1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

تضادات مرزا (حضرت مسیحؑ کے متعلق متضاد باتیں)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 1, 2014

  1. ‏ اکتوبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,127
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    تضادات مرزا (حضرت مسیحؑ کے متعلق متضاد باتیں)
    ۱۰… ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خداتعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵)
    ’’خداتعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۹، خزائن ج۳ ص۱۲۲)
    ’’اس عاجز نے جو مثل مسیح کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود کا خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۱۹۵، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

    ۱۱… ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
    (براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)
    ’’قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں ذکر نہیں۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲)

    ۱۲… ’’وہ ابن مریم جو آنے والا ہے۔ کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۹۱، خزائن ج۳ ص۲۴۹)
    ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتا لگتا ہے۔ اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیاگیا ہے کہ وہ نبی ہو گا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

    ۱۳… ’’یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں آگئے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۶۳، خزائن ج۳ ص۴۳۶)
    ’’حضرت عیسیٰؑ کو امتی قرار دینا کفر ہے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۵)

    ۱۴… ’’ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۲۱، خزائن ج۷ ص۲۰۲)
    ’’مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زردچادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔‘‘
    (تشحیذ الاذہان ج۱ نمبر۲ ص۵، ماہ جون ۱۹۰۶ئ، ملفوظات ج۸ ص۴۴۵)

    ۱۵… ’’بائبل اور ہماری حدیثوں اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیاگیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘
    (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)
    ’’حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا۔ یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۲۳۰، خزائن ج۲۱ ص۴۰۶)

    ۱۶… ’’آپ کے ہاتھ میں سوائے مکرو فریب کے کچھ نہ تھا۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۳۹۱)
    ’’ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سچا نبی مانتے ہیں۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۱۰۱، خزائن ج۲۱ ص۲۶۳)

    ۱۷… ’’حضرت عیسیٰ تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے۔‘‘
    (براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)
    ’’حضرت عیسیٰ پر یہ ایک تہمت ہے کہ گویا وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے۔‘‘
    (نصرۃ الحق براہین احمدیہ ص۴۵، خزائن ج۲۱ ص۵۸)

    ۱۸… ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ بھی نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پرہی ختم ہوگیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)
    ’’فلیس المسیح من دونی موضع قدم بعد زمانیپس میرے سوا دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔‘‘
    (خطبہ الہامیہ ص۱۵۸، خزائن ج۱۶ ص۲۴۳)

    ۱۹… ’’یہ تو مسیح ہے کہ اپنے وطن گلیل جاکر فوت ہوگیا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۷۳، خزائن ج۳ ص۳۵۳)
    ’’لطف تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے۔‘‘
    (اتمام الحجۃ ص۲۴، خزائن ج۸ ص۲۹۶)
    ’’حضرت عیسیٰؑ بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰؑ کی قبر بلدۂ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گر جابنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰؑ کی قبر ہے اور اس گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدۂ قدس کا نام یروشلم تھا۔‘‘
    (اتمام الحجۃ ص۲۷، خزائن ج۸ ص۲۹۹)
    ’’اور تم یقینا سمجھو کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور کشمیر سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔‘‘
    (کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶)

    ۲۰… ’’دجال سے مراد باقبال قومیں ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۴۶، خزائن ج۳ ص۱۷۴)
    ’’دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۷۲۲، خزائن ج۳ ص۴۸۸)

    ۲۱… ’’میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافریا دجال نہیں ہوسکتا۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)
    ’’دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
    ’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

    ۲۲… مسیح کے چال چلن کے متعلق مرزاقادیانی لکھتا ہے:
    ’’ایک کھاؤ پیو، شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار، خودبین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘
    (مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۳،۲۴)
    ’’انہوں نے (مسیح نے) اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔‘‘
    (لیکچر سیالکوٹ ص۴۳، خزائن ج۲۹ ص۲۳۶)

    ۲۳… ’’ہم باوا (نانک) صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ ان کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا۔‘‘
    (ست بچن ص۶۸، خزائن ج۱۰ ص۱۹۲)
    ’’اسلام میں چولے رکھنا اس زمانہ (باوا نانک) میں فقیروں کی ایک رسم تھا۔ پس یہ بات صحیح ہے کہ باوا نانک کے مرشد نے جو مسلمان تھا یہ چولہ ان کو دیا۔‘‘
    (نزول المسیح ص۲۰۵، خزائن ج۱۸ ص۵۸۳)
    مرزاقادیانی کا اپنے متعلق فیصلہ کہ خارج ازاسلام اور کافر ہے

    ۲۴… ’’وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘ اور مجھے کہاں یہ حق پہنچتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ مسلمان ہوکر نبوت کا ادعاء کروں۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
    ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘
    (اخبار بدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ئ، ملفوظات ج۱۰، ص۱۲۷)
    ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا ہوں۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)

    ۲۵… ’’اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب اﷲتعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دوجہاں محمد مصطفیٰﷺ کو خاتم النبیین بنادیا ۔ میں نبوت کا مدعی بنتا۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۸۳، خزائن ج۷ ص۳۰۲)
    ’’سچا خداوہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
    (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۸ ص۲۳۱)
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر