1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

بائبل کے تضادات

محمود بھائی نے 'عیسائیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 2, 2014

  1. ‏ دسمبر 2, 2014 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    483
    موصول پسندیدگیاں :
    466
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    اس تحریر کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے ۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بائبل سو فیصد خدا کا کلام ہے وہ اپنے اس خیال پر نظر ثانی کر سکیں ۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ بائبل کے اندر بہت سی اچھی اور مفید باتیں موجود ہیں ۔
    بہت سے لوگ جس کا مطالعہ سرسری ہے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بائبل میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب خدا کا کلام ہے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے اور اس تحریر کا بنیادی مقصد بھی اس غلط فہمی کو دور کرنا ہے ۔
    بے شک بائبل میں خدا کا کلام موجود ہے لیکن ساری کی ساری بائبل خدا کا کلام نہیں ہے۔
    یہ بات سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کے کلام میں تضاد نہیں ہو سکتا اور جس میں تضاد ہو وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتا ۔

    قائرین سے گزارش ہے کہ درج ذیل دئے گئے بائبل کے تضادات پر غور فرمائیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا بائبل واقعی سو فیصد خدا کا کلام ہے ۔
    1: حضرت داود علیہ السلام کو اسرائیل کی مردم شماری پر کس نے اکسایا ؟
    الف ۔ خدا نے (2 سموئیل 24:1) ب: (1تواریخ 21:1)

    اِسکے بعد خُداوند کا غُصہّ اِسراؔئیل پر پھر بھڑکا اور اُس نے داؔؤد کے دل کو اُنکے کلاف یہ کہ کر اُبھارا کہ جا کر اِسرائیل اور یہؔوُداہ کو گِن۔

    اور شیطان نے اِسرائیل کے خلاف اُٹھکر داؤد کو اُبارا کہ اِسرائیل کا شمار کرے۔

    2: اس مردم شماری میں اسرائیل کے مرد شمشیر زنوں کی تعداد کتنی تھی ؟
    الف: آٹھ لاکھ (2 سموئیل 24:9) ب: گیارہ لاکھ (1تواریخ 21:5)

    اور یُوآؔب نے مردم شماری کی تعداد بادشاہ کو دی سو اِؔسرائیل میں آٹھ لاک بُہادر مرد نِکلے جو شمشیر زن تھے اور یُہوؔداہ کے مرد پانچ لاکھ نکلے ۔

    یُوآب نے لوگوں کے شمُار کی میزان داؤد کو بتائی اور سب اِسرائیلی گیارہ لاکھ شمشیر زن مرد اور یہوُداہ چار لکھ ستر ہزار شمشیر زن مرد تھے۔

    3: اس مردم شماری میں یہودا کے کتنے شمشیر زن مرد تھے ؟
    الف: پانچ لاکھ(2 سموئیل 24:9) ب : چار لاکھ ستر ہزار (1تواریخ 21:5)

    اور یُوآؔب نے مردم شماری کی تعداد بادشاہ کو دی سو اِؔسرائیل میں آٹھ لاک بُہادر مرد نِکلے جو شمشیر زن تھے اور یُہوؔداہ کے مرد پانچ لاکھ نکلے ۔

    یُوآب نے لوگوں کے شمُار کی میزان داؤد کو بتائی اور سب اِسرائیلی گیارہ لاکھ شمشیر زن مرد اور یہوُداہ چار لکھ ستر ہزار شمشیر زن مرد تھے۔
    جاری ہے۔
    آخری تدوین : ‏ دسمبر 2, 2014
    • Like Like x 3
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ دسمبر 2, 2014 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,124
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    عمدہ پوسٹ
  3. ‏ دسمبر 2, 2014 #3
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    483
    موصول پسندیدگیاں :
    466
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    4 : خدا کی طرف سے داود علیہ السلام کو کتنے سالوں کے قحط کی دھمکی دی گئی ؟
    الف : 7 سال (2 سموئیل 24:13) ب : 3 سال (1تواریخ 21:12)

    ۔۔۔۔تیرے ملک میں سات برس قحط رہے۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔یا تو قحط کے تین برس ۔۔۔۔۔

    5 : اخزیا کتنے برس کا تھا جب وہ حکومت کرنے لگا ؟
    الف : 22 سال (2 سلاطین8:26) ب : 42 سال ( 2 تواریخ 22:2)

    اخزیاہ بائیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت کی ۔

    اخزیاہ بیالیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت کی ۔

    6 : یہویاکین کتنے برس کا تھا جب وہ حکومت کرنے لگا ؟
    الف : اٹھارہ برس کا (2 سلاطین 24:8) ۔۔۔۔ ب :(آٹھ برس (2تواریخ 36:9)

    اور یہویا کین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا اور یروشلیم میں اُس نے تین مہینے سلطنت کی۔

    یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے تین مہینے دس دن یروشلیم میں سلطنت کی۔

    7 : یہویاکین نے کتنے عرصہ حکومت کی ؟
    الف : 3 ماہ (2سلاطین 24:8) ۔۔۔۔۔ ب : 3 ماہ دس 10(2تواریخ 36:9)

    اور یہویا کین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا اور یروشلیم میں اُس نے تین مہینے سلطنت کی۔

    یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے تین مہینے دس دن یروشلیم میں سلطنت کی۔

    8 : حضرت داود علیہ السلام کے سپہ سالار کے ہاتھوں ایک ہی وقت میں کتنے لوگ قتل ہوئے ؟
    الف : آٹھ سو (2 سموئیل 23:8) ۔۔۔۔۔ ب : تین سو ( 1 تواریخ 11:11)

    وہی ایزانی ادؔینو تھا جس سے آٹھ سَو ایک ہی وقت میں مقتول ہوئے۔

    یسوؔبعام بن حکمونی جو تیسوں کا سردار تھا ۔ اپس نے تین سَو پر اپنا بھالا چلایا اور اُنکو ایک ہی وقت میں قتل کیا ۔

    دونوں مقامات پر سپہ سالاروں کے نام بھی مختلف ہیں ۔

    9 : حضرت داود علیہ السلام نے ضویاہ کے بادشاہ کو مارنے کے بعد اس کے کتنے سواروں کو گرفتار کیا ؟
    الف : ایک ہزار سات سو ( 2 سموئیل 8:4)۔۔۔۔۔ ب : سات ہزار (1تواریخ 18:4)

    اور داؔؤد نے اُسکے ایک ہزار سات سَو سوار اور بیس ہزار پیادے پکڑ لئے ۔

    اور داؤد نے اُس سے ایک ہزار رتھ اور سات ہزار سوار اور بیس ہزار پیادے لے لئے ۔

    10: حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے کتنے تھان تھے ؟
    الف : چالیس ہزار (1سلاطین 4:26)۔۔۔۔۔۔ ب : چار ہزار (2تواریخ 9:25)

    اور سُلیمان کے ہاں اُسکے رتھوں کے لیے چالیس ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے۔

    اور سلیمان کے پاس گھوڑوں اور رتھوں کے لیئے چار ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے ۔
    آخری تدوین : ‏ دسمبر 4, 2014
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1
  4. ‏ دسمبر 3, 2014 #4
    ام ضیغم شاہ

    ام ضیغم شاہ رکن عملہ منتظم اعلی ناظم پراجیکٹ ممبر مہمان رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ نومبر 16, 2014
    مراسلے :
    339
    موصول پسندیدگیاں :
    216
    نمبرات :
    43
    جنس :
    مؤنث
    :0013
  5. ‏ دسمبر 6, 2014 #5
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    483
    موصول پسندیدگیاں :
    466
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    11 : حضرت سلیمان علیہ السلام نے خداوند کے گھر کی تعمیر کرنے والوں پر کتنے نگران مقرر کئے ؟
    الف : 3 ہزار 6 سو( 2 تواریخ 2:2) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : 3 ہزار 3 سو ( 1سلاطین 5:16)

    ۔۔۔ اور تین ہزار چھہ سو آدمی انکی نگرانی کے لئے گن کر ٹھرائے ۔۔

    ان کے علاوہ سلیمان کے تین ہزار تین سو خاص منصب دار تھے جو اس کام پر مختار تھے اور ان لوگوں پر جو کام کرتے تھے سردار تھے ۔

    12 : اسی ہزار لوگ پہاڑوں میں کس کام کے لئے مقرر تھے ؟
    الف : درخت کاٹنے کے لئے (1 سلاطین 5:15) ۔۔۔۔۔ ب : پتھر کاٹنے والے ( 2 تواریخ 2:2)

    اور سُلیمان کے ستر ہزار بوجھ اُٹھانے والے اور اَسی ہزار درخت کاٹنے والے پہاڑوں میں تھے ۔

    اور سلیمان نے ستر ہزار بار بروار اور پہاڑ میں اَسی ہزار پتھر کاٹنے والے اور تین ہزار چھ سو آدمی اُن کی نگرانی کے لیئے گن کر ٹھہرا دیے۔

    13: بابل کی قید سے رہا ہونے والے بنی بخت مو آب کی تعداد کتنی تھی ؟
    الف : دو ہزار آٹھ سو بارہ ( عزرا 2:6) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : دو ہزار آٹھ سو اٹھارا (نحمیاہ 7:13)

    14 : بنی زتو کی تعداد کتنی تھی ؟
    الف : نو سو پنتالیس ( عزرا 2:8) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : آٹھ سو پنتالیس ( نحمیاہ 7:13)

    15 : بنی عزجاد کی تعداد کتنی تھی ؟
    الف : ایک ہزار دو سو بائیس (عزرا 2:22) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : دو ہزار تین سو بائیس ( نحمیاہ 7:17)

    16 : بن عدین کی تعداد کتنی تھی ؟
    الف : چار سو چون(عزرا 2:15)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : چھ سو پچپن(نحمیاہ 7:20)

    17 : بنی ہاشوم کی تعداد کتنی تھی؟
    الف : دو سو تئیس ( عزرا 2:19) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : تین سو اٹھائیس (نحمیاہ 7:22)
    • Like Like x 2
  6. ‏ دسمبر 8, 2014 #6
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    483
    موصول پسندیدگیاں :
    466
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    18: بیت ایل اور عی کی کتنی تعداد تھی ؟
    الف : دو سو تئیس (عزرا 2:28) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : ایک سو تئیس (نحمیاہ 7:20)

    19: گانے والوں کی تعداد کتنی تھی؟
    الف : دوسو (عزرا 2:65) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : ( دو سو پینتالیس ( نحمیاہ 7:67)

    20 : ابیاہ بادشاہ کی ماں کا کیا نام تھا ؟
    الف : میکایاہ جو اوری ایل جعبی کی بیٹی تھی (2 تواریخ 13 :2) ۔۔۔ ب : معکہ جو ابی سلوم کی بیٹی تھی(2 تواریخ 11:20)

    لیکن ابی سلوم کی صرف ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام تمر تھا ۔ (2 سموئیل 14:27)

    21: حضرت مریم علیہ السلام کے شوہر کا یوسف کے باپ کا کیا نام تھا ؟
    الف : یعقوب (متی 1:16) ۔۔۔۔۔۔ ب : عیلی (لوقا 3:23)

    22 : حضرت عیسی علیہ السلام ، حضرت داود علیہ السلام کے کس بیٹے کی نسل سے ہیں ؟
    الف : سلیمان(متی 1:6) ۔۔۔۔۔۔۔ ب : ناتن (لوقا 3 :31)

    23 : سیالتی ایل کے باپ کا کیا نام تھا ؟
    الف : نیری(لوقا 3:27) ۔۔۔۔۔ ب : یکونیاہ (متی 1:12)
    • Like Like x 2
  7. ‏ دسمبر 24, 2014 #7
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    483
    موصول پسندیدگیاں :
    466
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    24 : زر بابل کے بیٹے کا کیا نام تھا ؟
    الف : ابہیود (متی 1:13) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : ریسا (لوقا 3:27)
    لیکن تواریخ اول باب 3 آیت 19،20 میں زر بابل کے بیٹوں کے جو نام بتائے گئے ہیں ان میں ابہیود اور ریسا نام کا کوئی بیٹا نہیں ہے ۔
    اس کے علاوہ یہاں زربابل کے باپ کا نام بھی مختلف ہے ۔ تواریخ اول 3:19 میں زربابل کے باپ کا نام فدایاہ ہے جبکہ متی اور لوقا میں سیالتی ایل ہے ۔

    25 : عزیاہ کا باپ کون تھا ؟
    الف : یورام (متی 1:8) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ب : امصیاہ (2تواریخ 26:1)

    26 : حضرت عیسی علیہ السلام نے یروشلم کی طرف سفر کتنے جانوروں پر بیٹھ کر کیا ؟
    الف : دو پر ، گدھی اور اسکے بچے پر (متی 21:7) ۔۔۔۔۔ ب : ایک پر ، گدھی کے بچے پر (مرقس 11:7)

    " اور گدھی اور بچے کو لا کر اپنے کپڑے ان پر ڈالے اور وہ ان پر بیٹھ گیا ۔"
    یہ بات حیران کن ہے حضرت عیسی علیہ السلام ایک ہی وقت میں دونوں پر کیسے بیٹھ گئے ۔

    27 : شمعون پطرس کو کس ذریعے سے پتہ چلا کہ حضرت عیسی علیہ السلام مسیح ہیں ؟
    الف : خدا کے ذریعے (متی 16:17) ۔۔۔۔۔۔۔ ب : اپنے بھائی اندریاس کے ذریعے (یوحنا 1:41)
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر