1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(حکومت قانون سازی کر سکتی ہے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 24, 2014

  1. ‏ نومبر 24, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (حکومت قانون سازی کر سکتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: تو That means that they can make a law laying down what a Muslim is or who is not a Muslim in a nagative form, or in a positive form, and then the Election Commissioner, in the light of that law, can reject the nomination paper.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے یہ معنی نکلے کہ وہ قانون سازی کر سکتے ہیں۔ قطعی طور پر یہ حکم دیتے ہوئے کہ کون مسلمان ہے۔ بالتصریح اور کون مسلمان نہیں ہے۔ یعنی منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر حکم دے سکتے ہیں تو اس کے بعد الیکشن کمشنر اس ساختہ قانون کی روشنی میں اس کے کاغذات کو رد کر سکتا ہے)
    123مرزاناصر احمد: ہاں! اگر آنحضرتﷺ کے ارشادات کے مطابق ہے اور قانون ہے۔ کیونکہ الیکشن کمشنر کو آنحضرتﷺ کے ارشادات اس طرح Bind نہیں کرتے۔ جس طرح قانون Bind کرتا ہے اور اگر قانون ہے تو اس کو قانون کی پابندی کرنی چاہئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو اس قسم کا قانون بن سکتا ہے اور بننا چاہئے؟
    مرزاناصر احمد: ’’بن سکتا ہے‘‘ تو میں نہیں کہہ رہا…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،…
    مرزاناصر احمد: … میں کہتا ہوں کہ اگر قانون ہو تو اس کی پابندی کرنی چاہئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور اگر قانون نہ ہو تو وہ دخل نہیں دے سکتا؟ پھر تو…
    مرزاناصر احمد: اگر قانون نہ ہو تو وہ دخل نہیں دے سکتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ٹھیک ہے۔
    Sir, while referring to the Declaration of Human Rights, you have not relied on any Article of the Declaration of Human Rights, but only on the opinion of one of the draftsmen? Isn't it so?
    (جناب! آپ نے جب انسانی حقوق کے ڈکلیئریشن کی بات کی تھی تو آپ نے اس کی کسی دفعہ پر بھروسہ نہیں کیا۔ بلکہ صرف ان آراء پر جو دستاویزوں کے مسودہ بنانے والوں کے ساتھ تھے۔ کیا ایسا نہیں ہے)
    مرزاناصر احمد: میں سمجھا نہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Annexure-I is opinion of Dr. Charles Malik of Lebanon. Is it not any Article of.....
    (جناب یحییٰ بختیار: ذیلی کاغذ نمبر:۱، یہ تو رائے ہے ڈاکٹر چارس ملک آف لبنان کی۔ کیا یہ تحریر میں نہیں ہے…)
    مرزاناصر احمد: یہ ہمارے محضر نامہ میں ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں! You have filed the Annexture.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے ذیلی کاغذ لگایا ہے نہ)
    مرزاناصر احمد: اس کی دفعہ…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Appendix.
    مرزاناصراحمد: …۱۸ ہے، وہ نوٹ کر لیں۔
    124جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! تو Have you seen other provisions also? (آپ نے دوسری دفعات بھی پڑھی ہیں یا نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, I have.
    (مرزاناصر احمد: ہاں! پڑھی ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: What is Article 29?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو بتائیں دفعہ نمبر۲۹ کیا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, I do not remember.
    (مرزاناصر احمد: یوں مجھے یاد نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That....
    مرزاناصراحمد: نہیں، تو میں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو بتا رہا ہوں، آپ نے اگر دیکھا ہے یا نہیں اس کو…
    مرزاناصر احمد: میں نے بہت سے پمفلٹ دیکھے، ایک دو کتابیں دیکھیں۔ لیکن جس چیز میں مجھے دلچسپی نہیں ہوتی اس کو میرا حافظہ یاد نہیں رکھتا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں Probably. But Sir, just like our Constitution says that you have the freedom of religion subject to law, Public order and morality, Article:29 places similar restriction.... similar.... I don't say exactly the same.... on the Human Rights that they also have to be subject to some sort of restirction.
