1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

تقدیس کے بادہ خانے

ضیاء رسول امینی نے 'شہر سدوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 4, 2015

  1. ‏ جون 4, 2015 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں پر انگریزوں کے مظالم کی داستان اس قدر مہیب اور خونچکاں ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوے بھی روح کپکپاتی ہے اور سینہ بریاں ہوتا ہے معاشی طور پر ملت اسلامیہ پہلے ہی پسی ہوئی تھی سیاسی آزادی کی اس عظیم تحریک نے دم توڑا تو انگریز کی اہرمنی فراست اس نتیجہ پر پہنچی کہ جب تک مسلمانوں سے دینی روح، انقلابی شعور اور جذبہ جہاد کو محو کرکے انہیں چلتے پھرتے لاشے نہ بنا دیا جائے اس وقت تک ہمارے سامراجی عظائم تشنہ تکمیل رہیں گے۔ جاگیر دار طبقہ اپنے مفادات کی خاطر پہلے ہی فرنگی حکومت کی مدح و ثناء میں مصروف تھا ''علماء کا ایک گروہ بھی قرآن حکیم کی آیات کو من مانے معنی پہنا کر تاج برطانیہ کی حمایت کرکے اپنی چاندی کر رہا تھا مگر انگریز سرکار ان سارے انتظامات سے مطمئن نہ تھی اس کے نزدیک مسلمانوں کا انقلابی شعور کسی بھی وقت سلطنت برطانیہ کے لیے خطرہ بن سکتا تھا اس لیے اس نے مسلمانوں کی دینی غیرت، سیاسی بصیرت اور قومی روح پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ایک ایسے خاندان کا انتخاب کیا جو اپنی سفلکی اور غداری میں کوئی ثانی نہ رکھتا تھا اور اس کا بڑے سے بڑا فرد بھی سرکار دربار میں کرسی مل جانے کو باعث افتخار سمجھتا تھا اس مکروہ منصوبہ کو انجام تک پہنچانے اور مسلمانوں کی وحدت ملی کو پاش پاش کرنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب عمل میں لایا گیا جس نے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو داغدار کرنے کے لیے (العیاذباللہ) اپنی بے سروپا تاویلات سے امت مسلمہ میں اس قدر فکری انتشار برپا کیا کہ کہ انگریز کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے حصول کے لیے برصغیر میں ایک ایسی جماعت میسر آگئی جو ''الہامی بنیادوں'' پر غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتی رہی اور آج انگریز کے چلے جانے کے بعد گو اس کی حیثیت متروکہ داشتہ کی سی رہ گئی ہے مگر پھر بھی وہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرکے ، عربوں میں تنسیخ جہاد کا پرچار کرکے انہیں یہود کی غلامی پر آمادہ کرنے کی مذموم جدوجہد میں مصروف ہو کر وہی فریضہ انجام سے رہی ہے جو اس کے آقایان ولی نعمت نے اس کے سپرد کیا تھا حضرت سیدا الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے وحدت انسانیت کا جو انٹرنیشنل فکر ختم نبوت کی شکل میں دیا تھا قادیانی امت نے اس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی نبوت کا ناٹک رچا کر وحدت ملت اسلامیہ ہی کو سبوتاز کرنے کی سعی نامسعود شروع کردی۔ دین سے تلعب کے نتیجے میں اس مسیحیت جدیدہ پر اللہ تعالیٰ کی ایسی پھٹکار نازل ہوئی کہ خود ''نبوت باطلہ کا گھرانہ'' عصمت و عفت کی تمیز سے عاری ہو کر اس طرح معصیت کا ملتہب دوزخ بنا کہ قریب ترین مریدوں نے اسے ''فحش کا مرکز'' قرار دیا گو یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر واضع رنگ میں جنسی عصیان کا تو کوئی الزام نہ لگا مگر اس کو تسلیم کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں ان کی جنسی زندگی نا آسودگی کا شکار رہی۔ اگر محمدی بیگم کے پاجامے منگوا کر سونگھنے والی روایت کے ساتھ ساتھ اس مظلوم خاتون کے بارہ میں آسمانی نکاح کے تمام ''الہامات'' بھی طاق نسیان پر رکھ دیے جائیں اور بڑھاپے میں مولوی حکیم نورالدین کے نسخہ ''زد جام عشق'' کے سہارے پچاس مردوں کی قوت حاصل کر لینے کے دعاوی کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کو حبالہ عقد میں لانے اور پھر بوجوہ اس کی غیر معمولی فرمانبرداری کا تذکرہ نہ بھی کیا جائے تو بھی ان کی تحریرات میں ایسے شواہد بکثرت ملتے ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی عائلی زندگی خوشگوار نہ تھی اور معاشرتی سطح پر پہلی بیوی کا اپنے شوہر کے گھر میں محض '' پھجے دی ماں'' بن کر رہ جانا بڑا دلدوز واقع ہے غالباََ یہی وجہ ہے کہ اتنے بلند بانگ دعاوی کے باوجود مرزا صاحب جب بھی اپنے ناقدین کو جواب دینے پر امادہ ہوئے انہوں نے الزامی جوابات کی کمین گاہ پر بیٹھ کر درشت کلامی ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اشارے کنائے میں ہی نہیں ، اکثر اوقات واضع الفاظ میں ایسی باتیں کہہ گئے جو ان کے دعاوی کی مناسبت سے ہرگز ان کے شایان شان نہ تھیں ، مثلاََ ہندوؤں کے خدا کو ''ناف سے چھے انچ نیچے'' قرار دینا اور ماسٹر مرلی دھر کے محض یہ کہہ دینے پر کہ آُپ تو لاچار اور قرض دار ہیں ، انہیں یہ جواب دینا کہ ہمارے ہاں ہندو جاٹوں کا یہ طریق ہے کہ جب انہوں نے کسی کو اپنی دختر نکاح میں دینی ہوتی ہے تو وہ خفیہ طور پر جا کر اس کے کھاتہ ، خیون اور خسرہ نمبر کا پتہ کرتے ہیں مگر ہمارے تمہارے درمیان تو ایسا کوئی معاملہ نہیں ۔ پنجابی میں یہ کہنے کے مترادف ہے کہ '' توں مینوں کڑی تے نہیں دینی'' ۔ ہم اس جواب کا تجزیہ خود قادیانی حضرات پر چھوڑ دیتے ہیں۔
    قادیانی خلافت کی نیلی فلموں میں مرزا محمود احمد ہمیشہ ایک ایسا ہیرو رہا ہے جس کے ساتھ کسی ولن نے ٹکر لینے کی جسارت نہیں کی ان پر جنسی بے اعتدالی کا سب سے پہلا الزام 1905 میں لگا اور ان کے والد مرزا غلام احمد نے اس کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی قائم کردی ، جس نے الزام ثابت ہوجانے کے باوجود چار گواہوں کا سہارا لے کر شبہ کا فائدہ دے کر ملزم کو بچایا۔ عبدالرب برہم خان 335 A پیپلز کالونی فیصل آباد کا حلفیہ بیان ہے کہ اس کمیٹی کے ایک رکن مولوی محمد علی لاہوری سے انہوں نے اس بارہ میں استفسار کیا تو مولوی صاحب نے بتایا کہ الزام تو ثابت ہوچکا تھا مگر ہم نے ملزم کو befit of doubt دے کر چھوڑ دیا۔ 1914 میں جب گدی نشینی کے لیے جنگ اقتدار چھڑی تو دہلی کی محلاتی سازشوں کے ماہرین نے ایک مذہبی جماعت کی سربراہی کے لیے بائیس سال کے ایک ایسے چھوکرے کو ''منتخب'' کرلیا جس میں ''پیر کا بیٹا '' ہونے کے علاوہ کوئی خصوصیت موجود نہ تھی۔ ایسا برخود غلط اور کندہ ناتراش قسم کا آدمی عمر کے ہیجانی دور میں ایک ایسے منصب پر فائز ہوا جسے بظاہر ایک تقدس حاصل تھا ۔ مرزا محمود نے تقدس کے اس کٹہرے کو اپنے لیے پناہ گاہ سمجھتے ہوئے جنسی عصیان کا وہ ہولناک ڈرامہ کھیلا کہ الامان والحفیظ۔
    بلوغت سے لے کے مکمل طور پر مفلوج ہوجانے تک ہر چند سال کے وقفہ کے بعد القابات کی رداؤں میں ملفوف اس پیرزادے پر مسلسل بدکاری کے الزامات مخلص مریدوں کی طرف سے لگتے رہے ، مباہلہ کی دعوتیں دی جاتی رہیں مگر ذہنی طور پر پورا ملحد اور بے دین ہونے کے باوجود اس کو کبھی بھی جرات نہ ہوئی کہ کسی مظلوم مرید کی دعوت مباہلہ پر میدان میں نکلے۔ جب بھی کسی ارادت مند نے واقف راز دردوں ہوکر للکارا تو قادیانی گماشتوں اور معیشت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملاؤں نے ایک طرف اخبارات و جرائد میں ہاہاکاری شروع کردی اور دوسری طرف اس محرم راز کو بدترین سوشل بائیکاٹ کا نشانہ بنایا گیا اور اسے اقتصادی و معاشرتی الجھنوں میں مبتلا کرنے پر ہزاروں روپے خرچ کرکے جب کسی قدر کامیابی ہوئی تو اسے اپنے بدمعاش پیر کا ''معجزہ'' قرار دیا گیا۔
    کوئی شخص اپنی والدہ پر الزام تراشی کی جراءت نہیں کرتا اگر خدا ناخواستہ وہ اس پر مجبور ہو جاتا ہے تو صرف یہ کہہ کر اس کو خاموش کرانے کی کوشش کرنا کہ دیکھو یہ بہت بری بات ہے، مناسب نہیں۔ اس امر کا جائزہ لینا بھی تو ضروری ہے کہ وہ کن المناک حالات سے دوچار ہوا کہ اسے اپنی اتنی عزیز ہستی کی اصل حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا پڑا۔ پیر کی جلوتیں اگر اس کی خلوتوں سے نالاں ہوں تو مریدوں کا اسی سانچے میں ڈھل جانا ایک لازمی امر ہے ۔ مرزا محمود احمد جب گدی نشین ہوا تو اس نے اپنے باوا کی نبوت کو نعوذباللہ ۔۔۔۔۔ع
    احمد ثانی نے رکھ لی احمد اول کی لاج
    کے مقام پر پہنچایا۔ کبھی مسلمانوں کو اہل کتاب کے برابر قرار دیا اور کبھی انہیں ہندوؤں اور سکھوں سے مشابہت دے کر ان کے بچوں تک کے جنازوں کو حرام قرار دے دیا۔ قادیانیت کا غالب عنصر اس دور میں اس نچلے اور متوست طبقے پر مشتمل تھا جو معاشی طور پر پسماندہ ہونے کی وجہ سے پیش گوئیوں کی فضا میں رہتے ہوئے چین محسوس کرتا تھا اور انگریز سے وفاداری کی قادیانی سند اس کی ملازمت کو محفوظ رکھتی تھی۔ جب نئی نبوت، تکفیر مسلمین اور ان کے جنازوں کا بائیکاٹ انتہا کو پہنچا تو مذکورہ بالا دونوں طبقوں نے قادیان کی طرف بھاگنا شروع کردیا کہ وہاں رہائش اختیار کریں کیونکہ جس معاشرے کو ایک ''نبی'' کے انکار کی بنا پر کافر قرار دے کر وہ علیحدہ ہوئے تھے وہاں رہنا اب ان کے لیے ناممکن تھا۔ قادیان میں مرزا محمود احمد نے اپنے خاندان کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مریدوں کے چندے سے خریدی ہوئی زمین کچھ اپنے عزیزوں کے ذریعے نہایت مہنگے داموں فروخت کی مگر رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت اس کا انتقال ان کے نام نہ کروایا گیا اس طرح وہ اپنے معاشرے سے کٹ کر قادیانیت کے دام میں اس طرح پھنسے کہ
    نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن
    اپنی سوسائٹی سے علیحدہ ہوکر اب ایک نئی جگہ پر نئے حالات کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ وہ ہر جائز و ناجائز خوشامد کرکے پیر اور اس کے لواحقین کا قرب حاصل کرتے اور انہوں نے وقت اور حالات کے دباؤ کے ماتحت ایسا ہی کیا۔ مگر پیر نے مجبور مریدوں کی عزت پر ڈاکہ ڈال کر سینکڑوں عصمتوں کے آبگینے تار تار کردیے اور اگر کوئی بے بس مرید بلبلا اٹھا تو اسے شہر سے نکال دینے اور مقاطعہ کرنے کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے کی تلقین کی۔ فخرالدین ملتانی ایسے کئی لوگوں کو قتل کروا کر دہشت کی فضا پیدا کی گئی۔ مگر اس تمام یزیدی اہتمام کے باوجود مرزا محمود احمد اپنی ''پاکبازی'' کا ڈھونگ رچانے میں کامیاب نہ ہوسکا گاہے بگاہے اس دریا سے ایسی موج اٹھتی تھی کہ ''ذریت مبشرہ'' کے بارے میں جملہ ''الہامات'' کشوف'' اور ''رویا'' دھرے کے دھرے رہ جاتےیوں تو مرزا محمود کی زندگی کا شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جو بدکاری کی کی غلاظت سے آلودہ نہ ہو اور جس میں اس پر زنا کاری کا الزام نہ لگا ہو لیکن ذیل میں ہم ان الزامات و بیانات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی گونج اخبارات و رسائل ہی میں نہیں ملک کی عدالتوں تک میں سنی گئیں اور اس کے ساتھ بعض بالکل نئی روایات بھی درج کرتے ہیں جو آج تک اشاعت پذیر نہیں ہوسکیں۔ قادیانی امت کی جنسی تاریخ پر اس سے بیشتر متعدد کتب آچکی ہیں لیکن وہ تقاضائے حالات کے ماتحت جس رنگ میں پیش کی گئیں اس کی بہت سی وجوہ تھیں ۔ آئندہ سطور میں ہم کوشش کریں گے کہ ان روایات کو ذرا وضاحت سے پیش کریں اور اس سے بیشتر جو چیزیں اجمال سے بیان ہوئی ہیں ان کی تفصیل کردیں کیونکہ اگر اس وقت اس کام کو سرانجام نہ دیا گیا تو آنے والا مؤرخ بہت سی معلومات سے محروم ہوجائے گا کیونکہ پرانے لوگوں میں سے جو لوگ ''صبح گئے یا شام گئے ''کی منزل میں ہیں وہ نہ ان سے مل سکے گا اور نہ ان دلدوز واقعات کو سن سکے گا جو خود ان پر یا ان کی اولاد پر گزرے ہیں۔ یہ سب شہادتیں ''موکد بعذاب قسموں'' کے ساتھ دی گئی ہیں اور یہ تمام افراد قادیانی امت کے خواص میں سے تھے ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں مگر چند ایسے بھی ہیں جو اپنی برین واشنگ کی وجہ سے کسی نہ کسی رنگ میں قادیانیت سے وابسطہ ہیں۔ مگر وہ قادیانی ''مصلح موعود'' کو پورے یقین، پورے وثوق اور پورے ایمان کے ساتھ جولیس سیریز کا مثیل، راسپوٹین کا بروز اور ہرموڈیس کا ظل کامل سمجھتے ہیں اور ہر عدالت میں اپنی گواہی ریکارڈ کروانے کے لیے تیار ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ بھی خیال کریں کہ برائی کی اشاعت کا طریق مناسب نہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اس امر کو مدنظر رکھیں کہ یہ اظہار ان مظلوموں کی طرف سے ہے ، جن میں سے بعض کی اپنی عصمت کی ردا چاک ہوئی اور اظہار حق کی پاداش میں ان پر وہ مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ دنوں پر وارد ہوتے تو راتیں بن جاتیں۔ یہ اظہار ان مظلوموں کی طرف سے ہے جنہیں خدا نے بھی یہ حق دے رکھا ہے
    لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر