1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

جنسی بے راہ روی کی عجب داستان

ضیاء رسول امینی نے 'شہر سدوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2015

  1. ‏ جولائی 2, 2015 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جناب صلاح الدین ناصر کا ازالہ اوہام
    جناب صلاح الدین ناصر ایک نہایت معزز فیملی سے تعلق رکھتے ہیں آپ کے والد خان بہادر ابوالہاشم بنگال میں ڈپٹی ڈایریکٹر مدارس تھے ۔ ناصر صاحب پارٹیشن کے بعد پاکستان آگئے کچھ دیر ربوہ میں بھی مقیم رہے لیکن جب ان کو خلیفہ جی کی عدیم المثال جنسی بے راہ روی کا یقینی علم حاصل ہوگیا تو وہ رات کی تاریکی میں والدہ اور ہمشیرگان کو ساتھ لے کر لاہور آگئے وہ مرزا محمود کی ننگ انسانیت حرکتوں کو بیان کرتے ہوئے کبھی مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے جب انکی قادیانیت سے علیحدگی کے بارے دریافت کیا گیا تو کہنے لگے '' بھئی ہماری قادیانیت سے علیحدگی لائبریری کے کسی اختلاف کا نتیجہ نہیں ہم نے تو لیبارٹری میں ٹیسٹ کرکے دیکھا ہے کہ اس مذہبی انڈسٹری میں دین نام کی کوئی چیز نہیں ہوس اور ابوالہوس دو لفظوں کو اکٹھا کردیں تو قادیانیت وجود میں آجاتی ہے'' اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے تو میں نے کہا جناب اس اجمال سے تو کام نہ چلے گا کچھ بتائیں شاید کسی قادیانی کو یدایت نصیب ہوجائے تو فرمانے لگے۔ ''یوں تو مرزا محمود یعنی مودے کی بے راہ روی کے واقعات طفولیت سے ہی میرے کانوں میں پڑنا شروع ہوگئے تھے اور ہماری ہمشیرہ عابدہ بیگم کا ڈرامائی قتل بھی ان مذہبی سمگلروں کی بد فطرتی اور بدمعاشی کو Expose کرنے کے لیے کافی تھا مگر ہم حالات کی آہنی گرفت میں اس طرح پھنس تھے کہ ان زنجیروں کو توڑنے کے لیے کسی بڑے دھکے کی ضرورت تھی اور جب دھکا بھی لگ گیا تو پھر عقیدت کے طوق و سلاسل اس طرح ٹوٹتے چلے گئے کہ خود مجھے ان کی کمزوری پر حیرت ہوتی تھی''، میں نے ہمت کرکے پوچھ لیا جناب وہ دھکا تھا کیا؟ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں نمی سی آگئی ماضی کے کسی دلدوز واقعہ نے انہیں چرکے لگانے شروع کردیے چند سیکنڈ کے بعد کہنے لگے، '' تقسیم برصغیر کے بعد ہم رتن باغ لاہور میں مقیم تھے جمعہ پڑھنے کے لیے گئے تو مرزا محمود نے اعلان کیا کہ جمعہ کے بعد صلاح الدین ناصر مجھے ضرور ملیں ۔ جمعہ ختم ہوا تو لوگ مجھے مبارکباد دینے لگے کہ ''حضرت صاحب'' نے تمہیں یاد فرمایا ہے میں نے خیال کیا شاید کوئی کام ہوگا اس لیے میں جلد ہی اس کمرہ کی طرف گیا جہاں اس دور کا شیطان مجسم مقیم تھا میں کمرہ میں داخل ہوا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ مرزا محمود پر شیطانیت سوار تھی اس نے مجھے اپنی ''ہومیوپیتھی'' کا معمول بنانا چاہا میں نے بڑھ کر اس کی داڑھی پکڑ لی اور گالی دے کر کہا اگر مجھے یہی کام کرنا ہے تو اپنے کسی ہم عمر سے کرلوں گا تمہیں شرم نہیں آتی اگر جماعت کو پتہ لگ گیا تو تم کیا کرو گے میری یہ بات سن کر مرزا محمود نے بازاری آدمیوں کی طرح قہقہہ لگایا اور کہا ''داڑھی منڈوا کر پیرس چلا جاوں گا''، یہ دن میرے لیے قادیانیت سے ذہنی وابستگی کا آخری دن تھا۔
    جناب صلاح الدین ناصر ''حقیقت پسند پارٹی'' کے پہلے سیکرٹری رہے ہیں اس دور میں ملک کے گوشے گوشے میں تقاریر کرکے انہوں نے قادیانیت کی حقیقت کو خوب واشگاف کیا اسی زمانہ کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنے لگے۔ '' گجرات کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے میں نے مرزا محمود کے متعلق کہا کہ اس کی اخلاقی حالت سخت ناگفتہ بہ ہے اس پر ایک قادیانی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا اسکی وضاحت کریں میں نے کہا یہ الفاظ بہت واضح ہیں وہ پھر بولا کیا اس نے تمہاری شلوار اتاری تھی میں نے جواب دیا اسی بات کو بیان کرنے سے میں جھجھک رہا تھا آپ اپنے خلیفہ کے مزاج شناس ہیں آپ نے خوب پہچانا ہے یہی بات ہے۔ جلسہ کے تمام سامعین کھلکھلا کر ہنس پڑے اور وہ صاحب آہستہ سے گھسک گئے۔
    میں کہاں آ نکلا
    جناب محمد صدیق ثاقب زیروی قادیانی امت کے خوش گلو شاعر ہیں اگر وہ اپنی شاعری کو مرزا غلام احمد کے خاندان کی قصیدہ خوانی کے لیے وقف کرکے تباہ نہ کرتے تو ملک کے اچھے شعراء میں شمار ہوتے سچ کہنے کی پاداش میں وہ ربوائی ریاست کے زیر عتاب رہ چکے ہیں مگر اب چونکہ انہوں نے خوف فساد کی وجہ سے قادیانی امت کے سیاسی و معاشی مفادات کے لیے اپنے آپ کو رہن کر رکھا ہے اور ہفت روزہ ''لاہور'' قادیانی امت کا سیاسی آرگن بن گیا ہے اس لیے اب ربوہ میں ان کی بڑی آو بھگت اور خاطر مدارت ہوتی ہے اور ہر طرف سے انہیں ''بشرٰی لکم'' کی نوید ملتی ہے ، عرصہ ہوا انہوں نے ایک نظم اپنے ''خلیفہ صاحب'' کے بارہ میں لکھی تھی مگر اشاعت کے مرحلہ پر اس پر یہ نوٹ لکھ دیا گیا '' ایک پیر خانقاہ کی لادینی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر'' ۔ قارئین غور فرمائیں کہ پیر خانقاہ اور ربوہ کے مذہبی قبرستان کے احوال میں کسی مماثلت اور مشابہت ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اسی کی تصویر ہے۔
    شورش زہد بپا ہے میں کہاں آنکلا۔۔۔ہر طرف مکر و ریا ہے میں کہاں آ نکلا
    نہ محبت میں حلاوت نہ عداوت میں خلوص۔۔۔نہ تو ظلمت نہ ضیاء ہے میں کہاں آ نکلا
    چشم خود بیں میں نہاں حرص زرد گوہر کی۔۔۔ کذب کے لب پہ دعا ہے میں کہاں آ نکلا
    راستی لحظہ بہ لحظہ ہے رواں سوئے دروغ۔۔۔صدق پابند جفا ہے میں کہاں آ نکلا
    دن دہاڑے ہی دکانوں پہ خدا بکتا ہے۔۔۔نہ حجاب و حیا ہے میں کہاں آ نکلا
    یاں لیا جاتا ہے بالجبر عقیدت کا خراج۔۔۔کیسی بے درد فضا ہے میں کہا آ نکلا
    خندہ زن ہے سفلگی اس کی ہر ایک سلوٹ میں۔۔۔یہ جو سرسبز قبا ہے میں کہاں آ نکلا
    دلنوازی کے پھریروں کی ہواوں کے تلے۔۔۔جانے کیا رینگ رہا ہے میں کہاں آنکلا
    عجز سے کھلتی سمٹتی ہوئی باچھوں پہ نہ جا۔۔۔ان کے سینوں میں دغا ہے میں کہاں آنکلا
    یہ ہے مجبور مریدوں کی ارادت کا خمار۔۔۔یہ جو آنکھوں میں جلا ہے میں کہاں آ نکلا
    قلب مومن پہ سیاہی کی تہیں اتنی دبیز۔۔۔ناطقہ سہم گیا ہے میں کہاں آنکلا
    الفرض یہ وہ تماشا ہے جہاں خوف خدا۔۔۔چوکڑی بھول گیا ہے میں کہاں آ نکلا۔
    مولوی عبدالستار نیازی اور دیوان سنگھ مفتون
    مولانا عبدالستار صاحب نیازی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، بلکہ خود تعارف ان کا محتاج ہے مذہبی و دینی علوم کے علاوہ سیاسی نشیب و فراز پر جس طرح وہ نظر رکھتے ہیں اور جس جرات اور بے باکی سے باطل کو للکارتے ہیں یہ انہی کا حصہ ہے مولانا موصوف نے مؤلف اور امیر الدین صاحب سیمنٹ بلڈنگ تھار لٹن روڈ لاہور کے سامنے بیان کیا کہ ''ایوب دور میں جب دیوان سنگھ مفتون پاکستان آئے تو مجھے ملنے کے لیے بھی تشریف لائے دوران گفتگو انہوں نے بڑی حیرانگی سے کہا '' میں عرصہ دراز کے بعد ربوہ میں مرزا محمود سے ملا ہوں خیال تھا کہ وہ کام کی بات کریں گے مگر جتنا عرصہ میں وہاں بیٹھا رہا وہ یہی کہتے رہے کہ فلاں لڑکی سے تعلقات استوار کیے تو اتنا مزہ آیا فلاں سے کیے تو اتنا''۔
    مرزا محمود کی ایک بیوی کا خط دیوان سنگھ کے نام
    حکیم عبدالوہاب عمر بیان کرتے ہیں کہ مرزا محمود خلیفہ ربوہ کی ایک بیوی نے ایک مرتبہ ایڈیٹر ''ریاست'' سردار دیوان سنگھ مفتون کو خط لکھا کہ تم راجوں مہاراجوں کے خلاف لکھتے ہو ہمیں بھی اس ظالم کے تشدد دے نجات دلاو جو ہمیں بدکاری پر مجبور کرتا ہے ، ایڈیٹر مذکورہ نے ظفراللہ خان وغیرہ قادیانیوں سے تعلق کی وجہ سے کوئی جرات مندانہ اقدام تو نہ کیا البتہ ''ریاست'' میں خلیفہ جی کی معزولی کے متعلق ایک نوٹ تحریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جس شخص پر اہل خانہ تک جنسی بے راہ روی کے الزامات لگا رہے ہوں اسے اس قسم کے عہدہ سے چمٹا رہنا سخت ناعاقبت اندیشانہ فعل ہے۔ قادیانی ''رائل پارک فیملی'' کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بیوی مولوی نورالدین جانشین اول جماعت قادیانی کی صاحبزادی امتہ الحی بیگم تھیں۔
    راجہ بشیر احمد رازی کی تجرباتی داستان
    راجہ بشیر احمد رازی حال مشن روڈ بالمقابل ناز سینما لاہور ، راجہ علی محمد صاحب کے صاحبزادے ہیں ، جو ایک عرصہ جماعت ہائے احمدیہ گجرات کے امیر رہے۔ 1945 میں زندگی وقف کرنے کے بعد ربوہ چلے گئے اور صدر انجمن احمدیہ ربوہ میں نائب ایڈٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی دوران ان کے تعلقات شیخ نورالحق ''احمدیہ سنڈیکیٹ'' اور ڈاکٹر نذیر امد ریاض سے ہوگئے جو مرزا محمود احمد کی خلوتوں سے پوری طرح آشنا تھے ۔ راجہ صاحب ایک قادیانی گھرانے میں پلے تھے اس لیے متعدد مرتبی سننے کے باوجود انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا تھا کہ یہ سب کچھ ''قصر خلافت'' میں ہوتا ہے انہوں نے ڈاکٹر نذیر احمد ریاض سے کہا میں تو اس وقت تک تمہاری باتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں جب تک خود اس ساری صورت حال کو دیکھ نہ لوں۔ ڈاکٹر صاحب مذکور نے ان سے پختہ عہد لینے کے بعد ان کو بتایا کہ محاسب کا گھڑیال ہمارے لیے سٹینڈرڈ تائم کی حیثیت رکھتا ہے جب اس پر 9 بجیں تو آجانا۔ مقررہ وقت پر راجہ صاحب ڈاکٹر نذیر احمد کی معیت میں ''قصر خلافت'' پہنچے تو خلاف توقع دروازہ کھلا تھا ۔ راجہ صاحب کچھ ٹھنکے کہ یہ کیا معاملہ ہے کہیں ڈاکٹر سچ ہی نہ کہہ رہا ہو، پھر انہیں یہ بھی خیال آیا کہ کہیں انہیں قتل کروانے یا پٹوانے کا تو کوئی پروگرام نہیں مگر انہوں نے حوصلہ نہ چھوڑا اور ڈاکٹر نذیر کے پیچھے زینے طے کرتے چلے گئے جب اوپر پہنچے تو ڈکٹر نے انہیں ایک کمرہ میں جانے کا اشارہ کیا اور خود کسی اور کمرے میں چلے گئے راجہ صاحب نے پردہ ہٹا کر قدم اندر رکھا تو عطر کی لپٹوں نے انہیں مسحور کردیا اور انہوں نے دیکھا کہ چھوٹی مریم آراستہ و پیراستہ بیٹھی ہے اور انگریزی کے ایک مشہور جنسی ناول ''فینی ہل'' کا مطالعہ کر رہی ہے '' یہ دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میری سوچ کے دھاروں میں تلاطم برہا ہوگیا میں نے چشم تصور میں اپنے والد محرم کو دیکھا اور کہا تم اس کام کے لیے چندہ دیتے رہے ہو پھر مجھے اپنی والدہ محترمہ کا خیال آیا جو انڈے بیچ کر بھی چندہ کے طور پر ربوہ بھجوا دیا کرتی تھیں اسی حالت میں آگے بڑھا اور پلنگ پر بیٹھ گیا وہاں تو دعوت عام تھی مگر میں سعی لاحاصل میں مصروف تھا اور مجھے ڈاکٹر اقبال کا یہ مصرعہ یاد آرہا تھا ع
    یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا
    اصل میں مجھے اس قدر Shock ہوا تھا کہ میں کسی قابل ہی نہ رہا تھا اس لیے میں نے بہانہ کیا کہ میں کھانا کھا کر آیا ہوں مجھے پتہ نہیں تھا کہ مجھے یہ فریضہ سرانجام دینا ہے اور اگر شکم سیری کی حالت میں ، میں یہ کام کروں تو مجھے اپنڈکس کی تکلیف ہوجاتی ہے ۔ اس طرح معرکہ اولیٰ میں ناکام واپس لوٹا اور آتے ہوئے مریم نے مجھے کہا کہ کل اکیلے ہی آنا اور یہ ڈاکٹر نذیر احمد بڑا بدنام آدمی ہے اس کے ساتھ نہ آنا دوسرے دن ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تمہاری شکایت ہوئی ہے کہ یہ کون ہیجڑا سا لے آئے تھے۔ دوسرے دن میں ذہنی طور پر تیار ہوکر گیا اور گزشتہ شکایت کا ہی ازالہ نہ ہوا میرے اعتقادات، نظریات اور خلیفہ جی اور ان کے خاندان کے بارہ میں میرا مریدانہ حسن ظن بھی حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا اور میں نے واپس آکر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ملازمت سے مستعفی ہوگیا ۔ ازاں بعد مجھے رشوت کے طور پر لندن بھیجنے کی پیشکش ہوئی مگر میں نے سب چیزوں پر لات مار دی ۔ اب آپ کمالات محمودیہ صفحہ 55 سے ان کی تحریر کا متعلقہ حصہ ملاحظہ فرمائیں۔ '' یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم ربوہ کے کچے کوارٹروں میں خلیفہ صاحب ربوہ کے کچے ''قصر خلافت'' کے سامنے رہائش پذیر تھے ۔ قرب مکانی کے سبب شیخ نورالحق ''احمدیہ سنڈیکیٹ'' سے راہ و رسم بڑھی تو انہوں نے خلیفہ صاحب کی زندگی کے ایسے مشاغل کا تذکرہ کیا جن کی روشنی میں ہمارا وقف کار احمقاں نظر آنے لگا ۔ اتنے بڑے دعوے کے لیے شیخ صاحب کی روایت کافی نہ تھی ۔ خدا بھلا کرے ڈاکٹر نذیر احمد ریاض صاحب کا جن کی ہمرکابی میں مجھے خلیفہ صاحب کے ایک ذیلی عشرت کدہ میں چند ایسی ساعتیں گزارنے کا موقع ہاتھ آیا جس کے بعد میرے لیے خلیفہ صاحب ربوہ کی پاک دامنی کی کوئی سی بھی تاویل و تعریف کافی نہ تھی اور اب میں بفضل ایزدی علیٰ وجہ البصیرت خلیفہ صاحب کی بد اعمالیوں پر شاہد ناطق ہوگیا ہوں، میں صاحب تجربہ ہوں کہ یہ سب بد اعمالیاں ایک سوچی سمجھی ہوئی سکیم کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ان میں اتفاق اور بھول کا دخل نہیں۔ محاسب کا گھڑیال (نوٹ۔ محاسب کے گھڑیال سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو رات نو بجے کا وقت عشرت کدے کے لیے دیا گیا ہے تو اس کی گھڑی میں بے شک 9 بج چکے ہوں جب تک محاسب کا گھڑیال 9 نہ بجائے اس وقت تک وہ شخص اندر نہیں آسکتا) ان رنگین مجالس کے لیے سٹینڈرڈ ٹائم Standard Time کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب نہ جانے کون سا طریقہ رائج ہے میرے اس بیان کو اگر کوئی صاحب چیلنج کریں تو میں حلف موکد بعذاب اٹھانے کو تیار ہوں
    والسلام
    (بشیر رازی سابق نائب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ)
    یوسف ناز بارگاہ نیاز میں
    ایک مرتبہ جبکہ میاں صاحب چاقو لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوگئے تھے اس کے چند دن بعد مجھے ربوہ جانے کا اتفاق ہوا میں نے دیکھا دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے سامنے مرزا صاحب کے مریدان باصفا کا ایک جم غفیر ہے ہر شخص کے چہرے پر اضطراب کی جھلکیاں صاف دکھائی دے رہی ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنے پیر کے دیدار کی ایک معمولی سی جھلک ان کے دل ناصبور کو اطمینان بخش دے گی۔ پرائیویٹ سیکرٹری کے حکم کے مطابق کچھ احتیاطی تدابیر کی گئی تھیں یعنی ہر شخص کی الگ الگ چار جگہوں پر جامہ تلاشی لی جاتی تھی اور اس امر کی تاکید کی جاتی تھی کہ حضرت اقدس کے قریب پہنچ کر نہایت آہستگی سے السلام علیکم کہا جائے اور پھر یہ کہ اس کے جواب کا منتظر نہ رہا جائے بلکہ فوراََ دوسرے دروازے سے نکل کر باہر آجایا جائے۔ میں خود ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا تھا گراں بندشوں نے کچھ آزردہ سا کردیا اور میں واپس چلا گیا ۔ چنانچہ پھر دو بجے بعد از دوپہر حاضر ہوا۔ شیخ نور الحق صاحب جو ان کے ذاتی دفتر کا ایک رکن ہے اس سے اطلاع کے لیے کہا ''حضرت صاحب نے خاکسار کو شرف باریابی بخشا۔ اس وقت کی گفتگو جو ایک مرید (میرے) اور ایک پیر (مرزا صاحب) کے درمیان تھی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں
    میں نے نہایت بے تکلفی سے کام لیتے ہوئے حضور سے دریافت کیا کہ آج کل تو آپ سے ملنا بھی کارے دارد ہے، فرمایا وہ کیسے؟، عرض کیا کہ چار چار جگہ جامہ تلاشی لی جاتی ہے تب جا کر آپ تک رسائی ہوتی ہے جواباََ انہوں نے میرے ''عمود لحمی'' کو پکڑ کر ارشاد فرمایا کہ جامہ تلاشی کہاں ہوئی ہے کہ جس مخصوص ہتھیار سے تمہیں کام لینا ہے وہ تو تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود اپنے ساتھ اندر لے آئے ہو''۔ اس حاضر جوابی کا بھلا میرے پاس کیا جواب ہوسکتا تھا میں خاموش ہوگیا مگر ایک بات جو میرے لیے معمہ بن گئی وہ یہ تھی کہ سنا تو یہ تھا کہ چارپائی سے ہل نہیں سکتے حتیٰ کہ سلام کا جواب بھی نہیں دے سکتے مگر وہ میرے سامنے اس طرح کھڑے تھے جیسے انہیں قطعی کوئی تکلیف نہیں تھی۔
    میں میاں صاحب کی خدمت میں التماس کروں گا کہ اگر وہ اس بات کو جھٹلانے کی ہمت رکھتے ہوں حلف موکد بعذاب اٹھائیں اور میں بھی اٹھاتا ہوں''
    ایم یوسف ناز کراچی، حال مقیم لاہور
    (یہاں عبارت کی عریانی دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے)
    قادیانی امت کے نام نہاد خالد بن ولید
    قادیانی امت نے اپنے متنبی کی اتباع میں وحدت امت کو ملیا میٹ کرنے اور مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا کرنے کے لیے اسلامی اصطلاحات کا جس بے دردی سے استعمال کیا اور ان مقدس ناموں کی جس قدر توہین کی ہے ایک عامی تو درکنار ، اچھے بھلے تعلیم یافتہ افراد کو بھی اس سے پوری آشنائی نہیں، مرزا غلام احمد کے لیے نبی اور رسول کا استعمال تو عام ہے ان کی اہلیہ کے لیے ''ام المومنین'' جانشینوں کے لیے ''خلیفہ'' ان کے اولین پیروؤں کو ''صحابہ'' اور ''رضی اللہ عنھم'' کا خطاب ہی نہیں دیا بلکہ انہیں بمراحل اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر سمجھا جاتا ہے ع۔۔۔ ''صحابہ سے ملا جو مجھ کو پایا'' کہنے پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ ایک قرآنی آیت یاتی من بعدی اسمہ احمد کی لایعنی تاویلات کرکے اسے بانی جماعت پر چسپاں کیا جاتا ہے اور ایک دوسری آیت کی غلط توجیہ کرتے ہوئے موسس قادیانیت کی ''بعثت'' کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ قرار دے کر اس کے ماننے والوں کو صحابہ سے افضل قرار دیا جاتا ہے ۔ انبیاء علیھم السلام اور صلحا امت کی توہین ہر قادیانی اس طرح کر جاتا ہے کہ سلب ایمان کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا ناپاک حرکت کر رہا ہے ۔ حیرت ہے کہ آئین مملکت کے بارہ میں زازخائی کرنے پر تو قانون حرکت میں آجاتا ہے ، مگر قرآن مجید ، حضرت خاتم النبیین، صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اور مقدس اسلامی اصطلاحات کے متعلق قادیانی امت کی دیدہ دلیری پر سرکاری مشینری کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔
    اگر پوری تفصیل درج کی جائے تو بجائے خود اسی کی ایک کتاب بنتی ہے اسی بے راہروی میں قادیانی امت کے پوپ دوم نے ملک عبدالرحمٰن خادم گجراتی ، مولوی اللہ دتہ جالندھری اور مولوی جلال الدین شمش کو ''خالد بن ولید'' کا خطاب دیا تھا کیونکہ ان ہر سہہ افراد نے سب کچھ جان بوجھ کر جھوٹ بولنے ، افترا پروازی کرنے اور قادیانیت کی حمایت اور خلیفہ کی ''پاکبازی'' ثابت کرنے میں سب قوتیں ضائع کیں۔ گو یہ الگ امر ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو ذاتی طور پر اسی گوسالہ سامری کی جانب سے ذلیل ترین الفاظ کا تحفہ ملا۔ کوئی ''طاعونی چوہا'' کہلایا اور کوئی ''لندن میں رہنے کے باوجود مولوی کا مولوی ہی رہا''۔
    ان خطاب یافتہ پالتو مولویوں میں سے ایک کے متعلق اس کے سگے بھائی نے اپنی کتاب ''ربوہ کا مذہبی آمر'' میں لکھا ہے کہ ''وہ فن اغلامیات میں ید طولیٰ رکھتے تھے'' دوسرے صاحب اپنی گوناگوں ''صفات'' کی وجہ سے ''رحمت منزل'' گجرات کے اطفال و بنات سے ایسے گہرے مراسم رکھتے تھے کہ امیر ضلع تلاش کرتے رہتے تھے مگر وہ اچانک بلڈ پریشر کے دورہ کے باعث غائب ہوکر اسی مقام پر جا پہنچا کرتے تھے ۔ تیسرے صاحب کی ''مساعی جمیلہ'' بھی کسی سے کم نہیں۔
    قاضی خلیل احمد صدیقی ''حور و غلمان'' کے نرغے میں
    قاضی خلیل احمد صدیقی اب بھی خاصے وجیہ ہیں۔ میٹرک کے بعد اپنے غفوان شباب میں قادیانی امت کے بیگار کیمپ '' جامعہ احمدیہ'' یا مشنری ٹریننگ سنٹر میں داخل ہوئے۔ وہ خود بھی اس وقت قیامت تھے مگر ان پر کئی اور قیامتیں ٹوٹ پڑیں، جس کی تفصیل کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے ٹریکٹ '' میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی'' میں دی، ملاحظہ فرمائیں۔
    '' میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے حلف موکد بعذاب شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خلیفہ صاحب ربوہ کے صاحبزادے مرزا نعیم احمد کے ایما پر زنا کرنے میں شرکت کی ۔ مرزا نعیم احمد نے اپنے گھر کی کوئی نوکرانی و مہترانی (جو کہ مسلمان ہیں) کو زنا کیے بغیر نہیں چھوڑا ، نیز ایک واقعہ پر مرزا نعیم احمد نے مجھے خلیفہ صاحب کی بیوی (مہر آپا بنت سید عزیز اللہ شاہ) کے ساتھ برا کام (زنا) کرنے کو کہا میں نے مرزا نعیم احمد صاحب کو جواباََ کہا کہ میاں صاحب وہ تو ہماری ماں ہیں اور آپ کی بھی ماں ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ والدہ کے ساتھ برا کام کیا جائے ؟ کچھ تو خدا کا خوف کرو اور حضور کی عزت کی طرف دیکھو تو مرزا نعیم نے جواب دیا ''بھائی ماں واں مت سمجھو'' جو بات میں نے تم سے کہی ہے یہ مہر آپا کے فرمان کے مطابق کہی ہے تمہیں ان کا حکم ٹالنے کی اجازت نہیں۔(بے شمار لعنت ہو ایسے خبیثوں پہ۔راقم)
    میں آج تک یہی سمجھ رہا تھا کہ مرزا نعیم احمد نوجوان ہے اگر وہ کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے یا کرواتا ہے تو عجوبہ کی بات نہیں اس کے ذاتی چال چلن سے جماعت احمدیہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن مہر آپا کے متعلق جب مرزا نعیم نے بات کی تو بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔۔ع
    ایں خانہ ہمہ آفتاب است
    واقعات اور حقائق مخفی در مخفی تو بہت سے ہیں لیکن مذکورہ بالا واقعہ کے بعد مجھے اچھی طرح علم ہوگیا کہ ''احمدیت'' کی آڑ لے کر شہوت پرستی کی تعلیم دی جاتی ہے اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں وغیرہ کی عصمتوں سے جو ہولی کھیلی جاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
    تقدس و خلافت کے پردے میں عیاشیوں کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے جس میں بھولے بھالے لڑکوں اور لڑکیوں کو مذہب کے نام پر قابو کیا جاتا ہے، چنانچہ ان حالات کی وجہ سے میں ان سے بہت متنفر ہوگیا اور میں نے اب صدق دل سے اس ناپاک (Society) جماعت سے اپنا قطع تعلق کرلیا ہے اور توبہ کرکے صحیح معنوں میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ یاد رہے کہ میں ربوہ کے قصر خلافت میں عرصہ چھ ماہ تک آتا جاتا رہا ہوں اور مجھ سے کوئی پردہ وغیرہ نہیں کیا جاتا تھا نیز مجھے معلوم ہے کہ علاوہ قصر خلافت کے ''خاندان نبوت'' میں کیسے کیسے رنگین اور سنگین حالات رونما ہوتے ہیں جو وقت آنے پر بتلائے جا سکتے ہیں اگر میرے مذکورہ بالا بیان کی صحت پر نعیم کو کوئی اعتراض ہو تو میں بروقت ان کے بالمقابل مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں''۔
    راقم الحروف
    خلیل احمد سابقہ متعلم جامعہ احمدیہ ربوہ
    27۔11۔1961
    راحت ملک کا چیلنج خلیفہ ربوہ کے نام
    جناب عطاء الرحمٰن راحت ملک، گجرات کے مشہور لیڈر ہیں، کسی زمانہ میں وہ مرزا محمود آنجہانی کے چرنوں میں تھے وہاں انہوں نے جنسی بے راہ روی کا ایسا طوفان دیکھا کہ چکرا کر رہ گئے جب انہیں یقین کامل ہوگیا کہ مرزا محمود ایک بدکردار اور بدکار انسان ہے تو انہوں نے بیعت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا اور ''دور حاضر کا مذہبی آمر'' کے نام سے ایک خوبصورت کتاب لکھی، جس میں خلیفہ ربوہ کے دعوی الہام کی قلعی کھولتے ہوئے لکھا
    جس کی آغوش میں ہے ہر ش نئی مہ لقا
    اس سے خدا بولتا ہے مجھ کو معلوم نہ تھا
    اسی دور میں انہوں نے خلیفہ ربوہ کو ایک کھلی چٹھی لکھی جو ہم درج ذیل کرتے ہیں
    مکرمی میاں صاحب۔ سلام مسنون
    آپ کا دعوی ہے کہ خدا آپ سے خلوت اور جلوت میں باتیں کرتا ہے اور نیز یہ کہ آپ صاحب الہام ہیں علاوہ ازیں آپ کا یہ بھی دعوی ہے کہ آپ خدا کے محبوب ہیں خدا آپ پر عاشق ہے اور ہر لمحہ آپ سے مکالمہ و مخاطبہ کرتا ہے اگر آپ کے مندرجہ بالا دعاوی درست ہیں تو میں دریافت کرنے کی جسارت کروں گا کہ
    1۔ کیا خدا کا محبوب ہونے کا مدعی لوگوں کو ایسی گالیاں دے سکتا ہے مثلاََ خبیث، کمینہ صفت،کتے، مسیلمہ کذاب، بکواسی، لومڑی وغیرہ۔(لگتا ہے مرزا قادیانی کی گالیوں سے یہ بندہ پوری طرح واقف نہیں تھا۔ :D راقم)
    2۔ کیا خدا کے محبوب ہونے کا دعوی کرنے والا زنا کر سکتا ہے؟
    3۔ کیا تاریخ اسلام سے ایک بھی ایسی مثال دی جاسکتی ہے کہ کسی خلیفہ نے اپنے مریدوں میں سے بعض کو محض اس لیے خارج کردیا ہو کہ وہ اس خلیفہ پر تنقید کرتے تھے؟
    4۔ کیا آپ میرے ساتھ اس بات پر مباہلہ کرنے کو تیار ہیں کہ آپ نے کبھی اپنے بڑے صاحبزادے کو جانشین بنانے کی دل میں آرزو نہیں کی اور موجودہ تحریک اپنے صاحبزادے مرزا ناصر احمد کے لیے زمین ہموار کرنے کی غرض سے نہیں چلائی؟
    5۔ کیا آپ میرے ساتھ اس موضوع پر مباہلہ کرنے کو تیار ہیں کہ آپ زانی نہیں ہیں؟
    6۔ کیا آپ میرے ساتھ اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ آپ نے لوگوں کے چندوں سے اپنے عزیز و اقرباء کو فائدہ نہیں پہنچایا اور نیز یہ کہ آپ چھ ہزار روپے سالانہ انجمن سے نہیں لے رہے؟
    7۔ کیا آپ میرے ساتھ اس موضوع پر مباہلہ کرنے کو تیار ہیں کہ آپ نے ربوہ میں ناجائز اسلحہ زیر زمین نہیں رکھا ہوا اور نہ ہی آپ کو اس کا علم ہے؟
    8۔ کیا آپ میرے ساتھ اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ بچپن میں آپ پر عالم مفعولیت طاری نہیں رہا؟ :p
    9۔ کیا آپ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں کہ انجمن کے حسابات میں گڑ بڑ نہیں ہے اور اس گڑ بڑ کا آپ کو کوئی علم نہیں یا یہ گڑ بڑ آپ کے ایماء پر نہیں ہورہی؟
    10۔ کیا آپ میرے ساتھ اس موضوع پر مباہلہ کرنے کو تیار ہیں کہ جن لوگوں کو جماعت سے خارج کیا گیا ہے ان کا قصور سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ آپ کی بد عنوانیوں پر تنقید کرتے تھے؟
    11۔ کیا آپ اس بات پر مباہلہ کرنے کو تیار ہیں کہ آپ کے دل میں خلیفہ مولوی نورالدین کی قدرومنزلت اور احترام ہے؟
    مندرجہ بالا گیارہ شقوں کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں لیکن فی الحال میں آپ کی توجہ ان امور کی طرف مبذول کرانے کے بعد آپ کو مباہلے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر آپ خود کو خدا کا محبوب کہتے ہیں تو آئیے فیصلہ انہی امور پر ہوجائے یقینا خدا فیصلہ کرے گا اور ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہوگا وہ ڈاکٹر ڈوئی کی طرح فالج کی موت مرے گا اگر آپ اپنے دعاوی میں سچے ہیں تو آئیے اس چیلنج کو منظور فرمائیے اور فیصلہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیجیے لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان امور پر کبھی مباہلہ کے لیے تیار نہیں ہوسکتے کیونکہ آپ اپنے اعمال سے بخوبی واقف ہیں اور ڈاکٹر ڈوئی کی موت مرنا پسند نہیں کریں گے۔
    ڈاکٹر نذیر احمد ریاض کا خط اپنے ایک دوست کے نام
    آپ کو یاد ہوگا جب ہم ربوہ میں رہے ہماری آپس میں کچھ ایسی قلبی مجالست رہی کہ باہم مل کر طبیعت بے حد خوش ہوتی کبھی شعر و شاعری کے سلسلہ میں تو کبھی مخلص کے مصنوعی تقدس پر نکتہ چینی کرنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ دراصل خلیفہ صاحب کا اصول ہے کہ
    مست رکھو ذکر و فکر صبح آگاہی میں انہیں
    پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں انہیں
    اور خود خوب رنگ رلیاں مناو عیش و عشرت میں زندگی بسر کرو ہم نے تو بھائی خلوص دل سے وقف کیا تھا خدا ہمیں ضرور اس کا اجر دے گا انہیں یہ خلوص پسند نہ آیا اللہ تعالیٰ بہتر حکم و عدل ہے خود فیصلہ کرے گا کہ ٹھکرائے ہوئے ہیرے کتنے عزیز تھے۔ شروع شروع میں میرے دل کی عجیب کیفیت تھی ہر وقت دل مختلف افکار کی آماجگاہ بنا رہتا تھا ماں باپ کی یاد، عزیزوں کی جدائی کا احساس ، دوستوں سے بچھڑنے کا غم اور حاسدوں کے تیروں کی چبھن سبھی کچھ تھا لیکن
    ہر داغ تھا اس دل میں بجز داغ ندامت
    سب سے بڑا معلم انسان کی فطرت صحیحہ ہے جس کی روشنی میں انسان اپنے قدموں کو استوار رکھتا ہے اور ہر افتاد پر ڈگمگانے سے بچاتا ہے اگر یہ کلی طور پر مسخ ہوجائے تو پھر کسی بے راہ روی کا احساس دل میں نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ آمین
    آپ کا ریاض
    جناب غلام حسین صاحب احمدی فرماتے ہیں۔
    میں نے اپنی شہادت کے علاوہ حبیب احمد کا بھی ذکر کیا تھا وہ مجھے قادیان میں مل گئے میں نے ان سے قسم دے کر دریافت کیا تو انہوں نے قسم کھا کر مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب (مرزا محمود احمد) نے دو مرتبہ ان سے لواطت کی ہے( استغفراللہ۔راقم) ایک دفعہ قصر خلافت میں دوسری دفعہ ڈلہوزی میں ۔ میں نے اس سے تحریری شہادت مانگی تو پوری تفصیل کے ساتھ نہیں لکھی بلکہ نامکمل لکھ کر دی۔ حبیب احمد صاحب اعجاز اس کی پوری پوری تصدیق فرما رہے ہیں جو درج ذیل ہے
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راقم)
    بخدمت شریف جناب بھائی غلام حسین صاحب، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ کے بعد التماس ہے کہ میں نے آپ کو جو بات بتائی تھی میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں وہ بات بالکل صحیح ہے اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کی لعنت ہو مجھ پر۔۔۔
    خاکسار حبیب احمد اعجاز
    چوہدری محمد علی صاحب ماحی کا بیان
    چوہدری محمد علی صاحب ماحی روزنامہ ''نوائے وقت'' لاہور اور ''کوہستان'' کے نمائندہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ قادیانی امت کی متعدد فرموں میں بطور اکاونٹینٹ کام کرتے رہے ہیں اور خلیفہ ربوہ کی مالی بے اعتدالیوں اور فراڈ کے دستاویزی ثبوت اپنے پاس رکھتے ہیں ان کا بیان ملاحظہ فرمائیں
    ''میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ صوفی روشن دین صاحب ربوہ میں انجمن کی چکی پر عرصہ تک بطور مستری کام کرتے رہے اور وہ قادیان کے پرانے رہنے والوں میں سے ہیں اور مخلص احمدی ہیں اور جن کے مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے قریبی تعلقات ہیں اور خصوصاََ مرزا حنیف احمد بن مرزا محمود احمد کے صوفی صاحب موصوف کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ مراسم تھے۔ قلبی عقیدت کی بنا پر مرزا حنیف احمد گھنٹوں صوفی صاحب کو قصر خلافت میں اپنے ایک کمرہ خاص میں بھی لے جا کر ان کی خاطر و مدارت کرتے۔ انہوں نے مجھ سے بارہا بیان کیا کہ مرزا حنیف احمد خدا کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ جس کو تم لوگ خلیفہ اور مصلح موعود سمجھتے ہو وہ زنا کرتا ہے اور یہ کہ مرزا حنیف احمد نے اپنی آنکھوں سے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا۔ صوفی صاحب نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ مرزا حنیف احمد سے کہا کہ تم ایسا سنگین الزام لگانے سے قبل اچھی طرح اپنی یادداشت پر زور ڈالو کہیں ایسا تو نہیں کہ جس کو تم کوئی غیر سمجھے ہو وہ دراصل تمہاری والدہ ہی تھیں مبادا خدا کے قہر و غضب کے نیچے آجاو تو اس پر مرزا حنیف احمد اپنی رویت عینی پر حلفاََ مصر رہے کہ ان کا والد پاک سیرت نہیں ہے اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی کوئی کرامت مشاہدہ نہیں کی۔ البتہ یہ تڑپ ان میں شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے کہ کسی طرح انہیں جلد از جلد دنیاوی غلبہ حاصل ہوجائے''۔ اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں اور افراد جماعت کو اس سے محض دھوکہ دینا مقصود ہے تو خدا تعالیٰ مجھ پر اور میری بیوی بچوں پر ایسا عبرت ناک عذاب نازل فرمائے جو ہر مخلص اور دیدہ بینا کے لیے ازدیاد ایمان کا موجب ہو۔
    ہاں اس نام نہاد خلیفہ کی مالی بد عنوانیوں ، خیانتوں اور دھاندلیوں کے ریکارڈ کی رو سے میں عینی شاہد ہوں کیونکہ خاکسار نے ساڑھے نو سال تحریک جدید اور انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں میں اکاونٹینٹ اور نائب آڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔
    خاکسار چوہدری محمد علی عفی عنہ
    واقف زندگی، نمائندہ خصوصی ''کوہستان'' لائل پور
    محمد صالح نور کا لرزہ خیز بیان
    مولوی محمد صالح نور محمد یامین تاجر کتب کے بیٹے ہیں۔ قادیان اور ربوہ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے مرزا محمود کے داماد عبدالرحیم کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے ہیں ۔ ان کا حلفیہ بیان ملاحظہ فرمائیں۔
    میں پیدائشی احمدی ہوں اور 1957 تک میں مرزا محمود احمد صاحب کی خلافت سے وابستہ رہا ۔ خلیفہ صاحب نے مجھے ایک خود ساختہ فتنہ کے سلسلہ میں جماعت ربوہ سے خارج کردیا۔ ربوہ کے ماحول سے باہر آکر خلیفہ صاحب کے کردار کے متعلق بہت ہی گھناؤنے حالات سننے میں آئے اس پر میں نے خلیفہ صاحب کی صاحبزادی امتہ الرشید بیگم (بیگم میاں عبدالرحیم احمد) سے ملاقات کی۔ ان سے خلیفہ صاحب کے بدچلن ہونے ، بدقماش اور بدکردار ہونے کی تصدیق کی، باتیں تو بہت ہوئیں لیکن خاص بات قابل ذکر یہ تھی کہ جب میں نے امتہ الرشید بیگم سے یہ کہا ، آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ صالح نور صاحب آپ کو کیا بتاوں کہ ہمارا باپ ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے اگر وہ تمام واقعات میں اپنے خاوند کو بتلا دوں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لیے بھی اپنے گھر میں بسانے کے لیے تیار نہ ہوگا تو پھر میں کہاں جاؤں گی۔ (یاد رہے یہ وہ امتہ الرشید بیگم ہے جس سے اس کا باپ مرزا محمود نابالغ عمر میں ہی بد فعلی کرتا رہا ہے۔راقم) اس واقعہ پر امتہ الرشید کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر میں بھی ضبط نہ کر سکا اور وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔ اس وقت میں ان واقعات کی بنا پر ، جو میں ڈاکٹر نذیر احمد ریاض، محمد یوسف ناز، راجہ بشیر احمد رازی سے سن چکا ہوں ، حق الیقین کی بنا پر خلیفہ صاحب کو ایک بدکردار اور بدچلن انسان سمجھتا ہوں اور اسی کی بنا پر وہ آج خدا کے عذاب میں گرفتار ہیں۔
    خاکسار محمد صالح نور، واقف زندگی
    (سابق کارکن ، وکالت تحریک جدید ، ربوہ)
    (یاد رہے مذکورہ خلیفہ اپنی زندگی کے آخری 12 سال تک بد ترین فالج کا شکار ہوکے بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا اور اس پر ہونے والے اس بدترین عذاب کو دیکھ کے بہت سے مخلص قادیانیوں مرزائیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوئے۔راقم)

    آخری تدوین : ‏ جولائی 8, 2015
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر