1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے دو حلیے ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'عیسیٰ و امام مہدی پر اعتراضات کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 27, 2015

  1. ‏ اپریل 27, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    سوال : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مسیح اور آنے والے مسیح علیہ اسلام کا رنگ ، حلیہ قد علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے ۔ لہذا عیسیٰ علیہ اسلام 2 ہیں ؟
    جواب :
    اس طرح سے اگر دو عیسیٰ ہو جاتے ہیں تو دو موسیٰ بھی ماننا ہوں گے۔ کیونکہ ایسا ہی اختلاف سراپا موسیٰ میں بھی اسی حدیث میں مذکور ہے ملاحظہ ہو بَدْئُ الْخَلْقَ میں ہے مُوْسٰی رَجُلاً اٰدَمَ طِوَالاً جَعْدًا کَانَّہٗ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ وَرَأَیْتُ عِیْسٰی رَجُلاً مَوْفُوْعًا مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ سَبَطَ الرَّأس۔( اخرجہ البخاری فی الصحیح ص459، ج1کتاب بدالخلق باب اذا قال احدکم آمین والملائکۃ فی السماء ) ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ قد لمبا، گھونگھرالے بال والے تھے جیسے یمن کے قبیلہ شنوء ہ کے لوگ، اور عیسیٰ علیہ السلام درمیانہ قد سُرخ و سفید رنگ، سیدھے بال والے۔
    اور کتاب الانبیاء میں ہے:
    رأیت موسی واذا رجل ضرب رجل کانہ من رجال شنوء ۃ ورأیت عیسی فاذا ھو رجل ربعۃ احمر ۔۔۔ ( ایضاً ص481، ج1کتاب الانبیاء باب قول اللّٰہ عزوجل وھل اتک حدیث موسٰی ) ۔یعنی موسیٰ علیہ السلام دُبلے سیدھے بال والے تھے جیسے شنوء ہ کے لوگ اور عیسیٰ علیہ السلام میانہ قد سرخ رنگ کے گھونگھرالے بال والے۔
    پہلی حدیث میں موسیٰ علیہ السلام گھونگھرالے بال والے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام سیدھے بال والے۔ اس حدیث میں موسیٰ علیہ السلام سیدھے بال والے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام گھونگھرالے بال والے۔ پس دو موسیٰ اور دو عیسیٰ ہوئے۔

    مزید ملاخط کریں ۔
    وَاَمَّا عِیْسٰی وَاَحْمَرُجَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدُرِ وَاَمَّا مُوْسٰی فَاٰدَمُ جَسِیْمٌ بَسَطٌ کَاَنَّہٗ مِنْ رِّجَالٍ الزُّطِ۔(ایضاً ص489، ج1باب واذکر فی الکتاب مریم )۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سرخ، بال گھونگھرالے اور سینہ چوڑا ہے۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کا رنگ گندمی ہے۔ موٹے بدن کے سیدھے بال والے جیسے جاٹ لوگ ہوتے ہیں پہلی حدیث کے موسیٰ دبلے پتلے شنوء ہ والوں کی طرح تھے اور اس حدیث کے موسیٰ موٹے بدن کے جاٹوں کی طرح ہیں۔ پہلی حدیث کے عیسیٰ کا رنگ سفید سرخی مائل ہے دوسری اور تیسری حدیث کے عیسیٰ کا رنگ بالکل سرخ۔ اس بناء پر جب دو عیسیٰ ہوسکتے ہیں ایک پہلا اور ایک ہونے والا تو موسیٰ بھی دو ہوسکتے ہیں۔ ایک پہلا اور ایک اور کوئی۔
    -----------------
    ورنہ حقیقت میں نہ موسیٰ علیہ السلام کے حلئے میں اختلاف ہے نہ عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ و حلیہ میں جس سے کہ دو ہستیاں سمجھی جاسکیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں لفظ جَعْد کے معنے گھونگھرالے بال کے نہیں۔ بلکہ گٹھیلے بدن کے ہیں۔
    مَعْنَاہُ شَدِیْدُ الْاَسْرِ وَالْخَلْقِ نَاقَۃٌ جُعْدَۃ اَی مُجْتَمِعَۃُ الْخَلْقِ شَدِیْدَۃ۔( نہایہ ابن اثیر جلد 1 صفحہ 196 )
    یعنی جعد کے معنی جوڑو بند کا سخت ہونا جعدہ اونٹنی مضبوط جوڑ بند والی۔
    مجمع البحار میں ہے اَمَّا مُوْسٰی فَجعُدٌ اَرَادَ جُعُوْدَۃَ الْجِسْمِ وَھُوَ اجْتَمَاعُہٗ وَاکتنازہ لا ضد سُبُوطَۃُ الشَّعْر لِاَنَّہٗ رُوِیَ اَنَّہٗ رَجِلُ الشَّعْرِ وَکَذَا فِیْ وَصْفِ عِیْسٰی۔(مجمع البحار ص196، ج1وفتح الباری ص375، ج6باب واذکر فی الکتاب مریم، و نووی شرح مسلم ص94، ج1 )
    یعنی حدیث میں موسیٰ و عیسیٰ کے لیے جو لفظ جعد آیا ہے اس کے معنے بدن کا گٹھیلا ہونا ہے نہ بالوں کا گھونگھر ہونا کیونکہ ان کے بالوں کا سیدھا ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح لفظ ضربٌ اور جسم میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ ضرب بمعنی نحیف البدن اور جیم بمعنی طویل البدن۔
    قال القاضی عیاض المراد باالجسم فی صفۃ موسی الزیادہ فی الطول۔( فتح الباری ص375، ج6باب واذکر فی الکتاب مریم )
    یعنی صفت موسیٰ میں لفظ جیم کے معنے لمبائی میں زیادتی ہے۔
    اسی طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ لفظ احمر کا صحابی راوی نے سخت انکار کیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں موجود ہے عَنِ ابْنِ عُمُر قَالَ لَا وَاللّٰہِ مَا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ بِعِیْسٰی اَحْمَرَ۔( اخرجہ البخاری فی الصحیح ص489ج 1کتاب الانبیاء باب واذکر فی الکتاب مریم ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ قسم ہے اللہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں احمر یعنی سرخ رنگ کبھی نہیں فرمایا۔ پس پہلا رنگ برقرار رہا یعنی سفید رنگ سرخی مائل لہٰذا رنگ و حلیہ کا اختلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام سے مدفوع ہے اور حقیقت میں جیسے موسیٰ علیہ السلام ایک تھے عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک ہی ہیں۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ اپریل 27, 2015 #2
    Muhammad Ali

    Muhammad Ali رکن ختم نبوت فورم

    ًماشاءالله

اس صفحے کی تشہیر