1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حدیث " رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَافِقُ اسْمُهُ اسْمِي " کے بارے میں قادیانی فراڈ

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیثِ امام مہدی و مجدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 29, 2015

  1. ‏ جنوری 29, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    455
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    ایک قادیانی فراڈ اور اسکا جواب


    قادیانی کہتے ہیں کہ حدیث جس میں" امام مہدی کا نام آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم جیسا یعنی محمد اور ان کے والد کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام پر ہوگا یعنی عبداللہ اور وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد میں سے ہونگے" ، یہ روایت ضعیف ہے ۔
    اور وہ اس کے ضعیف ہونے پر پہلی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث میں ایک روای ہے " عاصم بن ابی النجود " جو کہ ضعیف ہے ۔
    آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی راوی " عاصم بن ابی النجود " ضعیف ہیں ؟؟


    ان کا مختصر تعارف یہ ہے کہ یہ قرآن کے دس قاریوں میں سے وہ مشہور قاری ہیں جن کی روایت پر آج قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے ، جنہیں دنیا قاری امام عاصم کے نام سے جانتی ہے ۔

    اب سعد نے کہا کہ وہ ثقہ تھے
    عبداللہ بن احمد نے کہا کہ وہ ایک صالح آدمی تھے اور قرآن کے قاری تھے اور ثقہ تھے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ عاصم صاحب قرآن تھے اور حماد صاحب فقہ ہیں ہمیں عاصم زیادہ محبوب ہیں
    امام ابن معین نے کہا کہ انکی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ،
    امام عجلی نے کہا کہ وہ صاحب سنت و قراءت ہیں اور ثقہ ہیں ،
    ابن ابی حاتم نے کہا کہ میں نے امام ابوزرعہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ثقہ تھے ،
    امام نسائی نے کہا کہ انکی روایت میں کوئی حرج نہیں ،
    امام ابن حبان نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے
    امام ابن شاہیں نے ( اپنی کتاب ) ثقات میں کہا کہ امام ابن معین نے کہا کہ وہ ثقہ ہیں انکی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں وہ اعمش کے ہم پلہ ہیں ۔

    ( تہذیب التہذیب ، ابن حجر عسقلانی ، صفحہ 250 ، 251 )

    چلینج : کوئی مرزائی مربی کسی ایک امام کو قول پیش کردے جنہوں نے " عاصم بن ابی النجود " ضعیف کہا ہو ؟؟
    لیکن " جابر جعفی " اور" عمرو بن شمر " کی جھوٹی روایت پیش کرنے والے کیا جانے " علم اصول حدیث " اور " اسماء الرجال "
    شرم انکو مگر نہیں آتی ۔

    مرزائیوں سے جب اس پر کچھ نہیں بن پاتا تو ایک اور دور کی کوڑی لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ " ابن خلدون نے کہا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے "

    جواب

    ابن خلدون صرف ایک " مؤرخ " ہے وہ " محدث " نہیں ہے ، علم حدیث میں صرف محدثین کی بات تسلیم کی جاتی ہے اگر مرزائی مربی ابن خلدون کی بات پر اس روایت کو ضعیف کہتے ہیں تو اسی جگہ ابن خلدون نے " لامھدی الا عیسی " والی روایت کو بھی " ضعیف اور مضطرب " لکھا ہے ( مقدمہ ابن خلدون جلد 1 صفحہ 402 ) مرزائی مربی ابن خلدون کی پوری بات پیش کیوں نہیں کرتے ؟

    اب آؤ قادیانیوں میں تم لوگوں کو مرزا غلام قادیانی کی ایک تحریر پڑھاؤ :


    "اور جب تم اشد سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ٹھہر جاؤ گے تو محمد بن عبداللہ ظہور کرے گا جو مھدی ہے "
    ( خزائن جلد 3 صفحہ 409 ) کیا مرزائی مربی بتائیں گے کہ مرزا نے " مہدی " کا نام " محمد بن عبداللہ " کہاں سے لیا ؟؟

    مرزائی مربیوں کے لئے یہی روایت " معجم کبیر للطبرانی " سے پیش ہے اس میں " عاصم بن ابی النجود " نام کا کوئی راوی نہیں تو کیا قادیانی اس کے بارے میں کیا کہیں گے ؟؟

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ حَوْشَبٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْأَعْوَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَافِقُ اسْمُهُ اسْمِي»
    ( المعجم الكبير للطبراني ، حدیث 10208 )
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر