1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

جس مسیح نے آنا تھا انہوں نے پینتالیس سال ذندہ رہنا تھا

محمدابوبکرصدیق نے 'احادیثِ نزول و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 25, 2015

  1. ‏ مارچ 25, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    جس مسیح نے آنا تھا انہوں نے پینتالیس سال ذندہ رہنا تھا
    حضرت مسیح ؑ جن کے آنے کی پیشن گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی انہوں نے پینتالیس سال اس دنیا میں رہنا تھا اس کے بعد ان کی وفات ہونی تھی ۔ تو مرزائیوں سے گزارش ہے کہ وہ بتادیں کہ ان کے مسیح صاحب کتنا عرصہ ذندہ رہے ؟ اور پھر کتنے عرصے کے بعد ان کی وفات ہوئی؟

    عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلَی الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ وَیَمْکُتُ خَمْسًا وَاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیُدْفَنُ مَعِیَ فِی قَبْرِیْ۔
    کتاب الوفاء ومشکوٰۃ ص ۴۸۰ وعسل مصفٰی ص۴۴۱ ج۲))
    '' عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آئندہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے اور پھر فوت ہوں گے پس میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔''
    Untitled.png
    • Like Like x 1
  2. ‏ مارچ 25, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    قادیانیوں سے ایک سوال
    جس مسیح کے آنے کی پیشن گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی ان مسیحؑ کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ

    یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلَی الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ وَیَمْکُتُ خَمْسًا وَاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً

    ترجمعہ: حضرت عیسیٰ بن مریم زمین پر اتریں گے اور نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے
    حوالہ: کتاب الوفاء ومشکوٰۃ ص ۴۸۰ وعسل مصفٰی ص۴۴۱ ج۲

    ہمارا سوال

    اب ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی عیسی ابن مریم کیسے بن گئے؟؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی صاحب (45) پینتالیس سال اس دنیا میں ذندہ رہے تھے؟؟

    Untitled1.png
    آخری تدوین : ‏ مارچ 25, 2015
    • Like Like x 1
  3. ‏ اکتوبر 22, 2015 #3
    ہاشم علی

    ہاشم علی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 10, 2014
    مراسلے :
    31
    موصول پسندیدگیاں :
    22
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    مجھے ایک صاحب نے یہ جواب پیش کیا ہے کہ عیسی کا روضہ رسول میں مدفن ہونے والی تمام احادیث ضیعف ہیں۔

    شاہ صاحب اور ابو بکر بھائی
    اس پر نظر ڈالیں

    لم يَرِد في السنة النبوية ما يدلُّ على مكان دفن المسيح عيسى عليه السلام في آخر الزمان ، وأما الحديث الذي يُروى في ذلك فضعيف جدا لا يثبت ، وهذا بيانه :
    عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( ينزل عيسى ابن مريم إلى الأرض ، فيتزوج ، ويولد له ، ويمكث خمسا وأربعين سنة ، ثم يموت فيدفن معي في قبري ، فأقوم أنا وعيسى ابن مريم من قبر واحد بين أبي بكر وعمر ) .
    رواه ابن أبي الدنيا – كما عزاه إليه الذهبي في "ميزان الاعتدال" (2/562) - وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (2/915) وفي "المنتظم" (1/126) ، وفي "الوفا" (2/714) أيضا : من طريق عبد الرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي .
    قال ابن الجوزي : " هذا حديث لا يصح ، والإفريقي ضعيف بمرة " انتهى .
    وأورده الذهبي في "ميزان الاعتدال" في سياق المناكير التي رواها هذا الراوي ، وقال : " فهذه مناكير غير محتملة " انتهى .
    وقال الشيخ الألباني في "السلسلة الضعيفة" برقم (6562) : " منكر " انتهى .
    ووردت بعض الآثار في هذا الشأن عن علماء الصحابة ممن قرؤوا التوراة وعرفوا ما فيها :
    1- قال عبد الله بن سلام رضي الله عنه : ( مكتوب في التوراة صفة محمد ، وصفة عيسى بن مريم ، يدفن معه ) رواه البخاري في "التاريخ الكبير" (6/229) ، والترمذي في "السنن" (رقم/3617) ، والطبراني في "المعجم الكبير" (القطعة المفقودة ص/111) ، والآجري في كتاب "الشريعة" (3/1324) بألفاظ متقاربة ، ولكني اخترت اللفظ الذي عند الترمذي لتصريحه بنقل الكلام عن التوراة .
    كلهم رووه من طريق عثمان بن الضحاك عن محمد بن يوسف بن عبد الله بن سلام عن أبيه عن جده .
    وهذا إسناد ضعيف ، فيه عثمان بن الضحاك : قال أبو داود : ضعيف . انظر "تهذيب التهذيب" (7/124) . وفيه : محمد بن يوسف لم يوثقه أحد ، وإنما ذكره ابن حبان في "الثقات" انظر ترجمته في "تهذيب التهذيب" (9/534) لذلك قال البخاري رحمه الله بعد إخراجه الحديث في التاريخ الكبير في ترجمته : " هذا لا يصح عندي ، ولا يتابع عليه " انتهى .
    وقال الشيخ الألباني في "السلسلة الضعيفة" برقم (6962) : " موقوف ضعيف " انتهى .
    2- عن سعيد بن المسيب قال : ( إن قبور الثلاثة في صُفَّة بيت عائشة ، وهناك موضع قبر يدفن فيه عيسى عليه السلام ) .
    قال الحافظ ابن حجر رحمه الله : " من وجه ضعيف " انتهى .
    "فتح الباري" (7/66) .

    كما ذكر ذلك بعض العلماء والمؤرخين :
    قال الإمام القرطبي رحمه الله : " ثم يقبض الله روح عيسى عليه السلام ويذوق الموت ، ويدفن إلى جانب النبي صلى الله عليه وسلم في الحجرة ... ، وقد قيل إنه يدفن بالأرض المقدسة مدفن الأنبياء " انتهى .
    "التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة" (ص/1301) وذكر نحوه ابن عساكر وغيره .

    والذي يتحصل مما سبق أنه لم يثبت في حوادث آخر الزمان دفن عيسى عليه السلام في الحجرة النبوية ، وما ورد في ذلك إنما هي آثار ضعيفة السند ، ومأخوذة عن غير الكتاب والسنة
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ اکتوبر 22, 2015
    • Like Like x 2
  4. ‏ اکتوبر 22, 2015 #4
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    2,438
    موصول پسندیدگیاں :
    1,314
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    ٹیچنگ ، حکمت
    مقام سکونت :
    گوجرانوالہ
    ہاشم بھائی یہ تو ایک حدیث ہے اس ترجمہ و مفہوم کی اور بھی کئی احادیث ہیں جو مختلف طرق و اسناد سے مرویات ہیں ان کو کس گنتی شمار میں لایا جائے گا ؟
    • Like Like x 1
  5. ‏ اکتوبر 26, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,123
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    شاہ صاحب اس متعلق بھائی جان کو صحیح طرح گائیڈ لائن فراہم کریں جزاک اللہُ خیرا۔
  6. ‏ نومبر 6, 2015 #6
    ہاشم علی

    ہاشم علی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 10, 2014
    مراسلے :
    31
    موصول پسندیدگیاں :
    22
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    شاہ جی میرے کہنے کا مطلب ہے کہ کیا اس سے مدفن عیسی سے مطلق تمام احادیث ضعیف ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کچھ امی عائشہ رضی اللہ تعالی سے مروی ہیں جو کہ میں نے پیش کی تھیں جس کے جوا ب میں مجھے یہ جواب موصول ہوا۔ براہ مہربانی گائیڈ کریں

اس صفحے کی تشہیر