1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(جناب ملک نعمت خان شنواری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب ملک نعمت خان شنواری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: جناب چیئرمین صاحب! موضوع زیربحث پر میرے بہت سے محترم دوستوں نے مجھ سے پہلے تقاریر کی ہیں۔ میں نے بہت سے دوستوں کی پوری تقاریر نہیں سنیں، اس لئے جو کچھ اب میں کہہ رہا ہوں ہوسکتا ہے کہ وہ بھی پہلے میرے دوست کہہ چکے ہوں۔ بہرحال قبائلی اراکین اسمبلی ستر لاکھ قبائلیوں کی طرف سے آپ کی وساطت سے میں بتانا چاہتا ہوں…
    جناب چیئرمین: ستر لاکھ والے آج نہیں ہیں۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: وہ آئے ہیں، ابھی چلے گئے ہیں۔ کیونکہ ان کو مایوسی ہوئی ہے کہ آپ ان کو موقع نہیں دے رہے۔ وہ واک آؤٹ کر گئے ہیں۔ بہرحال میں اور قومی اسمبلی کے قبائلی اراکین سترلاکھ قبائلیوں کی طرف سے آپ کی وساطت سے اس ایوان کے معزز ممبران کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ سے پورے پاکستان اور دنیا کے اسی کروڑ مسلمانوں کو جتنی تشویش ہے اتنی ہی قبائلی عوام کو اس مسئلہ سے تشویش ہے۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ہمیں اس مسئلہ سے ان سے زیادہ تشویش ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
    جناب چیئرمین صاحب! قادیانیوں کا مسئلہ پورے عالم اسلام کے لئے اور حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے تمام مسلمانوں کے لئے اس وقت ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور تمام دنیا کی آنکھیں اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی پر لگی ہوئی ہیں۔ جوں جوں بحث کے ختم ہونے کا وقت 2985قریب آرہا ہے اور میرا خیال ہے کہ آج بحث کا آخری دن ہے۔ توں توں لوگوں کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس سرزمین کے عوامی نمائندے، جس سرزمین پر ایک شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا، اسی سرزمین پر رہنے والے غیور مسلمانوں کی عوامی نمائندہ اسمبلی اس مسئلہ کے لئے کیا حل نکالتی ہے اور کیا فیصلہ کرتی ہے۔
    جناب چیئرمین صاحب! یہ مسئلہ اگرچہ نوے(۹۰) سال پرانا ہے۔ لیکن اس کی قدامت ہماری شرمندگی میں مزید اضافہ کر دے گی۔ اگر آج بھی ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا جو کہ اﷲتعالیٰ نے ہمیں دیا ہے اور اگر آج ہم اپنی شرمندگی اور کلنک کا یہ ٹیکہ دھونے میں کامیاب ہو گئے اور پیشانی سے کلنک کا ٹیکہ دھو سکے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس خود مختار ادارے اور اس قومی حکومت کا یہ کارنامہ ان تمام کارناموں سے سرفہرست ہوگا۔ جو اس سے پہلے یہ قومی اسمبلی اور یہ حکومت کر چکی ہے۔
    جناب چیئرمین صاحب! اگر آج بھی ہم نے یہ موقع کھودیا اور ہم اس مسئلہ کے متعلق کوئی واضح فیصلہ نہ کر سکے تو نہ صرف آنے والی نسلیں ہم پر ملامت کریں گی اور ہم ان کے قہر وعذاب سے محفوظ رہ سکیں گے۔ بلکہ ہم ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب بھی ہوں گے اور اگر ہم نے یہ فیصلہ نہ کیا تو آئندہ ایک سال میں اتنے لوگ قادیانی ہو جائیں گے جتنے ہمارے مسلمان سادہ لوح عوام پچھلے نوے(۹۰) برس میں نہیں ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھ جائیں گے کہ شاید قادیانی حق پر تھے اور قومی اسمبلی میں انہوں نے اپنا مؤقف جو بیان کیا وہ صداقت پر تھا، وہ صحیح مسلمان ہیں تو اس لحاظ سے پچھلے نوے (۹۰) سال میں اتنے مسلمان قادیانی نہیں ہوئے ہوں گے جتنے ایک برس میں ہو جائیں گے۔ اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری اسمبلی کو اس مسئلہ پر بالکل واضح طور پر دوٹوک فیصلہ کرنا چاہئے۔
    2986جناب والا! قبائلی عوام کی تین خصوصی روایات ہیں جنہیں تمام دنیا اچھی طرح جانتی ہے۔
    ۱… اسلام سے بے پناہ محبت، اسلام پر مر مٹنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا۔
    ۲… انگریزوں سے کلی نفرت۔ قبائلی عوام نے ایک لمحے کے لئے بھی انگریزوں کی اطاعت قبول نہیں کی، جب کہ مرزاغلام احمد نے ہمیں باربار اپنی تحریروں میں انگریزوں کی اطاعت قبول کرنے کی تلقین کی ہے۔
    ۳… قبائلی جہاد سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ قبائلیوں نے ہمیشہ ہر دور میں اسلام کے لئے جہاد کیا ہے۔ سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل سکھوں کے خلاف جہاد اور قبائلیوں کی اکثریت ثابت ہوچکی ہے۔ ان کی مزاروں کے آس پاس کئی قبائلیوں کی قبریں ہیں جن پر ان کے کتبے لگے ہوئے ہیں۔
    سو جناب چیئرمین صاحب! قبائلی جب مرزاغلام احمد کی تحریروں میں انگریز دوستی اور جہاد دشمنی کی تحریریں پڑھتے ہیں تو ان کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ انہیں قادیانیوں کے خلاف جہاد کرنے کی اجازت دی جائے۔ قبائلیوں نے اس سے پہلے بھی ۱۹۵۳ء کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم ان کافروں کے خلاف جہاد کریں اور اب بھی ہمارے عوام کایہ مطالبہ ہے کہ قبائلیوں کو قادیانیوں کے خلاف جہاد کرنے کی اجازت دیجائے۔ کیونکہ انہوں نے اسلام اور قبائلیوں کی قومی خصوصیات کی توہین کی ہے۔
    جناب والا! ویسے تو مرزاناصر احمد نے جرح کے دوران کلام پاک کی کئی آیات کا ترجمہ غلط پڑھا اور ہمیں سننا پڑا۔ بہرحال، لیکن میں دو باتوں کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ کلام پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق واضح طور پر اﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے انہیں ہلاک نہیں کیا اور انہیں اپنے پاس بلالیا ہے۔ وہ پھر دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ جس وقت دنیا میں دجال پیدا ہوگا۔ حالانکہ قادیانی حضرات ہمیں بتا رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور وہ کشمیر میں 2987دفن ہیں۔ یعنی دنیا بھر کے عیسائیوں کو معلوم نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟ لیکن مرزاغلام احمد اور مرزاناصر احمد کو معلوم ہے کہ وہ کشمیر میں دفن ہیں، فلاں جگہ پر دفن ہیں۔
    دوسری واضح بات جو مرزاناصر احمد نے جرح کے جواب میں کی وہ ان کو کافر کرنے کے لئے کافی ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ شاید بحث کے آخری دن ہیں۔ میرے خیال میں مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کے سوالات پر اٹارنی جنرل کے ضمنی سوال میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بالکل کافر ہیں جب کہ مولانا صاحب نے قرآن پاک کی چند آیات پڑھ کر سنائیں اور بتایا کہ مرزاغلام احمد کہتا ہے کہ یہ آیات مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ میرے خیال میں جس طرح وہ باربار نبی کی دو تین تشریحی کر لیتے تھے اور ایک آیت کے قسم قسم کے ترجمے کرلیتے تھے، میرا خیال تھا کہ اس وقت بھی وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں گے اور یہ کہہ دیں گے کہ انہوں نے اس طریقے سے نہیں کہا اور اس طریقے سے کہا۔ لیکن مرزاناصر احمد نے بالکل صاف طور پر کہہ دیا کہ ہاں، یہ آیتیں مرزاغلام احمد پر نازل ہوئی تھیں اور اس قسم کی دوسری آیات بھی اس پر نازل ہوئی ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر