1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حیاتِ عیسی علیہ السلام پر سرور عالم ﷺ کی تفسیر حدیث نمبر۳

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حدیث نمبر۳: ’’عن عبداﷲ بن عمرو ابن العاصؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبرو احد بین ابی بکر وعمر‘‘
    {حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاصؓ نے روایت کیاکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ یہاں شادی کریں گے۔ ان کی اولاد بھی ہوگی اور زمین میں ۴۵سال رہ کر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ گنبد خضریٰ میں دفن ہوں گے۔}
    (رواہ ابن جوزی فی الوفا باحوال المصطفیٰ، مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ ابن مریم)
    اس روایت کو مرزاقادیانی نے نقل کر کے ’’فیتزوج ویولد لہ‘‘ کے حصہ سے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی خوشخبری پر محمول کیا ہے اور ’’یدفن معی فی قبری‘‘ سے اپنا فنا فی الرسول ہونا ثابت کیا ہے۔ بہرحال حدیث کو صحیح تسلیم کر گیا ہے۔
    یہ حدیث امام ابن جوزیؒ نے نقل فرمائی ہے جو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی ششم ہیں۔ گویا صحت حدیث سے انکار ہی نہیں ہوسکتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ:
    ۱… 2553حدیث میں ’’الی الارض‘‘ کے لفظ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ زمین پر پہلے سے (یعنی اس وقت) نہیں ہیں۔
    ۲… چونکہ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہ کی تھی۔ اس لئے اب ان کی شادی کرنے کا ذکر بھی کر دیا۔
    ۳… اور یہ تصریح بھی فرمادی گئی کہ قیامت کے دن حضور ﷺ ایک ہی مقبرے سے ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان بمعہ عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوں گے۔

    مرزائی وہم
    یہاں مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور ﷺ کی قبر میں کیسے دفن ہوں گے۔ مگر مرزاجی نے خود (نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۴ ص۴۲۵) پر لکھا ہے کہ ’’ان (یعنی حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ) کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔‘‘ یہی مطلب مرقاۃ میں مرزائیوں کے مسلم مجدد حضرت ملا علی قاریؒ نے بیان فرمایا ہے۔
    ۴… اس کے ساتھ وہ روایت بھی ملا دیجئے کہ حضرت عائشہؓ نے حضور کریم ﷺ سے اجازت چاہی کہ میں آپ ﷺ کے پہلو میں دفن ہو جاؤں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہاں تو جگہ نہیں ہے۔ صرف ایک قبر کی جگہ ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔ ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ اس روایت نے بھی مرزائیوں کی تمام تاویلی خرافات کو ختم کر کے رکھ دیا۔

اس صفحے کی تشہیر