1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(بائیس برس سے یہ فرض کر رکھا ہے کہ جہاد کی مخالفت میں کتابیں لکھوں)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 15, 2015

  1. ‏ جنوری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION
    (قادیانی وفد پر جرح)

    (بائیس برس سے یہ فرض کر رکھا ہے کہ جہاد کی مخالفت میں کتابیں لکھوں)

    جناب یحییٰ بختیار: یہ اسی سلسلے میں جو میں حوالے پڑھ رہا تھا، پہلا حوالہ میں نے ابھی آپ کو پڑھ کر سنایا ہے کہ انہوں نے صدہا کتاب میں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب، مصر، بلادشام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔ اس کے بعد اسی طرح ایک اور حوالہ ہے مرزاصاحب کا: ’’میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص۱۵۲ پر جہاد کے مخالف میں ایک مضمون لکھاگیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمے یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھجوایا کروں۔ اس وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھیجی بھی، بہت شہرت پاگئی ہیں۔‘‘
    مرزاصاحب! یہ ہے (اشتہار تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۳) پر۔
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا کہ چونکہ ایک مولوی صاحب نے ان کے خلاف Complaints (شکایت) کی تھی انگریز کو، اس وجہ سے انہوں نے یہ کہا۔ یہاں تو کہتے ہیں ’’بائیس سال سے میں نے یہ ڈیوٹی اپنے سر رکھی ہوئی ہے…‘‘
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…کہ عرب ممالک میں، مسلمانوں کے ملکوں میں، میں یہ تبلیغ کروں۔‘‘
    1157مرزاناصر احمد: ’’اور یہ مسلم ممالک بہت خوش ہیں۔‘‘ یہ بھی لکھا ہے۔ ساری عبارت مانتا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’سبھوں کی شہرت ہوئی ہے وہاں۔‘‘ یہ لکھا ہوا ہے۔
    مرزاناصر احمد: ہاں! اور یہ وہ زمانہ ہے… اصل میں آج کے زمانے میں جب تک وہ پس منظر ہمارے سامنے ہو، ہم حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس پس منظر کو سمجھنے کے لئے یہ سنئے ذرا۔ یہ بڑے مشہور ہیں علامہ علی الحائری! ۲۸؍جنوری ۱۹۲۳ء کو… اسی پس منظر کے متعلق یہ بڑا اہم حوالہ ہے: ’’اب استجابت دعا کا وقت ہے بعد از دعائے خاتمہ بالخیر آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اس مذہبی آزادی کے قیام ودوام کے لئے صدق دل سے آمین کہیں۔ کیونکہ فی الحقیقت آپ بہت ہی ناشکرگزار ہوںگے کہ اگر آپ اس کا اعتراف نہ کریں کہ ہم کو ایسی سلطنت کے زیرسایہ ہونے کا فخر حاصل ہے۔ جس کی عدالت اور انصاف پسندی کی مثال اور نظیر دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی۔ فی الواقعہ بادشاہ وقت کے حقوق میں ایک اہم حق یہ ہے کہ رعایا اپنے بادشاہ کے عدل وانصاف کی شکرگزاری میں ہمیشہ رطب اللسان رہے۔ اس میں بھی حضور پیغمبر اسلامa کی تعسّی مسلمانوں کو (یعنی اسوۂ حسنہ کی پیروی) لازم ہے کہ آپa نے بھی (نبی اکرمa نے بھی) نوشیرواں عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر مدح اور فخر کے رنگ میں بیان کیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حضور کی تعسی میں مسلمان اس مبارک، مہربان، منصف اور عدل گستر برطانیہ عظمیٰ کی دعا گوئی اور ثناء جوئی کریں اور اس کے احسانوں کے شکر گزار رہیں۔ اس کے علاوہ…‘‘
    1158جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایسی خوشامد لوگ کرتے رہیں، میں اس کی بات نہیں کر رہا، میرا سوال ہی اور تھا…
    مرزاناصر احمد: ایسی خوشامد جو کرتے رہیں، نہیں جی، حضرات بڑے پائے کے علماء اور اس وقت کے مذہبی لیڈروں کی بات ہورہی ہے۔ ایسے ویسے کی بات نہیں ہورہی۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں تو جانتا نہیں، واقف نہیں، مجھے تو کوئی ایسے خوشامدی معلوم ہورہے ہیں۔
    مرزاناصر احمد: ان کے بڑے، شیعہ حضرات کے بہت بزرگ مجتہد…
    جناب یحییٰ بختیار: پانچ نے اور کہا ہوگا، دس نے اور کہاہوگا۔ میں تو ایک اور سوال آپ سے پوچھ رہا تھا جو کہ…
    مرزاناصر احمد: میں اسی کا پس منظر آپ کو…
    جناب یحییٰ بختیار: … مہدی سے جو تعلق رکھتا ہے۔ بے شک پڑھ دیجئے۔
    مرزاناصر احمد: جی! ہمارے اس وقت کے بڑے مشہور عالم مولوی محمد حسین صاحب! بٹالوی نے رسالہ (اشاعت السنہ ج۶ نمبر۶ حاشیہ، ص۱۴۸، بابت ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۸۹۳ئ) لکھتے ہیں… یہ اب میں دوسری دلیل دے رہا ہوں… میں نے پہلے کہا تھا ناں کہ شکایتیں کرتے رہتے تھے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ جب مرزاصاحب کا اثر تھا، اس زمانے کی بات ہوگی۔
    مرزاناصر احمد: ۱۸۹۳ء میں۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ چھوڑ چکے تھے مرزاصاحب کو؟
    مرزاناصر احمد: ہاں، مرزاصاحب کو چھوڑ چکے تھے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ مرزاصاحب کو چھوڑ چکے تھے۔ کیونکہ ان کے اثر میں کافی عرصہ…
    1159مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں۔ یہ مرزاصاحب کو چھوڑ چکے تھے: ’’اس کے (مرزاصاحب) دھوکے پر یہ دلیل ہے کہ دل سے وہ گورنمنٹ غیرمذہب کی (جو غیرمذہب کی گورنمنٹ ہے) کے جان ومال لینے اور اس کا مال لوٹنے کو حلال ومباح جانتا ہے۔ لہٰذا گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے۔ ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزاصاحب! میرا سوال جو تھا وہ جہاں تک برطانیہ حکومت کا تعلق ہے، آپ نے کہا کہ دین کے معاملے میں دخل نہیں دے رہی اور ایسی حدیث ہے کہ ان کے لئے اطاعت کریں تو میں نے اس موقع پر یہ سوال پوچھا تھا کہ: ’’میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب، مصر، بلادشام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔‘‘ وہاں تو ان پر کوئی اطاعت بڑٹش گورنمنٹ کی نہیں تھی جو ان ملکوں میں یہ کتابیں بھیجی گئیں؟
    مرزاناصر احمد: آپ نے بھی وہ اطاعت کا ذکر نہیں کیا، تائید میں کہا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’تائید‘‘ مطلب…
    مرزاناصر احمد: یعنی ان ممالک میں جو یہ تاثر…
    جناب یحییٰ بختیار: برٹش گورنمنٹ کی تائید میں، اطاعت نہ سہی، تائید سہی۔
    مرزاناصر احمد: میں اس کا مطلب بیان کرتا ہوں۔ کہا یہ ہے کہ جو ایک حصہ دنیا کا ان ممالک میں یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ دین کے معاملہ میں دخل دیتی اور آزادی نہیں دے رہی اور مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ اس لئے اس کے خلاف جہاد ہونا چاہئے تویہ تاثر جودنیا دے رہی ہے…
    1160جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مرزاصاحب! میرا سوال اب بالکل Simple ہو جاتا ہے…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …برطانیہ کا بادشاہ، Defender of Faith (ایمانکا محافظ) کہلاتا ہے، وہ صلیب کا محافظ ہے۔ اس کے تاج پر صلیب کا نشان ہے،یہ آپ کو اچھی طرح علم ہے…
    مرزاناصر احمد: بہت خوب! ابھی میں بتاؤں گا۔

اس صفحے کی تشہیر