1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 7, 2015

  1. ‏ فروری 7, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا)
    جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ کر سناتا ہوں:
    ’’خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رَدّ کرسکتا ہوں؟ میں اس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
    ’’حقیقت الوحی‘‘ (لائبریرین سے) یہ آپ نکال کے دے دیجئے ’’رُوحانی خزائن‘‘ میں سے، ج۲۲، ص۱۵۴۔ یہ ہے جی، میں پڑھ کر سناتا ہوں، میں ذرا پھر آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، اس طرح، یہ ص۱۵۳ پر:
    ’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابنِ مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی اَمر میری ہی فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی 1667وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی تو اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور ’’نبی‘‘ کا خطاب مجھے دیا گیا۔۔۔۔۔۔‘‘

    (حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)
    ’’صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا‘‘ اللہ میاں جو تھے ناں، اُس کے ساتھ یہ ۔۔۔نعوذباللہ!۔۔۔ بھول گئے Define کرنا کہ مجازی ہو، اصلی نہیں ہو:
    ’’نبی کا خطاب مجھے دیا، مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی۔‘‘
    اب اُن کا حاشیہ جو ہے، وہ بھی میں پڑھ کے سناتا ہوں۔ یہاں حاشیے میں وہ دیتے ہیں کہ:
    ’’یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سُن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوّت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں، بلکہ خداتعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرتﷺ کے افادہ اور رُوحانیت کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوّت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلاسکتا۔ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی۔۔۔۔۔۔‘‘

    (حقیقت الوحی ص۱۵۰، حاشیہ خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
    آپ جو صبح کہہ رہے تھے کہ: ’’ہو ہی نہیں سکتا اُمتی نبی۔‘‘ پھر آگے فرماتے ہیں:
    ’’اور جیسا کہ میں نے نمونے کے طور پر بعض عبارتیں خداتعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں۔ اُس میں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابنِ مریم کے مقابل پر خداتعالیٰ نے میری نسبت کیا فرماتا ہے، میں خداتعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کرسکتا ہوں۔ میں اِس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں اور میں 1668یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابنِ مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ نبی کا ہوں جو خیرالرسل ہیں۔‘‘

    (حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)
    اب وہ جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا Status (رُتبہ) ہے نبی کا، وہ محمدﷺ کے مقابلے میں اپنا Status (مقام) بتا رہے ہیں۔ وہ بھی اُمتی وہاں، یہ بھی اُمتی یہاں، وہ بھی شرع والا اور غیرشرعی، یہ بھی غیرشرعی۔
    جناب عبدالمنان عمر: تین چیزیں اکٹھی ہوگئی ہیں، اس لئے میں کوشش کروں گا…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے بتایا ناں، آپ نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں الگ الگ اس کے جواب عرض کرتا ہوں۔
    پہلا یہ تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن کے ہم پلّہ قرار دِیا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ جناب! یہ ہم پلّہ نہیں ہے، بلکہ مضمون آپ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ وحی شبہ والی نہیں ہے، یقینی وحی ہے۔ ’’مجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وحی ہے یا نہیں ہے۔‘‘ چنانچہ دیکھئے وہ اصل عبارت جو ہے جو ’’حقیقت الوحی‘‘ کی آپ نے پڑھی ہے، وہ صفحہ:۲۱۱ پر ہے:
    ’’درحقیقت یہ امر بارہا آزمایا گیا ہے کہ وحیٔ اِلٰہی کو میں دِلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور صبر اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی اِلٰہی پر ہوجاتا ہے۔ افسوس کہ اُن لوگوں کے کیسے اِلہام ہیں کہ باوجود دعویٰ اِلہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ جی ہمارے اِلہام ظنّی اُمور ہیں۔ نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ ایسے اِلہاموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
    یہ بات فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اُن کو پتا لگتا ہے: ’’یہ اِلہام مجھے رحمانی ہوا ہے شیطانی۔‘‘ فرماتے ہیں:
    1669’’۔۔۔۔۔۔ مگر میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکے کہتا ہوں کہ میں اُن اِلہامات پر اُسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ فضیلت نہیں، اس کے یقین ہونے کو پیش فرما رہے ہیں: ’’۔۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: ’’پاک ایسا ہی۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ’’…کیونکہ اس کے ساتھ اِلٰہی چمک اور نور دیکھتا ہوں…‘‘
    اب دیکھئے، دُوسری بات یہ تھی۔ غرض اس عبارت میں مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن مجید کے مقابل پر پیش نہیں کیا بلکہ اس امر کا اِظہار مقصود ہے کہ: ’’مجھ پر جو کلام نازل ہوتا ہے، وہ بھی قطعی اور یقینی طور پر ہے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: یہ لیکچر ہے جی، یہ آپ کس حوالے…
    جناب عبدالمنان عمر: یہ اس حوالے کے متعلق میں نے گزارش کی کہ یہ کوئی…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو آپ پڑھ کر سنا رہے ہیں، یہ اپنا خیال ہے یا نوٹ ہے؟
    جناب عبدالمنان عمر: یہ نوٹ دیا ہے جی میں نے۔ پھر مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں، اُن کی کتاب ہے ’’الہدیٰ‘‘ اُس کے ص۳۳ پہ ہے: ’’جو شان قرآن کی وحی کی ہے، وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں۔‘‘ تو مرزا صاحب کی وحی، وحیٔ ولایت ہے، اولیاء کی وحی ہے، وحیٔ نبوّت نہیں ہے۔ اُن کی وحی کی وہ شان ہو نہیں سکتی جو نبیوں کی وحی کی ہے۔
    1670جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ، آپ یہ ۔۔۔۔۔۔۔میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیوں نہیں ہوسکتی؟ یعنی اللہ کے دو بیان آتے ہیں۔ ایک انسان پر آتا ہے، ایک نبی پر آتا ہے۔ تو کیوں شان نہیں ہوتی؟ شان تو اللہ کی ہے، بیان تو اللہ کا ہے، یہ Source (منبع) تو وہی ہے، منبع وہی ہے، ویسا ہی پاک ہونا چاہئے اور وہی Status (مقام) ہونا چاہئے۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی Status (رُتبہ) نہیں، محمد رسول اللہﷺ کی وحی کا Status (رُتبہ) ہمارے مذہب اور عقیدے کے لحاظ سے دُنیا کے کسی بھی انسان کی وحی کے برابر نہیں ہے۔ کوئی دُنیا کا بڑے سے بڑا اِنسان ہو، بڑے سے بڑا نبی ہو۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں۔۔۔۔۔۔
    جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ وہ وحی محمد رسول اللہﷺ کی وحی سے فروتر ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صاحبزادہ صاحب! میں آپ سے ایک اور عرض کروں گا۔ ابھی آنحضرت (ﷺ) کی حدیثیں ہیں ہمارے پاس۔ اگر انہوں نے کسی بہت بڑے آدمی سے بات کی یا بڑے غریب آدمی سے بات کی، بڑے گھٹیا قسم کے آدمی سے بات کی، تو آپ تو یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ گھٹیا آدمی سے بات کی اس لئے اس کا وہی Status (رُتبہ) نہیں، آپ کی حدیث کا جو کسی بڑے آدمی سے بات کی۔ یہ تو نہیں ہوسکتا۔
    جناب عبدالمنان عمر: جنابِ والا! اگر کسی جگہ۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی بات اُن (ﷺ) کی ہے، اُن کی بات ایک برابر ہے، کسی سے بھی کہی ہو۔ اللہ جو باتیں کرتا ہے، اِلہام بھیجتا ہے، وحی نازل کرتا ہے تو اُس پہ آپ نہیں کہیں گے کہ اس کا Status Low (رُتبہ کم) ہوگیا۔ چونکہ ایک محدث سے اُس نے، یا کسی ولی کو یہ وحی بھیجی ہے، اور وہ دُوسرے نبی کو بھیجی ہے، اللہ میاں نے، اس وجہ سے اپنی جو وحی بھیجی ہے یا جو پیغام بھیجا ہے، اُس میں کوئی فرق کردیا ہے۔
    1671جناب عبدالمنان عمر: جنابِ والا! یہ معتقدات کی بات ہے۔ ممکن ہے میں اپنے عقیدے کو آپ سے نہ منواسکوں۔ مگر میرا عقیدہ۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ اِرادہ نہیں ہے، دیکھیں ناںجی، ہم تو Clasification چاہ رہے ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: میرا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب یا کسی ولی کی وحی محمد رسول اللہa کی وحی کے مطابق ہوسکتی نہیں۔ وہ وحی اس قدر بڑی ہے، میں اس کی ایک مثال عرض کروں گا آپ کو۔ نبی کریمﷺ پر وحی نازل ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ جو کہتے ہیں ناں کہ:
    ’’میں اس وحی پر، اس پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسے ان تمام وحیوں پر اِیمان۔۔۔۔۔۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: اُس کے ظنّی ہونے کے مقابلے میں۔ میں نے اس لئے حوالے کا اُوپر کا حصہ جو چھوڑ دیا گیا تھا وہاں، وہ میں نے یہاں پڑھا ہے، اسی لئے، یہی بتانے کے لئے کہ وہاں عظمت کا ذِکر نہیں ہے۔ میں پھر عرض کردیتا ہوں۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناںجی، وہ ایسے ہی پاک ہے جیسے دُوسری وحی پاک ہے، اللہ کی طرف سے ہے۔۔۔۔۔۔
    جناب عبدالمنان عمر: درحقیقت۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔ اور اِیمان دونوں پہ ایک جیسا لاتا ہے۔۔۔۔۔۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، دونوں پر ایک جیسا نہیں لاتا ہے۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتا ہے۔۔۔۔۔۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں ناں جی، وہ اُوپر بیان ہوا ہے ناںجی، اُس کی عبارت کو۔۔۔۔۔۔

اس صفحے کی تشہیر