1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(جناب عبدالعزیز بھٹی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب عبدالعزیز بھٹی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

    جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب چیئرمین!اس معزز ایوان کی اسپیشل کمیٹی کے سامنے جو قراردادیں زیرغور ہیں۔ ان میں جو خاص بات زیرغور ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان میں پاکستان کے شہری ہیں اور وہ حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین نہیں رکھتے، ان کا اسلام میں کیا مقام ہے۔ یہ مسئلہ زیرغور ہے۔ اس ضمن میں جو شہادت یہاں مرزا ناصر احمد صاحب نے دی اور اس کے بعد لاہوری جماعت کے صدر مولانا صدر الدین صاحب نے دی اور ان پر جرح ہوئی۔ بہت سے ایسے مقامات پر انہیں ہر طرح کا موقع دیا گیا کہ وہ اپنا پوائنٹ آف ویو پیش کریں۔ اس تمام جرح اور ان کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کچھ گزارشات کروںگا۔
    میں لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنا چاہتا۔ پہلی بات جو انہوں نے اعتراض کیا ہے وہ یہ تھا کہ اس اسمبلی کو ان قراردادوں پر غور کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس ضمن میں، میں ایک دو باتیں آئین کے حوالے سے عرض کروں گا۔ وہ یہ ہیں کہ جہاں تک پاکستان کے آئین کا تعلق ہے، اس میں آرٹیکل ۲ اس طرح کا ہے:
    2787"Islam shall be the state relegion of Pakistan."
    (اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)
    جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستا ن ایک ایسی اسٹیٹ ہے۔ جو مذہبی نظریات پر مبنی ہے۔ نہ کہ یہ کوئی غیر مذہبی سٹیٹ ہے۔ اس لحاظ سے میں سمجھتاہوں کہ ا س حکومت کی یہ ذمہ داری ہے اور یہ فرض بنتا ہے فیڈرل گورنمنٹ کا کہ وہ اسلام کے بارے میں، اسلام کی protection (حفاظت) کے لئے، اسلام کی ان متعین حدود کے لئے، اسلام کی بھلائی کے لئے، اسلام کو برقرا ر رکھنے کے لئے وہ ہر طرح کا قانون بنائے اور اس کی نگہبانی کرے اور اس ضمن میں اگر کوئی فرقہ کوئی جماعت، کوئی مذہب پاکستان کے اندر یا پاکستان کے باہر مذہب اسلام کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات کرے، تو میں سمجھتا ہوں اس کا چیلنج اسے قبول کرنا چاہئے اوراس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں یہ ایک ذمہ داری بنتی ہے پاکستان کی حکومت پر۔
    نمبر دو اس میں آرٹیکل ہے ۲۰۔اس میں ہے:
    "Subject to law, public order and morality,
    (اگر قانون، امن عامہ اور اخلاقیات اجازت دیں)
    (a) every citizen shall have the right to profess, practise and propagate his religion, and
    (a)ہر شہری کو اپنے مذہب کو ظاہر کرنے، عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہو گا اور…
    (b) every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions.
    (b)ہر مذہبی گروہ اور فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، انہیں برقرار رکھنے او ر انتظام کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
    جہاں تک اس آرٹیکل کا تعلق ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حکومت کو اور حکومت کی اتھارٹی جیسا کہ یہ ہاؤس ہے۔ لیجسلیٹیو باڈی کو یہ مکمل طور پراختیار ہے کہ وہ کچھ کسی حد تک قانون یہ بنائے کہ جس میں Public order and morality (امن عامہ اور اخلاقیات) جو ہے۔ وہ قائم ہو سکے اور اس ضمن میں یہ اسمبلی اگر کوئی قانون بنانا چاہے تو اسے پورا اختیار ہو۔ سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا پاکستان کے لوگوں کو جو مسلمان ہیں وہ اگر یہ محسوس کرتے ہیں 2788کہ ان کے مذہب پر، ان کے Faith (عقیدہ) پر، ان کے ایمان، پر ایک ایسا فرقہ یا کچھ لوگ اس ملک کے اندر اس طرح سازشیں کر رہے ہیں جس سے ان کے مذہب کو، ان کے بنیادی حقوق کو، ان کے اپنے Faith (عقیدہ) کو، ان کے ایمان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تو کیا اس اسمبلی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس طرح کا کوئی قانون بنائے کہ ان کے حقوق پر، ان کے Faith (عقیدہ) ایمان پر کوئی آنچ نہ آئے؟ ان کے Faith (عقیدہ) ایمان کا کوئی نقصان نہ ہو۔ یہ بات درست ہے کہ Fundamental rights (بنیادی حقوق) میں ہر کسی کو یہ حق ہے کہ اس کے معاملات ذاتی جو ہیں۔ اس طرح کے اس میں کوئی دخل نہ دے۔ لیکن یہ حق دوسروں کو بھی پہنچتا ہے اور یہ حق دوسرے کو بھی دینا چاہئے کہ انہیں کوئی حق نہیں۔
    میں اس میں یہ وضاحت کرتا ہوں کہ اگر مرزائیت کے لوگ مرزائی جو ہیں یا قادیانی جو ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اپنے اس طرح کے Faith (عقیدہ) میں کوئی دخل اندازی نہ کرے تو انہیں بھی یہ حق دینا چاہئے ہم لوگوں کو یا دوسرے لوگوں کو، مسلمانوں کو، کہ ان کا جو حق ہے، ان کی جو سوچ ہے، ان کا جو faith (عقیدہ)ہے، وہ ان میں دخل اندازی نہ کریں۔ اسے خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اسے خلط ملط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مذہب اسلام مرز اصاحب کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ مذہب اسلام کی جو حدود ہیں۔ یہ جو کچھ اس کے اصول ہیں وہ اﷲ تعالیٰ نے متعیّن کئے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کا تعیّن کیا گیا ہے۔ اس میں اگر کوئی تبدیلی کرے گا تو یہاں جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اسے چیلنج کریں کہ یہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہو اور یہ ذمہ داری ہے اس حکومت کی، اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ اعتراض جو ہے وہ قابل قبول نہیں اور اس اسمبلی کو یہ اختیار ہے کہ وہ اسے چیلنج کرے۔
    پھر ایک آرٹیکل ۳۱ جس میں یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ:
    (1) 2789Steps shall be taken to enable the Muslims of Pakistan, individually and collectively, to order their lives in accordance with the fundamental principles and basic concepts of Islam and to provide facilities whereby they may be enabled to understand the meaning of life according to the Holy Quran and Sunnah."
    (ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ پاکستانی مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے بنیادی تصورات اور بنیادی اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں اور انہیںاس قابل بنایا جائے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کے معنی سمجھ سکیں)
    اس سے بھی مطلب بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ یہاں کے لوگوں کو جو مسلمان ہیں، انہیں اس طرح کی Facilities provide (سہولیات فراہم) کی جائیں، خواہ وہ قانون بنانے سے ہوں، خواہ کسی اور طریقے سے ہوں کہ وہ اس طرح کے حالات پیدا کریں کہ لوگ صحیح اسلام کو اپنائیں اور صحیح اسلامی زندگی جو ہے، اسے اپنا کر اپنی منزل تک پہنچیں۔ نہ کہ اس طرح کے لوگو ں کو اجازت دیں کہ جو مرضی ہے وہ چاہے اسلام کو بگاڑیں۔ طرح طرح کی تاویلیں کریں، طرح طرح کے معانی اور طرح طرح کی قرآن مجید کی وہ تاویلیں کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں۔ تو اس لحاظ سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی اس طرح کی بات کرنے کی کوشش کرے تو یہ اسمبلی دخل اندازی کر سکتی ہے، قانون بنا سکتی ہے۔ انہیں منع کرنا چاہئے۔جو کچھ بھی Merit (میرٹ) پر فیصلہ ہوگا،وہ انہیں اپنانا چاہئے۔
    ایک اور بات، انہوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ فیڈرل گورنمنٹ کی جو فیڈرل لسٹ ہے۔ یہاں کانسٹی ٹیوشن نے دی ہے اس میں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ کوئی قانون بنائے یا اگر یہ کوئی سبجیکٹ تھا تو یا تو یہ اس صورت میں Residuary powers (باقی ماندہ اختیارات) میں آنا چاہئے اور وہ صوبائی حکومتوں کا ہے۔ میں اس ضمن میں یہ عرض کروں گا کہ فیڈرل لسٹ میں سیریل نمبر ۵۸ پر یہ فیڈرل گورنمنٹ کو اختیار ہے کہ وہ ایسی کوئی چیز جو فیڈرل گورنمنٹ سے متعلقہ ہو،اس ضمن میں قانون بنائے۔ میں یہ اس لئے ریفر کر رہا ہوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس دستور کو Amend (ترمیم) کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر (معیارات) 2790Merits پر کوئی فیصلہ ہو تو اس میں دستور کو Amend (ترمیم) کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک Simple (سادہ) یہ نیشنل اسمبلی یا پارلیمنٹ جوائنٹ سیشن میں یہ کسی طریقے سے قانون بن سکتا ہے اور وہ یہ ہے:
    Serial No.58 of the Federal legislative list.
    (وفاقی قانون سازی فہرست کا سیریل نمبر۵۸)
    "Matters which under the Constitution are within the legislative competence of Parliament or relate to the Federation.
    (ایسے معاملات جو آئین کے تحت پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار یا وفاق سے متعلق ہوں)
    تو آرٹیکل ۲ اور ۲۰ اور۳۱ کے تحت یہ مسئلہ جو ہے، یہ فیڈرل گورنمنٹ سے متعلقہ ہے۔ اس لحاظ سے اس فیڈرل لسٹ کے اس سیکشن ۵۸ کے تحت یہ قانون بنایا جا سکتا ہے۔ اور آخری بات کہ آیا یہ اسمبلی مجاز ہے یا نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے قانون کے مطابق چونکہ انہوں نے خود نیشنل اسمبلی کو، سپیکر نیشنل اسمبلی کو یہ لکھا کہ ہمیں بلایا جائے، ہمیں سنا جائے۔ انہوں نے By conduct surrender (عملی طور پر تسلیم کرنا) کیاہے۔ یہاں آکر انہوں نے سٹیٹمنٹ دی ہے اور انہوں نے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ یہ اسمبلی مجاز ہے تو اب وہ اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ اس اسمبلی کو اختیار نہیں۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ان کے اس اعتراض کا تعلق تھا یہ رد ہوتا ہے۔
    اب رہا مسئلہ Merit (معیار) پر کہ آیا وہ لوگ عقیدے کے لحاظ سے مسلمان ہیں یا نہیں ہیں، ان کامذہب کیا ہے۔ ان کا ایمان کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں بے شمار اس پر تقریریں بھی ہوئیں، شہادت بھی لی گئی ہے۔ جرح بھی ہوئی ہے اور معزز ایوان کے بے شمار ممبران نے طرح طرح کے حوالے بھی یہاں ہاؤس میں پیش کئے ہیں۔ تو ایک بات میں بڑے واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوںکہ اس کا وہ بھی انکار نہیں کرتے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم مرزاغلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ کس طرح کا نبی مانتے ہیں یہ ایک تاویل کی بات ہے۔ یہ ایک ان کے اپنے مطلب کی بات ہے۔ کبھی ظلی کہتے ہیں، کبھی بروزی 2791کہتے ہیں۔ کبھی چھوٹا کہتے ہیں، کبھی بڑا کہتے ہیں۔ بہر حال یہ بات طے شدہ ہے اور جب خود انہوں نے مانا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاؤس کے ممبران کو اس طرح کے حوالے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ نبی مانتے ہیں یا نہیں مانتے۔ یہ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنی جرح کے دوران یہ بات کہی ہے کہ ہم انہیں نبی مانتے ہیں۔ لیکن کیا کہتے ہیں کہ وہ چھوٹے قسم کے، کبھی کہتے ہیں ظلی ہیں، کبھی کہتے ہیں بروزی ہیں۔
    میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ہمارے آئین کے تحت آرٹیکل (۴۲)اور (۴)۹۱ کے تحت ایک بات یہ مکمل طور پر اس ملک کا بڑا ادارہ پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہے کہ اس ملک کے لوگوں کا، مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ کسی قسم کا کوئی نبی اور نہیں آئے گا۔ آخری نبی ہمارے رسول مقبول ﷺ ہیں۔ اگر یہ بات فیصلہ شدہ ہے۔ ہم اس طرح کی بات کر چکے ہیں۔ تو اس پر میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بالکل وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آیا اور کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں۔ یہ صحیح بات ہے، یقینی بات ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے۔ کم از کم اس ملک کے لوگوں کا یقینا ایمان ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے تو اس پر مزید دیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
    اب رہایہ سوال کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نبی مانتے ہیں تو اس بارے میں کیا ہمیں کرنا چاہئے۔ اگر وہ نبی کہتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے بیان میں یہ کہا کہ مانتے ہیں، تو آیا کسی اور کو نبی کہنے سے ان کا Status (مقام) کیا رہتا ہے۔ سیدھی بات جو ہے وہ یہ ہے، اس پر ہم نے فیصلہ کرنا ہے۔ یقینا یہ بات درست ہے کہ بعض مسلمان… شاید اس میں میں بھی شامل ہوں… کہ کئی ہم سے گناہ سرزد ہوتے ہیں، گناہ گار ہیں۔ اسلام کی ساری چیزیں تو شاید ہم سے پوری نہیں ہو سکتیں۔ لیکن بعض Fundamentals (بنیادی باتیں) ایسے ہیں۔ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی خلاف ورزی، جن سے انکار کرنا جو ہے وہ اتنا بڑا کفر ہے کہ وہ آدمی دائرہ اسلام او ر ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ جو انہوں نے 2792تاویلیں کی ہیں۔ یہ ساری کی ساری جو ان کی غلط نیت ہے، میں سمجھتا ہوں اس کو چھپانے کی وہ کوشش کر رہے تھے۔ لیکن موٹی بات یہ ہے کہ Fundamental principles (بنیادی اصول) کچھ ایسے ہیں جنہیں نہ مانا جائے تو یقینا جو مسلمان ہیں وہ مسلمان نہیں رہتے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو Fundamentals (بنیادی امور) میں شامل ہے۔ جس طرح کہ مولانا ہزاروی صاحب نے اور مولانا مفتی محمود صاحب نے یہ فرمایاتھا کہ اگر اس بات کی اجازت دی جائے کہ چھوٹے پیغمبر بھی آ سکتے ہیں تو پھر وہ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ چھوٹے خدا بھی آ سکتے ہیں۔ اگر اس طرح کی تعبیروں کی اجازت دی جائے تو یقینا میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کا جو شیرازہ ہے، وہ بکھر جائے گا اور ہم لوگ بڑے قصور وار ہوں گے۔
    میں تو سمجھتا ہوں کہ اس ملک کی اس اسمبلی کو میں مبارک باد دیتا ہوں کہ ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ اتنے بڑے مسئلے کو جس کو نوے سال پہلے کوئی حل نہیں کر سکا۔ اس کو ہم حل کرنے کے لئے بیٹھے ہیں اور یقینا ہم اس کو حل کر کے اٹھیں گے(انشاء اﷲ)۔ تو جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کا یہ Faith (عقیدہ) ہے کہ وہ چھوٹا نبی یا جس طرح کا وہ کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں ان کا یہ ایک رسول پاک ﷺ کے اس Status (مقام) کا کہ وہ آخری نبی ہیں، اس کامنکر ہونا، اس کے خلاف جانا اس بات کی دلیل ہے۔ یہ واضح بات ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں نہیں رہے۔ ملت اسلامیہ بھی اسے کہیں یا دائرہ اسلام دونوں سے یقینا خارج ہیں۔
    تو میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں اور ایک بات اور ہے۔ اس ضمن میں بے شمار Quotations (اقتباسات) ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اتنی نہیں ہے کہ وہ انہوں نے ظلی، بروزی کی باتیں کیں۔ بے شمار ایسی چیزیں جو میرا خیال ہے کہ عام آدمی تک نہیں پہنچتیں۔ میں یہ بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس فرقے سے منسلک ہیں۔ وہ حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ صرف وہ باتیں پیش کی جاتی ہیں۔ جو سچی باتیں نہیں ہوتی 2793ہیں۔ کیونکہ آج صحیح طریقہ سے ان لوگوں کو باہر کسی نے Expose (واضح) نہیں کیاتھا۔ ایک دو اور Quotations (اقتباسات) ہیں۔ اگر اجازت ہو تو میں عرض کردوں گا۔
    وہ یہ ہے کہ ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ یقینا وہ مرزا غلام احمد کے لئے۔ اب رہا سوال کہ نہیں، مطلب یہ تھا، اس کا مطلب وہ تھا۔ خدا کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تو بڑے سیدھے سادھے مسلمان ہیں۔ ان کے ایمان سے کھیلنا لفظوں کی ہیراپھیری سے یہ ایک ان کا طریقہ کار ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیونکہ ہم نے یہاں آکر طرح طرح کی ان کی تاویلیں دیکھیں۔ کفر کا، کبھی منکر کا، کبھی چھوٹا کفر، کبھی بڑا کفر، دائرہ اسلام میں، کبھی ملت اسلام میں، اس طرح کی باتیں تھیں۔ یہ کیا بات ہے۔ میں تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ساری باتیں مسلمانوں کے ایمان کو خراب کرنے کی تھیں اور یہ محض انگریزوں کے اشارے پر، انگریزوں کے کہنے پر یہ سب کچھ شروع کیا گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی مسلمان کے جذبے کو صرف وہی ختم کر سکتا ہے۔ جو ان کے سامنے ایک پیغمبر کی صورت میں آئے۔ کیونکہ یہ پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی کے لئے واضح ثبوت ہیں جو کہ انہیں پیش کئے گئے تھے۔مرزاناصر احمد کو Confront کیا گیا۔ وہ اس کا جواب نہیں دے سکے۔ Throughout (مسلسل) انہوں نے کوشش کی جہاں بھی انہیں جواب نہیں ملتا تھا تو انہوں نے پس و پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کنڈکٹ اپنا، ان کاطریقہ کار اپنا۔ ان کا جواب کو ٹالنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کا اپنا جو کیس ہے، وہ ٹھیک نہیںہے۔ اس لئے ایک بات تو یہ آ جاتی ہے کہ Fundamentals Important ہیں، وہ اس کے منکر ہیں۔ اس لحاظ سے ہم نے جو فیصلہ کیا وہ پہلے ہی اس آئین کے تحت جو رسول اﷲ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہیں رکھتے ہم انہیں مسلمان نہیں مانتے۔ یہ فیصلہ شدہ بات ہے۔ چونکہ وہ نہیں مانتے،میں سمجھتا ہوں کہ انہیں دائرہ اسلام میں اس لحاظ سے تصور نہیں کرنا چاہئے۔
