1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(جناب مولانا عبدالحق کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پرخطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب مولانا عبدالحق کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پرخطاب)
    مولانا عبدالحق: اچھا جی! تو گزارش میری یہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ جو ہے یہ مسئلہ تو ہمارے آئین میں طے شدہ ہے کہ مسلمان وہ ہوسکتا ہے جس کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور اس کے بعد کوئی بروزی یا ظلی نبی نہیں آسکتا تو اس وقت صورتحال یہ ہے 2917کہ یہ مسئلہ تو آئین کے لحاظ سے طے شدہ ہے۔ اب یہ دوسرا مسئلہ مرزاغلام احمد کے متعلق ہے تو اس کے متعلق یہاں پر کتابوں اور حوالوں سے اور مرزاناصر اور صدرالدین کی تسلیم سے یہ چیز انہوں نے مان لی ہے کہ مرزاغلام احمد نبوت کا دعویٰ کر چکے ہیں اور اس کی جتنی تاویلیں انہوں نے کیں ان تمام تاویلوں کے بعد انہوں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ مرزاغلام احمد کو ہم نبی جانتے ہیں اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ لاہوری پارٹی نے بھی یہی کہا کہ ہم اس کو مجدد یا ملہم یا مکلم کہتے ہیں۔ لیکن اٹارنی جنرل صاحب کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہاں، انہیں نبی بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ’’ینزل نبی اﷲ عیسیٰ بن مریم‘‘ تو ہمارے اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا۔ انہیں۔ (لاہوری پارٹی سے) کہ جب حضور اکرم ﷺ کی حدیث سے تم نبوت کا اطلاق کرنا چاہتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اس کو نبی مانتے ہو۔ تو دونوں جماعتوں نے اس کو نبی تسلیم کر لیا۔
    اب یہ ہے کہ آئین کے مطابق جو رسول کریم ﷺ کو خاتم النّبیین نہیں جانتا وہ آئین کے مطابق مسلمان نہیں ہے۔ وہ غیرمسلم ہے تو اس صورت میں ان کے غیرمسلم ہونے کا (جیسا کہ نفس الامر میں ہے اور شریعت میں ہے اسی طریقے سے) آئین کی بناء پر بھی وہ غیرمسلم ہی ہوئے۔
    اب رہی دوسری بات کہ وہ ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تم ہمیں غیرمسلم اقلیت قرار دیتے ہو، تو ہماری جانب سے یہ کہاگیا کہ تم غیراحمدی کو یعنی مسلمانوں کو مسلمان کہتے ہو یا دائرہ اسلام سے خارج؟ تو دونوں جماعتوں نے یہ تسلیم کر لیا، لاہوریوں نے کہا کہ غیراحمدی حقیقی مسلمان نہیں ہے اور ربوہ والوں نے کہا کہ دائرہ اسلام سے غیراحمدی خارج ہیں اور کافر ہیں اور پکے کافر ہیں۔ یہ بات انہوں نے تسلیم کرلی۔ اب یہاں پر جب کہ وہ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں، پکے 2918کافر کہتے ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج کہتے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان حقیقت میں الحمدﷲ امتیاز ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن اگر ان کی نظر میں ہم غیرمسلم اکثریت ہیں۔ تم چاہے اپنے آپ کو مسلمان کہو یا جو بھی کہو، لیکن انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ جمہور مسلمین کے یعنی غیرمرزائی مسلمان جو ہیں ان کے مقابلے میں وہ یقینا الگ فرقہ ہیں۔ اس کو تسلیم کرنا ہوگا یا ہمیں یہ کہہ دو کہ چلو بھئی تم غیرمسلم اکثریت ہو اور اپنے آپ کو یہ مان لو کہ ہم مسلمان اقلیت ہیں، یا یہ کہ ہم مسلمان اکثریت ہیں۔ (الحمدﷲ) تو تم اس کے مقابلے میں غیرمسلم اقلیت ہو۔ جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں تھے، ہندو اکثریت میں تھے۔ ہمارے نزدیک ہندو کافر تھے، اب بھی کافر، پہلے بھی کافر، تو ہم نے کسی وقت یہ مطالبہ نہیں کیا کہ چونکہ ہم اقلیت میں ہیں۔ اس لئے ہمیں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے نعوذ باﷲ (کسی مسلمان کے دماغ میں نہیں آیا) ہندوؤں میں شامل ہو جائیں۔ حقیقت میں مرزائی یہ چاہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا استحصال کریں۔
    جناب چیئرمین: آپ اپنے آپ کو غیراحمدی اکثریت Declare (ڈیکلیر) کروالیں۔ اگر ویسے مسئلہ حل نہیں ہوتا، ایسے ہی ہو جائے۔
    مولانا عبدالحق: بات یہ ہے…
    جناب چیئرمین: اچھا جی! مولانا مفتی محمود! مولانا! ان چیزوں پر تقریباً بحث ہوچکی ہے۔ میں یہ عرض کروں کہ… (مداخلت)
    جناب چیئرمین: ممتاز صاحب! چھوڑیں۔ ان چیزوں پر بحث ہوچکی ہے۔
    مولانا عبدالحق: اچھا!
    2919جناب چیئرمین: بالکل! ایمان سب کا مضبوط ہے اور تقریباً ہاؤس کی رائے بھی یہی ہے۔
    مولانا عبدالحق: ایک تیسری بات میں عرض کرتا ہوں۔
    جناب چیئرمین: اب مولانا مفتی محمود صاحب نے تقریر کرنی ہے۔ یہ تجاویز کا وقت ہے۔ اکثر لوگ…
    مولانا عبدالحق: بہت بہتر! یعنی مرزائی جو ہیں ان کے ساتھ ہم مسلمانوں کی منافرت یا عداوت اب کھلی ہے۔ اس سے پہلے وہ زمین دوز طریقے پر کس قدر مسلمانوں کی تباہی کر چکے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ چونکہ ہمارے اور ان کے درمیان پوری منافرت ظاہر ہوچکی ہے۔ اب اگر وہ ہماری کلیدی آسامیوں پر فائز رہیں تو میں یہ عرض کرتا ہوں کیا وہ پاکستان اور مسلمانوں کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں؟ جب کہ ہم اس وقت یہ فیصلہ کر دیں اور خدا ہمیں یعنی اس مجموعی اسمبلی کو توفیق دے کہ یہ ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے۔ اس کے بعد وہ اگر کلیدی آسامیوں پر فائز رہیں تو یقینا وہ ہمیں اور تباہ کریں گے۔ مسلمانوں کے بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر کمیٹی فیصلہ دے کہ انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر ایسے لوگوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے تو ملک کا انتظام کس طریقے سے چلے گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ نظام اﷲ چلائے گا۔ اس سے پہلے ہمارے وزیراعظم صاحب نے بڑی بہادری کی کہ تیرہ سو ناپسندیدہ افسروں کو نکال دیا۔ اس وقت بھی تو اﷲ نے نظام چلایا۔ اس لئے میں یہ گزارش کروں گا کہ ان کو کلیدی آسامیوں پر سے ضرور ہٹایا جائے۔ ورنہ صرف غیرمسلم اقلیت قرار دینے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
    جناب چیئرمین: شکریہ! مولانا مفتی صاحب! آپ فرمائیں۔

اس صفحے کی تشہیر