1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ۔

محمود بھائی نے 'روحانی خزائن جلد3' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 26, 2014

  1. ‏ جولائی 26, 2014 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا غلام احمد اپنی بدزبانی کا جواز قرآن سے پیش کرتے ہوئے
    جب مرزا غلام احمد قادیانی پر ان کی نہایت درجہ کی بدکلامی اور بدزبانی پر تنقید ہوئی تو مرزا جی نےاپنی اس بدزبانی کے جواز کے طور پر قرآن کو ڈھال بنایا ۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اگر میری باتیں تمہیں بدزبانی لگتی ہیں تو پھر تو قرآن بھی ایسی باتوں سے بھرا پڑا ہے ۔
    پھر مرزا غلام احمد نے اپنے تئیں قرآن سے اس کی مثالیں پیش کیں ۔ مرزا جی کے جھوٹ کا پوسٹ مارٹم کرنے سے پہلے آپ ان کی تحریر ملاحظہ فرمائیں ۔
    روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 115 پر مرزا جی لکھتے ہیں ۔
    "۔ لیکن قرآن شریف کفارؔ کو سُنا سُنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اولئک عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓٮِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَۙ؂خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۚ الجزو ۲ سورۃ بقرہ۔ اُولٰٓٮِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ‏ ۔ الجزو نمبر ۲ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بد تر قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْ ۳؂۔۔ ایسا ہی ظاہرہے کہ کسی خاص آدمی کانام لے کر یا اؔ شارہ کے طورپر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابو لہب اوربعض کانام کلب اور خنزیر کہا اور ابو جہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید (بن) مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیساکہ فرماتا ہے فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍۙ‏ هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۢ بِنَمِيْمٍۙ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ عُتُلٍّ ۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍۙ‏ سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُـرْطُوْمِ ۔دیکھوؔ سورہ القلم الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی تُو ان مکذّبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اس بات کے آرزو مند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرامت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے اور ان کی چرب زبانی کا خیال مت کر ویہ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والااورضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اورسخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والاؔ اورنیکی کی القلم: ۹ تا ۱۷
    اس سے پہلے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش کردہ آیات پر تبصرہ کیا جائے ایک دو باتیں ذہن نشین کر لیں کہ
    اللہ کریم کا اپنی مخلوق کے ساتھ تعلق خالق و مالک کا ہے ۔ ہر شے اس کی مخلوق اور عبد ہے۔ اب خالق و مالک کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہے اپنی مخلوق اور اپنے عباد کے ساتھ معاملہ فرمائے اور جیسے چاہے ان کے بارے میں الفاظ استعمال فرمائے ۔
    اللہ کریم نے برے القاب سے پکارنے سے منع فرما دیا ہے ۔
    يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ۭ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (سورہ الحجرات۔11)
    اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں ۔
    اب دیکھیں قرآن اس درجہ کے اتحاد کی تعلیم دے رہا ہے کہ سب مسلمان آپس میں کنفس واحدہ ہو جائیں اور مرزا جی کیا کر رہے ہیں کہ نہ صرف عیب لگا رہے ہیں بلکہ مغلظات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں ۔
    اب کسی کو حق نہیں ہے کہ اپنے خالق و مالک سے پوچھے کہ جس کام سے آپ منع کرتے ہیں اس کے آپ خود کیوں مرتکب ہیں۔
    دیکھئے اللہ نے تکبر اور تعلی سے منع فرمایا ہے لیکن وہ خود متکبرّ ہے کیا کوئی اس سے اس بارے میں پوچھ سکتا ہے ؟
    نہیں پوچھ سکتا کیونکہ لا یسئل عما یفعل وھم یسالون(الانبیا،23) وہ اپنے کاموں کے لئے (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب دہ ہیں ۔

    اب آتے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش کردہ آیات کی طرف ۔
    یاد رہے کہ مرزا جی نے جتنی بھی آیات پیش کیں ہیں اس میں کسی کو معین کر کے اس پر لعنت یا ملامت نہیں کی گئی بلکہ خاص صفات کے حاملین اس کے حق دار ہیں ۔
    اب مرزا جی جو پہلی آیت پیش کی وہ پوری آیت اور اس کا مفہوم ملاحظہ فرمائیں ۔

    اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ١٦١۝ۙ
    یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اسی حال میں مر گئے کہ کفر پر قائم تھے ان پر لعنت ہے اللہ کی بھی اور فرشتوں کی بھی اور تمام انسانوں کی بھی۔
    اس سے معلوم ہوا کہ جن کی بابت یقینی علم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے ان پر لعنت جائز ہے لیکن اس کے علاوہ کسی بھی بڑے سے بڑے گنہگار مسلمان پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ممکن ہے مرنے سے پہلے اس نے توبہ کر لی ہو یا اللہ نے اس کے دیگر نیک اعمال کی وجہ سے اس کی غلطیوں پر قلم عفو پھیر دیا ہو ۔ جس کا علم ہمیں نہیں ہو سکتا البتہ جن بعض معاصی پر لعنت کا لفظ آیا ہے ان کے مرتکبین کی بابت کہا جا سکتا ہے کہ یہ لعنت والے کام کر رہے ہیں ان سے اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو یہ بارگاہ الٰہی میں ملعون قرار پا سکتے ہیں ۔
    اب آپ خود بتائیں ان آیات میں کون سی معاذاللہ بدزبانی ہے ؟؟؟

    مرزا غلام احمدقادیانی نے جو دوسری آیت پیش کی ہے اس کو بھی دیکھ لیں ۔

    اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ ١٥٩؁ۙ
    جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کر چکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔
    اہل کتاب نے رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے اوصاف اور بیت اللہ کے قبلۂ حق ہونے کو لوگوں سے چھپا رکھا تھا‘ جس پر حق چھپانے کی سزا بیان کی جارہی ہے ۔
    اہلِ کتاب نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ ہر اس نشانی کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کی جس سے آپ کی رسالت کی نشاندہی ہوتی تھی ۔ ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے بے قراری کے عالم میں صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگائے تھے لیکن یہود و نصارٰی نے تاریخ کے اس اہم ترین حصّہ کو اپنی کتابوں سے نکال باہر کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان مقامات کو شعائر اللہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حقائق اور احکامات کو چھپانا اتنا سنگین جرم ہے کہ اس جرم کی وجہ سے لا تعداد بلکہ بعض دفعہ تو نسل در نسل لوگ قبولِ حق سے محروم ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسامجرم عالم ہو یا غیر عالم اس پر اللہ تعالیٰ اور کائنات کے ایک ایک ذرّہ کی لعنت ہوتی ہے۔

    مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش کردہ تیسری آیت

    اِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ عَاھَدتَّ مِنْھم ثُمَّ ینقضون عَھْدَھُمْ ۔(الانفال 55)
    تمام جانداروں سے بدتر، اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو کفر کریں، پھر وہ ایمان نہ لائیں۔جن سے تم نے عہد پیمان کر لیا پھر بھی وہ اپنے عہد و پیمان کو ہر مرتبہ توڑ دیتے ہیں اور بالکل پرہیز نہیں کرتے ۔
    اول تو شر البریہ کوئی گالی ہی نہیں۔ شر غیری مفید اور مضر چیز کو کہتے ہیں اور لاریب جو شخص خدا کا منکر ہو اور صداقت کا دشمن وہ نقصان رساں ہی ہے اور یقینا جملہ مخلوق سے نقصان دہ ہے ۔
    اب آئیے قرآن پاک سے دیکھیں کہ ایسا کس کو کہا گیا ہے

    1: جو کفر کریں، پھر وہ ایمان نہ لائیں
    2: اپنے عہد و پیمان کو ہر مرتبہ توڑنے والے

    ناظرین کرام! میں خدا کے نام پر آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ کسی بد عہد کو نقصان دینے والا کہنا گالی ہے؟ بدتہذیبی ہےاگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر کیا مرزائیوں کی ہی بدفہمی ہے کہ وہ تہذیب سے تو کورے ہیں۔ تہذیب کی تعریف بھی نہیں جانتے؟
    جہاں تک تعلق ہے ابولھب کہنے کا تو نبیﷺ کے اس چچا کا نام عبدالعزٰی تھا جبکہ کنیت ابولھب تھی اور وہ اسی کنیت سے ہی معروف تھا ۔لہذا قرآن نے اس کی کنیت بیان کی ہے نہ کہ اسے کوئی برا لقب دیا ہے ۔
    اور ابوجہل کا لفظ تو قرآن میں آیا ہی نہیں ۔
    اب آتے ہیں سورہ القلم کی آیات کی طرف
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوحی خدا لوگوں کو ہدایت فرماتے ہیں:
    وَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ لوگو! صداقت کے جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کرنا۔ وَلَا تُطِعُ کُلَّ حَلاَّفٍ مَّھِیَنٍ۔ ھَمَّازٍ مَّشَّائٍ بِنَھِیْمٍ مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔
    نہ کہا ماننا بڑے جھوٹے۔ طعن کرنے والے، چغل خور، خیر کے کام سے منع کرنے والے، حد سے نکلے ہوئے، بد عمل، متکبر، نسل بدلنے والے کا۔
    دیکھئے ! یہ طریقہ ہدایت کا یعنی برے اشخاص سے پَرے رہنے کا وعظ مرزا صاحب کہا کرتے ہیں کہ اس آیت میں کافروں کو زنیم یعنی حرام زادہ کہا گیا ہے حالانکہ یہ غلط ہے جس نے یہ معنی کیے ہیں یہ اس کی اپنی رائے ہے:
    لغوی معنی ہیں دَعِیُّ الْقَوْمِ لَیْسَ مِنْھُمْ ایک شخص جس کا باپ کسی دوسرے قبیلہ کا ہو مگر (وہ) کسی دوسرے قبیلے اور قوم کی طرف منسوب ہوتا ہو۔( احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۶ طبعہ ۱۹۳۲ء و ص۹۶۰ طبعہ ۱۹۴۵ء)
    مثلاً مرزا صاحب مغل تھے مگر بنتے تھے فارسی الاصل۔ ماسوا اس کے اگر ہم یہی مان لیں تو بھی کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اس آیت میں کسی کا نام لے کر اس کو حرامزادہ نہیں کہا گیا بلکہ مومنوں کو ہدایت ہے کہ ایسے لوگوں سے بچو اور ان کی اطاعت نہ کیا کرو کیا بروں کی مجلس سے اجتناب کی تلقین کسی کو گالی ہے؟
    [​IMG]

    [​IMG]
    آخری تدوین : ‏ اگست 5, 2014
    • Like Like x 4
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  2. ‏ جولائی 26, 2014 #2
    عبید اللہ خان

    عبید اللہ خان رکن ختم نبوت فورم

    اچھی پوسٹ ہے تھوڑی سے دنیا کے نفع کے لیے اللہ کی ایات کا کو بدل دیتے ہے
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  3. ‏ ستمبر 24, 2014 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بہت عمدہ ہے ماشااللہ
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر