1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(علماء کرام کی خدمات)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (علماء کرام کی خدمات)
    دائرہ اسلام کے ساتھ ایک دوسرا لفظ انہوں نے استعمال کیا، میں نے تو آج تک وہ سنا نہیں تھا، جو دائرہ اسلام سے خارج ہو میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی مسلمان نہیں۔ دوسرا 2941لفظ بھی ساتھ ملاتا ہوں، ملت اسلامیہ سے بھی انہیں خارج کرنا چاہئے۔ تاکہ مسلمان قوم اور عظیم اسلامی دنیا کو بچایا جائے جس کو تباہ کرنے کے وہ درپے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ شاید یہ سخت کلمہ ہوگا۔ میں بھی ان میں سے ایک داڑھی والا ہی ہوں۔ لیکن آج تک تو یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کیا کرے گی؟ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ صرف انگریز کی پیدائش نہیں، سابقہ حکومتوں کی چشم پوشی کی وجہ سے بھی انہوں نے اتنی ترقی کی ہے۔ ورنہ اگر سرظفر اﷲ نہ ہوتا تو میرے خیال میں باہر کی دنیا میں ایک احمدی بھی نہ ہوتا۔ یہ سارے مشن ان کی چشم پوشی کا نتیجہ تھے۔ مولویوں نے بے شک کوشش کی ہے۔ مولوی ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن مولویوں کے پاس کیا تھا؟ حکومت ان کے ساتھ تھی۔ جس کے ساتھ حکومت ہو ان کے مقابلے میں کون کچھ کر سکتا ہے؟ اس لئے میں تو اتفاق نہیں کرتا کہ مولویوں نے کچھ نہیں کیا۔ مولویوں نے بڑا کچھ کیا ہے۔ مولویوں نے یہاں تک کیا ہے کہ اس مسئلے کو کھڑا کئے رکھا ہے۔ اگر مولوی یہ محنت نہ کرتے تو آج تک یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہوتا۔ مولویوں کا کام یہ تھا کہ وہ مسجدوں میں بیٹھ کر اپنی روٹی کے لئے کوشش کرتے ہیں، وہ کیا کر سکتے ہیں؟ وہ باہر مشن کا مقابلہ کیا کر سکتے تھے؟ ان کے تو مشن ہیں، جیسے عیسائیوں کے مشن آکر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، ان کو گمراہ کرنے کے لئے پیسے دئیے جاتے تھے، حکومت کی مدد دی جاتی تھی، ان کو عہدے دئیے جاتے تھے۔ بلکہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں مولوی اور فلاں عالم اس مذہب میں آگیا ہے۔ محمد علی آگیا ہے۔ کمال الدین آگیا ہے۔ فلاں آگیا ہے اور یہ ہوگیا ہے اور وہ ہوگیا ہے، وہ سب لوگ عہدوں کے لالچ میں اس مذہب میں آئے، ورنہ یہ کوئی مذہب نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں اس مذہب کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔
    اس کے بعد میں یہ گزارش کروں گا کہ میرے معزز دوست ملک جعفر صاحب نے کل فرمایا تھا، اس سے مجھے تھوڑا سا اتفاق نہیں، انہوں نے کہا تھا کہ مولویوں نے کچھ 2942نہیں کیا۔ وہ تو میں نے بتایا ہے کہ مولویوں نے جو کچھ کرنا تھا، وہ کرتے رہے۔ اب میں عرض کروں جیسے اﷲ کے فضل سے پیپلزپارٹی کو ان کافروں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور مرتد قرار دینے کا شرف حاصل ہوگا، اس کے ساتھ اس ریزولیوشن کے متعلق میں بھی آپ کی اجازت سے ایک اضافہ کرانا چاہتا ہوں۔ جب ان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے تو اس کے بعد سونے کا مقام نہیں ہے، کیونکہ دنیا میں جو نئی ریاستیں آزاد ہوئی تھیں، ان میں سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے مشنوں نے یہ کہہ کر کہ ہم خاتم النّبیین پر ایمان رکھتے ہیں اور اﷲتعالیٰ پر ہمارا ایمان ہے، اس کے بعد ان کو پتہ نہ تھا، ان کو غلط فہمی میں ڈال کر انہوں نے مرزاغلام احمد کو مجدد یا جو کچھ بنانے کے لئے کہا ہے، اور انہیں گمراہ کیا ہے۔ میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ پیپلزپارٹی بلکہ جو بھی اسلامی حکومت ہو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اسلام میں ایسے مرتد اور ناسور جو لوگ ہیں انہوںنے باہر مشنوں میں جو کام کیا ہے، ان لوگوں کی اصلاح کے لئے مشن بھیجے جائیں۔ گورنمنٹ اگر حج کا اور باہر وفدوں کا انتظام کر سکتی ہے، اور لوگوں کو باہر بھیج سکتی ہے تو علماء دین کے وفدوں کو ان ریاستوں میں بھیجیں اور وہ ان لوگوں کو صحیح راستے پر لائیں۔ ان کا کوئی قصور نہیں، وہ صحیح مسلمان ہیں۔ وہ سادہ لوح تھے۔ انہیں پوری واقفیت نہ تھی۔ چونکہ ان لوگوں کو موقع ملا اور انہوں نے جاکر اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ان کو گمراہ کیا۔ ان کے لئے گورنمنٹ وفد بنا کر باہر بھیجے تاکہ یہ ناسور ختم ہوجائے اور اسلام اسی طرح ہو جیسے رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے وقت اسلام نے ترقی کی۔ مٹھی بھر مسلمانوں کو کوئی ختم نہیں کر سکتاتھا۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عیسائیوں کی پانچ پانچ لاکھ فوجوں نے چالیس ہزار مسلمانوں کامقابلہ کیا ہے…
    محترمہ قائم مقام چیئرمین: ذرا ختم کرنے کی کوشش کریں۔ دس پندرہ منٹ ہیں۔
    2943چوہدری غلام رسول تارڑ: بالکل ٹھیک ہے۔ ایسے مشن کو بھی بھیجا جائے۔ ان کے لئے پیپلزگورنمنٹ جیسا کہ ان کو ڈیکلیئرکرنے کی امید ہے کہ اﷲ کے فضل سے کر دے گی، اس کے بعد ان کے جو بیت المال وغیرہ ہیں، ان کی جو جائیدادیں ہیں، جو ہم سے دس فیصد لے کر بنائی گئی ہیں، ہمارے بھائیوں سے، وہ میرے ہی بھائی ہیں، جن کی دس روپے کی آمدنی ہو، وہ روپیہ ضرور دیں گے، چاہے خود بھوکے رہیں۔ وہ سب ضبط کر کے انہی مشنوں پر خرچ کرنی چاہئے۔ اوقاف کی رقم بھی انہیں مشنوں پر خرچ کرنی چاہئے۔ یہ اسلام کی خدمت ہے اور ایسا کرنا ہمارا فرض ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    محترمہ قائم مقام چیئرمین: مسٹر محمود اعظم فاروقی! دس منٹ ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر