1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عمر مرزا تحریفات کے آئینے میں

محمد منیب الرحمٰن نے 'فیس بک قادیانی پوسٹس کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 26, 2017

  1. ‏ جنوری 26, 2017 #1
    محمد منیب الرحمٰن

    محمد منیب الرحمٰن رکن ختم نبوت فورم

    عمر مرزا تحریفات کے آئینے میں
    بجواب محترم ایاز احمد ابوطاہر قادیانی

    جیسا کہ سب کو معلوم ہے مرزا صاحب نے اپنی سچائی کا معیار اپنی پیشن گوئیاں بتایا اور کہا کہ اگر میری سو میں سے ایک پیشن گوئی بھی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا ۔ اسی سلسلے میں ایاز صاحب ابتدا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
    ’’’ اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال مخالفین سے یہ ہونا چاہیئے کہ اگر بالفرض کسی طریقے سے اُن کی عمر 80 سال یا اس کے آس پاس ثابت ہو جائے تو کیا آپ انہیں سچا مان لیں گے تو یقیناً سو فیصد جواب نفی میں ہی ہو گا یعنی یہ محض ان کے اعتراضوں میں سے ایک اعتراض ہے ۔ ‘‘‘
    اسے کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا ۔ ایاز صاحب کو معلوم ہے کہ یہ پیشن گوئی سچی ثابت نہیں ہوتی محض استعارہ کے رنگ میں ہی اسے رنگا جا سکتا ہے ۔
    بے شک ہر انسان کی عمر خدا تعالی کو معلوم ہوتی ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی بنا پر کسی پر دعوی عائد کیا جاسکے لیکن چونکہ مرزا صاحب نے اس امر کو اپنے سچے اور جھوٹے ہونے کی بنیاد بنایا ہے اس لیے ہمیں یہ امر لازمی دیکھنا ہوگا ۔
    ہم یہاں مرزا صاحب کے قلم سے وہ پیشن گوئی بیان کرتے ہیں جو انہوں نے کی :۔
    ؎ خزائن جلد ۱۲ ص ۸۱ سراج منیر
    چھتیسویں پیشن گوئی یہ ہے جیسا کہ ازالہ اوہام میں لکھ چکا ہوں جیسا کہ خدا تعالی نے مجھے خبر دی کہ تیری عمر اسی ۸۰ برس یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہوگی ۔
    ؎؎؎(تریاق القلوب ص۱۳، خزائن ج۱۵ ص۱۵۲ حاشیہ)،
    ؎؎؎؎(حقیقت الوحی ص۹۶، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)،
    ؎؎؎(اربعین نمبر۳ ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۴۲۲)،
    ؎؎؎؎(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴)،
    ؎؎؎؎(تحفہ ندوہ ص۲، خزائن ج۱۹ ص۹۳)

    یہ مرزا کے خدا نے اسے خبر دی اور شاید اس کے خدا کو بھی یقین نہیں تھا کہ اس کی عمر کتنی ہوگی چلیں خیر ۔ خزائن ج۱۹ ص۹۳ پہ مرزا کہ صاحب نے صرف اسی برس کا ذکر کیا ہے یہاں اوپر نیچے کے الفاظ موجود نہیں ۔ اس کے بعد مرزا صاحب نے اس پیشن گوئی کا جو خلاصہ نکالا ہے وہ یہ ہے
    ؎؎؎؎؎؎ خزائن جلد ۲۱ ص ۲۵۹
    اور ظاہر الفاظ جو وحی کے وعدہ کے متلعق ہیں وہ
    تو چھہتر ۷۴ اور چھیاسی ۸۶ کے اندر اندر عمر کی تعین کرتے ہیں ۔

    یہ تھی مرزا صاحب کی اپنی عمر کے متلعق پیشن گوئی ۷۴ تا ۸۶ سال تک ذندگی ۔ اب دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کی وفات کب ہوئی جیسا کہ سب کو معلوم ہے
    ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ۔ بمطابق ۔ ۲۴ ربی الثانی ۱۳۲۶ بروز منگل ۔

    یہ تھی تاریخ وفات ۔ اب مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش کا تعیین کرتے ہیں ۔

    اب دیکھتے ہیں مرزا صاحب کی وہ تاریخ پیدائش جو انہوں نے صاف الفاظ میں لکھی
    (کتاب البریہ ص۱۵۹، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷ حاشیہ، اخبار البدر قادیان مورخہ ۸؍اگست ۱۹۰۴ء) ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء،۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔اور ۱۸۵۷ میں میں ۱۶ یا ۱۷ برس کا تھا ۔
    یعنی ہجری ۱۲۵۵ یا ۱۲۵۶ اور ۱۲۷۳ میں ۱۶ یا ۱۷ سال عمر تھی ،
    مرزا صاحب کہ اس ترتیب کو آگے بڑھاتے ہیں
    {میری عمر چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا}
    (کتاب البریہ، رخ 13 صفحہ 192)
    یعنی ۱۸۷۵ یا ۷۴ میں مرزا صاحب کے والد گرامی کا انتقال ہوا ۔ اس بات کو مرزا صاحب نے خود بھی تسلیم کیا ہے ۔
    والد حکیم غلام مرتضی کی وفات مورخہ 20 اگست 1874ء کو ہوئی
    (نزول المسیح، رخ 18 صفحہ 585)
    اگر اگست 1875 میں مرزا صاحب کی عمر 34 یا 35 برس تھی تو اسکی پیدائش کا سال 1839 یا 1840 ہی بنتا ہے ۔
    لیکچر لدھیانہ دیا گیا 4 نومبر 1905ء کو اور مرزا قادیانی نے اپنی عمر بتلائی "میری عمر سڑسٹھ67 سال ہے"(لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 293) اور مرزا قادیانی کو موت 26 مئی 1908 کو آئی۔ 67 میں جمع کریں 2 سال 6 مہینے اور 22 دن تو یہ بنتے ہیں 69 سال 6 مہینے اور 22 دن جو کہ 4 سال اور پانچ مہینے اور کچھ دن کم بنتے ہیں مرزا کی پیشگوئی سے۔
    خزائن جلد ۲۱ ص ۲۵۸ کے مطابق مرزا صاحب کی عمر ۱۹۰۸ میں ۷۰ برس کے قریب تھی کیونکہ براہین احمدیہ پنجم ۱۹۰۸ میں شائع ہوئی ۔
    ملفوظات جلد ۳ ص ۵۳۸ جنوری ۱۹۰۴ میں مرزا صاحب کی عمر ۶۴ یا ۶۵ سال تھی
    ۱۹۰۷ میں مرزا صاحب کی عمر ۶۸ سال تھی ۔ خزائن جلد ۲۲ ص ۲۰۹

    مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے اپنی عمر کی جو ترتیب لگائی ہے اس حساب سے ان کی پیدائش ۱۸۳۹ یا ۱۸۴۰ ہی کی بنتی ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت ہے جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ( خزائن ج 19 ص 12) سانپوں کی طرح دکھنے والے مربیوں کو مرزا صاحب سے اس قدر اختلاف ہے کہ ان کی بیان کردہ تاریخ پیدائش کو ماننے سے انکاری ہیں ۔
    اس پوسٹ کے نیچے ہی فیس بک کے فاضل مرزائی پیارے افضل صاحب مرزا صاحب کو جھٹلاتے ہوئے لکھتے ہیں
    ’’ حکیم عمران صاقب صاحب آپ کو مرزا صاحب کی اپنی تحریروں سے یہ اندازہ نہیں ہورہا کہ انہوں کو اپنی عمر کا ٹھیک پتہ نہیں تھا ۔ جس آدمی کو اپنی عمر یاد نہ ہو وہ اگر قسم کھا لے تو اسے قصور وار کیوں کہو گے ؟ جبکہ وہ اندازے سے عمر بتا رہا ہو ۔ ‘‘
    کیا کہنے پیارے افضل صاحب کے یعنی کہ اپنے منہ بولے نبی کو ہی جھوٹا ثابت کروانے پر تلے ہوئے ہیں کہ مرزا صاحب کو اپنی عمر کا اندازہ نہیں تھا ۔
    مزید سنیں ایک اور فاضل مرزائی رانا صاحب کہتے ہیں
    ’’ حضرت اقدس مرزاغلام احمد قادیانی علیہ السلام کی اس تحریر سے بھی علم ہورہا ہے کہ 1839 و 1840 میں 17 سال عمر کا اندازہ درست ہیں تھا کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت داڑھی مونچھ کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا. اگر عمر 17 برس تھی تو پھر داڑھی مونچھ نمایاں ہونی چاہیئے تھی کیونکہ ہمارے پنجاب میں 17 سال کی عمر میں داڑھی مونچھ تو واضح ہو جاتی ہے ‘‘
    ’’ چلو جی! میں نے یہی تو بتایا کہ مرزاصاحب علیہ السلام کو اپنا تاریخ پیدائش کا زمانہ معین یاد نہ تھا ‘‘


    جیسا کہ میں اکثر کہتا ہوں کہ سچ وہی ہے جو مرزائیوں کے منہ سے نکل جائے باقی سب جھوٹ ہے چاہے اس کے سامنے مرزا صاحب کی عبارت ہی کیوں نہ ہو ۔
    یہ حال صرف انہیں کا نہیں بلکہ پوسٹ کندہ ایاز صاحب بھی مرزا صاحب کو جھٹلاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
    ’’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر کے بارے میں تحقیق کی گئی اور مختلف حقائق کی بنیاد پر 13 فروری 1835 کو ان کی پیدائش کا تعیین کیا جا چکا ہے ‘‘‘

    یعنی مرزا صاحب نے جو کہا وہ سب جھوٹ اور جو مرزائی کے منہ سے نکل گیا وہ سچ ۔
    اب ہم مرزائی جماعت کے ان اکابرین کی عبارتیں پیش کرتے ہیں جنہوں نے برملا اعتراف کیا ہے کہ مرزا صاحب ۱۲۵۵ ہجری بمطابق ۱۸۳۹ یا ۱۸۴۹ میں پیدا ہوئے ۔
    حکیم نوردین ، کتاب نوردین ص ۱۷
    رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ فرروی ۱۹۰۸
    الحکم قادیان ۶ جنوری ۱۹۰۸ ص ۶
    اخبار بدر قادیان ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ ص ۲
    اخبار بدر قادیان ۱۳ دسمبر ۱۹۰۶ ص ۵
    سیرت مسیح موعود از بشیر احمد محمود ص ۶
    سیرت مہدی از بشیر احمد ص ۳۴ حصہ اول
    عدالتی بیان ، منظور الہی ص ۲۴۱


    لیں جی ان تمام مربیان سلسلہ نے مرزا صاحب کی تاریخ پیدائش ۱۹۳۸ اور ۱۸۴۰ تسلیم کی ہے ۔ جس کو قبول کرنے میں کسی مرزائی کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن چونکہ مرزائی حضرات کو صرف خود سچا ہونا ہے مرزا صاحب کو جھوٹا ہی رہنے دینا ہے اس لیے وہ ان تمام حوالہ جات کو پیٹھ پیچھے پھینکتے ہیں اور وہی بات سچ مانتے ہیں جو ان کے منہ سے غلطی سے نکل جائے ۔
    پس ثابت ہوا کہ مرزا صاحب نے اپنی جو عمر بیان کی ہے اس حساب سے مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر ۷۴ اور ۸۶ سال کے درمیان نہیں بنتی جس بنا پر مرزائیوں کو مبارک بعد دی جاتی ہے کہ مرزائی سچے ثابت ہوگئے لیکن مرزا صاحب سچے ثابت نہ ہوئے ۔
    ترتیب : احتساب قادیانیت گروپ ۔

اس صفحے کی تشہیر