1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(جناب مولانا غلام غوث ہزاروی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پرخطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب مولانا غلام غوث ہزاروی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پرخطاب)

    مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب صدر صاحب! مرزائیوں کے سلسلہ میں بہت سی تقاریر ہوگئی ہیں، کافی ہوگئی ہیں اور کوئی معزز ممبر ایسا معلوم نہیں ہوتا جس کی رائے مرزائیوں کے حق میں ہو۔ بہرشکل ہم نے ایک بل پیش کیا ہے۔ جس بل میں ہم نے تحریک کی ہے کہ ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے دور کیا جائے۔ اس بل کی اہمیت میں ہم نے ایک کتاب پیش کی ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے مرزائیت کا کچا چٹھہ سب کو معلوم ہو جاتا ہے۔ اس کتاب میں یہ ہے کہ:
    میرے نزدیک دنیا میں اتنا برا کوئی شخص بھی نہیں ہوسکتا جتنا کہ مرزاغلام احمد قادیانی ہے۔ جو ملکہ قیصرائے ہند کو خط لکھتا ہے اوراس نے التجا کی کہ آپ مجھے ایک لفظ شاہانہ لکھ دیں۔ دعویٰ نبوت، دعویٰ مسیح موعود، دعویٰ مجدد اور سارے دعوے، 2832میں کہتا ہوں کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے آنے کی خبر کسی کتاب میں ہو اور مرزاغلام احمد قادیانی نے وہ شخص بننے کی کوشش نہ کی ہو۔ مہدی کے بارے میں روایات ہیں اور صحیح روایات متواترات ہیں۔ ہمارے عقائد کتابوں میں لکھے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ میں ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں، میں نے قرآن کی نو آیات پیش کی ہیں۔ قرآن کی تفسیر قرآن سے کی ہے۔ حضور ﷺ اور صحابہؓ نے ان کی وہی تعبیر فرمائی ہے۔ بارہ سو سال کے مجددین نے ان کے وہی معنی فرمائے۔ وہ ان کا جواب دیں۔ میں ان کو چیلنج کرتا ہوں۔ کرشن کی خبر تھی۔ حارث پیدا ہوگا۔ اس نے کہا کہ میں ہوں۔ برہمن وہ بھی میں ہوں۔ جس شخص کا کسی کتاب میں ذکر تھا۔ اس نے کہا کہ وہ میں ہوں۔ لوگوں کی جہالت سے اس نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ بہرشکل اس نے انگریز کی خوشامد کی۔ ملکہ قیصرہ ہند کو جو خط لکھا اس کو کوئی خود دار شریف انسان نہیں لکھ سکتا۔ چہ جائیکہ ایک مسلمان ہو۔
    ایک بادشاہ کا ذکر آتا ہے کہ ایک بہروپئے نے ایک بادشاہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ لیکن کامیاب نہ ہوا۔ اس نے دو تین میل کے فاصلے پر فقیری شروع کر دی۔ اسکو مرید بھی مل گئے۔ لاہور میں ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کر دیا تھا۔ وہ ربِ لاہور بن گیا تھا۔ اس کی بیوی ربنی بن گئی تھی۔ لوگوںنے اسے مان لیا تھا۔ اس ملک میں کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کو کچھ نہ کچھ آدمی مان ہی لیتے ہیں۔ یہ صرف جہالت کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف نادانی کا نتیجہ ہے۔ بہرشکل وہ شخص فقیر بن گیا۔ ہوتے ہوتے اسے شہرت مل گئی، بادشاہ کو خبر ہوئی۔ یہ بادشاہ لوگ دعاؤں کے بڑے پیاسے ہوتے ہیں کہ اقتدار قائم رہے۔ بادشاہ اس کے پاس گیا۔ اس نے اشرفیوں کی تھیلی پیش کی۔ فقیر نے انکار کردیا۔ بادشاہ واپس آگیا۔ وہ اپنا جامہ بدل کر بادشاہ کے پاس آگیا اور اسے کہا کہ دیکھ لو جس نے تمہیں دھوکہ دے دیا ہے۔ چنانچہ اس نے انعام مانگا۔ بادشاہ نے کہا کہ میں خود اشرفیوں کی تھیلی لے کر تمہارے پاس پہنچا تھا لیکن تم نے نہ لی۔ اب انعام کیا دوں گا۔ اس نے کہا کہ میں جس جامہ میں تھا اس بھیس میں یہ تھیلی سجتی نہیں تھی۔
    2833اب یہ جھوٹا دعویٰ اس نے کیا ہے۔ اس کے سارے دعوے جھوٹے تھے۔ لیکن اس جھوٹے لباس کو بھی اس نے نہیں نبھایا۔
    اس کے بعد جہاد کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور یہ سب تاویلیں جو ناصر احمد اور دوسروں نے کی ہیں وہ سب غلط ہیں۔ اس نے کہا کہ موسیٰ کے زمانے میں جہاد سخت تھا۔ حضور ﷺ کے زمانے میں جہاد میں سختی نہ رہی اور کچھ نرمی ہوگئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں بالکل موقوف ہو گیا۔ دراصل وہ اپنے تک پہنچ کر اس کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ یہ جو بہت خوشامدی تھا اس نے ملکہ قیصرہ ہند کو لکھا۔ اس سے بڑھ کر میں نے آج تک کوئی ٹوڈیانہ خط نہ دیکھا، نہ پڑھا۔ میں ایک پیغمبرانہ خط آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ حضرت سلیمان نے بلقیس کو ایک خط لکھا۔ اس میں لکھا۔ قرآن میں اس کو بیان کیاگیا ہے۔ ’’الّٰا تعلوا علیّ واتونی مسلمین‘‘
    یہ پیغمبرانہ خط ہے۔ ’’میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور طابع ہوکر آجاؤ۔‘‘
    پہلے صرف یہ کہ: ’’انہ من سلیمان وانہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم‘‘
    اس کے بعد صرف اتنا لکھا کہ: ’’الّٰا تعلوا علیّ واتونی مسلمین‘‘
    یہ (مرزاصاحب) ۲۶صفحوں کا خط لکھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل، صاحب بہادر، دام اقبالہ، اسی ’’دام اقبالہ‘‘ نے اس کی نبوت کی لٹیا ڈبودی۔ کوئی بیس تیس دفعہ اس نے یہ لکھا ہے یہاں تک لکھا کہ: ’’آپ ایک دفعہ ایک شاہانہ لفظ میرے لئے لکھ دیں۔‘‘
    استدعا کی ہے۔ یہ ایک صیہونی فرقہ ہے۔ مسلمانوں کے لئے زہریلا ہے۔ یہودیوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ تو مارآستین ہے۔ یہودی تو صاف کافر ہیں۔ ہمارے دشمن ہیں۔ لیکن یہ چھپے ہوئے ہیں۔ سانپ ہیں۔ انگریزوں کے زمانے میں 2834انہوں نے عراق، بغداد جانے کے بعد چراغاں کیا۔ مسلمان ملکوں کے خلاف اظہار خیال کیا اور جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی انہوں نے نقصان پہنچایا۔ کمیشن میں مرزاناصر احمد نے کہا کہ مسلم لیگ کی درخواست پر میں شریک ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے وقت میں سے تم (نے ان قادیانیوں) کو وقت کیوں دیا۔ اس میں خود ظفر اﷲ تھا۔ منیر کمیشن میں اس نے کہا کہ جب لیاقت علی دورہ پہ جاتا تھا تو وزارت عظمیٰ میرے پاس ہوتی تھی۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں۔ تو بہرحال یہ تو مدعی ہے اور چھوٹے چھوٹے کاموں تک پہنچتا تھا۔ مجھے علم ہے کہ ایک آدمی قتل ہوا مانسہرہ میں، میں اور ماسٹر تاج الدین صاحب گورنر سرحد شہاب الدین کے پاس پشاور گئے جو نظام الدین کا بھائی تھا۔ ہم نے اس قاتل کے بارے میں کچھ نرمی اختیار کرنے کی بات کی۔ مقتول اصل میں مرزائی تھے۔ اس نے ظفر اﷲ خان کی تعریفیں شروع کر دیں۔ ہمارے سامنے گورنر سرحد اور تعریفیں ظفر اﷲ خان کی۔ ظفر اﷲ خان چھایا ہوا تھا۔ اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہوسکتی تھی۔ یہ ظفر اﷲ خان کی مہربانی ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں یہ گئے تو جو کچھ کردار انہوں نے ادا کیا اس سے رسول اﷲ ﷺ کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے جو فرمایا ہے کہ میرے بعد میری امت میں یہ جو امتی نبی کہتے ہیں وہ یہی حضور ﷺ نے پہلے فرمادیا میری امت میں سے ہوکر نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ یہ امتی نبی کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ کذاب دجال ہوں گے۔ تو یہ وہاں گئے۔ انہوں نے جو بیان دیا وہ اس کی تصدیق ہے کہ حضور ﷺ نے کتنا سچ فرمایا اور کتنے صحیح صادق ومصدوق پیغمبر تھے۔ کذاب تو اس لئے ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان کافر ہیں۔ ہم اور یہ بالکل، علیحدہ ہیں۔ یہ دعویٰ دیا گرداسپور ضلع میں کہ عام مسلمان ہم سے علیحدہ ہیں۔ ہم اور یہ ایک قوم نہیں، اس پر زور دیا اور دجل وفریب کیا۔ دجال ہونے کا مظاہرہ کیسے کیا اور آخر میں لکھ دیا۔ بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق ہو۔ یہ آخر میں دجل کیلئے لکھا، فریب کے لئے لکھا۔ کمیشن کو یہ دے 2835دیا کہ ہم علیحدہ ہیں اور مسلمانوں کی تعداد اس ضلع میں کم ہے۔ یہ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے ڈنگ دیا۔ پاکستان بناتے وقت انہوں نے یہ ڈنگ دیا اور یہ نتیجہ ہے کشمیر کی تمام جنگوں کا، بھارت سے مستقل مقابلہ کا یہی سبب تھا۔ حقیقتاً یہ ایجنٹ ہیں۔
    میں ایک بات عرض کروں گا، شاید وہ بعضوں کو معلوم نہ ہو۔ ۳۱۳ درویش کے نام سے قادیان میں مرزائی جاتے ہیں۔ مرزے کی قبر کی حفاظت کے لئے، اور اس کے مقابلہ میں ۳۱۳ سکھ آتے ہیں گوردوارے کی حفاظت کے لئے جو ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں ہے۔ ۳۱۳ مرزائی رہتے ہیں مرزے کی قبر کی حفاظت کے لئے۔ نہ مسلمان رہتے ہیں وہاں، نہ اجمیر کے لئے جاتے ہیں، نہ کسی اور مقدس مقام کے لئے جاتے ہیں تو مرزے کی قبر اور ہڈیوں کی حفاظت کے لئے جاتے ہیں۔ یہ کیا چیز ہے۔ ہمارے یہاں کہتے ہیں زیارت لگتی ہے۔ بعض اولیاء کے مزاروں پرلوگ جاتے ہیں اور ان کی حاجت پوری ہوتی رہتی ہے تو اس کو کہتے ہیں ان کی زیارت لگتی ہے تو ان مرزائیوں کی زیارت لگتی ہے۔ مرزا کی ہڈیوں کی حفاظت کے لئے۔ ۳۱۳سکھ یہاں آئیں اور ان کا تبادلہ ہوا کرتا ہے باقاعدہ۔ یہ بات اگر نہیں معلوم تو میں کہنا چاہتا ہوں اور اگر اب تک ہے تو اس کو ختم کرنا چاہئے۔ یہ تو ایجنٹ ہیں اور جو لوگ ۳۱۳ آئیں جائیں، آئیں جائیں تو آپ کے ملک کی کون سی بات خفیہ رہ سکتی ہے؟ یہ تو جاسوس ہیں سارے کے سارے۔ وہاں جانے والے روز تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ جاسوس ہیں۔ وہاں کے آنے والے جاسوس ہیں۔ یہاں کے جانے والے جاسوس ہیں۔ تو انہوں نے کسی وقت بھی مسلمانوں کی بھلائی نہیں کی۔ یہ مسلمان کے نام سے مسلمانوں کے اندر ایک خطرناک فرقہ ہے۔ اس پر کوئی مسلمان بھروسہ کرے گا؟ اس پر کوئی قوم بھروسہ کرے گی؟ اس پر کوئی فرد بھروسہ کرے گا؟ حکومت بھروسہ کرے گی تو منہ کی کھائے گی۔ یہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور سب کے سامنے کہنے کو تیار ہوں۔
    2836اس وقت ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچے ہیں کہ دنیا کی نگاہیں ہماری طرف، مسلم ممالک کی نگاہیں ہماری طرف، تمام مسلمان حکومتیں، عرب حکومتیں ہم کو دیکھ رہی ہیں اور ہمارے فیصلے کی انتظار میں ہیں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ہماری قوم سمجھدار ہے۔ وہ اس طریقے سے کوئی بات نہیں کرے گی کہ جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ لیکن باوجود اس کے ساری کی ساری قوم یہ چاہتی ہے کہ اس آستین کے سانپ کا سر کچلا جائے اور کیسے نہ کچلا جائے۔ ہم یہ بات حکومت کے حوالے کرتے ہیں۔ لیکن یہ ساتھ کہتا ہوں کہ جب وہ ہم کو کافر کہتے ہیں اور ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور یہ بات مرزاغلام احمد نے لکھی ہے کہ: ’’دنیا کی مسلمان بادشاہتوں میں سے، حکومتوں میں سے کوئی حکومت نہیں ہے جو ہم کو کافر نہ کہے۔‘‘
    یہ مرزا نے لکھا اور یہ ۱۹۰۸ء سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ مرزا نے یہ کہا ہے کہ: ’’تمام مسلمان حکومتیں ہمارے خون کی پیاسی ہیں۔ ہم کسی جگہ تبلیغ نہیں کر سکتے۔ اپنا عقیدہ پیش نہیں کر سکتے۔ وہ ہم کو کافر سمجھتے ہیں۔‘‘
    یہ مرزا نے خود لکھا اور جو ناصر احمد نے اپنے خلاف باتیں پیش کیں کہ مسلمانوں نے ہم پر کیا کیا فتوے لگائے کفر کے۔ اس موقع پر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کا ایک ڈھونگ آپ کو بتادوں۔ انہوں نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر کہا اور پھر چھپایا اس طرح کہ انہوں نے پہلے کافر کہا تو جو مسلمان کو کافر کہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ عجیب ڈھونگ اپنا بنایا۔ آپ خدائی کا دعویٰ کریں۔ آپ کو ہر شخص کافر کہے گا۔ جب آپ کو کافر کہیں تو آپ کہیں جی ہم نے تو ان کو کافر نہیں کہا نہ، ہم کو کافر کہنے سے خود ہی کافر ہوگئے۔ یہ آپ نے عجیب ڈھونگ اور ڈھنگ نکالا ہے مسلمانوں کو کافر بنانے کا۔ آپ کافر اس لئے بنائیں کہ وہ آپ کی رسالت کو نہیں مانتے۔ آپ کی پیغمبری کو نہیں مانتے۔ آپ کو مسیح موعود نہیں مانتے۔ آپ کو کذاب ودجال سمجھتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ چونکہ مجھے کافر کہا اس لئے وہ خود کافر ہوگیا۔ تم خدائی کا دعویٰ کرو، پیغمبری کا دعویٰ کرو، ساری دنیا سے بہتر بنو، تم مسلمانوں کو دھوکہ دو، پھر لوگ تمہیں کافر نہ کہیں؟ اگر کوئی کہے تو کہو کہ انہوں نے مجھے کافر کہا ہے۔ اس لئے کافر ہوگیا۔ تو تمہیں کوئی کافر نہ کہے گا؟
    2837میرا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے جو باتیں یہاں پیش کی ہیں، جھوٹ بولنے کے حیلے پیش کئے، بات کو چھپایا۔ اب ساری دنیا کو معلوم ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے زمانے والوں کو قطعی کافر کہا تو جب کافر کہا اور یہ لکھا کہ میرا نہ ماننا قرآن وحدیث کا نہ ماننا ہے۔ میرا انکار قرآن وحدیث کا انکار ہے۔ میرا انکار خدا اور رسول ﷺ کا انکار ہے، تو اب میں ناصر احمد سے پوچھتا ہوں کہ جو خدا کا انکار کرے وہ کس کھاتے میں ہے؟ آپ کے اس چھوٹے کفر میں ہے یا بڑے کفر میں ہے؟ اب ناصر احمد نے تاویل کی ہے کہ ہم مسلمانوں کو توکافر کہتے ہیں۔ لیکن چھوٹا کافر کہتے ہیں۔ بڑا کافر نہیں کہتے اور دجل وفریب یہ کیا ہے۔ آج تک جو معنی سمجھتے تھے کہ فلاں شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کے معنی یہ تھے کہ اسلام ایک دائرہ ہے۔ اس کی حدود ہیں۔ جو ان حدود کو پھلانگے گا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ بات صاف تھی۔ اس نے کہہ دیا کہ ایک چھوٹا حلقہ ہے۔ اس سے خارج ہوگیا۔ یہ اس نے تاویل کی اور نیا معنی گھڑا۔ نیا معنی گھڑنے میں ان کو کمال حاصل تھا۔ اس نے جو ’’اتمام حجت‘‘ کا معنی کیا ہے بالکل غلط کیا ہے۔ مرزاناصر احمد نے اتمام حجت کا جو معنی کیا ہے وہ یہ ہے کہ دلائل سے اپنی بات پیش کرو۔ دعوت دو۔ توحید رسالت کی یا حق کی دعوت دو اور دلائل دو۔ اس کا دل مان لے کہ تم حق پر ہو۔ تم کو سچا سمجھ کر پھر انکار کرے تو یہ ملت سے خارج ہے۔ یہ اتمام حجت تھا۔ حالانکہ قرآن مجید نے اتمام حجت کا یہ معنی نہیں کیا۔ قرآن مجید نے کہا ہم نے پیغمبر اس لئے بھیجے کہ یہ کوئی نہ کہہ سکے۔ ’’ماجائنا من نذیر‘‘
    کہ ہمارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا۔ ڈرانے والا کافی ہے اتمام حجت کے لئے۔ پیغمبر کا آنا اور دعوت دے دینا کافی ہے اتمام حجت کے لئے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔ ’’لئلّا یکون للناس علی اﷲ حجۃ بعد الرسل‘‘
    کہ ہم نے پیغمبر بھیجے۔ پیغمبروں کے نام پہلی آیت میں آئے ہیں۔ ڈرانے والا، ڈر سنانے والا، خوشخبری دینے والا، تاکہ اتمام حجت ہو جائے لوگوں پر۔ لوگوں پر خداکی حجت قائم ہو جائے۔ 2838اس لئے بھیجا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پیغمبر کو سچا سمجھ کر انکار کرے۔ ہاں ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو سچا بھی سمجھیں پھر بھی نہ مانیں، تعصب سے نہ مانیں، ہٹ دھرمی سے نہ مانیں، ضد سے نہ مانیں۔ ایسے لوگ ہوسکتے ہیں۔ لیکن اتمام حجت کے معنی میں یہ چیز داخل نہیں ہے۔ یہ ناصر احمد نے قوم کو دھوکہ دیا ہے۔
    تو بہرشکل میں اسے مانتا ہوں کہ تم عربی پڑھے ہوئے ہو۔ اس کو مانتا ہوں کہ تم انگریزی پڑھے ہوئے ہو۔ لیکن تم دین کو چھپاتے ہو اور تم اپنے دادا کی بات کو نبھاتے ہو۔ اتنے کروڑوں روپے کمالئے۔ ربوہ کی زمین انجمن احمدیہ کے نام وقف ہے۔ وہ تم ذاتی طور پر استعمال کر رہے ہو اور اس کی رجسٹریاں نہیں کرتے اور لوگوں سے روپیہ لے کر وہ زمینیں ہی بیچتے ہو؟ بہشتی مقبرے بھی بنا لئے، پیغمبرانہ کاروبار شروع کر دیا اور تم کروڑ پتی بن گئے۔ میں کہتا ہوں کہ سودا تمہارے نفع کا نہیں ہے۔ تم نے اپنی ساری نسل کو قیامت تک تباہ وبرباد کر دیا ہے۔ چند کوڑیوں کے عوض تو بہرشکل میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ میں اس کو مانتا ہوں کہ تم پڑھے لکھے ہو۔
    یہ جو بیچارے لاہوری آئے، یہ تو بالکل کورے تھے۔ علم سے اس وقت انہوں نے اپنے اس بیان میں لکھا بھی شفا اور پڑھا بھی شفا زبر کے ساتھ۔ حالانکہ یہ لفظ ہے عربی میں شفا، جیسے قتال ہوتا ہے جیسے کبال ہوتا ہے، جیسے مواجبات الرجاء ہوتا ہے۔ جیسے مقابلہ اور ارتبال ہوتا ہے۔ اسی شفا اور مشافحہ کا لفظ ہے۔ انہوں نے شفا لکھا بھی اور شفا پڑھا بھی۔ اس ہاؤس کے سامنے میں نے ان کی توجہ دلائی کہ فلاں سطر میں آپ نے جو لکھا ہے یا فلاں صفحے میں جو آپ نے لکھا ہے تیرھویں میں، اس کو پھر پڑھیں۔ کیا یہ ٹھیک ہے۔ جگہ کا نام میں نے نہیں لیا اور نہ لفظ میں نے بتایا۔ اسی سطر کو انہوں نے نکالا، پھر پڑھا اور کہا کہ ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ اچھی طرح پڑھیں تیرھویں صفحے میں فلاں سطر ہے۔ آیا یہ ٹھیک لکھی ہوئی ہے یا کوئی غلطی ہے۔ اس میں قطعاً غلطی تھی۔ (عربی)
    2839کہ نبوت کا چالیسواں حصہ یعنی صرف نیک خواب ہیں۔ باقی نبوت کیا چیز ہے؟ نبوت بہت اونچا مقام ہے۔ خالق ومخلوق کا تعلق وہاں عیاں ہوتا ہے۔ تقدیر کا مسئلہ کھلتا ہے۔ وہاں معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے۔ عرفان کے مدارج طے ہوتے ہیں۔ وہ نبوت عوام کو خدا کی طرف بلانے والی چیز ہوتی ہے۔ وہ مکالمہ کیاچیز ہے؟ وہ خدا سے باتیں کسی طرح ہوتی ہیں؟ وہ نبوت بہت اعلیٰ مقام ہے جو ہماری فہم وادراک سے بہت اونچا ہے تو اس کا چھیالیسواں حصہ رویائے صالحہ، خواب صالحہ ہوتے ہیں۔ اب جب حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ مبشرات کے کیا معنی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک اچھا خواب جو مسلمان دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے یہ حضور ﷺ کا ترجمہ ہے جو ترجمہ ابوالعطاء نے کیا مبشرات کا مبشرین جو جنت کی خوشخبری سنائی تھی۔ یعنی ترجمہ وہ کیا جو رسول اﷲ ﷺ کے ترجمے کے خلاف ہے۔ یہ ابوالعطاء جو یہاں آیا کرتا تھا وفد کے ساتھ اور اس کی ایک کتاب انہوں نے ختم نبوت کے جواب میں ضمیمے کے طور پر پیش کی۔ اس میں بھی بہت سی باتیں غلط ہیں وہ سلطان الاغلاط ہے۔
    بہرشکل میں عرض یہ کرنا چاہتا تھا کہ انہوں نے یہاں پر بارہا پڑھا۔ واﷲ ُ العظیم! یہ لاہوری پارٹی نے پڑھا۔ حالانکہ یہ لفظ واللّٰہِ العظیم! ہے۔ ’و‘ حرف جارہے، ہر قسم کے لئے آتا ہے یہ مفعول کو مجہول کر دیتا ہے۔ جیسے واﷲ، باﷲ، تاﷲ، زیر پڑھی جاتی ہے۔ اس نے واللّٰہُ العظیم پڑھا۔ آخر میں نے اٹھ کر جناب صدر سے عرض کیا کہ ہمارے سر میں درد ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ یہ غلط پڑھتے ہیں۔ ان کو آپ صحیح پڑھنے کی ہدایت کریں کہ ظفر اﷲ کے زمانے میں ظفر اﷲ ہی کی حکومت تھی۔ اسی طرح بیرونی طاقتوں نے ان سے بات کی۔ اس وقت ہماری خارجہ سیاست یہ نہ تھی جو اس وقت ہے۔ ناظم الدین کے یہ الفاظ ہیں کہ اگر ظفر اﷲ کو نکال دوں تو امریکہ 2840پاکستانیوںکو گیہوں دینا بند کر دے گا۔ گویا گیہوں ظفر اﷲ کو ملتے تھے اور پاکستان کو نہیں۔ لہٰذا میں ظفر اﷲ کو کیسے برخواست کر دوں۔ لاہور اور چنیوٹ کے درمیان جو جنکشن ہے اس وقت مجھے اس کا نام یاد نہیں آرہا۔ وہاں چار مسلمان قتل ہوئے۔ ظفر اﷲ نے آخر مرزائیوں کو رہا کرایا۔ مسلمانوں کے قاتلوں کو رہائی دی۔ یہ اتنا بڑا ابلیس ہے لیکن ان کا قصور نہیں تھا، ان کا علم ہی اتنا تھا اور یہ بنے ہوئے تھے مبلغ۔ یہ تبلیغ کرتے ہیں یورپ میں، اسلام کی، اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ ہم تبلیغ کرتے ہیں، ختم نبوت کا ذکر کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حضور ﷺ کی تعلیم کا دراصل معنی یہ ہے کہ کوئی نیا پرانا نبی نہیں آسکتا۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ ان کی جگہ آنے والا مرزاغلام احمد۔ یہ ہے ساری تبلیغ۔ یہ ساٹھ سال تک تبلیغ کرتے رہے، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
    جناب چیئرمین: مولانا! آپ ختم کرنے کی کوشش کریں، اس واسطے کہ ہم نے ۲۶۰صفحے کی کتاب بھی پہلے سن لی ہے۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: میں مختصر کر دوں گا۔
    جناب چیئرمین: جو کتابوں والے ہیں ان کو تھوڑا ٹائم دیا گیا ہے۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: نہیں میری ایک کتاب باقی ہے جو لاہوری پارٹی کے جواب میں ہے۔ وہ پریس میں دی ہوئی ہے۔ آج شاید چھپ جائے۔ اس کے بارے میں میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کر دی، ورنہ اس کتاب…
    جناب چیئرمین: وہ اگلی اسمبلی کے لئے۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: بہرحال میں مختصر کر دیتا ہوں۔ جیسے آپ فرمائیں تو میرا مطلب یہ ہے…
    2841جناب چیئرمین: وہ کتاب چھ سو صفحے کی ہے؟
    مولانا غلام غوث ہزاروی: نہیں، وہ مختصر ہے۔ (قہقہے) وہ میں پڑھ سکتا ہوں۔ وہ میرے خیال میں چھ، سات صفحے کی ہوگی۔ تھوڑی ہے۔ وہ اتنی ہے جتنی ان کی کم ہے۔ بہرحال میں اس میں بھی ذکر کروں گا۔
    لاہوری مرزائیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم مرزے کو نبی نہیں مانتے۔مرزے نے اپنے کو نبی نہیں کہا۔ یہ میں مختصراً عرض کردیتا ہوں۔ یہ سب کے لئے ضروری چیز ہے کہ مرزے نے کہا کہ میں نبی ہوں۔ مرزے نے کہا میں رسول ہوں۔ مرزے نے کہا خدا نے قادیان میں پیغمبر بھیجا۔ خدا نے میرا یہ نام رکھا نبی۔ مرزے نے کہا مجھے خدا نے لقب دیا۔ مرزے نے کہا مجھے یہ منصب عطاء ہوا۔ مرزے نے کہا خدا نبی اور رسول کہہ کر مجھے ۲۳سال تک پکارتا رہا۔ مرزے نے کہا میرے پاس جبرائیل آیا۔
    ’’جائنی آئیل‘‘یہ حقیقت الوحی کی عبارت ہے۔ میرے پاس جبرائیل آیا۔ اس نے اشارہ کیا، اس نے بات کی۔ پھر مجھے منصب نبوت دیا گیا۔ مجھے لقب نبوت دیاگیا۔ مجھ خطاب نبوت دیا گیا۔ میرایہ نام نبی خدا نے رکھا۔ میں نبی ہوں۔ میں رسول ہوں۔ آپ فرمائیے کہ کسی بڑے پیغمبر کو ہم نبی اور رسول کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ رسالت ونبوت کا دعویٰ کن الفاظ میں کرے گا؟ جو الفاظ مرزے نے ذکر کئے ہیں۔ سوائے ان کے اور کوئی لفظ نہیں ہے جن سے کوئی پیغمبر دعویٰ نبوت کا کرے، حقیقتاً نبوت کا دعویٰ کرے اور میں اس میں راز بتادیتا ہوں۔ یہ دونوں ایک ہیں۔ یہ دونوں مرزے کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ عیسیٰ مر گئے۔ میں عیسیٰ، میں فرض کرتا ہوں ایک سیکنڈ کے لئے۔ پہلی ہم نے جو کتاب پیش کی ہے اس کو پڑھ لیجئے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مرزائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اس میں ۹آیتیں پیش کی ہیں اور تیرہ، چودہ حدیثیں پیش کی ہیں کہ حضور ﷺ 2842نے کیا معنی کئے۔ قرآن کی آیتوں کی کیا تفسیر کی۔ صحابہؓ نے کیا معنی کئے۔ بارہ صدیوں کے مجددین نے کیا معنی کئے۔ آج کل آپ عدالت کے فیصلے کو دلیل میں نہیں پیش کرتے۔ لیکن ہائیکورٹ کا فیصلہ باقاعدہ قانون بن جاتا ہے۔ لیکن تیرہ صدیوں کے مجددین، تیرھویں صدی، چودھویںصدی کا مجدد بنا ہے۔ مرزا تیرہ صدیوں کے مجدد جو ان کے مانے ہوئے مجدد ہیں جن کی فہرست انہوں نے اپنی کتاب میں لکھ کر دی۔ ہم نے کتاب میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ ان مجددین کا حوالہ دیا ہے۔ ہم نے کہا کہ انہوں نے کیا معنی کئے ان آیتوں کے تو ہائیکورٹ معنوں کے بعد قانون کی تشریح ختم ہو جاتی ہے۔ قانون کی کوئی اور تشریح نہیں ہوسکتی۔ لیکن میں ایک منٹ کے لئے مانتا ہوں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام مر گئے، نبوت فرض کیجئے کہ جاری ہے۔ ہرایرا غیرا، نتھو خیرا، گاما گھسیٹا، اٹھ کر کہے کہ میں پھر نبی ہوں۔ میں مسیح ہوں۔ بھلا آپ خیال تو کریں۔ جو ہم نے لکھا ہے مرزاجی کی صرف ٹوڈیانہ حرکات کو دیکھ لیجئے۔ ایک خط میں نے پڑھا حضرت سلیمان علیہ السلام کا۔ ایک خط میں آپ کو حضور اکرم ﷺ کا پڑھ کر سنا دوں جو بخاری میں ہے کیا ستم ہے۔ ہر قل شاہ روم کو آپ ﷺ نے لکھا (عربی) یہ عنوان ہے۔ آگے خط میں لکھاہے: ’’اسلم، تسلم‘‘
    مسلمان ہو جاؤ، بچ جاؤ گے۔ ورنہ تم پر تمہارا بھی وبال ہوگا اور تمہارے پیچھے چلنے والوں کا بھی یہ ہے جلالی خط۔ یہ ہے پیغمبرانہ خط۔ شیطان کی آنت کے برابر دام اقبال، دام اقبال، دام اقبالہا، دام اقبالہا۔ خط لکھا۔ میرے ابا جان نے ۵۰گھوڑی دی ہے۔ میرے بھائی جان نے قتبہ، مفسدۂ سکھ کے زمانے میں بڑی امدادی ہے۔ میں فقیر تھا۔ میں غریب تھا۔ مجھ سے اورکوئی خدمت نہ ہوسکی۔ میں نے ۵۰الماریاں کتابوں کی لکھی اور تمام اسلامی ممالک میں بھیج دیں۔ انگریزوں سے لڑنا حرام ہے، جہاد حرام ہے۔ میں یہی خدمت کر سکا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر اور میرے خاندان سے بڑھ کر خیرخواہ اس گورنمنٹ کا نہیں۔ یہ ایک ہی سچی بات مرزے نے لکھی ہے کہ اس سے بڑھ کر انگریز کا وفادار کوئی نہیں ہوسکتا۔
    2843تو میرا مطلب یہ ہے۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام مانتے ہیں، مسیح موعود مانتے ہیں۔ لاہوری بھی اور قادیانی بھی اور پھر یہ جسمانی معراج کے منکر ہیں۔ لاہوری بھی جس طرح قادیانی منکر ہیں۔ جس طرح مرزامنکر ہے۔ مرزے نے لکھا ہے مسجد اقصیٰ یہ میری مسجد ہے قادیان کی۔ جو قرآن میں ہے۔ ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ‘‘
    مرزے نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ میری ہے۔ یہ تبلیغ رسالت جلد نہم میں درج ہے۔ مرزے کایہ قول اور اس میں اس نے لکھا ہے کہ یہ مسجد اقصیٰ یہی میری مسجد ہے اور وہ جو منارہ ہے جس کے پاس عیسیٰ علیہ السلام، وہ یہی منارہ ہے۔ منارۃ المسیح ہے جومیں نے بنایا ہے۔
    یہاں آپ مجھے ذرا اسی اجازت دیجئے۔ ایک افیمی تھا وہ استنجا کرنے جاتا تھا۔ بیت الخلاء میں تو وہ پانی کا لوٹا لے جاتا تھا۔ افیمی کو اکثر قبض رہتا ہے۔ لوٹے میں سوراخ تھا تو جب تک وہ فارغ ہوتا لوٹے سے پانی ٹپک ٹپک کر ختم ہو جاتا۔ افیمی کو بڑا غصہ آتا تو اس نے ایک دن لوٹا پانی کا بھرا، اندر گیا۔ پہلے استنجا کر کے اس کے بعد ہگنے لگا۔ کہا کہ سسرا کہیں کا اب ٹپک تو دیکھوں گا میں (قہقہے) تو پہلے استنجا کر گیا اور بیت الخلاء میں بعد میں انتظام کرنے لگا۔ یہ مرزاپہلے نازل ہوا چراغ بی بی سے یا قادیان میں…
    جناب چیئرمین: میرے خیال میں کافی ہوگیا ہے، آپ بیت الخلاء تک تو پہنچ گئے ہیں۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: تو منارہ بعد میں بنایا۔ منارے کے لفظ کا کوئی معنی نہیں۔ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ منارے سے مراد منارۃ المسیح ہے۔ باب لد سے مراد لدھیانہ ہے اور عیسیٰ علیہ السلام سے مراد غلام احمد ہے مریم سے مراد…
    جناب چیئرمین: اس میں لکھا ہوا ہے، اس کے اندر ہے۔
    2844مولانا غلام غوث ہزاروی: ہاں! اس کے اندر لکھا ہوا ہے۔ میں اس بات کی تائید کرتا ہوں اور ختم کرتا ہوں اور تحریک پیش کرتا ہوں۔ اپنے بل کے حق میں کہ لاہوری مرزائیوں اور قادیانیوںدونوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کوئی کمزور نتیجہ نہ آئے۔ میں آپ کو سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ تمام عالم اسلام آپ کے اس فیصلے کا منتظر ہے۔ تمام رعایا آپ کے اس فیصلے کا انتظار کرتی ہے۔ تمام ممالک پر اس کا اثر پڑے گا۔ میں عرض کردوں، میں نے ایک بڑی شخصیت سے عرض کیا ہے کہ ان کا پروپیگنڈہ باہر اسلام کے نام سے ہے۔ آج اگر ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے تو ان کا پروپیگنڈہ دو فیصد بھی نہیں رہے گا۔ یہ سارا ختم ہو جائے گا۔ ان کا پروپیگنڈہ اسلام کے نام سے ہے۔ پھر مسلمان ممالک سمجھتے ہیں۔ بلکہ مسلمان ہی نہیں کہ آپ کے خلاف کیا پروپیگنڈہ ہوگا۔ روس اور امریکہ کی جو پالیسی ہوگی وہ ان کی پرانی پالیسی ہوگی۔ چین کی جو پالیسی ہوگی وہ ان کی پرانی پالیسی ہوگی۔ یہ آج اپنے آدمیوں کو تاریں دلواتے ہیں۔ ان کا دجل ہے۔ یہ تو آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ کو قوت کے ساتھ، بہادری کے ساتھ، نڈر ہوکر اسمبلی نے آپ کو یہی حکم دیا ہے کہ آپ خدا کے امین ہیں، آپ قوم کے امین ہیں۔ آپ کو باقاعدہ طور پر حکومت نے، بلکہ پرائم منسٹر نے یہ بات آپ کے حوالے کی کہ اسمبلی کیا فیصلہ کرتی ہے۔ آپ اسلام کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ آپ کی قوم چاہتی ہے۔ جس قوم کے آپ نمائندے ہیں۔ یہ قوم چاہتی ہے، عالم اسلام چاہتا ہے، تمام دنیا دیکھتی ہے۔ آپ اس بارے میں کوئی نرمی نہ کریں۔ یہ نرمی آپ کو مہنگی پڑے گی۔ میں آخر میں اس بل کی حمایت وتائید کرتا ہوں۔ (عربی)
    جناب چیئرمین: شکریہ! پروفیسر غفور احمد! بالکل، آپ ہی فرمائیں گے جنہوں نے اڑھائی سو صفحے کی کتابیں لکھی ہیں انہوں نے ایک ایک گھنٹہ تقریریں کی ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر