے پھر جواب دیا کہ میں سچی بات سے کیسے انکار کروں اور خواہ مخواہ آپ تنگ نہ کریں ورنہ اصل حقیقت آپ لوگوں کو سناوں تو خلیفہ صاحب کی پردہ دری ہوگی ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں کسی طرح راضی نہیں ہوتا تو دھمکانا شروع کیا کہ تمہارا وظیفہ بند ہوجائے گا اور تم قادیان سے نکالے جاو گے۔ (عبدالعزیز نو مسلم، ''مباہلہ'' یکم جنوری 1929 صفحہ 20)
    مقدسین قادیان کی سہ کاریاں اور خفیہ عیاشیاں
    میں ہی نہیں بلکہ قادیان کی نوے فیصد آبادی مقدسین قادیان کی سہ کاریوں اور خفیہ عیاشوں سے آگاہ ہے اس لیے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اخبار ''مباہلہ'' نے میری معلومات میں اضافہ کیا ، ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اخبار ''مباہلہ'' کے بیان کردہ واقعات کی تائد اور تصدیق کرتا ہوں، خاکسار پرانا قادیانی ہے اور قادیان کا ہر فرد و بشر مجھے خوب جانتا ہے ۔ ہجرت کا شوق مجھے بھی دامن گیر ہوا اور میں قادیان ہجرت کر آیا ۔ قادیان میں سکونت اختیار کی ،خلیفہ قادیان کے محکمہ قضا میں کچھ عرصہ کام بھی کیا مگر دل میں آرزو آزاد روزگار کی تھی اور اخلاص مجبور کرتا تھا کہ اپنا کاروبار شروع کرکے دین کی خدمت بجا لاؤں۔(واہ قادیانیو تمہارے اخلاص اور تمہارا دین۔ راقم) چنانچہ خاکسار نے احمدیہ دوا گھر کے نام سے ایک دوا خانہ کھولا جس کے اشتہارات عموماََ ''الفضل'' میں شائع ہوتے رہتے تھے ۔ اگر میں یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ قادیان کی رہائش ہی میری عقیدت زائل کرنے کا باعث ہوئی، ورنہ میں اگر قادیانی بھائیوں کی طرح دور دور ہی رہتا تو آج مجھے اس تجارتی کمپنی کے ایکٹروں کے سر بستہ رازوں کا انکشاف نہ ہوتا یا میں اگر خاص قادیان میں اپنا مکان بنا لیتا یا خلیفہ قادیان کا ملازم ہوجاتا تو بھی مجھے آج اس اعلان کی ہرگز جرات نہ ہوتی ۔ مختصراََ یہ کہ آج میں اس قابل ہوں کہ اس دجالی فرقہ سے توبہ کروں ۔ میری دعا ہے اور برادران اسلام سے بھی درخواست دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قادیان کے واقف حال لوگوں کو سچی گواہی دینے کی جرات عطا فرمائے اور ان کو توفیق دے کہ وہ سچائی کے مقابلہ میں کسی تکلیف کو روک نہ سمجھیں۔
    (خاکسار مشتاق احمد، احمدیہ دوا گھر قادیان۔ اخبار ''مباہلہ'' دسمبر 1929)
    بدمعاشی سے مفاہمت مردہ خراب ہونے کے ڈر سے
    حکیم عبدالوہاب صاحب بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبدالحمید آڈیٹر ریلوے کی بیٹی اور عبدالباری سابق ناظر بیت المال قادیان کی ہمشیرہ ثریا اور مرزا محمود کی بیٹی ناصرہ آپس میں سہیلیاں تھیں ۔ ثریا ایک دن اپنی سہیلی کو ملنے ''قصر خلافت'' گئی تو رات کو وہیں سو گئی۔ مرزا محمود نے بیٹی کی موجودگی میں ہی اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی ۔ ثریا نے باقاعدہ مقابلہ کیا تو مرزا محمود نے بہانہ بناتے ہوئے کہا مجھے غلط فہمی ہوئی ہے میں سمجھا میری اہلیہ ہیں (واہ خلیفو تمہاری غلط فہمیوں کے کیا کہنے۔ راقم) ثریا نے جواب دیا کہ سہیلیاں تو اکٹھی سو جاتی ہیں مگر وہ بیوی جس کی باری چوتھے دن آتی ہے کس طرح یہ پسند کرسکتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے پاس جا کر سو جائے پھر بیٹی کی موجودگی میں ایسا کرنا شرافت کی کونسی علامت ہے ۔ ثریا نے واپس آکر اپنی والدہ کو تمام واقعات سے آگاہ کردیا ۔ تو اس کے بعد ثریا کے والد عبدالحمید نے اپنی وصیت منسوخ کردی اور قادیان آنا جانا ترک کردیا ۔ تقریباََ چار سال بعد پھر آنا جانا شروع کردیا ۔ کسی نے پوچھا شیخ صاحب کونسی نئی بات وقوع پذیر ہوئی ہے جو آپ نے آنا جانا شروع کردیا ہے شیخ صاحب نے جواب دیا ''ساری دنیا چھوڑ کر ہم یہاں آئے تھے اب کہاں جائیں اپنا مردہ کون خراب کرے ۔ اس لیے ظاہراََ میں نے تعلقات بحال کرلیے ہیں۔
    زکوٰۃ کا حسن استعمال
    عرصہ ہوا ''حقیقت پسند پارٹی'' کی طرف سے مرزا محمود کی مالی بے اعتدالیوں کے متعلق ایک حیرت انگیز ٹریکٹ شائع ہوا جس کے ایک لفظ کی بھی تردید کرنے کی قادیانی امت کو ہمت نہیں ہوئی ۔ اس میں مرزا محمود کے اس فرمان کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے کہ زکوٰۃ براہ راست خلیفہ کو آنی چاہیے کیونکہ یہ خاص حق خلافت ہے، اسی ٹریکٹ میں مرقوم ہے
    ''ہم اپنے قطعی اور یقینی علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کی بہت سی بدکاریوں کا موجب یہ طریق عمل ہوا ہے وہ زکوٰۃ کے روپیہ سے ان عورتوں اور لڑکیوں کی مالی امداد کرتے ہیں جن سے بدکاری کرتے اور کرواتے ہیں ''۔ (''خلیفہ ربوہ مرزا محمود کی مالی بے اعتدالیاں''۔ ص 38)
    مبلغین کو شادی کے فوراََ بعد بیرون ملک بھیجنے کا ''فلسفہ''
    اس (مرزا محمود) نے اپنے جنون زوج کی تسکین کے لیے اپنی '' عبقریت" کو اپنی کوریت میں غرق کرکے عصمت اور حیا کے تصور کے استیصال کے لیے کوئی دقیقہ فردگزاشت نہ کیا ۔ وہ قادیان میں اپنے پرچارکوں کو شادی کے بعد معاََ دور دراز ملکوں میں بھیج دیتا اس طرح ان کی معلقہ بیویاں اس کے لیے کال گرلز ( call girls) بن جاتیں اس طرح یہ بھی ہوا کہ ان مظلوم عورتوں کو اپنے خاوندوں کی غیر موجودگی میں بچوں کی مائیں بننا پڑا ۔ اسی طرح نائجیریا کے ایک مبلغ اور واقف زندگی کی بیوی کو یہی سانحہ المیہ پیش آیا ۔ ذرا سی لہر اٹھی مگر جہاں جنسی معصیت کا دور دورہ تھا وہاں یہ المناک حادثہ دب کر رہ گیا ۔(فتنہ انکار ختم نبوت۔ ص 45)
    ''خاندان نبوت'' کے اتالیق کا درس عبرت حاصل کرنا
    مرزا محمد حسین صاحب 44 ۔اے آریہ نگر سمن آباد لاہور قادیانی امت کے خاندان نبوت کی مستورات کے اتالیق رہے ہیں وہ ایک علم دوست ، خلوت پسند اور کم آمیز شخص ہیں مگر ان کے باوصف لاہور کے علمی و ادبی حلقوں میں خاصے معروف ہیں ۔ حضرت آغا شورش کاشمیری مرحوم نے اپنی کتاب ''نورتن'' میں ان کا تذکرہ کیا ہے گاہے بگاہے وہ قادیانیت سے اپنی علیحدگی کی داستان اپنے رفقاء کو سناتے رہتے میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ '' میرا بچپن غربت، علالت، اور بڑھاپا کتابوں میں گزرا ہے میں قادیان میں مرزا محمود احمد کے گھر میں مستورات کا اتالیق رہا ہوں اور کسی (Closed Society) میں رہتے ہوئے وہاں کے سربراہ کی خواتین کا استاد ہونا اس معاشرے کے لحاظ سے خاصی فخر کی بات ہوتی ہے اگر میں مرزا محمود اور اس کے جلو میں رہنے والے افراد کی بدچلنی کے بارہ میں حق الیقین کے مقام تک نہ پہنچتا تو نہ قادیان کو چھوڑتا اور نہ قادیانیت کو ترک کرتا ''۔ جب میں نے اس ایجاز و اختصار کی مزید تفصیل چاہی تو وہ قدرے تامل کے بعد گویا ہوئے '' مستورات کا استاد ہونے کی وجہ سے مجھے خلیفہ جی کی مختلف بیویوں کی باہمی چپقلش اور سوقیانہ طعنے بازی کا علم تو ہوتا رہتا تھا مگر میں اسے زیادہ اہمیت نہ دیتا تھا ۔ رفتہ رفتہ مجھے ڈاکٹر احسان علی ، مصلح الدین سعدی اور نذیر ڈرائیور سے بڑے تواتر کے ساتھ یہ معلوم ہونا شروع ہوا کہ ''قصر خلافت'' میں جنسی عصیان کا ناپاک دھندہ ہوتا ہے میں اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے ان باتوں کو تسلیم کرنے کے لیے قطعاََ تیار نہ تھا، گو حقائق اور واقعات دن بدن نکھر کر سامنے آ رہے تھے میں یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتا رہا کہ ''خلیفہ صاحب'' کے اردگرد رہنے والے لوگ بدمعاش ہیں مگر خود ان کے بارے میں کوئی ایسی بات میرے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھی آخر میں نے اس امر کا ارادہ کرلیا کہ ان افراد میں سے کسی کو اعتماد میں لوں اور پھر ''خلیفہ صاحب'' کو ان کی خباثتوں سے مکمل طور پر آگاہ کردوں تاکہ اس ذہنی خلجان سے نجات پاؤں جس میں سے میں گزر رہا تھا میں نے اپنے اس ارادہ کا مصلح الدین سعدی سے ذکر کیا تو اس نے کہا پہلے ''حضرت صاحب'' سے اجازت لے لیں بعد ازاں مجھے بتایا گیا کہ ''حضرت صاحب'' تمہارے متعلق سن کر حیران تو ہوئے مگر اب انہوں نے اجازت دے دی ہے میں اس وقت بھی اس یقین سے معمور تھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ تھورے عرصے کے بعد جب مجھے کوکین والا پان لا کر دیا گیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت نامہ بھی کہ مریم کے پاس مت جانا اسے "مطمئن" کرنا تمہارے لیے ممکن نہ ہوگا ۔ قمی کے پاس جانا وہ تمہاری شاگرد ہے اور شاگرد ویسے بھی استاد سے ڈرتا ہے اس لیے تم اس سے خوب نبٹ لو گے ، اسی دوران مجھے ڈرائیور نذیر سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ مرزا محمود بہت خوش ہے کہ میں بھی زیر دام آگیا ہوں اور اس نے کہا ''یہ اب پھنسا ہے''
    گو اب میرا یقین تو ڈانواں ڈول ہورہا تھا لیکن پھر بھی میں نے اتمام حجت کی خاطر مزید آگے جانے کا تہیہ کرلیا اور مصلح الدین سعدی کی معیت میں کمرہ خاص کی طرف روانہ ہوا ۔ میرا ''رہبر'' بھی سوچ رہا ہوگا
    ''کاروان غولان صحرائی کو رہبر مان کر
    ہوچکا گمراہ ، گمراہی کو منزل جان کر
    ابھی کچھ زینے باقی تھے کہ میرے گائیڈ نے مجھے کہا کہ ''حضرت صاحب'' کو کچھ لوگ ملنے آگئے ہیں تھوڑی دیر ٹھہر جائیں اتنا کہہ کر وہ اوپر چلا گیا اور میں ڈاکٹر حشمت اللہ کے کمرے میں بیٹھ گیا ۔ قریباََ نصف گھنٹہ کے بعد مصلح الدین سعدی واپس لوٹا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اس نے آتے ہی مجھ سے کہا '' مسٹر صاحب، آپ اس سلسلہ میں اور لوگوں سے بھی باتیں کرتے رہے ہیں اب انجام کے لیے تیار ہوجائیں۔
    تب یہ عقد کھلا کہ اس خلوت کدہ میں جانے کے لیے ایک ہی Source استعمال ہوسکتا ہے کیونکہ مختلف ذرائع استعمال کرنے سے راز کھل جانے کا اندیشہ بھی تھا اور یہ فکر بھی کہ یہ لوگ کہیں اس عشرت کدے سے باہر بھی اپنا تعلق قائم نہ کرلیں ۔
    اس کے ساتھ ہی "واقفان سر خلافت" کی گفتگو میں سرد مہری تہدید غالب آگئی۔ ہسپتال میں مرزا محمود کے حکم پر میری پٹی بند کردی گئی تاکہ میں T.B of the spine سے صحت یاب نہ ہوں اور مر جاوں اور اس راز کو افشاں نہ کرسکوں اس طرح مجھے مرزا محمود کو اس کے حواریوں کی بدمعاشی سے آگاہ کرنے کی حسرت ہی رہی ۔ البتہ خود مذہب کے پردہ میں ہونے والی جنسی یورشوں اور ان میں مرزا محمود اور اس کے خاندان اور ساتھیوں کے ملوث ہونے کا ایسا قطعی علم ہوا کہ میرے لیے اس فضا میں رہنا دو بھر ہوگیا ۔ واپس گھر آیا تو دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔ اعتقادات کی عمارتیں زمین بوس ہوچکی تھیں ۔ جس شخص کے لیے مسلسل پانچ سال تک تہجد کی نماز میں دعائیں کرتا رہا اسے فداہ ابی و امی کہتا رہا وہ اس قدر بدکردار نکلا کہ اس کا مثیل تلاش کرنے نکلیں تو صدیوں بھٹکتے رہیں۔ اس بے قراری، بے چینی، بے کلی اور اضطراب کے عالم میں لیٹا تو خوفناک بخار نے آلیا ۔ ساری رات انگاروں پر لیٹے ہوئے کاٹی صبح ہوش آیا تو دیکھا کہ سر کے سرے بال ایک رات میں ہی جھڑ چکے تھے اب میں دہریت کے بدترین ریلے کی زد میں تھا میں نے قرآن پاک کو اٹھا کر گندگی میں پھینک دیا ۔(استغفراللہ)۔ (یہ ہے مرزے کو نبی ماننے کی نحوست کہ جب ان کی اصلیت کھلتی ہے تو انسان کا خدا سے بھی اعتقاد اٹھ جاتا ہے کیونکہ ان کو مانتے وقت ہر ہر حقیقت کو تاویل کی قینچی سے کاٹ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد خدا کی حقیقت کی قابل قبول نہیں رہتی۔ راقم) مگر پھر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور مجھے اس دوسری گمراہی سے بھی نکالا اور میں نے دوبارہ نمازیں شروع کردیں۔
    اس کے کچھ عرصہ بعد کمالیہ میں ایک ماہر طبیب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے بالکل ''فارغ البال'' دیکھ کر کہا کہ اس عمر میں بالوں کی جڑیں تو رہتی ہیں آپ کے بالوں کی تو جڑیں ہی جل چکی ہیں معلوم ہوتا ہے آپ کو کوئی شدید صدمہ پہنچا ہے اس پر میں نے اس واقعہ کا مختصراََ ذکر کیا تو وہ کہنے لگے مرزا صاحب خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ پر اس شاک کا سب سے ہلکا اثر ہوا ہے کیونکہ اکثر اوقات ایسے مواقع پر فالج ہوجاتا ہے یا دانت گر جاتے ہیں اور کمترین اثر یہ ہوتا ہے کہ بال گر جاتے ہیں ''
    شاید اسی صدمہ کا اثر ہے کہ وہ آج بھی زندگی کے معبد میں ایک راہب کی طرح حیات مستعار کے دن پورے کر رہے ہیں
    عبدالرب خان صاحب برہم کی جرات رندانہ
    خان عبدالرب خان صاحب برہم صدر انجمن کے دفتر بیت المال میں کام کرتے تھے ۔آپ نے ایک مخلص قادیانی دوست کو مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی نجی زندگی کے واقعات سنائے اس پر اس مخلص قادیانی دوست نے مرزا محمود احمد کو لکھ بھیجا کہ خان صاحب موصوف نے آپ کی بدچلنی کے واقعات سنا کر مجھے محو حیرت کردیا ہے اور دلائل بھی ایسے دیئے ہیں جو میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہورہے ہیں اس شکایت کے چند گھنٹے بعد مرزا بشیر احمد ایم اے المعروف ''قمر الانبیاء'' نے خان صاحب موصوف کو بلا کر سمجھایا کہ اگر حضور حضور کچھ باتیں دریافت کریں تو اس سے لاعلمی کا اظہار کردینا۔ آپ خاموش ہوگئے مرزا بشیر احمد صاحب کے دل میں خیال آیا ، بس اب کام بن گیا
    اس کے ایک آدھ گھنٹہ بعد برہم صاحب کو ''قصر خلافت'' میں مرزا محمود احمد نے بلایا جب آپ وہاں گئے تو وہ مخلص احمدی دوست بھی وہاں موجود تھا اور خان صاحب موصوف کے والد محترم بھی وہیں تھے۔ اور دو تین تنخواہ دار ایجنٹ بھی تھے اور سب کو اکتھے کرنے کا مطلب یہ تھا تاکہ کہ رعب ڈال کر حق کع بدلا جاسکے ۔ خلیفہ صاحب نے جب خان صاحب موصوف سے دریافت کیا تو اس بے خوف مجاہد نے کہا ، جو کچھ میں نے آپ کی بدچلنی کے متعلق ان صاحب سے کہا وہ حرف بحرف درست ہے۔ آخر جب کام نہ بنا تو کھڑے ہو کر کلیفہ صاحب نے احسان گنوانے شروع کردیے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ تم نے میری ہمشیرہ کا دودھ پیا ہوا ہے ۔ خان صاحب موصوف نے کہا یہ درست ہے لیکن یہ حق کا معاملہ ہے ۔ دنیاداری کے مقابلہ میں حق مقدم ہے اور اس حق کے لیے ہی اس جماعت میں شامل تھے ۔ خان صاحب موصوف نے ملاقات کے فوراََ بعد دلیرانہ اقدام یہ کیا کہ ''قصر خلافت'' سے آکر از خود بیعت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ۔ آپ نے ایک کتاب ''بلائے دمشق'' بھی لکھی ہے ، خان صاحب کا حلفیہ بیان درج ذیل ہے
    '' میں شرعی طور پر پورا پورا اطمینان حاصل کرنے کے بعد خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا محمود احمد کا چال چلن نہایت خراب ہے اگر وہ مباہلہ کے لیے آمادگی کا اظہار کریں تو میں خدا کے فضل سے ان کے مد مقابل مباہلہ کے لیے ہر وقت تیار ہوں'' (عبدالرب خان برہم، فیصل آباد)
    آخری تدوین : ‏ جون 24, 2015
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر