1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور قادیانی فریب

خادمِ اعلیٰ نے 'قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 23, 2017

  1. ‏ جنوری 23, 2017 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    [​IMG]
    کیا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ وفات مسیح کے قائل تھے یا حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ؟ آئیں حقائق سے پردہ اٹھائیں جو قادیانی لوگوں سے چھپاتے ہیں
    ۔

    قادیانی پاکٹ بک کے مصنف نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف ایک منسوب قول پیش کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے ، آئیں وہ روایت دیکھیں کیا ہے :۔

    " قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ الأَجْلَحِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ. قَدْ قُبِضَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ لَمْ يَسْبِقْهُ الأَوَّلُونَ وَلا يُدْرِكُهُ الآخِرُونَ. قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُهُ الْمَبْعَثَ فَيَكْتَنِفُهُ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ فَلا يَنْثَنِي حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ. وَمَا تَرَكَ إِلا سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهَا خَادِمًا. وَلَقَدْ قُبِضَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيهَا بِرُوحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ. " ( الطبقات الكبرى جلد 3 صفحہ 28 )
    [​IMG]

    اس روایت سے مرزائی استدلال لیتے ہیں کہ جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے نے خطبہ دیا جس میں انہوں نے یہ فرمایا کہ " حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات اس رات ہوئی جس رات حضرت عیسیٰ ابن مریم کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی یعنی 27 رمضان کی رات " اور یہ روایت اوپر سند کے ساتھ آپ کے سامنے ہے
    ۔

    تو دوستوں اس روایت کی سند میں ایک روای ہے " الأَجْلَحِ " اور اس کے باپ کا نام " عبداللہ " ہے اور اسی کتاب " طبقات الکبریٰ " اس روای کے بارے لکھا ہوا ہے کہ " وكان ضعيفا جدا." یہ بہت زیادہ ضعیف ہے ۔( الطبقات الكبرى جلد 6 صفحہ 337 )
    [​IMG]

    تو دوستو جب خود اس کتاب کے مصنف نے اس روایت کے راوی کو بہت زیادہ ضعیف لکھا دیا تو پھر اس روایت کا کوئی اعتبار نہیں ۔

    قارئین محترم آئیں اسی کتاب سے میں آپ کے سامنے ایک روایت پیش کرتا ہوں زرا وہ دیکھیں وہ کیا کہتی ہے ۔
    " الَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَلْفُ سَنَةٍ وَتِسْعُمَائَةِ سَنَةٍ وَلَمْ تَكُنْ بَيْنَهُمَا فَتْرَةٌ. وَأَنَّهُ أُرْسِلَ بَيْنَهُمَا أَلْفُ نَبِيٍّ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سِوَى مَنْ أُرْسِلَ مِنْ غَيْرِهِمْ.
    وَكَانَ بَيْنَ مِيلادِ عِيسَى وَالنَّبِيِّ. عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ. خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ وَتِسْعٌ وَسِتُّونَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَإِنَّ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رُفِعَ كَانَ ابْنَ اثْنَتَيْنِ وَثَلاثِينَ سَنَةً وَسِتَّةِ أَشْهُرٍ. وَكَانَتْ نُبُوَّتُهُ ثَلاثِينَ شَهْرًا. وَإِنَّ اللَّهَ رَفَعَهُ بِجَسَدِهِ. وَإِنَّهُ حَيُّ الآنَ.
    وَسَيَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا فَيَكُونُ فِيهَا مَلِكًا. ثُمَّ يَمُوتُ كَمَا يَمُوتُ النَّاسُ
    .( الطبقات الكبرى جلد 1 صفحہ 45 )
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان 1900سال کا فاصلہ تھا ، ان دونوں کے درمیان صرف بن اسرائیل میں سے ایک ہزار نبی بھیجے گئے تھے یہ ان کے علاوہ ہیں جو بنی اسرائیل کے باہر سے بھیجے گئے تھے ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان 569 سال کا فاصلہ تھا ۔۔۔ اس روایت میں آگے حضرت ابن عباس رضی اللہ نے فرمایا کہ " عیسیٰ علیہ السلام کا جب رفع ہوا تو ان کی عمر بتیس سال اور چھ مہینے تھی ، اور بے شک اللہ نے انہیں جسم سمیت اٹھا لیا بے شک وہ ابھی زندہ ہیں اور دنیا میں لوٹ کر آئیں گے ، اور پھر وہ دنیا میں بادشاہ بنیں گے پھر انکی موت ہوگی ۔
    [​IMG]


    معلوم نہیں مرزائی مربیوں کو اس کتاب میں یہ روایت کیوں نہ نظر آئی ؟ انہیں صرف ایک " بہت زیادہ ضعیف " روای کی روایت ہی کیوں نظر آئی ؟ خیر ہم حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بات کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کے قائل تھے تو مرزائی مربیوں کی طرف سے پیش کی جانے والی روایت تو بہت زیادہ ضعیف روای کی نکلی لہذا وہ اب وفات مسیح کے قائل نہیں بلکہ آئیں میں دکھاتا ہوں کہ وہ حیات کے قائل تھے صحیح روایت سے ملاخط فرمائیں
    " حَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا الْحُرَيْثُ بْنُ مَخْشِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا قُتِلَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ: فَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ يَقُولُ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَذَكَرَ مَنَاقِبَ عَلِيٍّ، فَقَالَ: «قُتِلَ لَيْلَةَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ، وَلَيْلَةَ أُسْرِيَ بِعِيسَى، وَلَيْلَةَ قُبِضَ مُوسَى» ، قَالَ: وَصَلَّى عَلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ( المستدرك على الصحيحين للحاكم جلد 3 صفحہ 154 روایت نمبر 4688 )
    حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حسن رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس رات قتل کئے گئے جس رات قرآن اترا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیر کرائے گئے اور موسیٰ علیہ السلام قبض کئے گئے۔
    [​IMG]

    حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو شہید ہوگئے تھے قتل کا لفظ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وفات پاگئے ہوئے تھے قبض کا استعمال ہوا مگر مسیح علیہ السلام چونکہ زندہ جسم اٹھائے گئے تھے اس لیے ان کے حق میں اُسریٰ فرمایا گیا ہے" اسری بہ اذا قطعہ بالسیر" جب کوئی شخص چل کر مسافت طے کرے اس کو سرایت بولتے ہیں۔
    خود قرآنِ پاک میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بمع مومنین کے راتوں رات مصر سے نکلے یہ خروج بحکم خدا تھا
    " فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ "( سورہ دخان 23 )
    لے چل میرے بندوں کو راتوں رات تحقیق تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔
    اسی طرح جب حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق وارد ہے کہ
    " فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ " ( سورہ الحجر 65 )
    لے نکل اپنے اہل کو ایک حصہ رات میں۔
    حاصل یہ کہ اگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا خطبہ امر واقع ہے تو یقینا اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمعہ جسم اٹھائے گئے اور یہی حق ہے جو قرآن و حدیث کے مطابق ہے۔
    • Like Like x 2
  2. ‏ جنوری 23, 2017 #2
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    بہت خوب ۔

اس صفحے کی تشہیر