1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اہل سنت کی کتب میں مہدی کا ذکر اور تعارف

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیثِ امام مہدی و مجدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 23, 2014

  1. ‏ جولائی 23, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    اہل سنت کی کتب میں مہدی کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں جن میں ضعیف روایات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود صحیح اور حسن روایات بھی ماجود ہیں جو بعض علماء کے نزدیک تواتر معنوی کے درجہ تک پہنچ جاتی ہیں ، ان روایات میں سے بعض میں تو صاف طور پر مہدی کا ذکر ہے اور بعض روایات میں مہدی کا ذکر تو نہیں لیکن علماء نے تصریح کی ہے کہ مراد وہی ہیں ،
    جبکہ مرزا غلام قادیانی نے صاف طور پر لکھا ہے کہ " مہدی کے بارے میں تمام کی تمام روایات ضعیف اور مجروح ہیں " ( خزائن جلد 7 ص 315 )
    مرزا کے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے چند روایات یہاں ذکر کرتا ہوں :
    " عن ابی السعید الخدری قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المھدی منیی ، أجلی الجبھة ، أقنی الأنف ، یملأ الأرض قسطاََ و عدلاََ کما ملئت ظلماََ وجورأ ، ویملک سبع سنین "

    ( سنن ابو داؤد ، مستدرک حاکم ، کتاب الفتن لنعیم بن حماد ، واللفظ لابی داؤد )
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مہدی مجھ سے ہے ( یعنی میری اولاد میں سے ہے ) اسکی پیشانی سادہ اور ناک اٹھی ہوئی اور قدرے باریک ہوگی ، وہ زمین کو ایسے عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے وہ اس کے آنے سے قبل ظلم وزیادتی سے بھری ہوگی ، اور وہ سات سال تک حکومت کرے گا .

    * " عن أم سلمة رضی اللہ عنہا قالت : سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : المھدی من عترتی من ولد فاطمة "

    ( سنن ابو داؤد ، سنن ابن ماجہ . مستدرک حاکم ، واللفظ لابیی داؤد )
    ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مہدی میری عترت ، میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوگا .

    *" عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : لو لم یبق من الدھر الا یوم لبعث اللہ رجلاََ من أھل بیتی یملاََھا کما ملئت جورأ "

    ( سنن ابو داؤد ، مسند احمد ، مصنف ابن ابی شیبه ، واللفظ لابیی داؤد )
    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانہ ختم ہونے سے پہلے ( یعنی قیامت سے پہلے ) ایک دن ایسا آئیگا گا جب اللہ تعالیٰ میرے اھل بیت میں سے ایک شخص کو معبوث فرمائیں گے جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے وہ اسکے آنے سے قبل ظلم زیادتی سے بھری ہوگی .

    *" عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتذھب أو لاتنقضی الدنیا حتیٰ یملک العرب رجل من أھل بیتی یواطیء اسمه اسمی "

    ( سنن ابو داؤد ، سنن ترمذی ، مسند احمد ، واللفظ لابیی داؤد )
    دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک عرب پر میرے اھل بیت میں سے ایک شخص حکومت نہ کر لے جس کا نام میرے نام سے ( یعنی محمد ) ہو گا

    *" عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتقوم الساعة حتیٰ یملک رجل من اھل بیتی ، أجلی أقنی یملأ الأرض عدلاََ کما ملئت قبله ظلماََ یکون سبع سنین "

    ( مسند احمد ، مسند ابی یعلی ، صحیح ابن حبان ، واللفظ لاحمد )
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی ، جبتک میرے اھل بیت میں سے ایک شخص حکومت نہ کرلے ، جسکی پیشانی سادہ اور ناک اٹھی ہوئی اور قدرے باریک ہو گی ، وہ زمین کو ایسے عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے وہ اس کے آنے سے قبل ظلم وزیادتی سے بھری ہوگی ، اور وہ سات سال تک حکومت کرے گا .

