1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

{سورۃ الفاتحہ سے دلائل}

محمدابوبکرصدیق نے 'آیات ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2016

  1. ‏ مارچ 28, 2016 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    {سورۃ الفاتحہ سے دلائل}

    بخاری شریف کی حدیث کے مطابق سورت فاتحہ قرآن پاک کی سب سے بڑی سورت ہے (۱) یہ اپنے مضامین اور اپنے اسلوب میں انفرادیت کی حامل ہے۔ اس سورت میں پورے قرآن پاک کا خلاصہ موجود ہے اس سورت میں کئی طرح سے ختم نبوت کے دلائل ملتے ہیں راقم الحروف فی الحال تین دلائل ذکر کرتا ہے ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    (۱) پوری حدیث یوں ہے عن أبی سعید بن المعلی قال کنت أصلی فدعانی النبیﷺفلم أجب قلت یا رسول اللّٰہ انی کنت أصلی قال ألم یقل اللّٰہ استجیبوا للّٰہ وللرسول اذا دعاکم ثم قال ألا أعلمک أعظم سورۃ من القرآن قبل أن تخرج من المسجد فأخذ بیدی فلما أردنا أن نخرج قلت یا رسول اللّٰہ انک قلت لأعلمنک أعظم سورۃ من القرآن قال الحمد للّٰہ رب العالمین ھی السبع المثانی والقرآن العظیم الذی أوتیت

    (دیکھئے بخاری طبع کراچی ج۲ص۷۴۹ بخاری بتحقیق فؤاد عبد الباقی ج۳ص۳۴۲ حدیث نمبر۵۰۰۶)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  2. ‏ مارچ 28, 2016 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    {سورۃ فاتحہ سے دلیل نمبر۱} چلا ہمیں صراط مستقیم پر {اس سورۃ کے اسلوب سے}

    اللہ کی حمد وثنا اور اپنی بندگی کے اظہارکے بعد ہم یہ دعا کرتے ہیں۔
    اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ { سورۃ الفاتحۃآیت نمبر۵}
    ترجمہ : چلا ہمیں صراط مستقیم پر
    دلیل کی وضاحت:
    اس سے ختمِ نبوت کی دلیل یوں ہے کہ مولانا عبدالقادر محدث دہلویؒ موضح القرآن میں اس سورت کے تحت لکھتے ہیں کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ اس طرح کہا کریں یعنی ان کلمات کے ساتھ دعا کیاکریں ۔ شاہ صاحب کا مقصد یہ ہے کہ یہ آسمانی درخواست ہے جس کو پیش کرنے سے ہدایت حاصل ہوتی ہے گویااس کی حیثیت سرکاری درخواست فارم کی طرح ہے اگر کسی کو مدرسہ،سکول یا کالج میں داخلہ لینا ہو تو اسے پہلے فارم پُر کرنا پڑتا ہے یہ فارم حقیقت میں ایک درخواست ہی ہوتی ہے جب تک داخلہ کھلا ہوتا ہے درخواست کے فارم ملا کرتے ہیں جب داخلہ بند ہوجائے تو فارم نہیں ملاکرتے ۔
    حاصل یہ کہ سورت فاتحہ درخواست ہے اوریہ اسی ہدایت کیلئے درخواست ہے جو قرآن پاک میں موجود ہے جس کے بارے میں فرمایا ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے اور اسی ہدایت کو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے تھے۔(۱)
    اس سورت کا اور بالخصو ص اس دعا (درخواست )کا موجودرہنا بتاتا ہے کہ نبی ﷺکے ذریعے ملنے والی ہدایت باقی ہے جب وہ ہدایت باقی ہے تو کسی اور نبی کی کیا ضرورت ہے؟۔ اگر کسی اور نبی کوآنا ہوتا تو اس درخواست فارم کو اٹھا لیا جاتا تاکہ نیا نبی اپنی ہدایت بھی لائے اور اس کے لیے فارم بھی لائے ۔
    الحاصل جب تک سورت فاتحہ موجود ہے کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    (۱) اس کی دلیل یہ ہے کہ سورت بقرۃ کے شروع میں ذٰلِکَ الْکِتَابُ فرمایا آگے جا کر {أُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی مِنْ رَبِّھِمْ وَأُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (البقرۃ :۵) ان میں اسم اشارہ کے ساتھ کاف حرفِ خطاب واحد مذکر کا ملا ہوا ہے جو اس کی دلیل ہے کہ مخاطب ایک شخص ہے اگر سب انسان مخاطب ہوتے تو’’ ذٰلِکَ‘‘کی جگہ کہا جاتا’’ذٰلِکُمْ‘‘اور’’ أُولٰئِکَ‘‘ کی جگہ کہاجاتا’’ أُولٰئِکُم‘‘ْاب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ایک شخص جس کو خطاب ہے وہ کون ہے ؟ وہ خود رسول اللہ د ﷺ ہی ہیں کیونکہ آپ کو خطاب کرکے فرمایا ہے { وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکََ} (البقرۃ : ۴)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  3. ‏ مارچ 28, 2016 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    {سورۃ فاتحہ سے دلیل نمبر۲} { صراطِ مستقیم نبی ﷺ کی اتباع میں ہے}

