1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

حافظ ابن قیم پر قادیانی اعتراض کا تحقیقی جائزہ

ضیاء رسول امینی نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 28, 2019

  1. ‏ اپریل 28, 2019 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    قادیانی جب قرآن و احادیث کے دلائل سے لاجواب ہوجاتے ہیں تو چند بزرگان امت کی عبارات پیش کر کے یہ ظاہر کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بزرگان امت بھی سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر مرزاقادیانی تک کوئی ایک عالم جو مسلمان ہو، وہ کبھی بھی اس بات کا قائل نہیں گزرا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں اور قرب قیامت واپس زمین پر تشریف نہیں لائیں گے ۔ بلکہ تمام مسلمان اس بات کے قائل تهے کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور اب وہ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔

    قادیانی بزرگوں کے اقوال کیوں پیش کرتے ہیں؟ جبکہ بزرگوں کے اقوال قادیانیوں کے نزدیک مستقل حجت نہیں کیونکہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ

    "اقوال سلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں"

    (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 389)

    مرزاقادیانی کے مطابق رفع و نزول سیدنا عیسی علیہ السلام کا مسئلہ 13 صدیوں تک چھپا رہا اور یہ مسئلہ مرزاقادیانی پر ظاہر ہوا۔ جب خود مرزاقادیانی نے یہ بات تسلیم کی ہے تو پھر قادیانی بزرگان امت پر یہ الزام کیوں لگاتے ہیں کہ وہ سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے؟؟

    جیسا کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ

    "یااخوان ھذہ الأمر الذی اخفاہ الله من أعین القرون الاولی ، وجلی تفاصیله فی وقتنا ھذا یخفی مایشاء و یبدئ"

    (اے بھائیو یہ معاملہ(یعنی عیسی علیہ السلام کی موت کا راز) وہ ہے جو اللہ نے پہلے زمانوں کی آنکھوں سے چھپائے رکھا ۔ اور اس کی تفاصیل اب ظاہر ہوئی ہیں،وہ جو چاہتا ہے اسے مخفی رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے اسے ظاہر کرتا ہے)

    (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 426)

    ایک اور جگہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ

    "ولکن ما فھم المسلمون حقیقتہ۔ لان اللہ تعالٰی اراد اخفاءہ۔ فغلب قضاءہ ومکرہ وابتلاءہ علی الافھام فصرف وجوھھم عن الحقیقتہ الروحانیہ الی الخیالات الجسمانیہ فکانو بھا من القانعین و بقی ھذا الخبر مکتوبا مستورا کالحب فی السنبلتہ قرنا بعد قرن حتی جاء زماننا"

    ( لیکن مسلمان اس کی حقیقت( یعنی عیسی علیہ السلام کی وفات کی حقیقت)کو نہیں سمجھے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے ارادہ کیا تھا کہ اس کو مخفی رکھے۔ پس اللہ کی قضاء، اس کی تقدیر اور اس کی آزمائش لوگوں کے فہم پر غالب آگیئں۔ اس لئے لوگ اس کی روحانی حقیقت سے ہٹ کر اس کے جسمانی خیالات کی طرف سوچنے لگے۔ اور اسی پر وہ قناعت کر گئے۔ یہ خبر(یعنی عیسی علیہ السلام کی وفات کی خبر) کئی صدیوں تک یونہی چھپی رہی۔ جس طرح کہ دانہ خوشے میں چھپا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا زمانہ آگیا)

    (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 552،553)

    پھر آگے مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ

    "فکشف اللہ الحقیقة علینا لتکون النار بردا و سلاما"

    (پس اللہ نے ہم پر حقیقت(یعنی عیسی علیہ السلام کی وفات کی حقیقت) کھولی ۔ تاکہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے)

    (روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 553)

    مرزاقادیانی سے پہلے 1300 سال کے مسلمانوں کا عقیدہ یعنی حضور ﷺ کے دور سے لے کر مرزاقادیانی تک کے تمام مسلمانوں کا عقیدہ سیدنا عیسی علیہ السلام کے جسمانی رفع و نزول کا تھا۔

    جیسا کہ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ

    "ایک دفعہ ہم دلی گئے۔ ہم نے وہاں کے لوگوں کوکہا کہ تم نے 1300 برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنخضرت ﷺ کو مدفون اور حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ بٹھایا۔۔۔۔ اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو فوت شدہ مان لو"

    (ملفوظات جلد 5 صفحہ 579)

    اسی بات کی تائید قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے بھی کی ہے ۔

    مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے کہ

    "پچھلی صدیوں میں قریبا سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا ۔ اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ اور نہیں کہ سکتے کہ وہ مشرک فوت ہوئے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مشرکانہ عقیدہ ہے۔ حتی کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی ) باوجود مسیح موعود کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے"

    (انوار العلوم جلد 2 صفحہ 463)

    مرزاقادیانی اور اس کے بیٹے کے حوالے آپ نے ملاحظہ فرمالئے کہ مرزاقادیانی کے آنے سے پہلے حضورﷺ کے دور سے لے کر مرزاقادیانی تک تمام مسلمانوں جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین، تمام مجددین، فقھاء، مفسرین اور اولیاء اللہ شامل ہیں ان کا یہی عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ قرب قیامت نازل ہوں گے ۔

    قادیانی حافظ ابن قیم پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہ وہ بھی سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ

    "لو کان موسی و عیسی حیین لکانا من اتباعہ"

    (اگر موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام زندہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کی پیروی کرتے)

    (مدارج السالكين جلد 2 صفحہ 313)

    قادیانیوں کے اس باطل اعتراض کے بہت سے جوابات ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

    جواب نمبر 1

    قادیانیوں کی روایتی بددیانتی ہے کہ وہ پوری بات پیش نہیں کرتے بلکہ آدھی بات لکھ کر دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
    یہ پوری عبارت ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ قادیانیوں نے کس قدر دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔

    "ومحمدﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین فرستالتہ عامتہ لجمیع الجن و الإنس فی کل زمان و لوکان موسی و عیسی حیین لکانا من اتباعہ واذا نزل عیسی بن مریم فإنما یحکم بشریعتہ محمدﷺ "

    ( آنحضرت ﷺ کی نبوت کافہ تمام جن و انس کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام (آج زمین پر) زندہ ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ۔ اور جب عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیہﷺ پر ہی عمل کریں گے)

    (مدارج السالكين جلد 2 صفحہ 313)

    اس عبارت سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر موسی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام زمین پر زندہ موجود ہوتے تو ان کو بھی حضورﷺ کی پیروی کرنی پڑتی۔ اس کے علاوہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا عقیدہ سیدنا عیسی علیہ السلام کے نزول کا ہے۔ اور نزول کے لئے زندہ ہونا لازم و ملزوم ہے۔ پس حافظ ابن قیم رحمہ اللہ بھی سیدنا عیسی علیہ السلام کے رفع و نزول کے قائل ہیں۔

    جواب نمبر 2

    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی ہی ایک اور عبارت ملاحظہ فرمائیں جہاں ان کا واضح عقیدہ لکھا ہے۔

    "وھذا المسیح بن مریم حی لم یمت وغذاؤہ من جنس غذاء الملئکته"

    (اور مسیح بن مریم علیہ السلام زندہ ہیں ۔ ابھی فوت نہیں ہوئے۔اور ان کی غذا فرشتوں جیسی ہے)

    ( التبیان فی ایمان القرآن صفحہ 580)

    خلاصہ کلام

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں تھے بلکہ ان کے رفع و نزول کے قائل تھے

اس صفحے کی تشہیر