1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک اور نزول کی علامات

مبشر شاہ نے 'آنے والے مسیح کا حلیہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 13, 2014

  1. ‏ جولائی 13, 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    حدیث مسلم پر تفصیلی بحث
    اس حدیث کو مکمل مطالعہ کے لیے اس لنک کو استعمال کریں

    نزول حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام
    حدیث شریف کے ظاہری الفاظ بتاتے ہیں کہ دجال اپنے جادوئی کرتبوں میں مصروف ہو گا کہ اچانک آسمان سے حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا اور پھر اس جگہ ان کے آسمان سے نازل ہونے کو واضح علامات و کیفیات کو ذکر کیا گیا ہے :

    • عیسیٰ ابن مریم( نام کی شخصیت)
    • دمشق میں مشرقی سفید مینارہ کے پاس
    • دوزرد چادریں اڑھے ہوئے
    • دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے
    حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا اب اگر قادیان کے جھوٹے مرزا غلام احمد قادیان کو ہی دیکھ لیا جائے جس نے عیسی ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا اول تو مرزا غلام قادیانی مریم کا بیٹا نہیں ہے بلکہ چراغ بی بی کا بیٹا ہے دوسرا مرزے کا نام عیسی نہیں ہے مرزا غلام احمد ہے ۔
    مرزا آسمان سے نازل نہیں ہوا ہے بلکہ پیدا ہوا ہے ۔ اور عیسیٰ علیہ السلام تو دمشق کے سفید مینارہ کے پاس نزول فرمائیں گے جس کی چند علامات کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ دو زرد چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے دو فرشتوں کے کندوھوں پر ہاتھ رکھا ہو گا دوسری جانب کذابِ قادیان کو دیکھیں تو وہ اس حدیث کی صراحت کا منکر ہے بلکہ دو زرد چادروں سے مراد اپنی دو بیماریاں لیتا ہے ایک اوپر کے کے حصے کی یعنی مراق اور دوسری نیچے کے حصے کی یعنی پیشاب کی کثرت پھر دمشقی منارہ کی تاویل یہ کی کہ قادیان ہی دمشق ہے اور یہاں مینارہ چندے سے تعمیر کیا جائے گا لہذا مرزے نے اس کے لیے چندہ اکٹھا کروایا اور حالت یہ ہوئی کی اس کی تعمیر سے قبل ہی مرزا جی کا انتقال ہو گا اور یہ مینارہ بعد میں تعمیر کیا گیا

    حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی ایک واضح نشانی بیان کی گئی ہے کہ آپ کے نزول کے فوراً بعد آپ کے سر مبارک کی کیفیت کچھ ایسی ہو گی کہ جیسے پانی میں بھیگا ہوا ہے اور سر سے پانی ٹپکے گا لیکن مرزے غلام قادیانی نے بھی اس کی بونگی سی تاویل کی جو کسی صاحب عقل کی سمجھ سے ہی بالا تر ہے ۔


    حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے بدن مبارک سے خوشبو نکلے گی جو چہار دانگ عالم پھیل جائے گی جو بھی کافر آپ کے بدن کی خوشبو سونگے گا فوراً ہلاک ہوتا جائے گا جبکہ مرزا قادیانی کے بدن سے تو بدبو نکلا کرتی تھی اور اس کی بدبو سے بھی کوئی کافر نہیں مرا خوشبو تو بہت دور کی بات ہے

    حضرت عیسیٰ علیہ السلام باب لد پردجال کا قتل کریں گے اگر دجال سے مراد مغربی عیسائی اقوام مراد لے لی جائیں تو کیا مرزے نے باب لد پر ان عیسائی اقوام کا قتل کیا جبکہ مرزا تو قتال کی نفی کرتا ہے اورجہاد کی منافی اسلام قرار دیتا ہے ۔

    اس مقام پر بھی حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی خصوصیات کا تذکرہ ہو رہا ہے مرزا غلام قادیانی کے پاس کون سی قوم آئی جسے مرزا نے ان کا چہرہ صاف کیا ہو اور ان کو جنت کے درجات کی خبر دی ہو ہرگز ایسا نہیں ہوا ۔

    قوم ابھی موجود ہی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کرے گا کہ ان مسلمانوں کو طور کی جانب لے جائیں جبکہ مرزا قادیانی نے کون سی قوم کو طور کی جانب ہانکا تھا ہرگز نہیں لعنت اللہ علی الکاذبین
  2. ‏ جنوری 11, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    نزول عیسی علیہ السلام (حدیث: علامات عیسی علیہ السلام)
    حدیث … ’’قال الامام احمد حدثنا عفان ثنا ھمام انبأنا قتادۃ عن عبدالرحمن عن ابی ہریرۃؓ ان النبیﷺ قال الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحدوانی اولیٰ الناس بعیسی بن مریم لانہ لم یکن نبی بینی وبینہ وانہ نازل فاذا رائیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران کان رائسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ وید عوالناس الی الاسلام ویھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام ویھلک اﷲ فی زمانہ المسیح الدجال ثم تقع الامانۃ علی الارض حتی ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان بالحیات لاتضرھم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون‘‘
    (و کذا رواہ ابوداؤد کذا فیتفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۸، زیر آیت و ان من اھل الکتاب، قال الحافظ ابن حجرؒ ، رواہ ابوداؤد و احمد باسناد صحیح، فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)
    ترجمہ: ’’امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاّٰتی بھائی ہیں۔ مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت سب کا ایک ہے اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے۔ رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے۔ سرکی یہ شان ہوگی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی۔ صلیب کو توڑیں گے۔ جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ اﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست و نابود کردے گا اور اﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہوجائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپ کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
    حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آجائیں گی تب وفات ہوگی۔

اس صفحے کی تشہیر