1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(جناب ڈاکٹر محمد شفیع کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب ڈاکٹر محمد شفیع کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)
    (ترجمہ)
    (ڈاکٹر محمد شفیع: جناب چیئرمین صاحب! مسئلہ ختم نبوت کے عنوان سے شروع ہوا تھا۔ تاہم بحث مباحثے کے دوران ہم نے پوری مرزائیت بمقابلہ اسلام کا مطالعہ کر لیا ہے اور میں نے طبعی طور پر مذہبی ہونے کی وجہ سے ان اجلاسات میں بڑی باقاعدگی سے شرکت کی ہے۔ بہت غور سے تمام بحث کو سنا ہے اور میں نے اپنے کچھ نتائج بھی مرتب کئے ہیں جو میں نہیں جانتا باقی ارکان کے لئے قابل قبول ہوں یا نہ ہوں۔ میرے رائے میں وہ (قادیانی) حضرت محمد ﷺ کو آخری اور عظیم ترین پیغمبر تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے دونوں گروہ (قادیانی اور لاہوری) مرزاغلام احمد کو آخری اور عظیم ترین پیغمبر مانتے ہیں۔ یہ نتیجہ میں نے خود اخذ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کی زندگی کو اپنے لئے بطور نمونہ نہیں لیتے۔ بلکہ مرزاغلام احمد کی زندگی میں اپنے لئے نمونہ تلاش کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی اپنی ایک سنت ہے۔ جس کا ہماری سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کا اپنا ایک الگ ’’کلمہ‘‘ ہے۔ ایک الگ ’’درود‘‘ ہے۔ ایک الگ ’’مسجد اقصیٰ‘‘ ہے اور اس طرح اپنا ایک ’’قبلہ‘‘ ہے۔ ان کی حج کی اپنی الگ جگہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان کی ہر شے ہم سے علیحدہ ہے۔ وہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ ہمارے جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔ شادی بیاہ کے رشتوں میں وہ اپنی بیٹیاں ہمیں دینا پسند نہیں کرتے۔ اگرچہ بڑی چالاکی کے ساتھ ہماری بیٹیاں لے لیتے ہیں۔ اس ساری بات سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ گزشتہ ۷۵سالوں میں انہوں نے خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ کر لیا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ ہمیں صرف اس کا اعتراف کرنا ہے۔ جناب والا! آپ جانتے ہیں کہ ہم حقائق کو تسلیم کرنے سے کبھی جی نہیں چراتے تو آئیے اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لیں۔

اس صفحے کی تشہیر