1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(انگریز خود قانون شکن تھا، مرزاناصرکااعلان)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 2, 2014

  1. ‏ دسمبر 2, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (انگریز خود قانون شکن تھا، مرزاناصرکااعلان)
    مرزاناصر احمد: نہیں،نہیں،میں…میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جس وقت… یعنی میں تویہ بتارہاہوںکہ میری سمجھ کے مطابق اس ساری Struggle (کوشش) میں قانون شکنی کی پہلی ذمہ داری انگریز نے اپنے سر پررکھی۔ اس واسطے ان کے مخالف جو جدوجہد ہورہی تھی۔ خواہ وہ کانگریس کی تھی یا مسلم لیگ کی تھی یا مسلمانوں کے کسی اورگروہ کی تھی۔میری یعنی جو میں نے سٹڈی کیاہے۔ میں اپنی رائے بتارہاہوں آپ کو، میری رائے کے نزدیک انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں پرقانون شکنی کا الزام لگایا ہی نہیں جا سکتا۔ خواہ بظاہر یہ نظر آرہا ہو۔ کیونکہ قانون شکنی کرنے والے وہ خود تھے۔ جنہوں نے قانون بنایا تھا مثلاً جلیانوالہ باغ ہے۔ انگریز کی حکومت نے وہاں Slaughter (خون ریزی) کی ان کو اجازت نہیں دی تھی۔ خود ان کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور اگر کوئی کہے کہ گولیاں چلیں اور تمہیں آرام سے بیٹھے رہنا چاہئے کیونکہ قانون شکنی نہیں جائز، تویہ توغلط ہے میرے نزدیک۔ جب انگریز نے قانون شکنی کردی تو ان کے خلاف جدوجہد جائز ہے اور Constitution (آئینی) ہے میرے نزدیک۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! آپ نے میرے لئے ایک دوسرا مشکل مسئلہ کھڑا کردیا ہے…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ…وہ اس واسطے میں عرض کرتاہوں…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    723جناب یحییٰ بختیار: …کہ ہم جو قانون پڑھتے ہیں، جو تھوڑا بہت سمجھتے ہیں۔ اس کے مطابق آپ کہتے ہیں انگریز نے قانون شکنی کی۔ انگریز کہتا ہے کہ اگر میں نے قانون شکنی کی تو اس کا فیصلہ آپ نہیں کریںگے۔ وہ عدالت کرے گی۔ اگر آپ نے کی، اس کا بھی فیصلہ عدالت کرے گی۔ توآپ کی سمجھ کے مطابق درست ہوگا یہ کہ دفعہ ۱۴۴ غلط لگائی گئی۔ مگر اس کے لئے عدالت جاناپڑتا ہے۔ وہاں Revision (نگرانی) اوراپیل ہے اس کے لئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ طریقہ ہم نے نہیں اختیار کیا۔ ہم نے کہا’’نہیں، ہم نہیں مانتے۔‘‘ تو یہ میں بات کر رہا ہوں…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ انہوں نے غلطی کی۔ یہ غیر قانون جدوجہد تھی کہ ۱۴۴ کو Violate (توڑا)کیا۔ آرڈرغلط تھا۔ آپ کی بات سوفیصد درست ہے کہ ڈی سی نے ناجائز طور پر لگایا مگر ہائی کورٹ میں Revision (نگرانی) ہے اس کی۔
    مرزاناصر احمد: جی، تویہ…آپ کا سوال ختم ہوجائے تو پھر مجھے بتادیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں کہہ رہاہوں وہ تو اورفیلڈ میں چلا جاتا ہے۔
    مرزاناصر احمد: انگریز کہتا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: قانون کہتاہے۔
    مرزاناصر احمد: نہیں،انگریز ،یعنی انگریزی حکومت۔ ہم نے وہ مثال لے لی ہے ناں ایک۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    مرزاناصر احمد: انگریزی حکومت کہتی ہے کہ ’’ہم نے قانون شکنی نہیں کی‘‘…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزاناصر احمد: …اور جو اس کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: ’’تم نے پہل کی قانون شکنی میں۔‘‘انگریزی حکومت کہتی ہے کہ ’’تم ہماراجوہے کورٹ، عدلیہ جو ہے، اس کے پاس جاؤ۔‘‘ اور وہ جو، جس پر وہ الزام لگاتے ہیں،غلط میرے نزدیک کہ تم قانون شکنی کر رہے ہو۔ وہ کہتا ہے کہ ’’تمہارا ڈی سی تو قانون شکنی کرنے والا ہے،اس کے پاس ہم کیسے جائیںگے؟‘‘
    724جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہائی کورٹ میں Revision ہوسکتی ہے۔
    مرزاناصر احمد: ساری ان کا وہ تو، ساری حکومت کا تانا بانا خراب ہوچکاتھا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو سب ٹھیک ہے۔ میںیہی، مرزاصاحب!عرض کر رہا ہوں کہ ناجائز قانون…روز قانون بنتے ہیں، وہ بظاہر ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان کا استعمال غلط ہوتا ہے۔ ورنہ یہ اختیار جو ہے اس پربھی کسی زمانے میں بڑے فائدے تھے اور بڑے لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا۔ ابھی بھی بعض لوگ کہتے ہیںکہ بڑی جلدی ہمارے فیصلے ہو جاتے ہیں بشرطیکہ ڈی۔سی ۔ایماندار ہو، بشرطیکہ جرگہ ممبر ایماندارہو۔ جب یہ شرطیں آجاتی ہیں تو آپ کو پتہ ہے کہ معاملہ ذرا مشکل ہی ہوجاتاہے۔
    توبہرحال انگریز نے ایک سسٹم رکھاتھا کہ اگر میراقانون غلط استعمال ہوتاہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ غلط ہوا۔ کسی جگہ غلط آرڈر پاس کیا ہو۔ناجائز آرڈر پاس کیاہے۔قانون کے مطابق نہیں پاس کیا۔ توعدالت سے فیصلہ کراؤ گے۔توخود قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لوگے۔ میں کہتاہوں کہ جب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ انگریز نے توبات ٹھیک کہی ہے۔ مگر آج دفعہ ۱۴۴ کاآرڈرہوتا ہے کہ کل جلسہ نہیں ہوگا۔ میں کہاں ہائی کورٹ پہنچوں۔ کیسے آرڈرلوں؟ یہ مشکلات آتی رہتی ہیں تو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم قانون شکنی اس طرح سے کرتے ہیں کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ جلسہ ضرور کریںگے۔ جلوس ضرور نکالیںگے۔ Technically speaking, Sir, they do violate law.
    Mirza Nasir Ahmad: In the eyes of the foreign rulere.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is what I say any…
    مرزاناصر احمد: نہیں، اگر ہماری بھی آنکھوں میں یہی ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہی میں کہہ رہا ہوں کہ Foreign ruler جو ہے اس کے خلاف جدوجہد ہے۔ اس نے قانون بنایا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’میرا قانون یہ ہے کہ اگر میں ایک غلط فیصلہ لیتاہوں۔آپ عدالت میں جاکر اس کو درست کرا دیجئے۔ اگر غلط ہے Set aside کرادیجئے۔ مگر آپ اس کے خلاف قدم نہیں لیںگے۔‘‘ میں کہتاہوں کہ ’’صاحب! آپ 725نے آرڈر دیا ہے کہ کل جو میراجلسہ ہے وہ نہیں ہوگا کیونکہ دفعہ۱۴۴ آپ نے لگا دی ہے۔ یہ ناجائز ہے۔ ‘‘کہتا ہے’’Revision کرو۔‘‘ میں کہتاہوں:’’Revision کروں گا، جناب!تو مجھے دو تین دن کی ضرورت ہے۔ یا اگر ۴۷ گھنٹے کی ضرورت ہو۔ہائی کورٹ میں ایک دن میں پہنچ بھی جاؤں گا تو مجھے یہ سب انتظامات کینسل کرنے پڑیںگے۔‘‘ تو وہ کہتا ہے’’جلسہ پھر دو دن کے بعد کر لو۔‘‘ وہاں سے بھی Reasonable بات معلوم ہوتی ہے۔ یہاں سے بھی Reasonable بات معلوم ہوتی ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ ’’ہم توہائی کورٹ نہیں جا سکتے، اس پر کافی دیر لگے گی۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم جلسہ ضرور کریںگے۔‘‘ میں اس Situation کا کہہ رہا ہوں کہ آپ کہتے ہیں کہ انگریز نے قانون شکنی کی۔ انگریز کے نقطہ نظر سے قانون کی نظر سے اس نے قانون شکنی نہیں کی۔ قانون شکنی وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ’’جی ہم کر رہے ہیں، ہم اپنے آپ کو جیل جانے کے لئے Volunteer کر رہے ہیں۔ ہم جلسہ کریں گے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیںگے۔جہاں تک جلسہ جلوس کا تعلق ہے۔ میں ان کے فعل کے بارے میں کہہ رہا ہوں کہ ان کو آپ Justify کریںگے یا نہیں؟
    مرزاناصر احمد: یہاں اب دو سوال میرے ذہن میں اٹھتے ہیں۔ ایک میں نے یہ سوچا کہ کیامیرا اپنا دماغ مجبور ہو جائے گا کسی وقت کہ قانون شکنی،بظاہر قانون شکنی کئے بغیر میں اپنے سیاسی حقوق کو حاصل کرسکوں ؟ تو میرے دماغ نے جواب دیا،نہیں۔ میرے دماغ نے جواب دیا کہ تجھے اﷲ تعالیٰ… میں اپنی بات کررہاہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر