1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(انگریز کی مدد کے سہارے مرزا کے عقائد پروان چڑھے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (انگریز کی مدد کے سہارے مرزا کے عقائد پروان چڑھے)
    کسی دوسری بات کا ذکر کرنے سے پیشتر مجھے ایک اور پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ ایوان کے سامنے میری معروضات سے یہ بتانا مقصود تھا کہ اپنے عقائد کا پرچار کرنے کے لئے مرزاغلام احمد کو انگریزوں کی امداد کی ضرورت تھی اور یہ امداد انگریزوں نے بھرپور طریقہ سے مہیا کی۔ یہ تھے وہ حالات جن کے تحت بقول مرزا غلام احمد ملاؤں نے اور ہمارے (مسلمانوں) کے مطابق علماء حق نے اس کی زندگی حرام کر دی تھی۔ چنانچہ مرزاغلام احمد لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو لکھتاہے۔ (میں اس کے خط سے مختصر طور پر پڑھتا ہوں) وہ (مرزاغلام احمد) لکھتا ہے: ’’میں اس بات کا اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئیں اور بالخصوص پرچہ نورافشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں… تو مجھے ایسی اخباروں اور کتابوں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو کہ جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات سے کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیداہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریروں کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ صریح الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر باالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے Conscience نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں ان کے غیض وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریقہ کافی ہوگا… سو مجھ سے پادریوں کے بالمقابل جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیاگیا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں اوّل درجے کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔‘‘
    (تریاق القلوب ضمیمہ نمبر۳ ص ب،ج، خزائن ج۱۵ ص۴۹۰،۴۹۱)
    میں نے مرزاناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ (مرزاغلام احمد) عیسائیوں پر کیوں حملے کرتا تھا اور کیوں اسلام کے خلاف ان کے حملوں کا جواب دیا کرتا تھا۔ کیا اسلام سے محبت اور اسلام کے لئے جوش وخروش کی وجہ سے تھا یا اس کی کوئی وجوہات تھیں۔ میرا یہ سوال مرزاناصر احمد کو ناگوار گزرا اور جواب دیا کہ نہیں۔ یہ (مرزاغلام احمد) کا جہاد تھا۔ یہ اسلام اور نبی کریم ﷺ سے محبت کے باعث تھا کہ مرزاغلام احمد نے عیسائیوں پر حملے کئے۔ لیکن مرزاغلام احمد خود اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ہے کہ وہ ایسا اسلام کے لئے نہیں بلکہ انگریزوں کے مفاد میں کر رہا تھا اور اسی مقصد کے تحت عیسائی پادریوں پر تنقید کر رہا تھا۔ اب ہم مرزاغلام احمد کے خط کے ایک دوسرے حصہ کو لیتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے: ’’ان تمام تقریروں سے جن کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بہ دل وجان خیرخواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ کی اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہی وہ اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ شرائط بیعت میں ہمیشہ تعلیم کیا جاتا ہے۔ صفحہ چہارم میں ان باتوں کی تشریح ہے۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۶۵)
    جیسا کہ میں اس کا مطلب سمجھتا ہوں۔ وہ (مرزاغلام احمد) کہتا ہے میری یہ تقریر پچھلے سترہ سالوں کی تقریروں کی تائید کرتی ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں دل وجان سے برٹش گورنمنٹ کا وفادار ہوں۔ گورنمنٹ سے وفاداری اور لوگوں سے ہمدردی میری زندگی کا اصول ہے اور یہی اصول میرے مذہب کے مجوزہ فارم (بیعت نامہ) سے بھی پوری طرح مترشح ہوتا ہے۔
    پھر جناب والا! ایک دوسری جگہ وہ (مرزاغلام احمد) کہتا ہے: ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقدکم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
    (اشتہار ملحقہ کتاب البریہ مندرجہ روحانی خزائن ج۱۳ ص۳۴۷)
    میں سمجھتا ہوں اس نے یہ کہا ہے۔ میرے پیروکاروں کی تعداد کے بڑھنے سے جہاد پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی اور مجھ پر ایمان لانا گویا جہاد سے انکار کرنا ہے۔ جناب والا! وہ مزید کہتا ہے: ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں، اشتہارات طبع کئے ہیں اور اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک مصر وشام، کابل وروم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں میں سلطنت کے سچے خیرخواہ ہوجائیں۔ مہدی خونی، مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵،۱۵۶)
    انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ میری زندگی کا اکثر وبیشتر حصہ برٹش گورنمنٹ کی وفاداری کا پرچار کرتے ہوئے گزرا ہے۔ جہاد کی مذمت میں اور گورنمنٹ کی وفاداری کے لئے میں نے اتنی کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر اشتہارات چھپوائے ہیں کہ اگر ان سب کو یکجا کیا جائے تو ان سے پچاس الماریاں بھر جائیں گی۔
    ----------
    (اس مرحلہ پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت سنبھالی)
    ----------
    جناب والا! پیشتر ازیں کہ میں دوسرا پیراگراف پڑھوں۔ آپ اس شخص کو ذہن میں رکھیں جس نے یہ خوبصورت شعر کہا ہے۔
    ’’اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
    عیسیٰ کجاست تابہ بنہد پابمنبرم‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

اس صفحے کی تشہیر