1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حدیث " امامکم منکم " اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا ایک مغالطہ

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 30, 2016

  1. ‏ دسمبر 30, 2016 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل

    مرزا قادیانی نے حدیث کے الفاظ میں تحریف معنوی کرکے ایک مغالطہ بار بار دینے کی کوشش کی ہے
    ، حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ
    " کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم ۔۔۔ " اس وقت تمہاری حالت ( مارے خوشی کے ) کیا ہوگی جب مریم کے بیٹے تمہارے اندر اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا ۔
    مرزا غلام قادیانی اور اس کی امت اس کا ترجمہ جگہ جگہ یہ کرتے ہیں کہ "ابن مریم تمہارے اندر نازل ہوگا اور وہ تمہارے اندر سے تمہارے امام ہوں گے " اور پھر یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ امام بخاری نے یہ حدیث روایت کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس مسیح نے آنا ہے وہ اسی امت میں سے اس کا امام ہوگا ۔
    حدیث کے ان الفاظ کا یہ مفہوم من گھڑت ہے کیونکہ صحیح مسلم ، سنن ابن ماجہ وغیرہ کی احادیث میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے نزول کے وقت کی حالت یوں بیان کی گئی ہے کہ " اس وقت مسلمان اپنے امام کی اقتداء میں نماز کی صفیں درست کر رہے ہوں گے تو اچانک عیسیٰ نازل ہوں گے ، جب مسلمانوں کے امیر آپ کو دیکھیں گے تو آپ سے عرض کریں گے کہ اے الله کے نبی آیئے آپ نماز کی امامت فرمائیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے " لا ، ان بعضکم علی بعض امراء تکرِمة الله لھذہ الامة " نہیں ( بلکہ آپ ہی امامت کروائیں ) کیونکہ تم میں سے بعض کو دوسرے بعض پر امیر بنایا گیا ہے ، یہ الله کی طرف سے اس امت ( یعنی امت محمدیہ ) کی عزت افزائی ہے ۔ ( صحیح مسلم ، باب نزول عیسیٰ ابن مریم حاکماٙٙ بشریعة نبینا محمد صلی الله علیہ وسلم )

    نیز دیکھیں سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4077 باب فتنة الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم . اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے بعد سب سے پہلی نماز امت محمدیہ کے اس وقت کے امیر اور امام کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے اس کے بعد آپ عیسیٰ علیہ السلام نمازوں کی امامت بھی کروائیں گے جیسا کہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے ۔

    صحیح مسلم کی اس روایت میں یہ ذکر نہیں کہ اس وقت مسلمانوں کے وہ امیر کون ہونگے جن کی اقتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز ادا فرمائیں گے ، لیکن دوسری روایات میں اس کی تصریح بھی ہے ، حافظ ابن القیم رحمة الله علیہ نے اپنی سند کے ساتھ یہی روایت یوں نقل کی ہے کہ
    " فیقول امیرھم المھدی تعال صل بنا ۔۔۔۔۔۔ " مسلمانوں کے امیر حضرت مہدی علیہ الرضوان آپ سے عرض کریں گے کہ آئیں نماز پڑھائیں ۔۔۔۔۔ الخ ( المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف ، صفحہ 147 )
    اسی طرح امام ابو عمرو عثمان بن سعید الدانی رحمة الله علیہ نے حضرت جابر بن عبد الله رضی الله عنہ کے واسطے سے اسی قسم کی ایک روایت نقل کی ہے جس کے اندر یہ الفاظ ہیں کہ
    " ینزل علی المھدی فُیقال لہ تقدم یا نبی الله فصل لنا ۔۔۔۔۔ "حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی موجودگی میں نازل ہونگے تو آپ سے عرض کیا جائے گا کہ اے الله کے نبی آگے بڑھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں ۔۔۔۔۔ الی آخرالحدیث ( السنن الواردة فی الفتن و غوائلھا والساعة و اشراطھا ، جلد 1 صفحات 1236 تا 1237 )

    ان روایات سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں جو الفاظ ہیں " وامامکم منکم " ان کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں میں سے ایک امام پیدا ہونگے بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ جب آپ کا نزول ہوگا تو اس وقت مسلمانوں کا امام انہی میں سے ایک شخصیت ہوگی جس کی وضاحت صحیح مسلم کی حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی یہ بیان ہوئی کہ تمہارے امام تمہی میں سے بنائے گئے ہیں اور پھر دوسری روایات سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کے وہ امام حضرت مہدی علیہ الرضوان ہوں گے اور اس سے مرزا غلام قادیانی کا دعویٰ اور مرزائی دھوکہ بھی غلط ثابت ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دونوں ایک ہی شخصیت ہیں کیونکہ امام اور مقتدی ایک ہی شخصیت نہیں ہوسکتے ۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کا اقرار خود مرزا غلام قادیانی نے بھی کیا ہے ، اس سے کسی نے سوال کیا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھاتے ؟ تو اس نے جواب دیا ۔
    " حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا " ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 444 ) ۔

    یقیناٙٙ مرزا غلام قادیانی کا اشارہ صحیح مسلم وغیرہ کی انہی احادیث کی طرف ہے جو ہم نے اوپر نقل کی ہیں ، ورنہ مرزا غلام قادیانی کی جماعت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ احادیث پیش کی جائیں جن کے اندر بقول مرزا قادیانی یہ بیان ہے کہ آنے والا مسیح دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا ۔

    الله تمام قادیانیوں کو ہدایت دے آمین ثم آمین
  2. ‏ فروری 14, 2019 #2
    محمدعمرفاروق بٹ

    محمدعمرفاروق بٹ رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اکتوبر 30, 2017
    مراسلے :
    40
    موصول پسندیدگیاں :
    3
    نمبرات :
    8
    جنس :
    مذکر
    IMG_20181102_200757_767.jpg IMG-20181222-WA0456.jpg

اس صفحے کی تشہیر