1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

زکوۃ اور روزے سے دلیلِ ختم ِ نبوت

محمدابوبکرصدیق نے 'آیات ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 21, 2015

  1. ‏ نومبر 21, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    زکوۃ اور روزے سے دلیلِ ختم ِ نبوت

    زکوۃ اور روزہ سے ختم نبوت پر استدلال ایک تو یوں ہے کہ حضرت نانوتویؒ کے کہنے کے مطابق چار ارکانِ اسلام میں اـصل نماز اور حج ہے ، زکوۃ نماز کا مقدمہ اور روزہ حج کی تیاری ہے اور نماز اور حج ختم نبوت کی دلیل ہیں تو یہ زکوۃ اور روزہ عقیدئہ ختم نبوت کی فرع ہوئے۔
    حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے کلام کاخلاصہ یوں ہے کہ کلمہ طیبہ کے بعد ارکان اسلام چار ہیں نماز، ر وزہ ، حج اور زکوۃ مگر دو ارکان (نماز اورحج)اصل ہیں اور دو (زکوۃ اور روزہ) ان کے تابع چنانچہ نماز اصل ہے او زکوۃ اس کے تابع کیونکہ نماز کا تعلق براہ راست حق تعالیٰ سے ہے اور وہ اس کے دربار کی حاضری اور اس کی تعظیم اور اس سے عرض معروض کا نام ہے اور زکوۃ کا تعلق بلا واسطہ محتاجوں اور فقراء سے ہے پس نماز کے مقابلہ میں زکوۃ ایسی ہے جیسے کوئی بادشاہ اہل دربار کو اپنے دربار میں پانچ وقت حاضری کا حکم دے اوریہ بھی حکم دے کہ ہماری طرف سے جو انعامات وصلات تم کو وقتاً فوقتاً ملے ہیں کچھ ہماری غریب رعایا کو بھی دو جو دربار کے راستہ میں خیرات کے موقع پر بیٹھ جاتے ہیںسوظاہر ہے کہ حاضریٔ دربار مقصود ہے اور صدقہ خیرات اس کے تابع، یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ نے تقریبا ًہر جگہ قرآن میں زکوۃ کو نماز کے بعد بیان فرمایا ہے کسی جگہ فرمایا {یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ}اورکہیں فرمایا{ أَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَآتُوا الزَّکٰوۃَ }
    اس طرح حج کا تعلق براہِ راست حق تعالیٰ سے ہے کیونکہ اس میں محبوب کے درِ دولت پر حاضر ہوکر اپنے عشق ومحبت کا اظہار ہے اور روزہ ان نفسانی خواہشات کو توڑتا ہے جو اس عشق ومحبت سے مانع ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی خامیوں کو دور کرتا ہے اسی لئے روزے تیس یعنی پورے مہینے کے مقرر کئے گئے اور حج کا وقت رمضان کے بعد سے شروع کیا گیا کیونکہ ذو الحجہ سے رمضان تک دس مہینے ہوتے ہیںپس ہر مہینے کے لئے تین مسہل روزے تجویز کئے گئے اس ان سب کو ایک مہینہ میں (یعنی رمضان میں ) جمع کردیا گیا کہ تیس روزے فرض کر دیئے گئے تاکہ دس مہینوں میں جس قدر نفسِ امارہ کی وجہ سے عشق ومحبت کے جذبات میں خامی اور خلل آگیاہے ان روزوںسے اس کی تلافی ہوجائے اور وہ اس قابل ہوسکے کہ محبوب کے درِ دولت پر حاضر ہوکر صحیح طور پر اپنی محبت کا اظہار کرسکے اور جب رمضان کے روزوں سے وہ حاضری کے قابل ہوگیاتو اب یکم شوال سے اس کو اجازت ہوئی کہ اب آئو اور آکر اپنی محبت کا اظہار کرویعنی اس وقت سے حج کا وقت شروع ہوگیااور اس کی ایسی مثال سمجھو جیسے بادشاہ اپنے اہل دولت کو جشنِ شاہی کی شرکت کے لئے دعوت دے اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم دے کہ سب لوگ خوب نہا دھو کر اور اعلیٰ خوشبوئیں لگا کر اور عمدہ پوشاکیں پہن کر غرض پوری طرح شرکت جشن کے قابل ہوکر شریک جشن ہوں سو ظاہر ہے کہ اصل چیز شرکت ِ جشن ہے اور باقی امور اس کے تابع، جب یہ بھی ذہن نشین ہو گیااور معلوم ہوگیا کہ نماز اور حج ارکان مقصودہ ہیں اور زکوۃ اور روزہ ان کے تابع الخ(ازارواح ثلاثہ ص۲۴۲،۲۴۳)
    جب ارکانِ اسلام ختم نبوت کی دلیل ٹھہرے توجتنی آیات واحادیث ارکان اسلام (نماز روزہ زکوۃ اور حج) کیلئے ہوں گی ان کو ختم نبوت کے اثبات کے لئے پیش کرنا بالکل بجا ہوگا۔

اس صفحے کی تشہیر