1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حضرت عیسی علیہ السلام کے والد ایک یا دو؟؟ معاذاللہ( قادیانیوں کو جواب )

محمدابوبکرصدیق نے 'فیس بک قادیانی پوسٹس کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 2, 2015

  1. ‏ اپریل 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حضرت عیسی علیہ السلام کے والد ایک یا دو؟؟ معاذاللہ( قادیانیوں کو جواب )

    آج میں نے قادیانی مناظرہ گروپ میں یہ پوسٹ لگائی

    1.png

    قادیانیوں کے مربی خالد احمد کا حضرت مریم کی شادی کے متعلق فتوی

    جب میں نے یہ پوسٹ لگا دی تو اس کے بعد ایک قادیانی مربی نے کمنٹ دیا
    اس میں قادیانی مربی صاف صاف اور واضح الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ انہوں نے ایک شادی کی تھی اور پھر نام بھی بتایا کہ ان کا نام یوسف تھا۔ اور اس میں مربی جی مجھے جاہل کہہ رہے ہیں جبکہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ جہالت کی انتہاء تو انہوں نے کر دی ہے۔

    2.png

    پھر ایک اور کمنٹ میں بھی وہ صاف الفاظ میں تسلیم کرتا ہے کہ انہوں نے صرف ایک شادی کی تھی۔

    3.png

    اب ہم آتے ہیں مرزا صاحب کی طرف کہ مرزا جی اس متعلق کیا فرماتے ہیں ۔
    مرزا صاحب روحانی خزائن جلد نمبر 3 اِزالہ اوھام صفحہ 254 ، 255 پر لکھتا ہے کہ
    کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس ۲۲ برس کی مدّت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں
    (روحانی خزائن جلد نمبر 3 اِزالہ اوھام صفحہ 254 ، 255)
    اس تحریر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے یوسف نامی شخص کو حضرت عیسی علیہ السلام کا والد ٹھہرایا۔

    مرزا کی اس تحریر کے اصل سکین ملاحظہ فرمائیں۔

    4.png
    5.png

    اس کے بعد ایک اور جگہ پر مرزا غلام احمد قادیانی ایک اور جگہ لکھتا ہے کہ


    انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جو رو کرنے کی فکر میں تھے مگر تھوڑی سی عمر میں اٹھائے گئے ۔ ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 282 مندرج روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 283 از مرزا قادیانی)
    پیج کا اصل سکین ملاحظہ فرمائیں

    6.png


    ہمارے سوالات:

    1. حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ ربُ العزت نے بن باپ کے پیدا کیا یہ سب لوگ جانتے ہیں۔ تو یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے والد کیسے بن گئے؟
    2. کچھ قادیانی حضرات کہتے ہیں کہ انجیل اور دوسری کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت مریم ؑ نے شادی کر لی تھی ۔ تو ان قادیانی دوستوں سے گزارش ہے کہ ہمیں بھی انجیل کے وہ مکمل حوالہ جات دیں جہاں پر لکھا ہوا ہے کہ حضرت مریم ؑ نے شادی کی تھی اور ان دو لوگوں سے کی تھی ۔ (معاذاللہ)
    3. کیا دو لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے والد تھے؟؟ (معاذاللہ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح ؑ کی والدہ ماجدہ پر تہمت بھی لگا دی ہے)
    4. اگر یہاں پر ذکر مسیحؑ کے بھائیوں کے والد کا ہے (جو قادیانی کے مطابق یوسف و مریم / داؤد و مریم سے پیدا ہوئے ہیں) تو مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح کے والد کیوں کہا؟؟ مسیح کے بھائیوں کے والد کیوں نہیں کہا؟؟
    5. قادیانی مربیوں کا یہ فتوی ہے کہ حضرت مریمؑ نے صرف ایک شادی کی تھی تو پھر یہ دوسرا کون ہے جس کو مرزا قادیانی داؤد کہہ رہا ہے؟؟
  2. ‏ جولائی 2, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    لعنت ہے ایسی شکلوں پر جو ایسا بات کہیں کہ حضرت مریم نے شادی کی تھی اور انکی اولاد تھی یہ یہودی عقیدہ ہے جو حضرت مریم پر بہتان لگاتے تھے حالانکہ قرآن کریم میں صاف واضح بیان ہے کہ " قَالَتْ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا " مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ۔ اور ایک جگہ پر یوں فرمایا کہ " قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ " مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے ۔ اور اسی بہتان کو اللہ تعالیٰ قرآن میں یوں فرماتا ہے کہ " فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا " (لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب ۔ ان آیات میں اہلِ یہود پر لعنت کے اسباب کو ذکر فرمایا گیا ہے ان میں ایک سبب یہ ہے “وقولھم علی مریم بھتانا عظیما“ یعنی حضرت مریم سلام اللہ علیھا پر بہتان عظیم لگانا۔

اس صفحے کی تشہیر