1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

اکیسویں دلیل: حجۃ الوادع سے ختم نبوت کے مسئلہ کاحل، دین کے کامل ہونے کا اعلان

محمدابوبکرصدیق نے 'آیات ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 22, 2015

  1. ‏ نومبر 22, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اکیسویں دلیل: حجۃ الوادع سے ختم نبوت کے مسئلہ کاحل، دین کے کامل ہونے کا اعلان

    حجۃ الوداع ختم نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے بخاری شریف میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے کہا اگر یہ آیت ہمارے اندر نازل ہوتی تو ہم اس د ن کو عید بنا لیتے حضرت عمرؓ نے پوچھا وہ کونسی آیت؟ یہودیوں نے کہا{ اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ } حضرت عمر ؓنے فرمایا مجھے پتہ ہے کس جگہ یہ نازل ہوئی یہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریمﷺ نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا یعنی حجۃ الوداع میں نازل ہوئی۔ (بخاری بشرح کرمانی ج ۱۶ص۲۱۲) تو گویا حضرت عمرؓ نے یہودی کو جواب دیا کہ ہمیں اس دن کو عید بنانے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو عرفہ کے دن اتارا اور عرفہ کا دن اس سال جمعہ کو ہوا تھا۔ اور عرفہ کا دن مسلمانوں کیلئے اور خاص طور پر حاجیوں کے لئے خوشی کا دن ہوتاہے اور جمعہ کا دن بھی خوشی کا دن ہے تو اس دن مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئیں ۔حاصل یہ ہے کہ دین ہمارے نبی ﷺ پر مکمل ہوگیا اس لئے کسی اور نبی کی ضرورت نہیں ہے۔
    دین کے مکمل ہونے کو نبی کریم ﷺ نے ایک مثال سے سمجھایا کہ ایک شخص نے ایک عمارت بنائی بڑی عالیشان خوبصورت اس میں ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی فرمایا میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں

    (مسلم طبع ہند ج۲ص۲۴۸ مسلم بتحقیق محمد فؤاد عبدالباقی ج۴ص۱۷۹۰رقم۲۲۸۶)
    غور کریں جیسے ایک اینٹ کے نہ ہونے سے وہ عمارت نامکمل ہو اسی طرح اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک اینٹ لگا دی جائے تو عمارت بد نما ہوجائے گی اس زائد اینٹ کوہٹانا ضروری ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے سے انسان کاایمان خراب ہوجاتاہے اور وہ مرتد ٹھہرتاہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو توبہ کروائے اگر توبہ نہ کرے تو ا س کو قتل کردے جب جھوٹے نبی کو ماننے والے کا یہ انجام ہے توخود جھوٹا نبی بدرجہ اولیٰ واجب القتل ٹھہرا۔
    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ

اس صفحے کی تشہیر