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن جناب جس طرح ہمارا دستور کہتا ہے کہ آپ کو قانون کے اندر رہ کر اور امن عامہ اور اخلاقیات کا خیال رکھتے ہوئے پابندیوں کے ساتھ مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے تو اسی نوعیت کی اس سے تقریباً ملتی جلتی انسانی حقوق پر بھی پابندیاں عائد ہیں)
    مرزاناصر احمد: نہیں، یہ پھر جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ۱۹۴۸ء میں Universal Declaration of Human Rights (انسانی حقوق کا عالمگیر منشور) کی ابتداء ہوئی اور یہ محض اصولی چیز ہے۔ جس کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ ان تمام ممالک نے جو یو۔این۔او میں شامل ہوئے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں I am not disputing that. I am just saying that the Right is also not absolute, but subject to restrictions.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس سے اختلاف نہیں کر رہا ہوں۔ حق قطعی نہیں ہے پابندیوں سے مشروط ہے)
    125مرزاناصر احمد: ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! This is all? (بس یہی بات ہے)
    مرزاناصر احمد: لیکن نہیں۔ میں اس سے بھی زیادہ کوئی بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد ایک بہت بڑا شعبہ قائم ہوا اور بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ بہت خرچ اس کے اوپر ہورہا ہے اور انہوں نے ایک ایک Human Right (انسانی حق) کو لے کر اس کے Covenants draw کرنے شروع کئے ہیں اور چونکہ ان لوگوں کو مذہب سے اتنی دلچسپی نہیں۔ اس لئے Freedom of speech (آزادی گفتار) اور دوسرے جو تھے، کچھ Covenants بنالئے ہیں۔ کچھ پوائنٹس پر، اور کچھ ابھی نہیں بنے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پڑھ رہا ہوں جو آپ نے فائل کیا ہوا ہے۔
    مرزاناصر احمد: ہاں جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: The philosophy of the Bill of Rights was put into enduring word by the Arab scholar and Philosopher Dr. Charles Malik of Lebanon. Dr. Malik who was a member of the Commission on Human Rights of the United Nations, helped draft a Declaration of Human Rights for the United Nations. Dr. Malik stated that he deemed to be fundamental principles of civil rights:
    1- That human person is more important than racial, national or other group to which he may belong.
    2- The human person's most sacred and inviolable possessions are his mind and his conscience, enabling him to perceive the truth, to choose freely, and to exist."
    Now, Sir, I would respectfully ask you that......
    (جناب یحییٰ بختیار: انسان حقوق کے بل کے پیچھے جو فلاسفی کار فرما تھی اس کو فلسفے کے ایک عرب اسکالر ڈاکٹر چارلس ملک آف لبنان نے ابدی الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ ڈاکٹر ملک جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ممبر تھے۔ اقوام متحدہ کے لئے انسانی حقوق کا منشور بنانے میں مددگار تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اجتماعی معاشرتی حقوق کا بنیادی اصول یہ معلوم ہوتا ہے:
    ۱… ایک انسان نسلی، قومی یا دوسرے گروہوں سے زیادہ اہم ہے جن کا وہ ایک رکن ہوسکتا ہے۔
    ۲… ایک انسان کی مقدس ترین ملکیت اس کا ذہن اور ضمیر ہیں جو اسے سچ کو پہچاننے، آزادانہ انتخاب کرنے اور موجود ہونے کے قابل بناتے ہیں۔
    اب میں بصد احترام عرض کروں گا)
    مرزاناصر احمد: وہ Universal Declaration of Human Rights. (انسانی حقوق کا عالمگیر منشور) جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اس کی جو دفعہ نمبر۱۸ ہے۔
    126جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! ٹھیک ہے۔ لیکن میں یہاں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس پر Rely کیا۔
    Has any motion or resolution before the House suggested even in the most remotest way that anybody will not be allowed....
    (مگر کیا کسی ریزولیوشن یا قرارداد نے ایوان کے سامنے دور دور بھی یہ تجویز رکھی ہے کہ کسی کو مداخلت کا حق نہیں ہوگا…)
    مرزاناصر احمد: نہیں۔ وہ تو ایک شخص کی رائے، جس کی اہمیت ہے کچھ، صرف یہ کہنے کے لئے کہ انسان کے اندر اس کا جو دل ودماغ ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: کسی نے یہ تو نہیں Suggest (تجویز) کیا کہ آپ کو سوچنے کی آزادی نہیں ہے۔
    That you have not the freedom of thought or mind or conscience or the way you seek the truth. Nobody has suggested it anywhere. On the contrary, the Resolution which has come before the House.....
    (کہ آپ کو سوچ کی آزادی نہیں ہے یا فہم وعقل یا ضمیر کی آزادی نہیں ہے۔ حق کی تلاش میں کسی نے کہیں بھی اس کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ بلکہ دوسری طرف جو ریزولیوشن کہ ایوان کے سامنے آیا ہے)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں! میں اب سمجھ گیا پوائنٹ۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں .... guarantees that you will have your human rights and fundamental right,....
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کی گارنٹی دیتا ہے کہ آپ کا اپنا انسانی حق برقرار ہے اور ساتھ ہی بنیادی حق)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... right to practise and profess and....(جناب یحییٰ بختیار: کہ اس پر اعتقاد رکھیں اور عمل پیرا ہوں)

اس صفحے کی تشہیر