1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

"سچے اور جھوٹے نبی کا فرق" پارٹ 1

AliAhmad نے 'نئے اراکین اپنا تعارف کروائیں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 8, 2020

  1. ‏ جولائی 8, 2020 #1
    AliAhmad

    AliAhmad رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 8, 2020
    مراسلے :
    1
    موصول پسندیدگیاں :
    0
    نمبرات :
    1
    جنس :
    مذکر
    "سچے اور جھوٹے نبی کا فرق"
    پارٹ 1
    .
    إعلان نبوت سے پہلے کی بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر مبارک کی 35 ویں منزل ہے،
    قریش نے کعبہ کی تعمیر نو شروع کی، اس موقع پر انہوں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں صرف حلال مال ہی استعمال کریں گے۔ زانیہ کی اجرت، سود کی آمدنی اور کسی سےناحق لیا ہوا مال استعمال نہیں کریں گے۔ابو جہل بازو کھڑا کرکے پکار لگاتا ہے کوئی ایک پیسہ حرام کا لے کر نہ آئے، جب حلال مال اکٹھا کیا گیا تو وہ مال اتنا نہیں تھا کہ جس سے بیت اللہ کو اس کی اصل
    بنیادوں پر ازسر نو تعمیر کیا جا سکے لہٰذا انہوں نے مال کی کمی کی و جہ سے شمال کی طرف سے کچھ حصّہ کو تعمیر میں شامل نہیں کیا بلکہ اس پر ایک چھوٹی سی دیوار اٹھا کر چھوڑ دی۔ یہی ٹکڑا حطیم اور حجر کہلاتا ہے۔
    جب خانہ کعبہ کی عمارت حجراسود تک بلند ہو چکی تو حجر اسود کو اس کی جگہ پر نصب کرنے کے بارے میں قریش کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ہر قبیلہ کے سردار نے چاہا کہ حجر اسود کو نصب کرنے کا شرف اسے حاصل ہو۔
    یہ جھگڑا پانچ دن تک چلتا رہا اور اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ قریب تھا کہ حرم میں خون خرابہ ہوجاتا۔
    بنو عبدالدار اور بنو عدی بن کعب نے خون کی لگن میں ہاتھ ڈبو کر مرنے مارنے کا عہد کر لیا، یہ بہت بڑی قسم تصور کی جاتی تھی، قریب تھا کہ قریش اپنے امن و عافیت کے آبگینے کو چکنا چور کر دیں،
    اتنے میں ایک عمر رسیّدہ شخص ابوامیہ مخزومی نے یہ تجویز پیش کی کہ صبح مسجد حرام کے دروازہ سے جو شخص سب سے پہلے داخل ہو اسے منصف (فیصلہ کرنے والا) مان لیں، سب لوگوں نے یہ تجویز منظور کرلی۔
    اگلے دن سب سے پہلے حرم کے دروازے سے رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم آتے دکھائی دیتے ہے، تو سب بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں :
    ھٰذَا الْاَمِیْنُ رَضِیْنَاہُ ھٰذَا محمّد
    امین آ گئے، امن و امان کے پیکر اور امانت و دیانت کے حامل محمد آ گئے، ہم ان سے راضی ہیں،
    .
    آپ ﷺکو معاملہ کی تفصیل بتائی گئی تو آپ ﷺنے ایک چادر منگوائی جس میں اپنے دست مبارک سے حج اسود کو رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے کہا:
    تم لوگ اس چادر کو کناروں سے پکڑ کر اسے حجر اسود کے مقام تک لے چلو۔ جب وہ وہاں لے گئے تو آپ ﷺنے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اٹھا کر اس کی مقررہ جگہ پر نصب فرما دیا۔یہ اتناعمدہ فیصلہ تھا کہ جس پر تمام لوگ راضی ہو گئے۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اعلان نبوت سے پہلے بھی لوگ سچا اور امانت دار مانتے تھے،
    "اعلان نبوت کے بعد"
    فاران کی چوٹی پر کھڑے ہو کر رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سب سے پہلا اعلان عام کیا،
    لوگو! میری بات سنو میں تم میں ایک عرصہ تک رہا ہوں، میری زندگی تم لوگو میں گزری میرا بچپن تم نے دیکھا میری جوانی تمہارے سامنے گزری عمر کی چالیسویں منزل پر پہنچ کر میں تم سے پوچھتا ہوں، بتاؤ
    "مجھے کبھی جھوٹ بولتے دیکھا ہے"
    یہ نہیں کہا لوگو مجھے اللہ نے رسول بنایا ہے میری بات مانو لا الہ الا اللہ کہہ دو، بلکہ پہلے اپنے بارے گواہی لی کہ بتاؤ زندگی کے کسی موڑ پر مجھے جھوٹ بولتے دیکھا ہے؟
    سب نے یک زبان ہو کر کہا ہرگز نہیں اے محمد ہم نے تجھے کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا ہمیشہ صادق پایا، تیرا ماضی بے داغ ہے، تیرا کردار باکمال ہے، تو امانت دار ہے، تو بااخلاق ہے، تو سچا ہے اور تو اچھا ہے،
    .
    رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منافق کی تین نشانیاں بتائی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ
    جب بات کرے تو جھوٹ بولے
    مرزا قادیانی کے جھوٹ و کذب پر پوری پوری کتابیں لکھی گئی ہیں جس کو پڑھ کر اس شخص کے جھوٹا ہونے پر کوئی احتمال باقی نہیں رہتا، لیکن میں مرزا قادیانی کا مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ کے ساتھ مباہلہ نقل کر رہا ہوں جس نے اس کے جھوٹا اور کذاب ہونے پر مہر لگا دی،
    مرزا قادیانی نے "مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ" کے عنوان سے اشتہار عام شائع کیا، 19 اپریل 1907ء کو اسے دوبارہ طبع کرا کر تقسیم کیا گیا،جس کا متن یہ ہے
    .
    ”مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری و کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے. میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا. مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا. اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں. جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا. کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے. تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اﷲ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے. پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے. جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں. یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں. بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک......اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے. آمین......میں تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اﷲ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے. اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو ...... الراقم مرزا غلام احمد...... مرقومہ 15 اپریل 1907ء“
    مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 575-580
    اس سے پہلے مرزا قادیانی نے مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ کے ساتھ ایک بحث میں لکھا
    "مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رُو سے واقع نہ ہو بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو. مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کاروائی حکام کے لئے تشویش کا موجب نہ ٹھہرے. اور ہم یہ بھی دُعا کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے فریقین محفوظ رہیں. صرف وہ موت کاذب کو آوے جو بیماری کی موت ہوتی ہے اور یہی مسلک فریق ثانی کو اختیار کرنا ہو گا "
    روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 122
    اس کے ساتھ مرزا قادیانی نے مزید کہا
    ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اسکی بنیاد رکھی گئی ہے“
    اخبار بدر 25 اپریل 1907 ء
    .
    مرزا غلام احمد قادیانی کی تاریخ وفات 26 مئی 1908 ہے. یعنی اس مباہلہ کے تقریباً 13 مہینے اور گیارہ دن بعد مرزا قادیانی وبائی ہیضے سے واصل جہنم ہو گیا، جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ اس مباہلہ کے تقریباً 40 سال بعد (پاکستان بننے کے بعد 1948ء میں) فوت ہوئے،
    اور یوں مرزا قادیانی کے جھوٹا اور کذاب ہونے پر مہر ثبت ہو گئی
    مرزا قادیانی نے اپنے پیروکاروں کو کہا تھا
    ”مَیں اقرار کرتا ہوں کہ اگر مَیں اِس مقابلہ میں مغلوب رہا تو میری جماعت کو چاہئے جو ایک لاکھ سے بھی اب زیادہ ہے کہ سب مجھ سے بیزار ہو کر الگ ہو جائیں کیونکہ جب خدا نے مجھے جھوٹا قرار دے کر ہلاک کیا تو مَیں جھوٹے ہونے کی حالت میں کسی پیشوائی اور امامت کو نہیں چاہتا بلکہ اس حالت میں ایک یہودی سے بھی بدتر ہوں گا اور ہر ایک کے لئے جائے عار وننگ. “
    روحانی خزائن جلد 19اعجاز احمدِی: صفحہ 124

اس صفحے کی تشہیر