1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

سری لنکا میں 117 قادیانی گرفتار

محمد یونس عزیز نے 'متفرق خبریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 7, 2014

  1. ‏ جولائی 7, 2014 #1
    محمد یونس عزیز

    محمد یونس عزیز ہم حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربان ہوں رکن عملہ منتظم اعلی ناظم

    [​IMG]
    • Like Like x 1
  2. ‏ جولائی 8, 2014 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    سری لنکا میں 117 مشتبہ قادیانی گرفتار
    [​IMG]دیوبند:5؍جولائی(شاہدانوربانکوی،بصیرت آن لائن)
    ذرائع ابلاغ میں آئی خبر کے مطابق سری لنکن اینٹی ٹیرر فورس اور امیگریشن حکام نے کولمبو اور نیگومبو میںچھاپہ مار کر ۱۱۷ قادیانیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کو پاکستان میں جان کا خوف بتا کر سری لنکا میں سیاسی پناہ لینے کی کوشش کرنے والے گرفتارشدگان قادیانیوں کے دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہو نے کا خدشہ ہے ۔ اس لئے ان قادیانیوں کی سختی کے ساتھ تفتیش وپوچھ گچھ کیا جارہا ہے ۔ سری لنکن جریدے ’’ڈیلی مرر‘‘ نے لکھا ہے کہ سری لنکن حکام نے امیگرشن حکام کی درخواست پر پاکستان سے جا بجا آنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کسی ممکنہ مصیبت کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی مسافروں کے لئے ’’آن ارائیول ویزا‘‘ کی سہولت ختم کر دی ہے۔ واضح رہے کہ سری لنکا ان چند ممالک میں سے ایک تھا، جہاں پاکستانی شہریوں کی آمد پر فوری ویزا دے دیا جاتا تھا، لیکن اس سہولت کا غلط استعمال کرنے والے قادیانیوں کے سبب سری لنکن حکومت نے تمام پاکستانیوں پر ویزے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ قادیانی اخبار ’’احمدیہ ٹائمز‘‘ نے سری لنکا میں ۱۱۷ قادیا نیوں کی گرفتاری کو ’’انسانی حقوق‘‘ کا مسئلہ قرار دے کر اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رہنماؤں نے سیاسی پناہ کے متلاشی قادیانیوں کی گرفتاری کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی او رسری لنکا ہی میں سیاسی پناہ او ر رہائش کا اجازت نامہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن دوسری جانب کولمبو میں موجود امیگریشن کنٹرولر جنرل’’چولانندا پریرا‘‘ نے سری لنکن اخبارات و جرائد سے بات چیت میں کہا ہے کہ سیاسی پناہ کے طالب پاکستانی باشندوں کی گرفتاری ان کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی میں ملوث ہونے یا پلاننگ کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات پر عمل میں لائی گئی تھیں۔ تفتیشی عمل کی تکمیل کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے یا واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔ سری لنکن پولس نے متعلقہ علاقوں میں لاؤڈاسپیکرز پر اعلانات کیے ہیں کہ کوئی بھی مقامی فرد کسی بھی پاکستانی کو مکان کرائے پر نہ دے او رنہ ہی کسی شناختی کاغذات کے بغیر کسی کو مکان میں رہنے دیا جائے۔ کولمبو سے شائع ہونے والے جریدے سنڈے ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے احمدی خاندان، سری لنکا آن ارائیول ویزا پر آجاتے ہیں اور یہاں مقامی قادیانیوں کے گھروں میں قیام کر کے حکومت سری لنکا سے سیاسی پناہ طلب کرتے ہیں اور جب پناہ مل جاتی ہے تو یہ اقوام متحدہ کی جانب سے پناہ گزینوں کا سرٹیفکیٹ بنوا کر بآسانی کینیڈا یا کسی بھی یورپی ملک چلے جاتے ہیں۔ امیگریشن کنٹرولر جنرل ’’چولا نندا پریری‘‘ نے واضح کیا کہ سری لنکا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق رہنماؤں کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور گرفتار پاکستانیوں کو سیاسی پناہ ہر گز نہیں دی جائے گی۔ سری لنکن امیگریشن کنٹرولرڈائرکٹر نے بتایا کہ سری لنکن حکومت نے ۱۴۱ پاکستانی باشندوں کو گھر گھر تلاشی کے دوران گرفتاری کیا تھا، جن میں سے ۱۱۷ قادیانی ہیں۔ سری لنکن جریدے ڈیلی مرر نے لکھا ہے کہ قادیانی جماعت کے مقامی رہنماؤں نے اعلیٰ قیادت کے احکامات پر گزشتہ جمعرات کے روز مرکزی عبادت گاہ نیگومبو میں سیکڑوں ایسے قادیانیوں کو حاضر ہونے کی ہدایت دی کہ وہ سرکاری حکام سے رابطے کر کے اپنے کاغذات کو مکمل کروائیں، ورنہ انہیں بھی واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ سری لنکن جریدے سنڈے ٹائمز کے مطابق کولمبو اور نیگومبو میں قادیانی جماعت کی عبادت گاہ موجود ہیں، جب کہ ان کے پرچارک مراکز بھی ہیں۔ جریدے کے مطابق سری لنکا میں قادیانی پناہ گزینوں کو ہر ممکن مدد دینے کے لئے مقامی قادیانی جماعت سرگرم ہو چکی ہے اور وہ مالی امداد سے لے کر قانونی امداد تک انہیں مدد فراہم کر رہی ہے۔ سری لنکن جریدے سنڈے ٹائمز سے بات چیت میں کئی مقامی افراد کا کہنا تھا کہ یہاں پاکستان سے آنے والے مخصوص خاندانوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور یہ لوگ یہاں اپنی تبلیغ کرتے ہیں اور مقامی لوگوں سے مار پیٹ سے بھی نہں چوکتے، اس لئے نہیں ہر قیمت پر واپس پاکستان بھیجا جانا چائیے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ ویزاں آن ارائیول کے سبب پاکستانی احمدی خاندانوں نے سری لنکا کو یورپی ممالک جانے کے لئے جمپنگ پیڈ بنایا ہوا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۲۰۱۰ء میں سری لنکن آکر پناہ طلب کرنے والے افراد کی تعداد محض ۴۵ تھی، جو ۲۰۱۲ء میں ۲۰۰ رہی، لیکن ۲۰۱۳ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۱۶۰۷ ہو گئی ہے۔(بصیرت نیوزسروس)
    بشکریہ بصیرت

اس صفحے کی تشہیر