    اس سورت میں صراط مستقیم کی دعا کا ذکر ہے ۔صراط مستقیم کیاہے؟ صراط مستقیم نبی کریم ﷺ کی اتباع ہی کانام ہے اس کی کچھ بحث گزر چکی ہے مزید بحث ان شاء اللہ سورۃ الانعام کے دلائل کے ذیل میں آئے گی۔ اب اگر کوئی نیا نبی آئے تو وہ اپنی اطاعت کرائے گا یا نہیں۔اگر وہ اپنی اطاعت کرائے تو نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں خلل آئے گا اور انسان صراط ِمسقیم سے ہٹ جائے گا کیونکہ صراطِ مستقیم نبی کریم ﷺ کی اتباع ہی کانام ہے ۔ اور اگر آنے والا نیا نبی اپنی اطاعت نہ کرائے تو اس کو نبی ہونے کیا ملا؟چونکہ صراطِ مستقیم موجود ہے اس لئے کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں؟
  4. ‏ مارچ 28, 2016 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    {سورۃ فاتحہ سے دلیل نمبر۳} { اس سورۃ کی فضیلت سے}

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
    ’’ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَاأُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلَا فِی الْاِنْجِیْلِ وَلَا فِی الزَّبُوْرِ وَلَا فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُھَا ‘‘

    (ترمذی طبع بیروت ج۵ص۱۵۶ ترمذی طبع دیوبندج۲ص۱۱۱ نسائی طبع بیروت ج۲ص۱۳۹ شرح السنۃ للبغوی ج۴ص۴۴۴وص۴۴۶ مسند احمد ج۲ص۳۵۷ وص۴۱۳)
    ’’ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے سورت فاتحہ جیسی سورت نہ توراۃ میں اتاری گئی نہ انجیل میں نہ زبور میں اور نہ قرآن میں‘‘۔
    اس سے استدلال یوں بنتا ہے کہ نبی ﷺ نے یہ تو فرمایا کہ ایسی سورت نازل نہ ہوئی مگریہ نہ فرمایا کہ آئندہ بھی کسی نبی پر ایسی سورت نازل نہ ہوگی اس کی وجہ سوائے اس کے اورکیا ہوسکتی ہے کہ نبی کریمﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے اس کے بعدنہ کوئی نیانبی ہوگا اور نہ کوئی کتاب نازل ہوگی ۔ اس لئے مستقبل میں ایسی سورت کے نزول کی نفی کی ضرورت نہیں۔
    وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ عَلٰی ذٰلِکَ

اس صفحے کی تشہیر