1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(جناب سردار مولابخش سومرو کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 16, 2015

  1. ‏ مارچ 16, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب سردار مولابخش سومرو کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب عالیٰ! احمدیت سے متعلقہ ہر نقطہ مکمل طور سے بیان کر دیا گیا ہے اور میں صرف اس تجویز کے احترام اور تقدس کے پیش نظر اس میں حصہ لے رہا ہوں اور میں صرف چند الفاظ میں اظہار خیال کروں گا۔
    جناب عالیٰ! اب یہ بات مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے کہ یہ ایک سازش تھی اور یہ سازش اپنی تمام منفی نتائج کے ساتھ یہاں زیربحث آچکی ہے۔ بعدازاں اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ مسلمانوں کے تصورات کے مطابق وہ یقینا کافر ہیں۔ یہ بات بہت واضح ہوچکی ہے۔ اب نتیجہ یا اگلا قدم یہ ہونا چاہئے۔ اس وضاحت کے بعد انہیں صرف غیرمسلم قرار نہ دیا جائے۔ بلکہ ان کی مطبوعات اور کتابوں پر بھی پابندی لگا دی جائے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے بعد اس قسم کے مذہبی تصادم ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے چاہئیں۔
    جناب عالیٰ! ان کے خیالات واضح ہیں اور ان کا ہدف صرف حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس ہے اور یہ شان وہ خود حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ اس شان اور مقام کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جناب عالیٰ! ان کی مطبوعات پر پابندی لگادینی چاہئے۔ جناب عالیٰ! کبھی وہ کہتا ہے کہ میں غلام احمد ہوں۔ میں تو غلام ہوں۔ ایک عاجز غلام اور اسی سانس میں وہ دوبارہ کہتا ہے کہ وہ محمد ہے۔ یعنی ان کا عکس ہے اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں مضحکہ خیز باتیں کرتا ہے۔ کبھی وہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کا ظل قرار دیتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو گزشتہ تمام پیغمبروں سے افضل قرار دیتا ہے۔ صحابہ کرامؓ، پنجتن پاک کو وہ اپنے آپ سے کمتر قرار دیتا ہے۔ وہ حضرت علیؓ کو مردہ ’’مرا ہوا تیرا علی‘‘ سے خطاب کرتا ہے۔ جناب والا! یہ سب چیزیں مسلمانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتی ہیں۔ اس معزز ایوان میںبحث کے دوران سب کو اپنے آپ کو قابو میں رکھنا پڑا۔ جب ہم نے ان ہستیوں کے بارے میں ان کی توہین آمیز گفتگو سنی۔ جن پر ہمارے خاندان اور اولاد قربان ہو۔ لہٰذا مستقبل میں ایسے لٹریچر پر پابندی لگائی جائے اور مستقبل میں اس قسم کی مذہبی عداوتوں کی اس ملک میں گنجائش نہیں ہونی چاہئیں۔
    اپنے عقیدہ کے مطابق وہ مسلمانوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے۔ حتیٰ کہ قائداعظم کا جنازہ بھی نہیں پڑھا اور واضح طورکہا کہ یا وہ کافر ہیں یا ہم کافر ہیں۔ لہٰذا جناب والا، ان کے پروپیگنڈا کو ختم کرنے کے لئے یہی قدم اٹھانا چاہئے کہ انہیں غیرمسلم قرار دیا جائے۔ حکومت ربوہ شہر کو کھلا شہر قرار دے اور آئندہ ان کے پروپیگنڈے پر پابندی لگائی جائے۔ جناب والا! صرف اس قدر ہی نہیں بلکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ربوہ کے نواحی علاقوں میں ان کو موجود اراضی بھی انہیں نہ دی جائے۔ میرا خیال ہے کہ آئندہ پابندی لگا دی جائے اور ربوہ کے گردونواح کی کوئی زمین احمدیوں کو نہ دی جائے۔ اس پر پابندی ہونی چاہئے۔ اگر ایسے اقدامات اٹھا لئے جائیں اور جیسا کہ آئین میں درج ہے کہ اس ملک کا مذہب اسلام ہے تو یہ اس کا ایک ثبوت ہوگا اور یہ لوگ بھی مان لیں گے کہ اس ملک کا مذہب اسلام ہے۔ انہی مختصر الفاظ کے ساتھ میں نے اپنا مدعا بیان کر دیا ہے۔، آپ کا بہت بہت شکریہ!
    جناب چیئرمین: شہزادہ سعید الرشید عباسی!

اس صفحے کی تشہیر