    2794جو دوسری بات ایک تحریک تھی مفتی صاحب اور باقی چند ممبران کی طرف سے اور کچھ اس طرف سے شاید اس میں شامل تھے۔ جنہوں نے پیش کی تھی۔ اس میں چند اورباتیں بھی تھیں۔ ایک یہ کہ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جو خاص خاص posts (عہدوں) پر ہیں۔ ان سے ہٹایا جائے۔ اس ضمن میں میں یہ گزارش کروں گا کہ پاکستانی ہیں، وہ کہتے ہیں پاکستانی، پاکستان میں وہ رہ رہے ہیں۔ اس لئے اگر یہ اسمبلی فیصلہ کرے کہ اس طرح انہیں یہ حق نہیں دینا چاہئے تو اس صورت میں ہمیں دستور میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ جو میں سمجھتا ہوں ممکن ہے کچھ دوست مجھ سے اس با ت پر ناراض ہوں۔ لیکن یہ قانونی ایک بات ایسی ہے کہ جس میں ہمیں دشواری ضرور ہو گی۔ جہاں تک اس دوسری بات کا تعلق ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس میں وہ بیشک ساری دنیا میں جاکر کچھ بھی کہیں، اس میں ہمارا کیس اتنا سٹرانگ ہے، مسلمانوں کا کیس اتنا سٹرانگ ہے کہ ہم پورے طریقے سے Defend (دفاع) کر سکتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ غلط بات کہتے ہیں۔
    لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انہیں posts (عہدے) نہ دیئے جائیں۔ وہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی پالیسی کا مسئلہ ہے۔ وہ بعد کی باتیں ہیں۔ اگر حکومت کے ذمہ دار لوگ چاہیں تو وہ کسی مقام پر کسی کو رکھ سکتے ہیں۔ کسی مقام پر نہ چاہیں تو نہ رکھیں۔ لیکن اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ اس میں پاکستان کی بدنامی ہے۔ اس ضمن میں میں اپنے معزز ممبران اسپیشل کمیٹی سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ یہ باتیں اپنے ذہن میں ضرور رکھیں۔
    ساتھ بات ایک اور بھی ہے کہ اگر انہیں مائینارٹی Declare (اقلیت قراردینا) کیا جائے۔ غیر مسلم Declare (قراردینا)کیا جائے۔ تو یقینا پاکستان کے لئے خطرات بھی ہیں۔ یہاں جو دوست اور معزز ممبرا ن بیٹھے ہیں،سارے کے سارے، میرا ایمان ہے کہ وہ پاکستان کو قائم اور دائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان برقرار رہے اور پاکستان کی آزادی پر کوئی آنچ نہ آئے اور جو خطرات انہیں منیارٹی Declare (قراردینا)کرنے میں ہمیں در پیش ہوں گے۔ انہیں بھی 2795مدنظر رکھنا چاہئے۔ ا س کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ ان کے نظریات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اگر صرف یہ بات ہو کہ ہم مائینارٹی Declare (اقلیت قراردینا)کر دیں، قانون بنا دیں گے اور اس کے بعد اپنی سیاسی مصلحتیں سامنے رکھ کر جو بھٹو صاحب کی پارٹی کے مخالف ہیں۔ وہ نعرہ بازی کریں کہ ٹھیک ہے کہ اب داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حالات خراب ہیں۔ ہم توتماشائی بن کر بیٹھیں یا جو اپنے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کچھ اس طرح کے طریق کار کو اختیار کریں تو یقینا میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اتنا بڑا نقصان ہو گا اور جس مقصد کو ہم یہاں لے کر بیٹھے ہیں،شاید وہ بھی ضائع ہو جائے۔ شاید وہ حقیقی مسلمان جس کے لئے آج آپ جن کے حقوق کی خاطر یہاں بیٹھ کر سوچ بچار کر رہے ہیں شاید ان کی وہ بات بھی نہ بن سکے۔ اس لئے اس بات کو بھی ہمیں مدنظر رکھنا ہوگا اور ساتھ ساتھ یہ بھی اگر تصور کرلینا کہ جتنے احمدی ہیں سارے کے سارے وہ اچھے پاکستانی نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ بات غلط ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ، جس طرح میں نے پہلے کہا ہے کہ انہیں صحیح طریقے سے علم نہیں تھا، انہیں حالات سے صحیح واقفیت نہیں تھی، ان کے لئے مجبوریاں تھیں۔
    میں اپنے حلقہ انتخاب کا ایک واقعہ آپ کو بتاتا ہوں۔ ایک گاؤں کے سارے کے سارے لوگ قادیانی تھے۔ سوائے ایک گھر کے باقی قادیانی تھے۔ لیکن سوائے ایک گھر باقی سارے کے سارے مسجدوں میں جا کر جمعہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔ یہ ان سے گناہ ہوا ہے،بھول ہو ئی ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اسٹیج اس طرح کی آ سکتی ہے کہ ان لوگوں سے بھی کوئی طریقہ کا ر ایسا Adopt (اختیار) کیا جائے۔ کسی ایسی تجویز کو عملی جامہ پہنایا جائے جس سے ان لوگوں کو جو واپس آنا چاہتے ہیں، انہیں بھی موقع ملنا چاہئے۔ تو ایسا کوئی قانون نہیں ہونا چاہئے جس سے یہ دروازے بند ہو جائیں۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ جو بھول سے یا کسی غلط 2796فہمی کی بدولت یا کسی ذاتی لالچ کی بدولت ان سے اس طرح کا گناہ ہوگیا ہے۔ وہ ممکن ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔
    اور آخری بات جو میں آپ کے سامنے عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آئین بھی ہم نے بنا دیا۔ وہاں بھی ہم نے لکھ دیا اسلامک رپبلک آف پاکستان، لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ اسلام کو Defend (دفاع) کرنے کے لئے، اسلام کو کامیاب کرنے کے لئے، اسلامی نظریات کو بڑھانے کے لئے آج تک اس ملک کے لوگوں میں ایک یک جہتی پیدا نہ ہو سکی۔ کوئی تو نعرے لگاتے ہیں اسلام کے، کوئی نعرے لگاتے ہیں کسی اور قسم کے، اور کچھ لوگ محض تو اس قسم کے نعرے لگاتے ہیں کہ اپنے ذاتی مفادات کو اپنے ذاتی نقصان کو، اپنے ذاتی کسی وقار کو سامنے رکھ کر جب یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں نقصان ہو رہا ہے، تو یہ جس طرف کی بھی ہوا کو دیکھتے ہیں، اس طرح کے نعرے لگاتے ہیں۔ جیسا کہ میری ذات کو نقصان پہنچا تو کوئی تو بن جاتا ہے بابائے سوشلزم او ر کوئی بن جاتا ہے کسی اور قسم کا بابا۔ تو ایسی باتیں جب تک اس قوم میں رہیں گی، تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان…
    Mr. Chairman: This is not relevant.
    (مسٹرچیئرمین: یہ مکمل طور پر غیر متعلقہ باتیں ہیں)
    جناب عبدالعزیز بھٹی: …اوراسلام کو نقصان پہنچتا رہے گا۔ اس لئے میں گزارش کرتا ہوں کہ ایک راستہ تعین کر دیا جائے تا کہ ہم صحیح منزل کی طرف چل سکیں۔
    Mr. Chairman: This is totally irrelevant.
    (جناب چیئرمین: یہ غیر متعلقہ باتیں ہیں)
    یہ تو لازم ہے کہ تقریر کا اختتام Personal basis (ذاتی بنیادوں) پر ہوتا ہے۔ جب پہلی دفعہ Clapping (تالیاں بجانا) ہوئی تھیں تو آپ کو بیٹھ جانا چاہئے تھا۔
    چوہدری غلام رسول تارڑ: یہ پرسنل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے آدمی نہیں ہونے چاہئیں۔
    2797جناب عبدالعزیز بھٹی: جو نیک نیت ہیں، ان پر کوئی شبہ نہیں کرتا۔ لیکن کوئی آدمی ایسا جو بدنیت ہے…
    جناب چیئرمین: سات تاریخ کو پھر Open (کھلا) ہو رہا ہے۔ اس کے بعد چوہدری ممتاز صاحب! آپ پہلے تقریر کریں گے یا رندھاواصاحب؟ رندھاوا صاحب! اگر آپ چوہدری ممتاز صاحب کے خیال سے مستفید ہوں تو اچھا ہے۔ اس کے بعد آپ اچھی تقریر کریں گے۔ اچھا، چلئے، محمد افضل رندھاوا صاحب تقریر فرمائیے۔

اس صفحے کی تشہیر