1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

ایک فریب اور اس کا جواب

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2015

  1. ‏ مارچ 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ایک فریب اور اس کا جواب
    مرزائی لوگ شیخ اکبر کی بعض عبارتیں پیش کر کے ثابت کرتے ہیں کہ وہ بھی غیرتشریعی نبوت کو باقی سمجھتے ہیں۔ یہ صریح دھوکہ ہے اور علمی جہالت ہے۔ دراصل بعض اولیاء یہ کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ سے مکالمہ ومخاطبہ ہوسکتا ہے۔ جس کو لغت میں نبوت بھی کہتے ہیں۔ لیکن وہ ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے نہ نبی کہلا سکتا ہے۔ نہ اس کی اجازت ہے۔ یہ جو مکالمہ ہوتا ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بیان شریعت کے لئے مامور ہوکر خداتعالیٰ کے ہاں منصب نبوت پالیتا ہے۔ وہ صرف اس مکالمے کو غیرتشریعی نبوت کہتے ہیں۔ تشریعی نبوت وہ ہر اس وحی نبوت کو کہتے ہیں جس میں شریعت کے لئے احکام ہوں۔ نئے یا پرانے اور یہ صرف نبی کے لئے ہوسکتا ہے۔ گویا لغوی طور پر وہ مکالمہ الٰہیہ کا نام غیرتشریعی رکھتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ شرعی وحی اور نبی کی وحی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نبی اور رسول ایک عہدہ ہے جو اب ختم ہوچکا ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ گویا ان اولیاء کے ہاں تشریعی نبوت میں دونوں نبوتیں شامل ہیں جو ختم ہوچکی ہیں۔ نئی شریعت والی اور پرانی شریعت والی یعنی وہ غیرتشریعی کا اطلاق بھی کبھی ولایت پر کر دیتے ہیں۔ لیکن کسی نے آج تک ان میں سے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نہ نبی ہونے کے اعلان کی اجازت دی۔ اگر مرزائیوں میں سکت ہے تو کسی ولی کا دعویٰ نبوت ثابت کریں۔ یہاں مرزاجی کا ایک قول اولیاء کی اطلاق واصطلاح کے 2420بارے میں سن لیجئے۔ مرزاجی اپنی کتاب (انجام آتھم ص۲۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں: ’’لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ بعض اوقات خداتعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اﷲ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیائے کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیا۔‘‘
    اس عبارت میں مرزاجی نے بہت دجل کئے ہیں۔ مثلاً عبارت مذکورہ میں صحیح مسلم کے حوالے سے لکھا کہ ’’آنے والے مسیح موعود کا نام‘‘ حالانکہ صحیح مسلم میں مسیح موعود کا لفظ نہیں ہے۔ یہ اصطلاح خود مرزاجی نے گھڑی ہے۔ مگر یہاں ہم کو صرف یہ بتانا ہے کہ شیخ اکبر وغیرہ کے الفاظ جو نبوت غیر تشریعی کے آئے ہیں۔ وہ صرف مکالمات الٰہیہ کی وجہ سے آپ کی اصطلاح ہے۔ ورنہ نبوت کا عہدہ اور نبی کے نام کا اطلاق وہ بھی ناجائز سمجھتے ہیں۔ جیسے یہاں مرزاجی نے تصریح کر دی ہے۔ بہرحال قرآن پاک نے خاتم النّبیین فرما کر نبیوں کا بننا بند کر دیا اور جو تعداد اﷲتعالیٰ کے علم میں مقرر تھی اس کے پورا ہونے کا اعلان فرمادیا۔ مگر مرزاجی نے خاتم النّبیین کا مطلب نبی تراش قرار دیا۔ یعنی آپ ﷺ کی پیروی سے نبی بنتا ہے۔ یہ صریح طور پر خداتعالیٰ کا ایسا مقابلہ ہے جو شیطان نے کیا تھا کہ اے اﷲ آپ کیوں آدم کو سجدہ کرواتے ہیں۔میں اس سے اچھا ہوں۔ یعنی اﷲتعالیٰ کی حکمت ومصلحت اور رضاء اور ارادے پر راضی نہ ہوا۔ بلکہ اپنا حق بتایا۔ اس صریح عدول حکمی اور حجت بازی سے کافر ومردود ہوگیا۔ اسی طرح اﷲتعالیٰ جو دروازۂ خاتم النّبیین کہہ کر بند فرمانا چاہتے ہیں مرزاجی اس کا مطلب نبی تراش بتا کر اس کو کھلا 2421رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ہر گاما، گھسیٹا فنافی الرسول بن کر نبی بن جایا کرے۔
    ایں کار از توآید ومرداں چناں کنند
    ۱۲… سرور عالم ﷺ پر نبوت کا خاتمہ اﷲ کی اس امت پر بڑا انعام ہے۔ ایک مرزاجھوٹا نبی بنا اور تمام مسلمانوں میں ہلچل پڑ گئی۔ یہ ستر کروڑ مسلمانوں کو کافر کہتے اور وہ سب ان کو کافر سمجھتے ہیں۔ اگر سرور عالم ﷺ ان جھوٹے نبیوں کا سلسلہ بند اور ان سے بچنے کی تاکید نہ فرماتے تو اب تک امت محمدیہ میں کتنے ہی فرقے اور کتنی ہی امتیں ہوتیں۔ جو ایک دوسری کو کافر کہتیں۔ اس لئے مسئلہ ختم نبوت رحمت الٰہیہ ہے۔ چنانچہ (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۲) میں ہے: ’’وہذہ اکبر نعم اﷲ علی ہذہ الامۃ حیث اکمل تعالیٰ لہم دینہم فلا یحتا جون الیٰ دین غیرہ ولا الیٰ نبی غیر نبیہم صلوٰۃ اﷲ وسلامہ علیہ ولہذاجعلہ خاتم الانبیاء وبعثہ الیٰ الانس والجن‘‘ {اور یہ اﷲتعالیٰ کی اس امت پر بہت بڑی نعمت ہے اورمہربانی ہے کہ اس خدائے برتر نے ان کا دین مکمل کر دیا۔ اب وہ کسی اور دین کے محتاج ہیں نہ اپنے نبی کے بغیر کسی اور نبی کے اور اس لئے ان کو خاتم الانبیاء بنا کر جن وانس کی طرف بھیجا۔}

اس صفحے کی تشہیر