1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(بھارت، اسرائیل نچوڑ؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (بھارت، اسرائیل نچوڑ؟)
    جناب والا!بھارت اسرائیل کا نچوڑ قادیان اور ربوہ ہے۔ حیفہ اور تل ابیب کا مظہر۔ یہ جس ذہانت کا اور جس علم و عرفان کا تذکرہ کر چکے ہیں، ہم نے دیکھا ہے۔ بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مصدقہ جہالت کا مظہر اور مستند حماقت کا مجسمہ تھے۔ ہم نے غور و فکر کیا ہے۔ ان کا علم اور ذہانت کچھ نہیں ہے۔ یہ بھارت اور اسرائیل کا نچوڑ ہے اور وہیں سے انہیں پیسے ملتے ہیں اور یہیں سے ان کا یہ سارا کاروبار چلتا ہے۔ ان کا نظام حیات کہیے یا نظام کار کہیے، ان کا سارا انحصار غیر ملکی سرمائے پر ہے۔
    اب میں جناب سے یہ مختصر گزارش کروں گا…میں معذرت خواہ ہوں،اگر میری معروضات میں طوالت ہو گئی ہے… تو جناب والا! اب اس وقت آپ اپنے ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کا جائزہ لیں۔ ہم نے ان کے واقعات سنے، ہم نے ان کو بحیثیت مذہب کے بھی دیکھا اور بحیثیت دشمن کے بھی دیکھا۔ جناب والا! اس میں کوئی 2822کلام نہیں کہ ہم پہلے اپنے دستخط شدہ ان کے محضر نامے کا جواب دے چکے ہیں۔ میرے اس طرف کے بھائیوں نے بھی دلائل دیئے ہیں اور معزز اراکین بھی تقاریر فرمائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ میں اپنی معروضات کا اظہار پوری طرح نہ کر سکا ہوں اور اتفاق سے کافی باتوں کا اظہار نہیں کر سکا جو کہ ذہن سے سلپ ہو گئی ہیں۔ تو میں اتنی گزارش کروں گا کہ نوے(۹۰) برس سے چلنے والی اس سازش کو میں گورنمنٹ پارٹی کو نہایت ہی انکساری سے اپیل کروں گا کہ یہ میرا کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہم سب کی میراث ہے، مشترکہ میراث ہے۔
    اسلام کا وارث ہر مسلمان ہے۔ یہ ہم سب کی وراثت ہے۔ یہ فرقہ جو اعلانیہ فرقہ ہے۔ یہ فرقہ جس کی کارکردگی بھی اعلانیہ ہے۔ اگر زیرزمین تھی تو سامنے آ گئی ہے۔ میں اتنی گزارش کروں گا کہ اس کا فیصلہ دیتے وقت اس معزز ایوان کو فیصلہ مبہم نہیں دینا چاہئے۔ وہ دھندلا فیصلہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ باہر ہمارے مضطرب بھائیوں کی تکلیف اور بڑھ جائے گی۔ ہمارے ملک کا امن عامہ درہم برہم ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں کشت و خون ناگزیر ہو جائے گا۔ ان تمام چیزوں کو سمجھنے کے لئے، ان تمام نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمیں ان مثبت نتائج کی طرف جانا چاہئے کہ ہمارا فیصلہ مثبت ہو،مدلل فیصلہ ہو۔ اس میں ان کا نام آنا چاہئے۔ اس میں عقائد آنے چاہئیں۔ اس میں تحریک کی تشریح آنی چاہئے اور پھر عقائد کی تشریح ہونی چاہئے تاکہ وہ مبہم فیصلہ عوام میں کسی بدگمانی کو جنم نہ دے سکے۔ لہٰذا میں اس معزز ایوان سے گزارش کروں گا کہ یہ چیزیں آپ سماعت کر چکے ہیں۔ ہم نے بہت تلخی سے اور اپنے ڈیکورم کے تابع اور اﷲ اور اﷲ کے حبیب ﷺ کے نام پر کسی اقلیت کو بھی انصاف دیا جائے۔ اس کی بھی سماعت کر لیں۔ اس کے بھی نظریات سن لیں۔ تو ہم نے جناب والا! طوعاوکرہا، بادل نخواستہ وہ تمام چیزیں برداشت کیں اور واقعات آپ کے سامنے ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر