1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

عقائد مرزا ( حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 1, 2014

  1. ‏ اکتوبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,127
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    مرزا قادیانی کے دعوی ( حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم)
    حضرت محمد ﷺ اﷲتعالیٰ کے آخری نبی اور اس کی جملہ مخلوقات میں سب سے اعلیٰ، افضل اور رب العزت کے مقرب خاص ہیں۔
    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
    آپa کے لئے کہاگیا اور سچ یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر آپa کے مقام رفیع کا بیان ممکن نہیں۔ اﷲتعالیٰ نے اپنے آخری کلام قرآن مجید میں مختلف حوالوں سے اپنے اس عبد کاملa اور رسول خاتمa کا ذکر کیا اور اتنے پیار اور محبت سے کہ
    کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است
    لیکن ایک مرزاغلام احمد ہے جس کے بے لگام اور گستاخ قلم سے اس انسان اعظم، رسول اکرم اور نبی مکرم ﷺ کے متعلق وہ وہ دلخراش عبارتیں نکلیں کہ: ’’الامان والحفیظ۔‘‘
    ایسی جسارت تو ابلیس اعظم علیہ ما علیہ بھی نہ کر سکا۔ اس نے بھی محض اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے ’’انا خیر منہ‘‘ کی بات کہی۔ لیکن تیرھویں صدی کے دم آخر انگریزی استبداد کے زیرسایہ نبوت کا ڈھونگ رچانے والے اس ابلیس مجسم نے اس امام الانبیاء علیہ السلام کا کس طرح ذکر کیا وہ بڑی ہی اندوہناک داستان ہے۔
    افسوس کہ گوری اقلیت کے زیر سایہ یہ سب گند اچھالا جاتا رہا اور اب تک بعض بدقسمت اس مردود ازلی سے اپنی عقیدتوں کا رشتہ جوڑے بیٹھے ہیں۔
    ہم اس کفر کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کر رہے۔ آپ بھی ان ملعون تحریرات کو دیکھ کر مرزائی اور مرزائی نوازوں کو آئینہ دکھائیے۔
    *… ’’مگر تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمدa کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵)
    *… یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت(a) کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ (حقیقت النبوۃ ص۲۲۸)
    *… نبی پاکa اشاعت دین مکمل طور پر نہ کر سکے۔ ’’نبیa سے دین کی مکمل اشاعت نہ ہوسکی۔ میں نے پوری کی ہے۔‘‘ معاذ اﷲ تعالیٰ! (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)
    *… ’’آنحضرتa کے تین ہزار معجزات ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)
    *… ’’میرے نشانات کی تعداد دس لاکھ ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)
    *… ’’نشان، معجزہ، کرامت اور خرق عادت ایک چیز ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم، نصرۃ الحق ص۵۰، خزائن ج۲۱ ص۶۳)
    *… ’’سوال نمبر۵: ایسے موقع پر مسلمان معراج پیش کر دیتے ہیں۔ حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے ہوا تھا وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ تھا۔‘‘
    (ملفوظات احمدیہ ج۹ ص۴۵۹)
    *… ’’آنحضرتa اور آپ کے اصحاب… عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سؤر کی چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘
    (مرزاقادیانی کا مکتوب مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ئ)
    *… ’’ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے۔ کسی کو بہت، کسی کو کم، مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہوگیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریمﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۱۳)
    *… ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اﷲﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘ (نعوذ باﷲ)
    (اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ئ)
    *…
    محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
    محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
    (اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ئ)

اس صفحے کی تشہیر