1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(جناب خواجہ جمال محمد کوریجہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پرخطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (جناب خواجہ جمال محمد کوریجہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پرخطاب)

    جناب والا! کوئی ڈیڑھ مہینے سے مرزائیت کا مسئلہ زیربحث ہے۔ بحث صرف اس مسئلے پر کی جارہی ہے کہ مرزاغلام احمد نبی ہے یا نہیں۔ افسوس سے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان دنیا کی 2912عظیم اسلامی مملکت شمار ہوتا تھا۔ دنیا کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا اسلامی ملک کہا جاتا تھا۔ لیکن آج تمام ملکوں کے اندر ہم بدنام ہوچکے ہیں۔ ایک مسئلہ جو متنازع مسئلہ نہیں ہے۔ اس مسئلے کو اﷲتبارک وتعالیٰ نے حل فرمادیا ہے۔ اﷲتبارک وتعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا، نہ آسکتا ہے۔ میں نے دین کو ان کے اوپر مکمل کر دیا ہے۔ جواب اس کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہے، وہ مرتد ہے، وہ واجب القتل ہے۔ پھر مرزاغلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ انگریز نے اس کی پرورش کی جس طریقے سے اس کی پرورش ہوتی رہی۔ پھر مسلمان کا دور آیا۔ ستائیس سال گزر گئے ہیں۔ ہماری حکومتوں نے پھر اس کو انگریز کی سرپرستی سے بھی زیادہ سرپرستی دی۔ تو ہم لوگ آج کسی اسلامی ملک کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان تو ان لوگوں کا تھا جنہوں نے دعویدار کو چند لمحے بھی اس دنیا میں رہنے کی اجازت یا مہلت نہ دی اور ان کے خلاف جہاد کیا اور ان کو فی النار کر دیا۔ اﷲتعالیٰ نے فیصلہ فرمادیا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمادیا کہ اگر میرے بعد نبی آتا تو وہ عمرؓ ہوتے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کو ثابت کر دیا کہ واقعی حضور کا فرمان صحیح ہے، اﷲ کا فرمان صحیح ہے۔ مسیلمہ کذاب نے دعویٰ کیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے خلاف جہاد کر کے اس کو ختم کر دیا۔ اسی طرح کے بیس بائیس اور بھی گزرے ہیں۔ جنہوں نے (نبوت کے) دعوے کئے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی یہی حشر ہوا۔ لیکن یہ واحد ایک مملکت آئی ہے جو ڈیڑھ مہینے سے ایک ولد الحرام فرقے کو یہاں بٹھا کر ان سے یہ دلائل پوچھے جارہے ہیں کہ تم اپنی نبوت کے دلائل پیش کرو کہ تم صحیح ہو یا غلط ہو۔ کون سی گنجائش ہے کہ حضور ﷺ خاتم النّبیین نہیں ہیں؟ کون اس کے اوپر تھوڑی سی گنجائش کرتا ہے کہ حضور ﷺ خاتم النّبیین نہ تھے؟ اگر کوئی آدمی تھوڑا سا خیال بھی کر لیتا ہے۔ تھوڑا سا وہم بھی اس کے اندر آجاتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اس کا ایمان نہیں رہتا۔ حضرت امام اعظم رحمتہ اﷲ علیہ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ نبوت کا ایک 2913دعویٰ کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ کیسے پیش آئیں گے تو حضور نے کہا اس کے خلاف جہاد کرو۔ اگر تم نے اس سے صرف یہ پوچھ لیا کہ تم معجزہ دکھاؤ تو تم بھی اسی طریقے سے مجرم ہو جاؤ گے۔ جیسے کہ وہ مجرم ہے۔ یعنی معجزہ طلب کرنا بھی شرک ہے اور ہم ڈیڑھ مہینے سے یہ بحث وتمحیص کر رہے ہیں کہ آیا یہ کافر ہیں یا نہیں۔ یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
    جناب چیئرمین: معاف کریں، یہ ہم بحث نہیں کر رہے۔
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: بالکل یہی کر رہے ہیں۔
    جناب چیئرمین: نہیں، سوری۔
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: بالکل یہی بحث ہورہی ہے۔
    جناب چیئرمین: نہ، نہ آپ نے ریزولیوشن پڑھے ہیں نہ آپ نے بحث سنی ہے۔
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: مجھے بتائیں کہ وہ یہاں کس لئے آئے؟ مرزاناصر کیوں آیا؟
    جناب چیئرمین: میں آپ سے بحث میں نہیں الجھنا چاہتا۔ یہ تھا کہ ایک ریزولیوشن آیا تھا۔ To Detrmine the status of the Ahmedis. (کہ احمدیوں کی حیثیت کا تعین کیا جائے)
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: (اپنی بولی میں، اپنی زبان میں)
    جناب چیئرمین: کہ یہ واضح کیا جائے گا کہ قادیانیوں کا، احمدیوں کا کیا مقام ہے۔ ایک ریزولیوشن آپ کی طرف سے آیا تھا کہ ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ باقی دو تین ریزولیوشن اور آئے ہیں اور ان میں کسی ایک نے بھی ایسا کوئی ریزولیوشن پیش نہیں کیا کہ وہ مسلمان ہیں یاکافر ہیں۔ اس واسطے یہ بحث بالکل نہیں رہی وہ ایک Clarification (وضاحت) تھی جس کے واسطے ان کو بلایا گیا تھا۔ جس کے واسطے ان پر جرح کی گئی تھی اور سوال پوچھے گئے تھے اور یہ سوال بھی ممبران نے دئیے تھے کوئی باہر سے نہیں آئے تھے۔
    2914خواجہ جمال محمد کوریجہ: تو جناب والا! ان کو اقلیت قرار دینے سے اور کیا ثابت ہورہا ہے؟
    جناب چیئرمین: آپ اس طرح ممبرصاحبان کی توہین نہ کریں۔ یہ سب انہوں نے خود سوال مرتب کئے تھے۔
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: کسی ممبر کی میں توہین نہیں کر رہا۔ میں اپنا ایمان اور میرا جو عقیدہ ہے وہ بیان کر رہا ہوں کہ یہ لوگ…
    جناب چیئرمین: نہ، آپ کیوں اسمبلی کی ایسی تیسی کر رہے ہیں؟
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: میں تو جناب! دو منٹ میں ختم کر دیتا ہوں، آپ نے خواہ مخواہ اتنا ٹائم لے لیا ہے۔
    جناب چیئرمین: نہیں، یہ آپ نے غلط کہا ہے۔
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: میں بحث نہیں کر سکتا ہوں؟
    جناب چیئرمین: اسمبلی کے ممبران کا ایمان مضبوط ہے۔
    خواجہ جمال محمد کوریجہ: لیکن میرا ایمان مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں اس کے اوپر بحث کروں۔ جیسے لوگوں نے بڑے بڑے دلائل دئیے ہیں کہ وہ اس لئے خراب تھا کہ وہ انگریز کا وفادار تھا۔ وہ اس لئے خراب تھا کہ اس نے ساری زندگی انگریزوں کے ساتھ مل کر گزاری، اس نے ان کی وفاداری کی، اس کا وظیفہ خوار تھا۔ اگر ایک آدمی ان تمام عیوب سے پاک ہو اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر ہمیں اسے تسلیم کر لینا چاہئے؟ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ وہ وفادار تھا یا نہیں تھا میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا بڑا جرم جو ہے وہ یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا وہ واجب القتل ہے۔ وہ مرتد اور ہمارے مسلم معاشرے کے اندر اس کا رہنا، اس کا رہن سہن جو ہے وہ اسلام کے خلاف ہے۔ میں گورنمنٹ کی خدمت میں استدعا کروں گا کہ مرزاغلام احمد جو 2915ولد الحرام ہے جو ولد الحرام تھا اس کی جماعت جو ہے وہ بھی ولد الحرام ہے۔ مرتد ہے، مشرک ہے جو ان کو پناہ دیتے ہیں وہ بھی کافر اور مرتد ہیں۔ جو ان کے ساتھ لین دین رکھتے ہیں وہ بھی مشرک ہیں۔ لہٰذا ان کو فوراً اس پاک سرزمین سے نکال کر اس ملک کو پاک کیا جائے۔
    جناب چیئرمین: شکریہ! مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) آپ کتنا ٹائم لیں گے؟
    مولانا عبدالحق: جتنا آپ فرمائیں۔
    جناب چیئرمین: آپ ویسے دستخطی ہیں، ان کو ٹائم تھوڑا مل رہا ہے۔ جنہوں نے دستخط کئے ہیں اور دو سو صفحے کی کتاب لکھی ہے، انہیں کم ٹائم دیا جارہا ہے۔
    مولوی مفتی محمود: اس میں پانچ منٹ میں بھی لوں گا۔ کچھ تجاویز ہیں میری۔
    جناب چیئرمین: پھر آپ پرسوں صبح لے لیں۔
    مولوی مفتی محمود: جیسے آپ مناسب سمجھیں۔
    جناب چیئرمین: جی ہاں! مولانا عبدالحق صاحب! کتنا ٹائم آپ لیں گے؟
    مولانا عبدالحق: پانچ دس منٹ۔
    جناب چیئرمین: پانچ منٹ میں ختم کر دیں۔
    مولانا عبدالحق: اچھا جی۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، شروع کر دیں… وہ تقریر کر کے جارہے ہیں۔ بس یہی ہے کہ اپنا جوش نکالا، تقریر کی اور گئے۔ پانچ منٹ آپ نے لیں، پھر پرسوں کے لئے ملتوی کرتے ہیں۔
    چوہدری ممتاز احمد: جناب والا! کوریجہ صاحب اب جارہے ہیں۔
    2916جناب چیئرمین: بالکل! اپنا جوش ٹھنڈا کیا، کسی نے کسی کو گالی نکالی، کسی نے کسی کو، اس کے بعد باہر۔
    ایک رکن: ڈیڑھ بج گیا ہے۔
    جناب چیئرمین: پانچ منٹ انہوں نے لینے ہیں، پھر مفتی صاحب نے لینے ہیں۔ Then we will adjourn the House. Then all the members are satisfied. (پھر ہم اجلاس ملتوی کریں گے اور پھر تم ارکان مطمئن ہوں گے)
    مولانا عبدالحق: جناب چیئرمین! پانچ منٹ ہیں۔ اس لئے دو تین باتیں عرض کرتا ہوں۔
    جناب چیئرمین: ہاں! بس تجاویز دیں۔ باقی تو سب کچھ آچکا ہے اس تحریر میں۔
    مولانا عبدالحق: اصل میں دو مسئلے ہیں۔ ایک مسئلہ تو ہے ختم نبوت کا کہ حضور اقدس ﷺ خاتم النّبیین اور آخری نبی ہیں اور ایک مسئلہ ہے کہ مرزاغلام احمد کو ماننے والے غیرمسلم ہیں یا مسلمان۔ تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ گزشتہ سال جیسے کے آئین کو ہم نے پاس کیا اور منظور کیا…
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: شاید مولانا صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیرمسلم۔ یہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کی دستوری اور قانونی حیثیت کو کس طریقے سے واضح کریں۔
    جناب چیئرمین: یہی تو میں نے کوریجہ صاحب کو کہا تھا کہ ان کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا کچھ ہم کر سکتے ہیں، کیا ہمیں سفارش کرنی چاہئے۔

اس صفحے کی تشہیر