1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

عقل ودانش کا تقاضا

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عقل ودانش کا تقاضا
    جب قرآن پاک اصلاح کے لئے نازل ہوا ہے اور اس نے یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط عقیدوں کی تردید کر دی ہے تو پھر جب عیسائیوں کی اکثریت ان کے آسمان پر 2548زندہ ہونے کا عقیدہ رکھتی تھی تو قرآن پاک نے ’’رافعک‘‘ اور ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ فرما کر کیوں ان کے غلط عقیدے پر مہر تصدیق ثبت کی؟ قرآن کریم نے تو اس کو اس طرح صاف وصریح بیان کیا کہ تمام صحابہؓ اور تیرہ سو سال کے مجددین ومحدثین نے یہی سمجھا کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں۔ اگر واقعی وہ زندہ جسم سمیت آسمان پر نہ اٹھائے گئے ہوتے تو پہلے تو قرآن پاک واضح طور سے ان کی تردید کرتا۔ ورنہ ایسے الفاظ تو قطعاً استعمال نہ کرتا کہ جس سے ان کی تائید ہوسکتی۔

اس صفحے کی تشہیر