1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

سیف چشتیائی صفحہ نمبر221

ام ضیغم شاہ نے 'سیف چشتیا ئی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 8, 2016

  1. ‏ فروری 8, 2016 #1
    ام ضیغم شاہ

    ام ضیغم شاہ رکن عملہ منتظم اعلی ناظم پراجیکٹ ممبر مہمان رکن ختم نبوت فورم

    ابطال معبودیت اصنام وغیرہ کےلیے۔ھولاء لیسوابالھۃ لانہ لوکانو الھۃ یخلقواشئیا لکنھم لایخلقون شئیا ایسا ہی وھم یخلفون ھولاء لیسوابالھۃ لانھم مخلوقون ولاشئی من المخلوقین بالھۃ فھولاء لیسوابالھۃ ۔ایسا ہی (اموات)اور ایسا ہی (غیرا حیاء )بھی ہی قولہ تعالیٰ لوکان فیھما الھۃ الااللہ لفسدتابلکہ ساری براہین (ماوردوگا)اور ولعلی بعضھم علی بعض )الغرض آیات قرآنیہ میں سینکڑوں جگہ یرہان کے مقدمات میں سے ایک مقدمہ کے ذکر پر اکتفا ء کیا گیا ہے۔
    نمبر 2۔صفحہ85شمس الہدایت کاملاحظہ ہو۔جس کے حاشیہ پر صورت استدلال میں لکھا ہوا ہے(الموت لیس بمناف للرسالۃ)کیا للرسالۃ )سے لرسالۃ محمدﷺ مراد نہیں ؟بدلیل خصوص مقام ناظرین صفحہ مذکورہ کے حاشیہ پر مفصل تقریر ملاحظہ فرمالیویں۔
    نمبر 3۔شکل اول پر صفحہ 86شمس الہدایت کے حاشیہ میں جو اعتراض ہے وہ توبہ سبب مسلم ہونے رسالت آپ کے عند المخاطبین وارد غیرمندفع ہے۔اور آپ کا اعتراض بالکل لغو اور جہالت ہے۔کیونکہ منافات مزعومہ حاضرین کا رفع تو خطبہ صدیقیہ سے ہی ہوا تھا پہلے سے نہیں ہوا ۔اسلیے کہ رفع الشئی فرع ہے تحقق اس شے کی،اور حاضرین کے اذہان میں منافات بین الموت والرسالت صدمہ وفات شریف کے رو سے اسی دن متحقق ہوئی تھی جس کا رفع خطبہ صدیقیہ سے کیا گیا ۔ناظرین کو معلوم ہوچکا ہوگا۔کہ امروہی صاحب کا جواب سے تو جواب ہے۔اور لغویات ومطاعن کی طرف سے پائے بررکاب ہے۔سادہ لوحوں کو خبر ہے براہیں کی ۔ان بے چاروں کو اس طرح پر اطمینا ن دے دیتے ہیں کہ کلمہ (لکن )اور پھر اتنے مقدمات قرآن کریم میں کہاں مذکور ہیں۔گویا ان کےدلوں میں یہ جمانا منظور ہے کہ قرآن کریم کی تحریف ہورہی ہے۔امروہی صاحب ہر چند پولٹیکلوں سے کام لیے جائیں مگر تاڑنے والے تو تاڑ گئے ہیں کہ آپ ہر فن سے بے بہرہ ہیں ۔اور قرآن وسنت کی پٹڑی اکھاڑنے کےدرپےہیں ۔مگر معلوم ہوکہ مطابق (انا نحن نزلنا الذکروانالہ لحفظون )(سورۃ الحجر آیت ۔9)کے ناکامیاب ہی رہیں گے۔
    قولہ:۔صفحہ 255 کا حاصل نمبر ا ۔شمس الہدایت میں آنحضرت ﷺکی برات عن الوفات کو مزعوم مخاطب کا ٹھہرا گیا ہے جو شخصیہ ہے ۔اور پھر سالبہ کلیہ بھی یعنی (لاشئیی من الرسل بھا لک )
    2۔جب مزعوم مخاطب کا سالبہ کلیہ نہ ہوا۔تو طرز استدلال ہی باطل ہوگیا ۔
    اقول:۔1۔مزعوم مخاطب کا بہ لحاظ خصوص مقام گوکہ شخصیہ ہے۔مگر چونکہ منافات مزعومہ بین الموت والرسالۃ کسی خصوصیت کی جہت سے نہیں ۔بلکہ ازروئے وصف رسالت کے ہے۔دیکھو اسی حاشیہ میں (جنھوں نے محمد ﷺ کوبہ لحاظ رسالت کے موت سے بری خیال کیا تھا ) لہذا مزعوم مخاطب کو باختلاف اعتبار شخصیہ بھی اور سالبہ کلیہ بھی کہنا صحیح ہوا۔
    2۔جب مزعوم مخاطب کا سالبہ کلیہ بھی ہوا تو طرز استدلال بھی صحیح رہا ؎بیت ؎
    فہم سخن گر نکند مستمع
    قوت طبع از متکلم مجوئے
    قولہ:۔ صفحہ 256۔اور صفحہ 257کے غیر مکرر مضمون کا حاصل :۔ منافات بین الموت والرسالت کو صحابہ کا مزعوم ٹھہرانا بالکل غلط ہے۔کیونکہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ آنحضرتﷺ کی وفات تک صحابہ کو یہ مسئلہ بدیہیہ کو مات الناس حتیٰ الانبیاء بھی معلوم نہ ہوا ہو۔بلکہ صحابہ کا مزعوم یہ تھا کہ ابھی تک بہت سی پیشین گوئیوں کو پورا ہونا آپ کی حیات میں باقی ہے۔
    اقول:۔جاں نثاروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ اپنے محبوب کی فرقت کے صدمہ سے بدیہیات کو بھی بھول جاتے ہیں۔اور یہی ہے مقتضائے (لن یومن احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدۃ والناس اجمعین ) کا ۔کیا صحابہ کرام نے

اس صفحے کی تشہیر