1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حیات الانبیاء و حیات الرسول ﷺ پر جامعہ بنوری ٹاون دیوبندی فتویٰ

مبشر شاہ نے 'حیات انبیاء علیھم السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 4, 2020

  1. ‏ اپریل 4, 2020 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    سوال
    کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعرات اور پیر کے دن اعمال پیش ہونے کے سلسلے میں کوئی صحیح حدیث ہے یا کوئی آیت ہے یا پھر ضعیف احادیث ہی ہیں؟ تو پھریہ عقیدہ کیسے ثابت ہے؟ کیا یہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے یا بریلویوں کا؟
    جواب
    رسول اللہ ﷺ پر اپنی امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں، یہ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، اور اسی طرح تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام پر بھی ان کی امتوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین اور بعض اقارب پر بھی اعمال پیش ہوتے ہیں، روایات سے معلوم ہوتا ہے آپ ﷺ پر ہر روز صبح اور شام اپنی امت کے اعمال تفصیلاً پیش ہوتے ہیں، اور ہر جمعہ تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام پر ان کی امتوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، ان کے ساتھ آپ ﷺ پر بھی اپنی کے امت کے اعمال جمعہ کے دن اجمالاً پیش ہوجاتے ہیں، اور بعض اقارب جیسے والدین وغیرہ پر اپنی اولاد کے اعمال بھی جمعہ کو پیش ہوتے ہیں۔

    باقی پیر اور جمعرات کے دن آپ ﷺ پر خصوصیت کے ساتھ اعمال پیش ہونے والی روایات سند کے اعتبار سے ثابت نہیں ہیں۔ ہاں صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں۔

    مذکورہ عقیدۂ عرض اعمال سے متعلق بطورفائدہ چنداحادیث ذکرکی جاتی ہیں :

    1- حا فظ نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی[ المتوفی: ۸۰۷ھ] نے ’’مجمع الزوائد ومنبع الفوائد‘‘ میں عرضِ اعمال علی الرسول ﷺ کے اثبات میں’’ مسندبزار‘‘کے حوالہ سے ایک صحیح حدیث نقل فرمائی ہے:

    ’’باب مایحصل لأمّته ﷺ من استغفاره بعدوفاته ﷺ :
    عن عبداﷲبن مسعود… قال: وقال رسول اﷲ ﷺ :حیاتي خیرلکم تحدثون وتحدث لکم، ووفاتي خیرلکم، تعرض عليّ أعمالکم، فمارأیت من خیرحمدت اﷲعلیه، ومارأیت من شرّ استغفرت اﷲ لکم. رواه البزّار، ورجاله رجال الصحیح.‘‘ ( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب علامات النبوّة، مایحصل لأمّتها من استغفاره بعد وفاته، (۹/۲۴) ط: دار الکتاب بیروت، ۱۹۷۸م)

    مذکورہ حدیث کی سندکے رجال صحیحین کے رجال ہیں اورحدیث بالکل صحیح ہے۔

    2- علامہ سیوطی رحمہ ﷲنے ’’الجامع الصغیرفي أحادیث البشیروالنذیر‘‘ میں ایک صحیح روایت نقل کی ہے:

    ’’تعرض الأعمال یوم الأثنین والخمیس علی اﷲ، وتعرض علی الأنبیاء وعلی الآباء والأمّهات یوم الجمعة، فیفرحون بحسناتهم، وتزداد وجوههم بیاضاًوإشراقاً، فاتّقوااﷲ ولاتؤذواموتاکم‘‘. ( الجامع الصغیرفي أحادیث البشیروالنذیر،حرف التاء،[رقم الحدیث:۳۳۱۶](۱/۱۹۹) ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت،۲۰۰۲م - ۱۴۲۳ھ۔)

    ۳: علامہ مناوی رحمہ ﷲاس حدیث کی شرح کرتے ہوئے رقم طرازہیں :

    ’’وفائدة العرض علیهم إظهار اﷲ للأموات عذره في مایعامل به أحیاء هم من عاجل العقوبات وأنواع البلیّات في الدنیا، فلوبلغهم ذٰلك من غیرعرض أعمالهم علیهم لکان وجدهم أشدّ. قال القرطبي: یجوز أن یکون المیّت یبلغ من أفعال الأحیاء وأقوالهم بمایؤذیه أویسرّه بلطیفة یحدثها اﷲ لهم من ملك یبلغ أوعلامة أودلیل أوماشاء اﷲ وهو القاهر فوق عباده وعلی من یشاء. وفیه زجرعن سوء القول في الأموات، وفعل ماکان یسرّهم في حیاتهم وزجر عن عقوق الأصول والفروع بعد موتهم بمایسوء هم من قول أوفعل، قال: وإذاکان الفعل صلة وبرًّا کان ضدّه قطیعة وعقوقًا‘‘. (فیض القدیر، شرح الجامع الصغیر للعلامة المناوي، حرف التاء، [ رقم الحدیث:۳۳۱۶] تعرض الأعمال یوم الإثنین،(۳/۲۵۱) ط:مطبعۃ مصطفٰی محمّد مصر،۱۳۵۶ھ/ ۱۹۳۸م)

    4- ’’زرقانی‘‘ میں ہے:

    ’’(روی ابن المبارك) عبداﷲ الذي تستنزل الرحمة بذکره (عن سعیدبن المسیّب) التابعي الجلیل بن الصحابي (قال: لیس من یوم إلّا وتعرض علی النبيّ ﷺ أعمال أمّته غدوةً وعشیاً، فیعرفهم بسیماهم وأعمالهم، فیحمد اﷲ و یستغفرلهم، فإذا علم المسيء ذلك قدیحمله الإقلاع، ولایعارضه قوله ﷺ: تعرض الأعمال کلّ یوم الإثنین والخمیس علی اﷲ، وتعرض علی الأنبیاء والآباء والأمّهات یوم الجمعة … رواه الحکیم الترمذي؛ لجواز أنّ العرض علی النبيّ ﷺ کلّ یوم علی وجه التفصیل وعلی الأنبیاء -ومنهم نبیّنا- علی وجه الإجمال یوم الجمعة، فیمتاز ﷺ بعرض أعمال أمّته کلّ یوم تفصیلاً ویوم الجمعة إجمالاً‘‘. (شرح العلامة الزرقاني علی المواهب اللدنیة بالمنح المحمدیّة، المقصد الرابع، الفصل الرابع مااختصّ به ﷺ من الفضائل والکرامات، (۷/۳۷۳ -۳۷۴)ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت، ۱۴۱۷ھ ۔ )
    مذکورہ حدیث مرسل ہے،امام شافعی رحمہ ﷲکے سوا باقی ائمہ اورمحدثین رحمہم ﷲکے ہاں مرسل حجت ہے۔

    ’’ولذاقال جمهورالعلماء: إنّ المرسل حجّة مطلقًا بناءً علی الظاهرمن حاله … وقال الشافعي: یقبل: أي: لامطلقاً، بل فیه تفصیل‘‘. (شرح شرح نخبة الفکر لعلي القاري الحنفي المرسل، (ص:۴۰۳ -۴۰۷) ط:قدیمی کتب خانہ کراچی)
    بالخصوص سعیدبن المسیب کی مرسل کوبعض ایسے حضرات بھی قبول کرتے ہیں جو حجیۃ المرسل کے قائل نہیں۔

    ’’والثاني:قوله: (وقال الشافعي: یقبل المرسل ممّن عرف أنّه لایرسل إلّا عن ثقة، کابن المسیّب‘‘. (توضیح الأفکارلمعاني تنقیح الأنظار، للعلامة الصنعاني، مسألة في اختلاف العلماء في قبول المرسل، (۱/۲۸۷ -۲۸۸)ط:دارإحیاء التراث العربي،بیروت،۱۴۱۸ھ - ۱۹۹۸م)

    ’’اشتهرعن الشافعي أنّه لایحتجّ بالمرسل، إلّا مراسیل سعید بن المسیب‘‘. (تدریب الراوي في شرح تقریب النواوي للسیوطي، المرسل، (ص:۱۷۱) ط:قدیمی کتب خانہ کراچی)

    ۵: علامہ آلوسی رحمہ ﷲعلیہ سورۃ النحل کی[ آیت :۸۹] {وَجِئْنَابِكَ شَھِیْداً عَلٰی هٰؤُلآءِ } کے تحت رقم طراز ہیں:

    ’’المرادبهولآء أمّتها عند أکثرالمفسرین، فإنّ أعمال أمّته علیه الصلاة والسلام تعرض علیه بعدموته. فقد روي عنها أنّه قال: حیاتي خیرلکم، تحدثون ویحدث لکم، ومماتي خیرلکم، تعرض عليّ أعمالکم، فمارأیت من خیر حمدت اﷲ تعالیٰ علیه ومارأیت من شرّ استغفرت اﷲ تعالیٰ لکم، بل جاء: إنّ أعمال العبد تعرض علی أقاربه من الموتٰی‘‘.

    ۶: ’’فقدأ خرج ابن أ بي ا لد نیا عن أبي هریرة أ نّ النبيّ ﷺ قال: لاتفضحوا أمواتکم بسیئات أ عمالکم؛ فإنها تعرض علی أ ولیا ئکم من أهل القبور‘‘.

    ۷: ’’وأخرج أحمد عن أنس مرفوعاً: إنّ أعمالکم تعرض علی أقاربکم وعشائرکم من الأموات، فإن کان خیراً استبشروا، وإن کان غیرذٰلك قالوا: اللّٰهمّ لاتمتهم حتّٰی تهدیهم کما هدیتنا‘‘.

    ۸: وأخرجه أ بوداود من حدیث جابربزیادة: ’’وأ لهمهم أن یعملوا بطاعتك‘‘.

    ۹: وأخرج ابن أبي الدنیاعن أبي الدرداء أنّه قال: ’’إنّ أعمالکم تعرض علی موتاکم، فیسرّون ویساؤون، فکان أبوالدرداء یقول عندذلك: "اللّٰهم إنّي أعوذبك أن یمقتني خالي عبداﷲ بن رواحة إذا لقیته، یقول ذلك في سجوده، والنبيّ ﷺ لأمّته بمنزلة الوالد بل أولٰی‘‘. (روح المعاني،[النحل:۸۹](۱۴/۲۱۳)ط:إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر۔)


    علامہ آلوسی رحمہ ﷲنے اس سلسلہ میں جن احادیث کونقل فرمایاان پرکوئی اعتراض نہیں کیا، جب کہ ان کی عادت یہ ہے کہ وہ احادیثِ ضعیفہ یاموضوعہ کی نشان دہی کرتے ہیں اوران پرردفرماتے ہیں، جس سے معلوم ہواکہ یہ مذکورہ احادیث صحیح ہیں، ورنہ کم سے کم درجہ حسن کی ہیں۔

    ۱۰: ’’تفسیرمظہری‘‘ میں ہے :

    ’’{وَجِئْنَابِكَ عَلٰی هؤُلآءِ شَهِیْدًا} یشهد النبيّ ﷺ علی جمیع الأمّة من رآه ومن لم یره. أخرج ابن المبارك عن سعیدبن المسیّب قال: لیس من یوم إلّا وتعرض علی النبيّ ﷺ أمّته غدوةً وعشیّةً، فیعرفهم بسیماهم وأعمالهم فلذلك یشهد علیهم‘‘. (التفسیرالمظهري، [ النساء:۴۱](۲/۱۱۰)ط: بلوچستان بک ڈپو، کوئٹہ)

    ۱۱: صاحب تفسیرابن کثیرنے آیت کریمہ { وَجِئْنَابِكَ عَلٰی هؤُلآءِ شَهِیْداً }کی تفسیرمیں ’’التذکرة للقرطبي ‘‘کے حوالہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ :

    ’’وأمّا ما ذکره أبو عبد اﷲ القرطبي في’’التذکرة‘‘حیث قال: باب ماجاء في شهادة النبي ﷺ علی أمّته، قال:أنا ابن المبارك، قال: أنارجل من الأنصارعن المنهال بن عمرو أنّه سمع سعید بن المسیّب یقول: لیس من یوم إلّایعرض فیه علی النبيّ ﷺ أمّته غدوةً وعشیًّا، فیعرفهم بأسمائهم وأعمالهم، فلذلك یشهد علیهم، یقول اﷲتعالیٰ:{فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِیْدٍ وَّجِئْنَابِكَ عَلٰی هؤُلآءِ شَهیْدًا}؛ فإنّه أثر، وفیه انقطاع، فإنّ فیه رجلاً مبهمًا لم یسمّ، وهومن کلام سعید بن المسیّب،لم یرفعه، وقدقبله القرطبي، فقال بعد إیراده: فقد تقدّم أنّ الأعمال تعرض علی اﷲ کلّ یوم اثنین وخمیس، وعلی الأنبیاء والآباء والأمّهات یوم الجمعة، قال: ولاتعارض، فإنّه یحتمل أن یخصّ نبیّنا ﷺ بمایعرض علیه کلّ یوم، ویوم الجمعة مع الأنبیاء علیه وعلیهم أفضل الصلاة والسلام‘‘. ( تفسیرالقراٰن العظیم للحافظ ابن کثیر،[ النساء:۴۱](۱/۴۹۸-۴۹۹) ط:قدیمی کراچی)

    حافظ عمادالدین ابن کثیررحمہ ﷲنے بھی احادیثِ مذکورہ کے بارے میں کچھ نکیرنہیں کی، جس سے معلوم ہوتاہے کہ عرضِ اعمال کی احادیث مجموعی اعتبارسے ان کے نزدیک صحیح ہیں۔

    ۱۲: ’’تفسیرمنار‘‘میں ہے:

    { فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّةٍ م بِشَهِیْدٍ…الآیة }، تعرض أعمال کلّ أمّة علی نبیّها‘‘. ( تفسیرالقراٰن الحکیم الشهیر بـ "تفسیرالمنار"، للسیّد محمدرشیدرضا، [ النساء:۴۱](۵/۱۰۹)ط:مطبعۃ المنارمصر،۱۳۲۸ھ)

    ۱۳: ’’مسنداحمد‘‘میں ہے :

    ’’عمّن سمع أنس بن مالك یقول: قال النبيّ ﷺ: إنّ أعمالکم تعرض علی أقاربکم وعشائرکم من الأموات، فإن کان خیرًا استبشروا، وإن کان غیرذٰلك، قالوا: اللّٰهمّ لاتمتهم حتّٰی تهدیهم کماهد یتنا‘‘. ( المسند للإمام أحمدبن حنبل، مسندأنس بن مالك رضي اﷲ عنه، [ رقم الحدیث: ۱۲۶۱۹] (۱۰/۵۳۲-۵۳۳) ط: دارالحدیث القاهرة)

    واضح رہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ حدیث وفقہ کے امام ہیں، اور ناقد بھی، اور احادیث پر جرح بھی کرتے ہیں، جب کہ آپ نے اس حدیث پر کوئی جرح نہیں فرمائی، گویا آپ نے اس حدیث کی توثیق کی ہے۔

    ’’ شرح الصدور ‘‘ میں ہے:

    ۱۴: ’’وأخرج الطیالسي في ’’مسنده‘‘عن جابر بن عبداﷲ قال: قال رسول اﷲ ﷺ: إنّ أعمالکم تعرض علی عشائرکم وأقربائکم في قبورهم، فإن کان خیراً استبشروا، وإن کان غیر ذلك، قالوا: اللّٰهمّ ألهمهم أن یعملوا بطاعتك‘‘.

    ۱۵: ’’وأخرج ابن المبارك وابن أبي الدنیا عن أبي أیّوب، قال: تعرض أعمالکم علی الموتٰی، فإن رأواحسنًا فرحوا واستبشروا، وإن رأوا سوءً، قالوا: اللّٰهمّ راجع به‘‘.

    ۱۶: ’’وأخرج ابن أبي شیبة في ’’المصنف‘‘والحکیم الترمذي وابن أبي الدنیاعن إبراهیم بن میسرة، قال غزٰی أبو أیّوب القسطنطینة فمرّ بقاصّ وهو یقول: إذاعمل العبد العمل في صدرالنهار عرض علی معارفه إذا أمسی من أهل الآخرة، وإذا عمل العمل في آخرالنهار عرض علی معارفه إذا أصبح من أهل الآخرة، فقال أبوأیّوب: انظر ما تقول! قال: واﷲ إنّه لکما أقول، فقال أبو أیوب: اللّٰهم إنّي أعوذبك أن تفضخي عند عبادة بن الصامت وسعد بن عبادة بما عملت بعدهم، فقال القاصّ: واﷲ لایکتب اﷲ ولایته لعبد إلّاسترعوراته وأثنی علیه بأحسن عمله‘‘.

    ۱۷: ’’وأخرج الحکیم الترمذي وابن أبي الدنیا في ’’کتاب المنامات‘‘ والبیهقي في ’’شعب الإیمان‘‘ عن النعمان بن بشیر سمعت رسول اﷲ ﷺ یقول: اﷲ اﷲ في إخوانکم من أهل القبور، وأنّ أعمالکم تعرض علیهم‘‘.

    ۱۸: ’’وأخرج ابن أبي الد نیا وابن منده وابن عساکر عن أحمد بن عبداﷲ بن أبي الحواری، قال:حدّثني أخي محمّد بن عبداﷲ، قال:دخل عبّاد الخواص علی إبراهیم بن صالح الهاشمي -وهوأمیر فلسطین- فقال له إبراهیم: عظني! فقال: قد بلغني إنّ أعمال الأحیاء تعرض علی أقاربهم من الموتٰی، فانظر ماتعرض علی رسول اﷲ ﷺ من عملك‘‘. ( [روایت نمبر:۱۴] سے [روایت نمبر:۱۸] تک دیکھیے: شرح الصدوربشرح حال الموتیٰ والقبور، باب عرض أعمال الأحیاء علی الأموات،(ص:۱۱۴-۱۱۵) ط:مطابع الرشید بالمدینۃ المنورۃ۔)


    مذکورہ تمام حدیثوں سے یہ بات روز روشن کی مانند واضح ہوگئی کہ عرض اعمال جس طرح نبی کریم صلی ﷲعلیہ وسلم پر ہوتا ہے اس طرح ہر شخص کے والدین اور اقارب پر بھی ہوتاہے ۔

    فضائل درودشریف میں ان گنت حدیثیں ہیں، جو اس بات پر صریح دلیل ہیں کہ آپ صلی ﷲعلیہ وسلم پر عرض اعمال ہوتا ہے۔

    ۱۹: ’’أکثر وا من الصلاة عليّ في کلّ یوم جمعة؛ فإنّ صلاة أمّتي تعرض عليّ في کلّ یوم جمعة … (هب) عن أبي أمامة‘‘. (کنزالعمّال في سنن الأقوال والأفعال، الکتاب الثاني، الباب السادس في الصلاة علیه وآله علیه الصلاة والسلام، (۱/۴۸۸) ط:مؤسّسة الرسالة، بیروت،۱۴۰۱ھ-۱۹۸۱م۔)

    ۲۰: ’’ بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني‘‘ میں ہے :

    ’’عن أبي الدرداء رضي اﷲ عنه قال:قال رسول اﷲ ﷺ أکثروامن الصلاة عليّ یوم الجمعة، فإنّه مشهود تشهده الملائکة، وإنّ أحداً لن یصلي عليّ إلّا عرضت عليّ صلاته حتّٰی یفرغ منها، قال: قلت: وبعد الموت؟ قال:إنّ اﷲ حرّم علی الأرض أن تاکل أجساد الأنبیاء علیهم الصلاة والسلام. رواه ابن ماجه بسند جیّد‘‘. (بلوغ الأماني من أسرارالفتح الرباني للإمام أحمدعبدالرحمٰن، أبواب صلاة الجمعة، فصل منه في الحثّ علی الإکثارمن الصلاة علی النبيّ ﷺ یوم الجمعة، (۶/۱۱) ط: دارالشهاب، القاهرة)


    عرض اعمال کا ثبوت اور اس کے متعلق چند روایات کی توثیق ملاحظہ فرمائیں:

    المواهب اللدنیة المطبوع مع شرحه للعلامة الزرقاني، الفصل الرابع، ما اختصّ به ﷺ من الفضائل والکرامات، (۷/۳۶۷)ط: دارالکتب العلمیة بیروت، ۱۴۱۷هـ - ۱۹۹۶م۔

    پیر اور جمعرات کے دن خصوصیت سے آپ ﷺ پر اعمال پیش ہونے والی روایت کی تخریج:
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے منقول ہے، اس کی تین اسانید ہیں:

    پہلی سند :
    ’’عن أبي سعيد الحسن بن علي بن صالح بن زكريا بن يحيى بن صالح بن زفر العدوي، عن خراش، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ وَمَوْتِي خَيْرٌ لَكَمُ، أَمَّا حَيَاتِي فَأُحَدِّثُ لَكُمْ، وَأَمَّا مَوْتِي فَتُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ عَشِيَّةَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَمَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ سَيِّءٍ اسْتَغْفَرْتُ لكم‘‘.
    تخریجه:
    ’’أخرجه ابن عدي في "الكامل" ( 3 /76 ترجمة خراش ) وأبو منصور الجرباذقاني في " الثالث من عروس الأجزاء "(ص78برقم82) ، وذكره السيوطي في "العُشاريات" (ص30).

    حاله: غیرمعتبرموضوع ہے۔
    سند میں حسن بن صالح عدوی متہم بالکذب ہے ، اور خراش مجہول ہے ۔
    ’’قال ابن عدي : " خِراش هذا مجهول ليس بمعروف، وما أعلم حدَّث عنه ثقة أو صدوق إلا الضعفاء ، ... والعدوي هذا كنا نتَّهمه بوضع الحديث، وهو ظاهرُ الأمر في الكذب‘‘.
    ذہبی نے بھی (میزان الاعتدال1/651) میں اس روایت کو خراش کی منکر روایات میں شمار کیا ہے ، ووافقه ابن حجر في (لسان المیزان3/355)

    دوسری سند : اس میں صرف جمعرات کے دن کا ذکر کے ہے ۔
    ’’عن يحيى بن خِذام :حدثنا محمد بن عبد الملك بن زياد أبو سلمة الأنصاري، حدثنا مالك بن دينار ، عن أنس مرفوعاً: " حَياتي خيرٌ لكم: ينزلُ عليَّ الوحيُّ مِن السماءِ فأُخبرُكم بمايَحِلُّ لكم وما يَحْرُمُ عليكم، ومَوتي خيرٌ لكم: تُعْرَضُ عليَّ أَعمالُكم كلَّ خميسٍ، فما كانَ مِن حسنٍ حمدتُّ اللهَ عليهِ ، وما كانَ مِن ذنبٍ استَوهبتُ لكم ذُنوبَكم‘‘.
    تخریجه:
    أخرجه أبو طاهر المخلص في " الثاني من العاشر من المخلصيات " (3/237) قال : حدثنا يحيى (يعني ابن محمد بن صاعد) به.
    حاله:غیرمعتبرموضوع ہے۔
    ’’قال الألباني في "السلسلة الضعيفة"(2/ 406): قلت: وهذا موضوع، آفته الأنصاري هذا، قال العقيلي: " منكر الحديث"، وقال ابن حبان: " منكر الحديث جداً، يروي عن الثقات ما ليس من حديثهم، لايجوز الاحتجاج به". وقال ابن طاهر: " كذاب، وله طامات". وقال الحاكم أبو عبد الله: " يروي أحاديث موضوعة ".


    تیسری سند :متن کا پہلا حصہ مذکور ہے
    ’’عن ابن النَّجَّار: كَتَبَ إِليَّ معمر بن محمَّد الأَصْبَهَانِي، أَنَّ أَبَا نَصرٍ محمَّد بن إِبراهيم الْيُونَارتي، أَخْبَرَهُ فِي "مُعْجَمِهِ" قَالَ: سَمِعْتُ الشَّرِيفَ وَاضِحَ بن أَبي تمام الزَّينَبي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِي بن تُومَةَ يَقُولُ: « اجْتَمَعَ قَوْمٌ مِنَ الْغُرَبَاءِ عِنْدَ أَبِي حَفْص بن شاهين فَسَأَلُوهُ أَنْ يُحَدّثَهُمْ أَعْلى حَدِيثٍ عِنْدَهُ، فَقَالَ: لأحَدثَنَّكُمْ حَدِيثَاً مِنْ عَوَالِي مَا عِنْدِي: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوي، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بن فروخ الأُبلي، حَدَّثَنَا نافع أَبُو هُرمز السِّجستاني قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: « حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ، وَمَمَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ .. الْحَديث ".
    تخریجه:
    ’’أورده السيوطي في "جامع الأحاديث" رقم 13424 - ج19 ص11‘‘.
    حاله: ضعیف منکر، وفیه مجاهيل .

    سند میں نافع ابو ہرمز مجروح ہے ، امام احمد اور ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے ، ابن معین نے کذب کی تہمت لگائی ہے ، ابو حاتم نے متروک ، اور نسائی نے لیس بثقہ قرار دیا ہے ۔

    خلاصہ: یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت نہیں ہے ، اس کی تمام اسانید غیر معتبر ہیں ، اس لیے ان روایات میں عرضِ اعمال کو جو پیر یا جمعرات کے ساتھ مقید کیا ہے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہے۔ مگر عرضِ اعمال کا اصل مضمون دیگر شواہد سے ثابت ہے ، جیسا کہ ماقبل میں اس کا ذکر ہوا۔

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے اعمال کی پیشی تعددِ روایات کی وجہ سے درجہ ثبوت کو پہنچتی ہے، خصوصاً جب کہ ان میں سے بہت سی روایات صحیح بھی ہیں۔ باقی خاص پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش ہونے والی روایات سند کے اعتبار سے ناقابلِ اعتبار ہیں، البتہ پیر اور جمعرات کو اللہ کی بارگارہ میں اعمال پیش ہونے والی احادیث صحیح ہیں۔
    فقط واللہ اعلم

    مکمل فتویٰ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

اس صفحے کی تشہیر