    *" عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تُملأ الأرض جورأ وظلماََ فیخرُج رجل من عترتی یملک سبعأ أو تسعأ فیملأ الأرض قسطاََ و عدلاََ "

    ( مسند احمد ، مستدرک حاکم ، واللفظ لاحمد )
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمین ظلم وزیادتی سے بھر جائے گی تب میری نسل میں سے ایک شخص نکلے گا جو سات یا نو سال تک حکومت کرے گا ، اور وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا .

    *" عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ و جابر رضی اللہ عنہ قالا : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی آخرالزمان خلیفة یقسم المال ولا یعدہ "

    ( صحیح مسلم ، مسند احمد . مسند ابی یعلی ، واللفظ لمسلم )
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو دولت کو بغیر گنے ہوۓ تقسیم کرے گا .

    " عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : سمت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لاتزال طائفة من امتی یقاتلون علی الحق ظاهرین الی یوم القیامة ، قال : فینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ اسلام فیقول أمیرھم : تعال صلٔ لنا ، فیقول : لا ، ان بعضکم علی بعض أمراء تکرمة اللہ ھذہ الأمة "

    ( صحیح مسلم ، مسند احمد ، صحیح ابن حبان ، مسند ابی یعلی ، مسند ابی عوانه )
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں سے ایک گروہ ایسا ہوگا جو قیامت تک حق کیلئے لڑتا رہے گا ، پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ اسلام نازل ہوں گے ، تو اس ( حق پرستوں ) کے گروہ کا امیر عیسیٰ علیہ اسلام سے کہے گا . آئیے ہماری امامت کروائیے ، عیسیٰ علیہ اسلام فرمائیں گے نہیں ( تم ہی امامت کرواؤ ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر امیر بنایا ہے اور یہ اللہ کی طرف سے امت محمدیہ کیلئے خاص اعزاز ہے .
    حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے یہی الفاظ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں ، لیکن اسمیں " فیقول أمیرھم " کی جگہ " فیقول أمیرھم المھدی " کے الفاظ ہیں یعنی اس جماعت کے امیر مہدی ہوں گے ( المنار المنیف صفحہ 147 )

    *" عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : لو لم یبق من الدنیا الا یوم لطول اللہ ذلک الیوم حتی یبعث فیه رجلا منی ( أو من اھل بیتی ) یواطیء اسمه اسمی واسم ابیه اسم ابی "

    ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا ختم ہونے میں اگر ایک دن بھی رہ گیا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا فرما دیں گے کہ ( مراد یہ ہے کہ دنیا ختم ہونے سے پہلے یہ کام ضرور ہوگا ) یہاں تک کے اس میں میرے اھل بیت میں سے ایک شخص کو بیجھیں گے جسکا نام میرے نام جیسا اور والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا ( یعنی اسکا نام محمد بن عبداللہ ہو گا )

    مذکورہ روایات سے یہ بات روزروشن کیطرح واضح ہو جاتی ہے کہ

    ( 1 ) مہدی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اھل بیت اور حضرت فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہونگے ( یہ کسی روایت میں سے نہیں ملتا کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہونگے ) بلکہ سنن ابو داؤد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر مروی ہے . کہ اپ نے اپنے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ مہدی اسکی اولاد میں سے ہونگے یعنی حسنی سید ہونگے ( سنن ابی داؤد صفحہ 589 تاہم بعض علماء نے اس اثر کی سند کو ضعیف بتلایا ہے ) بہرحال انکے حضرت فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہونے پر تمام روایات متفق ہیں .
    ( 2 ) انکا نام " محمد " اور انکے والد کا نام " عبداللہ ہو گا ( اس کے خلاف کوئی روایت نہیں )
    ( 3 ) وہ سات یا نو سال حکومت کریں گے ( وہ حکومت کریں گے اس کے خلاف کوئی روایت نہیں ، ہاں کتنے سال ؟ اس کے بارے میں سات اور نو سال دونوں مذکور ہیں
    ( 4 ) وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے
    ( 5 ) اہل سنت کی بعض کتب میں یہ بھی مذکور ہے کہ ظہور کے وقت مہدی کی عمر چالیس برس ہو گی ( الحاوی للفتاوی جلد 2 ص 66 )
    ایک مرزائی دھوکے کا پوسٹ مارٹم
    دوستوں جب بھی مسلمانوں میں ایک شخص مہدی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد حضرت فاطمہ الزھراء اور حضرت علی کی اولاد میں سے وہ شخصیت ہوتے ہیں جنکے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اور بڑے واضح الفاظ میں فرمایا دیا کہ " انکا نام میرے نام جیسا اور انکے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہو گا " یعنی انکا نام نامی محمد بن عبداللہ ہو گا اسکے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ وہ عرب کے بادشاہ ہونگے .
    لیکن مرزائی مذہب چونکا دجل وفریب کا مرکب ہے ، اس لئے مرزائیوں نے اب یہ طریقہ کار اختیار کیا ہے کہ جہاں کسی حدیث میں " مہدی " کا لفظ نظر آیا وہاں انہوں نے اس سے مراد وہ خاص شخصیت لینی شروع کر دی جسکا ذکر احادیث میں ہے ، اور لوگوں کو مہدی کا لفظ دکھا دکھا کر یہ دھوکا دینے لگے کہ دیکھو یہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ اسلام کو مہدی کہا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ ابن مریم ایک ہی شخصیت ہیں ، یہاں میں کچھ احادیث پیش کرتا ہوں جنکے اندر صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے " مہدی " ہونے کی دعا کی اور کچھ کو " مہدی " بھی کہا ، لیکن ان میں سے کوئی بھی وہ شخصیت نہیں جو " امام مہدی " کے نام سے مسلمانوں کے اندر معروف ہے
    دوستوں عربی میں مہدی کا لفظ اسم مفعول ہے ( یہ نام نہیں ) اسکا ترجمہ ہے " ہدایت یافتہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کو " مہدی " ہونے کی دعا بھی کی اور انہیں " مہدی " کے نام سے یاد بھی کیا ، چند مثالیں اپ کے سامنے پیش ہیں :
    * حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا دیتے ہوۓ فرمایا " اللھم ثبته ، واجعله ھادیا مھدیا " اے اللہ انہیں ثبات عطا فرما اور انہیں ہادی اور مہدی ( ہدایت یافتہ ) بنا دے
    ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )
    اب یہاں" ھادیا مھدیا " کا ترجمہ ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے ، لیکن اگر کوئی یہاں مرزائی دجل وفریب سے متاثر ہو تو اسکا یہ ترجمہ کرے گا کہ اللہ انہیں ہادی اور مہدی بنا دے اور دعویٰ کرسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تو رائیگاں جاہی نہیں سکتی تو اسلئے حضرت جابر بن عبد اللہ امام مہدی بن گے ؟
    * اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد نبوی ہے کہ " تجدوہ ھادیا مھدیا ، یاخد بکم الطریق المستقیم " تمیں انہیں مہدی پاؤ گے وہ تمیں سیدھے راستے پر لے کر چلیں گے ( مسند احمد بن حنبل ، مسند علی بن ابی طالب )
    ااب اس حدیث میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو " مہدی " فرمایا گیا ہے یعنی ہدایت یافتہ لیکن مرزائی لغت یہاں بھی اس کا یہ مفہوم بیان کرے گی کہ حضرت علی امام مہدی بن گئے ؟
    * حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : " اللھم اجعله ھادیا مھدیا واھد به " اے اللہ انہیں ہادی اور مہدی بنا دے اور انکے ذریعے ہدایت دے ( سنن ترمذی )
    اب اگر اس حدیث میں مرزائی ذھن لڑایا جائے تو کوئی یہ دعویٰ بھی کر سکتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ امام مہدی تھے ؟
    * اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کے بارے میں یہ فرمایا " فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء المھدین الرشدین " تم میری سنت اور میرے ان خلفاء راشدین کی سنت پر کاربند رہو جو مہدی ہیں ( سنن ابو داؤد ، سنن ترمذی )
    الغرض ثابت ہوا کہ جہاں بھی حدیث میں " مہدی " کا لفظ آیا ہے وہاں ہر جگہ وہ ایک خاص شخصیت مراد نہیں جنہوں قرب قیامت ظاہر ہونا ہے جنکا نام نامی محمد بن عبد اللہ ہونا ہے ، جنہوں نے حضرت فاطمہ الزھراء کی اولاد میں سے ہونا ہے ۔
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ جولائی 23, 2014
    • Like Like x 3
    • Agree Agree x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  2. ‏ جولائی 24, 2014 #2
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    اہل سنت ولجماعت عقیدہ کی مستند کتاب عقیدہ سفارینی اور شارع نے امام مہدی کی تشریف آوری کے متعلق معنوی تواتر کا دعوی کیا ہے اس کو اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار کیا ہے، لکھتے ہیں:
    " امام مہدی کے خروج کی روایتیں اتنی کثرت کے ساتھ موجود ہیں کہ اس کو معنوی تواتر کی حد تک کہا جاسکتا ہے اور یہ بات علمائے اہل سنت کے درمیان اس درجہ مشہور ہے کہ اہل سنت کے عقائد میں ایک عقیدے کی حیثیت سے شماری کی گئی ہے" ( شرح عقیدہ سفارینی ص 79)
    • Like Like x 1
    • Dumb Dumb x 1
  3. ‏ جولائی 24, 2014 #3
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    شاہ ولی اللہ اپنی کتاب ازالتہ الخفا میں لکھتے ہیں :

    " ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نص فرمائی ہے کہ امام مہدی قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے اور وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امام برحق ہیں اور وہ زمین کو عدل وانصاف کے ساتھ بھر دیں گے جیسا کہ ان سے پہلے ظلم اور بے انصافی کے ساتھ بھری ہوئی تھی۔ ۔ ۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے امام مہدی کے خلیفہ ہونے کی پیش گوئی فرمائی اور امام مہدی کی پیروی کرنا ان امور مین واجب ہوا جو خلیفہ سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ان کی خلافت کا وقت آئے گا، لیکن یہ پیروی فی الحال نہیں بلکہ اس وقت ہوگی جبکہ امام مہدی کا ظہور ہوگا اور حجر اسود اور مقام ابراھیم کےدرمیان ان کے ہاتھ پر بیعت ہوگی۔
    (ازالۃ الخفا جلد 1، صفحہ 6)
    • Like Like x 2
    • Dumb Dumb x 1
  4. ‏ جولائی 24, 2014 #4
    Fatima Kareem

    Fatima Kareem رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 24, 2014
    مراسلے :
    1
    موصول پسندیدگیاں :
    2
    نمبرات :
    3
    جنس :
    مؤنث
    جزاک اللہ
    • Like Like x 2
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  5. ‏ جولائی 24, 2014 #5
    عالیہ مغل

    عالیہ مغل رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 23, 2014
    مراسلے :
    26
    موصول پسندیدگیاں :
    16
    نمبرات :
    3
    جنس :
    مؤنث
    ماشا اللہ بہت خوب
    کیا اس روایت کو مرزائی مانتے ہیں اگر مانتے ہیں تو اس میں جومہدی علیہ السلام کی واضح علامات ہیں کیا مرزا ان علامات پر پورا اترتا تھا ؟؟
    • Like Like x 2
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  6. ‏ جولائی 25, 2014 #6
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    اگر مانتے ہوتے تو مرزا جیسے کذاب کے پیچھے اپنی آخرت تباہ کرتے ؟
    • Like Like x 1
    • Dumb Dumb x 1
  7. ‏ جولائی 25, 2014 #7
    ثناء شہزادی

    ثناء شہزادی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 23, 2014
    مراسلے :
    41
    موصول پسندیدگیاں :
    30
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مؤنث
    جزاک اللہ
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1

اس صفحے کی تشہیر