1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

ایک اور دھوکہ (کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وفات مسیح کے قائل تھے (معاذاللہ))

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ایک اور دھوکہ (کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وفات مسیح کے قائل تھے (معاذاللہ))
    مرزائیوں بلکہ خود مرزاجی نے حضرت ابن عباسؓ کے اس قول سے مسلمانوں کو بڑا دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے بخاری میں ’’متوفیک‘‘ کا معنی ’’ممیتک‘‘ کیا ہے کہ میں تجھے موت دینے والا ہوں… گویا وہ وفات مسیح کے قائل ہیں۔ یہ قطعاً دھوکہ اور غلط ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباسؓ نے ’’متوفیک‘‘ کا معنی ’’ممیتک‘‘ کیا ہے۔ یہ تو تسلی اور وعدہ ہے کہ میں تجھے توفی کر کے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اب یہ بات کہ یہ وعدہ کب خدا نے پورا کیا ہم کہتے ہیں کہ جب وہ سولی پر چڑھانے کا ارادہ کرنے لگے۔ اﷲتعالیٰ نے وعدہ کے مطابق ان کو پوری طرح قبض کر کے آسمان کی طرف اٹھالیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ پوری پوری تکلیف اور ایذاؤں کے بعد سال گزار کر موت دی۔ موت تو ہر شخص کو دی جاتی ہے یہ کیا وعدہ تھا۔ کیا اﷲتعالیٰ کے شایان شان یہی تھا؟
    2525’’مگر اماتت کا معنی صرف موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بے ہوش کرنا بھی ہے۔‘‘
    (دیکھو مرزاجی کی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۲۶۱)
    تومعنی یہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے سلا کر یا بے ہوش کر کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ تو اب تمام آیات اور تفسیریں ایک طرح ہوگئیں۔
    دوسری بات یہ ہے کہ اگر ’’ممیتک‘‘ کا معنی وہی موت دینے کے لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے موت دوں گا یہ نہیں دے سکتے، اور فی الحال آسمان کی طرف اٹھاتا ہوں اور ان لوگوں سے تم کو پاک کرتا ہوں۔ گویا آیت میں وہ تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں کہ موت میں دوں گا۔ لیکن بعد میں، اور فی الحال تم کو اٹھاتا ہوں۔
    یہ معنی ہم اپنی طرف سے، مرزائیوں کی طرح نہیں کرتے۔ بلکہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے خود حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ تابعی ضحاکؒ حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مراد اس جگہ یہ ہے کہ میں تجھے اٹھاؤں گا اور پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔
    (درمنثور)
    اسی طرح مجدد صدی دہم حضرت علامہ محمد طاہر گجراتی مصنف مجمع البحار نے فرمایا کہ:
    ’’انی متوفیک ورافعک الیّ علی التقدیم والتاخیر ویجییٔ فی اٰخرالزمان لتواتر خبر النزول‘‘ {یہ متوفیک اور رافعک الیّ تقدیم وتاخیر کے ساتھ ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آئیں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر متواتر ہے۔}
    امام رازیؒ نے ’’تفسیر کبیر جلد دوم سورۃ آل عمران‘‘ میں لکھا ہے کہ یہاں واؤ سے ترتیب ثابت نہیں ہوتی کہ پہلے وفات ہو پھر رفع۔ بلکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ 2526یہ کام کریں گے۔ باقی کب کریں گے؟ کس طرح کریں گے؟ تو یہ بات دلیل پر موقوف ہے اور دلیل سے ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور حضور ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے۔ پھر ان کو اﷲتعالیٰ اس کے بعد وفات دیں گے اور یہ تقدیم وتاخیر قرآن میں بہت ہے۔ مثلاً:
    ۱… ’’یامریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی (آل عمران:۴۳)‘‘ {اے مریم اپنے رب کی عبادت کر اور سجدہ اور رکوع کر۔} تو یہاں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رکوع سے سجدہ پہلے کرے۔ کیونکہ سجدے کا ذکر پہلے آگیا ہے۔
    ۲… اسی طرح ’’واوحینا الیٰ ابراہیم واسماعیل واسحٰق ویعقوب والاسباط وعیسیٰ وایوب ویونس وہارون وآتینا داؤد زبورا (نسائ:۱۶۳)‘‘
    اس آیت میں بھی واؤ سے ترتیب ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مذکور باقی انبیاء علیہم السلام سے بعد میں آئے ہیں۔ مگر آیت میں ان کا ذکر پہلے ہے۔
    ۳… اگر ہم کہیں کہ یہاں زید، عمر، بکر اور خالد آئے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ پہلے زید آیا پھر عمر آیا پھر بکر اور آخر میں خالد آیا۔ واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب حضرات آئے۔ باقی کس طرح اور کس ترتیب سے آئے اس کا ذکر نہیں ہے۔
    مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابن عباسؓ کے لفظوں کا معنی موت دینا ہی لے لیں تو بھی وہ حیات مسیح کے قائل ہیں اور آیت میں تقدیم وتاخیر کے قائل ہیں۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر