1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

بابا فرید گنج شکررحمۃ اللہ علیہ کے لوٹے کی بجلی

مبشر شاہ نے 'انجینئر کذاب محمد علی مرزا جہلمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 17, 2020

  1. ‏ اپریل 17, 2020 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    بابا فرید گنج شکررحمۃ اللہ علیہ کے لوٹے کی بجلی

    انجینئر مرزا محمد علی جہلمی المعروف مرزا جونئیر پلمبر کا ولی اللہ حضرت بابا غلام فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ پر لگائے گئے ایک جھوٹے الزام کا قرآن و حدیث سے جواب ملاحظہ فرمائیں اور اس کتابچہ کی پی ڈی ایف اس لنک سے ڈاونلوڈ کریں
    دوسرا لنک
  2. ‏ اپریل 17, 2020 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    بابا فرید گنج شکررحمۃ اللہ علیہ کے لوٹے کی بجلی


    مرزا جونئیر جہلمی سے اس کے کمرے میں سوال کیا گیا اس سوال کو ہم من و عن یہاں پیش کرتے ہیں اور جواب کا ابتدائی کچھ حصہ بھی پیش کرتے ہیں ،اس سوال کو اور جواب کو سن کر مجھے بہت زیادہ حیرت ہوئی ، حیرت سائل پر بھی ہوئی اور مسئول عنہ پر بھی وہ اس لیے کہ
    "جو سوال کیا گیا ہے اس کا فی الحقیت وجود ہی نہیں ہے ؟ "
    جب سوال اور اعتراض کا وجود ہی نہیں ہے تو پھر مسئول عنہ نے ایسے لایعنی سوال پر آدھا گھنٹہ جو گفتگو کی ہے وہ بھی لایعنی ہے ۔ اس سوال کا جواب یہ بنتا تھا کہ:
    "یہ عقیدہ تو ہم نے پہلے کہیں نہیں سنا نہ کسی عالم دین کی کسی کتاب میں پڑھا ، فقط"
    لیکن کیا ہے کہ مرزا جونئیر صاحب اپنی فطرت سے باز نہیں آ سکتے انہوں نے اسلام دشمنی کی تمام حدود کو عبور کر لیا ہے اور یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اب بے بنیاد اور غلط چیزوں کو مسلمانوں سے منسوب کرتے چلے جا رہا ہے اور ان کو کوئی روکنے ٹوکنے والانہیں ہے آئیے پہلے سوال دیکھئے اور پھر جواب اور اس کے بعد ہمارا تبصرہ پڑھئیے :

    سوال:
    ہمارے ہاں یہ بات بہت زیادہ مشہور ہے بلکہ عوام الناس کا عقیدہ ہے کہ بارش سے پہلے جو آسمانی بجلی کڑکتی ہے وہ بجلی بابا فریدگنج شکر پاک پتن والے بزرگوں نے ایک لوٹے میں بند کی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ بجلی لوٹے میں حرکت کرتی ہے تواس کی آواز آتی ہے تو جب کوئی یہ آواز سنے تو فوراً کہے "یا بابا فرید شکر گنج کر دےبجلی بند"بس یہ کہتے ہی بجلی کڑکنا بند ہو جاتی ہے پلیز اس عقیدے کے متعلق ہماری جاہل عوام کو ایجوکیٹ فرمائیں شکریہ
    مرزا جونئیر پلمبر کا جواب:
    جاہل عوام سے تو ہم ایک رکویسٹ کریں گے کہ "مرنے سے پہلے ایک مسلماں کر لے اس پر غور ۔کتابوں کا خدا ور ہے بابوں کا خدا اور" یہ بالکل جھوٹ ہے اور میرا معصومانہ سوال ہے کہ بابا فرید گنج شکر کوآل موسٹ فوت ہوئے سیون ہنڈرڈ ایر ہو چکے ہیں آج چودہ سو اکتالیس ہجری چل رہی ہے تو کیا انہوں نے بجلی دریافت کی بجلی کو تو دنیا میں ڈھائی تین سو سال ہوئے ہیں فیرڈے نے سب سے پہلے ابزرو کیا تھا................ الخ
    مرزا جونئیر کا طریقہ واردات یہ ہے کہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد بپا کرنے کے لیے مسالک و مکاتب فکر کے مابین باہم نزاعی مسائل کو ہوا دے رہا ہے تا کہ مسلمانوں میں فرقہ بازی ہو سکے اور یہ لوگ آپس میں لڑائی جگڑا کریں ۔ جس کا سر اسر فائدہ قادیانی مرزائی اٹھا رہے ہیں ۔مرزاسینئریعنی مرزا غلام قادیانی کے اغراض و مقاصد بھی یہی تھی کہ مسلمانوں میں فتنہ و انتشار کی فضاء قائم کر دی جائے تا کہ یہ لوگ آپس میں ہی الجھتے رہیں اور میرے دعویٰ جات کے رد پر کام نہ کر پائیں ۔ مرزا جونئیر کی وڈیوز کو دیکھنے کے بعد بھی یہی لگتا ہے کہ یہ اس شخص کا ایجنڈا اسلام دشمنی پر مبنی ہے ۔
    نبی غیب داں ﷺ نے پیش گوئی کی تھی اور ا س پیش گوئی کا مصداق مرزا جونئیر جہلمی بھی ہے ، حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں :

    نبی غیب داں ﷺ کی پیش گوئی
    جب کوئی عالمِ ربانی نہ بچے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے۔ ان سے جب دینی مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر فتویٰ دے دیا کریں گے۔ اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
    ‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ "إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ،‏‏‏‏ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ،‏‏‏‏ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا،‏‏‏‏ فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا"،‏‏‏‏
    عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
    (صحیح بخاری:100، صحیح مسلم:2674)
    اس حدیث پاک کو دیکھیں اور مرزا جہلمی کو دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ایک شخص جو کہ علمی طور پر پلمبر ہے اور لوہے کا علم رکھنے والاتھا آج اس نے داڑھی شریف رکھ کے عمامہ شریف باندھ کر علماء کا حلیہ اختیار کر کے اپنے ایک کمرے میں بیٹھ کر لوگوں کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے حالانکہ مرزا جہلمی پرلے درجہ کا جاھل مطلق ہے ۔
    عہد نبوت سے ہی لوگ بڑے علماء اور فقہاء سے علم حاصل کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر ایک ایسے وقت کی بھی خبر دی گئی کہ جب کم فہم ، کم علم اور چھوٹے لوگ اس منصب پر قابض ہو جائیں گے۔ لوگ انہی سے فتویٰ طلب کریں گے اور وہ فتوے جاری کریں گے۔علماء کی قلت ہو جائے گی یہاں تک کہ چھوٹے اور جاہل لوگوں سے علم حاصل کیا جائے گا۔ وہ فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے جیسا کہ سابقہ نشانی میں ذکر ہوا۔

    قَالَ: الْجُمَحِيِّ،وَالصَّوَابُ هُوَ الْجُمَحِيُّ، هَذَا قَوْلُ ابْنِ صَاعِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ثَلَاثًا: إِحْدَاهُنَّ أَنْ يُلْتَمَسَ الْعِلْمُ عِنْدَ الْأَصَاغِرِ "
    سیدنا ابو امیہ جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’قیامت کی نشانیوں میں سے تین ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ: علم اصاغر(علمی طور پر چھوٹے) کے ہاں ڈھونڈا جائے گا۔"
    (المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث رقم: ۱۷۵۳۶، الزہد والرقائق لابن المبارک رقم: ۶۱۔ قال الألبانی صحیح انظر السلسلۃ الصحیحۃ ج ۲ رقم الحدیث ۶۹۵)

    اَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَايَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصَاغِرِهِمْ، فَذَلِكَ حِينَ هَلَكُوا
    عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا:
    ’’لوگ خیر خیریت سے رہیں گے جب تک اُن کو علم اصحابِ رسول اللہؐ سے پہنچتا رہے گا، اور ان کے بڑوں سے پہنچتا رہے گا۔ ہاں پھر جب ان کو علم اُن کے اصاغر(چھوٹوں) کے پاس سے آنے لگے گا تو یہ وہ وقت ہو گا جب وہ ہلاک ہوں گے‘‘
    (المعجم الکبیر للطبرانی الأثر رقم: ۸۵۱۱، کتاب الزہد والرقائق لابن المبارک، الأثر رقم: ۸۰۲)

    نئی نئی باتیں قیامت کی نشانی
    سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِيثِ، بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لَا يَفْتِنُونَكُمْ
    ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے ایسے دجال اور کذاب ہوں گے جو تمہیں ایسی ایسی باتیں سنائیں گے جو نہ تم نے کبھی سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے۔ پس ان سے بچو! ایسا نہ ہو کہ تمہیں گمراہ کردیں یا فتنہ میں ڈال دیں“۔
    (مسند احمد ، رقم الحدیث8596)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ایسے نظریات پیش کرتے ہیں جوامت کی گذشتہ صدیوں میں کبھی نہیں سنے گئے وہ دجال وکذاب ہیں انکار حدیث کا نظریہ بھی اسی قسم کا ہے۔
    مسلمانوں میں فتنہ پھوٹ ڈالنے والے کو قتل کر دو
    صحیح مسلم میں فرمانِ نبویﷺ ہے:

    مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ
    "کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور تم اپنے معاملے میں ایک شخص پر متفق ہو۔ تم میں پھوٹ ڈالنا چاہے تمہاری اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنا چاہے تو اسے قتل کر دو۔"
    بد امنی اور فتنے کے زمانے میں نبی کریمﷺ نے ہمیں یہی تلقین فرمائی ہےکہ ہم اتحاد ویگانگت اور نظم وضبط کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

    سنی سنائی بات کو آگے پیش کرنا
    قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافی ہے آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ کہ جو سنے اس کو بیان کرے“۔
    (صحیح مسلم رقم الحدیث 7)
    مرزے کا ایک یہی کام ہے کہ سنی سنائی باتوں پر فتویٰ دے دیتا ہے اور ایسے لوگوں کے بارے مخبر صادق ﷺ نے فرما دیا کہ یہ جہنمی ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزامن مانی جہنمی ہے ۔
  3. ‏ اپریل 18, 2020 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    اس موضوع پرمفصل وڈیو یہاں پر دیکھیں


اس صفحے کی تشہیر