1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

سورۃ الاحزاب آیت 53 اور قادیانی مذہب

اسامہ نے 'آیاتِ ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 24, 2019

  1. ‏ جولائی 24, 2019 #1
    اسامہ

    اسامہ رکن ختم نبوت فورم

    وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا سورۃ الاحزاب آیت 53 اور قادیانی تحریف کا جواب


    از
    محمد اسامہ حفیظ



    آیت

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا

    اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں ( بلا اجازت ) داخل نہ ہو ، الا یہ کہ تمہیں کھانے پر آنے کی اجازت دے دی جائے ، وہ بھی اس طرح کہ تم اس کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو ، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنی اپنی راہ لو ، اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو ۔ ( ٤٤ ) حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے ( کہتے ہوئے ) شرماتے ہیں ، اور اللہ حق بات میں کسی سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو ۔ ( ٤٥ ) یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا ۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو ۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے ۔
    سورۃ الاحزاب آیت 53

    قادیانی کہتے ہیں کہ آیت میں رسول نکرہ ہے اس لئے آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص نہیں بلکہ عام ہے۔اب اگر حضور علیہ السلام کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا تو اس آیت کا قرآن میں ہونے کا کیا فائدہ اسے نکال دینا چاہیے۔
    (خلاصہ قادیانی پاکٹ بُک صفحہ 262)


    جواب


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت نازل ہوئی ہے۔ صحابہ کرام کی جماعت مخاطب ہے جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو رسول اللہ مانتے تھے۔ اللہ تعالی صحابہ کرام کو آداب رسول بتا رہا ہے کہ بغیر اجازت رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے گھر میں داخل نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے پر بلائیں تو کھانا کھا کر باتوں میں نہ لگ جائیں بلکہ کھانا کھاتے ہی اپنے گھر کی طرف لوٹ جائیں۔ جب بھی ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگیں۔ اور صحابہ اکرام کو ہرگز یہ مناسب نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیں اور یہ بھی مناسب نہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کریں۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسا ہی عمل میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے شادی نہیں کی گئی۔ جیسے کہ آیت سے واضح ہے کہ رسول اللہ سے مراد محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پس اس آیت کو کسی آئندہ رسول کے لئے متعلق بھی قرار دینا سراسر تحریف فی القرآن ہے۔

    اور پاکٹ بُک کے مصنف صاحب نے یہ جو لکھا ہے کہ : رسول اللہ نکرہ ہے۔ مصنف کے جاھل، نادان اور علوم عربیہ سے نابلد ہونے کی دلیل ہے۔خادم گجراتی صاحب کو یہ تک معلوم نہیں کہ لفظ الرسول یا النبی سے ہی خصوصیت نہیں ہوتی بلکہ اسم اضافت سے بھی معروفہ ہو جاتا ہے۔ اب دیکھیں کہ لفظ غلام نقرہ ہے مگر جب غلام زید کہا جائے گا تم معرفہ ہو جائے گا۔اسی طرح آیت میں رسول کا لفظ مضاف ہے اور اللہ کا لفظ مضاف الیہ ہے۔یعنی اللہ کا رسول اور اللہ کا لفظ معرفہ ہے پس یہاں لفظ رسول اللہ نقرہ نہیں معرفہ ہے۔رسول اللہ کا لفظ معرفہ ہے اور یہاں بھی وہی رسول اللہ مراد ہے جس کا اس سورة میں کئی بار ذکر آ چکا ہے۔
    جیسے کہ
    1_لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا
    حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو ، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو ۔
    سورۃ الاحزاب آیت 21
    2_ وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا
    اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، جب انہوں نے ( دشمن کے ) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ : یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا ، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا ۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کردیا تھا ۔
    سورۃ الاحزاب آیت 22
    3_وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا
    اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے ۔
    سورۃ الاحزاب آیت 29
    4_مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا
    ( مسلمانو ! ) محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ، ( ٣٥ ) اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
    سورۃ الاحزاب آیت 40


    اور وہی رسول اللہ مراد ہے جس کے متعلق کتب احادیث میں ہزارہا مرتبہ یہ الفاظ آتے ہیں
    قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    مجھے خطرہ ہے کہ آج کل کے قادیانی کہیں احادیث نبویہ کے بارے میں یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ
    کتب حدیث میں جہاں قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    وارد ہوا ہے وہ خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں بلکہ لفظ "رسول اللہ" نقرہ ہے اور اس میں ہر رسول داخل ہے۔


    اب رہا اعتراض کے اگر اب نبی پیدا نہیں ہو گا تو اس آیت کی کیا ضرورت ہے ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ آدم علیہ صلاۃ و سلام کے بے ماں باپ یا عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ پیدا ہونے کا ذکر قرآن سے نکال دیں کیونکہ اب کوئی اس طرح پیدا نہیں ہوگا۔
    قرآن مجید میں یہ آیت باقی رکھنے کی ضرورت یہ تھی کہ عرب معاشرے میں امراء کی وفات پر ان کی ازواج سے شادی کرنا فضیلت میں شمار ہوتا تھا اور قرآن شریف نے سورۃ نور میں بیوہ سے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے۔قرآن نے سری حکم دیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے نکاح نہ کیا جائے وہ آخر امہات المومنین ہیں۔
    دوسری بات یہ آیت مبارکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی شان اور فضیلت کا اظہار کرتی ہے جو کہے کہ اسے نکال دو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو مٹانے والا ہے۔
    ویسے بھی مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
    تحریف تغیر کرنا بندروں اور سؤروں کا کام ہے۔ ( خزائن جلد 8 صفحہ 291)
    تحریف قرآن کا مشورہ دینے والے خادم گجراتی صاحب بتائیں کہ وہ ان میں سے کیا ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر