1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

انسان اور اللہ کی زات

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 7, 2019

  1. ‏ اکتوبر 7, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    انسان اور اللہ کی زات
    قسط نمبر 2۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم معزز قارئین محترم الحمد اللہ پہلی قسط پر اچھا رسپانس ملا جس میں کافی شائقین کا اصرار تھا کہ موضوع کو آگے بڑھایا جائے ، تو اسی سلسلے میں آج اپ احباب کے سامنے معرف خودی کی دوسری قسط پیش کررہا ہوں،
    پہلی قسط میں ہم نے انسان اور اسکے حواس پر گفتگو کی اور ایک مدعا باندھا تاکہ تسلسل سے پڑھنے والے حضرات کے زہن میں ایک اجمالی خاکہ بیٹھ جائے اور وہ سمجھ سکیں ، اج اسی ضمن میں ہمارے دو ٹاپکس ہیں
    علم اور عقل
    knowledge and Intelect
    نفس کو جاننے کے لیے سب سے پہلے علم اور عقل کو جاننا اور پہچاننا ہوگا ۔ علم کیا ہے اور عقل کیا ہے ۔۔ اللہ عزوجل قرآن میں فرماتا ہے کہ علم دیا گیا ہے مگر بہت تھوڑا سا ۔۔۔۔۔۔ محدود سا limited علم ہے
    وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
    اور یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو انکو کہہ دیں کہ روح میرے رب کے امر سے ہے اور جو علم دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا سا ہے
    (سورۃ بنی اسرائیل 85)
    وہ الا قلیلا کہتا ہے ۔۔۔ اگر اللہ کہہ رہا ہے کہ علم تھوڑا ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عقل محدود ہے ۔ پہلے علم اور عقل میں فرق کو سمجھ لیں
    علم کسی شے کو جان لینے کا نام ہے knowing ہے ۔ خود کو جاننے کے لیے ہمیں inquire کرنا ہوگا کہ ہمارے علم کا معیار کتنا ہے ، اس کی پہنچ کہاں تک ہے تو بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ علم اپنی اصل میں کیا ہے ؟ علم کی اصلیت actuality تک پہنچنے کے لیے ہمیں خیال thoughts کو جاننا ہوگا کیونکہ زہن کی حرکت علم کی حرکت ہے ، یعنی علم خیال سے متحرک ہوتا ہے خیال یاداشت کا نام ہے ،memory ہے ڈیٹا ہے ۔ اگر کسی کی یاداشت کھو جائے تو اس کی سوچ ختم ہوجاتی ہے یا بے ترتیب ہوکر علم کے بگاڑ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پاگل پن کا ظہور ہوتا ہے
    ہمارے تمام تر خیالات ہماری مکمل ترین یاداشت memory ہیں اور ہماری تمام تر یاداشت ہمارا ماضی ہے ، ۔۔۔۔۔۔ غور کیجیے کیا ایسا نہیں ہے؟؟؟؟؟
    ہمارے پاس مستبقل کی کوئی یاداشت نہیں ہے کوئی ڈیٹا نہیں ہے ، اس کا مطلب ہے کہ تمام یاداشتیں memory ماضی ہے past ہے۔ جو ہوچکا ہے وہ ہمیں یاد ہے یہی یاد ہمارا خیال ہے آپ غلام نبی نوری پر یقین کرنے کی بجائے ان لکھی گئی لائنز پر شک doubt کی نگاہ سے دیکھیں اور اپنا تجزیہ خود کریں
    جن تجربات و احساسات سے ہم گزر چکے ہیں وہ ہمارا ماضی ہے ہم نے کہیں پڑھا ۔ کہیں سنا ، کہیں دیکھا ، کچھ سونگھا چکھا ، ۔۔۔۔۔۔۔ جو بھی اپنی ساری زندگی محسوس کیا وہ ہمارا تجربہ ہے experience ہے ہمارا ادراک ہے
    یہ ہمارا ماضی ہے اور ہمارا ماضی past ہی ہمارا تمام تر علم ہے ، ہمیں مستقبل کا کوئی علم نہیں، حال کے تجربے سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں ، اس لیے ہمارا سارا علم ہمارا ماضی ہے، یعنی مدعا یی نکلا کہ علم اپنی حقیقت reality میں ماضی past ہے ۔ یہ ایک حقیقت fact ہے ۔
    دنیا میں کم و بیش پچاس ہزار سال سے انسان جیتا مرتا چلا آرہا ہے ، کسی کو علم نہیں کہ کتنی تعداد ہے نہ کوئی گن سکتا ہے ، یہاں تک کہ آج کل ہر روز چھے ارب سے اوپر انسان جی مررہا ہے ، اپنے ہم جنسوں کی اتنی عظیم تعداد کے درمیان جیتا ہوا ایک انسان بے حقیقت شے ہے ، اس کے تجربات لازم ہے کہ محدود کہلائیں ، چونکہ اس کی زاتی زندگی ایک محدود دائرے میں چل رہی ہے اس لیے اس کے پاس ماضی کی صورت میں جو معلومات ہیں جسے وہ علم کہتا ہے اللہ فرماتا ہے وہ بہت تھوڑا ہے ، دیا گیا ہے مگر بہت limited ۔۔۔۔۔۔۔ عقل intellect اس علم کو استمال کرنے کا نام ہے۔
    کسی بھی صورت حال میں ہمیں جو فیصلہ کرنا ہے وہ عقل ہے جس کی بنیاد علم ہے چونکہ ہمارا علم محدود ہے اس محدود علم کی بنیاد پر روزمرہ زندگی کے جو چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں وہ بھی انتہائی محدود حثیت کے حامل ہوتے ہیں اسے زاویہ نظر perspective کہتے ہیں۔ ہمارا اس زندگی کو گزارنے کا زاویہ تنگ چھوٹا اور محدود ہوتا ہے narrow اور limited ہوتا ہے اس لیے ہم حادثاتی انسان accidental being کی طرح زندگی گزارتے ہیں، ہمارے فیصلے کی ہماری عقل کی اور ہمارے علم کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی ن۔ ہم اپنے تمام فیصلے اپنے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں ، ایسے محدود تر زاویہ نظر ہم حقیقت و سچ تک کیسے پہنچ سکتے ہیں،
    ہم حال present میں بیٹھ کر اپنے ماضی pastکا تجزیہ analysis کرتے ہوئے اپنے مستقبل future کے خدوخال بنانے اور اسے تبدیل modify کرنے میں مصروف ہوتے ہیں، جبکہ ہمیں بنانے والا خالق و مالک یہ کہہ رہا ہے کہ کوئی زی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا
    إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

    یقینا (قیامت کی) گھڑی کا علم ا ﷲ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور نہ کسی متنف کو یہ پتہ ہے کہ کونسی زمین میں اُسے موت آئے گی۔ بیشک اﷲ ہر چیز کامکمل علم رکھنے والا، ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے(سورہ لقمان آیت 34)

    جب اللہ نے فرمایا کہ میں روئے زمین پر اپنا نائب انسان کو بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا کہ اے رب یہ تو خون بہانے والا فساد کرنے والا ہے اللہ نے کہا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کو کچھ چیزوں کے نام سکھائے پھر ایک مدت کے بعد فرشتوں سے پوچھا کہ ان اشیاء کے نام بتاو انہوں نے عاجزی کی کہ اللہ تونے جو بتایا ہے ہم وہی جانتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں پھر آدم علیہ السلام کو حکم ہوا تو انہوں نےاشیاء کے نام بتا دیے
    (سورہ بقرہ آیت 30 تا 33)
    اگر آپ غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ہمیں اشیاء کے ناموں کا علم ہے ان کے اچھے اور برے خواص کا بھی علم ہے ، لیکن ہم کسی بھی شے کی حقیقت نہیں جانتے ، آپ کی پوری زندگی آپ کے پورے علم میں کوئی ایک شے بھی نہیں ایسی جس کی اصل حقیقت اور ماہیت actuality کا آپکو علم ہو !
    ماچس کا پتا ہے کہ اس سے آگ جلے گی ، فائدے کا بھی پتہ ہے اور نقصان کا بھی ۔ لیکن آگ بذات خود کیا ہے ؟؟ کچھ گیسز کا مجموعہ ؟؟؟؟ اچھا ؟؟ گیس اپنی اصل میں کیا ہے ؟ اسکی actuality کیا ہے ، ماچس میں تیلی ہے اس کے سرے پر مصالحہ ہے تیلی لکڑی سے بنی ہے لکڑی درخت سے آئی ہے درخت کے پتے شاختیں ہیں تنا ہے اسکی جڑ ہے درخت بیج سے بنتا ہے ہر شے کا بیج ہوتا ہے لیکن یہ بیج اصل میں کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    جب بھی آپ کسی شے کی جڑ root تک جائیں گے تو دیکھیں گے کہ کسی بھی شے کی حقیقت کا
    ہمیں کچھ علم نہیں ہے ۔۔۔۔ جو حاصل ہے وہ بہت تھوڑا سا ہے
    حضور اکرم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے
    اللھم ارنا الاشیاء کما ھی
    اے اللہ ہمیں چیزوں کو ویسے دیکھا جیسے انکی حقیقت ہے
    (ترمزی ، کتاب الاعدیہ صفحہ 456)
    ہمارا علم محدود ہے limited ہے جب تک ہم اس حقیقت کو سمجھ کر مان نہیں لیتے تب تک اصل علم کا دروازا ہم پر نہیں کھلتا نہ ہی نفس پاک ہوتا ہے ،
    اللہ عزوجل نے فرمایا انسان ظالم violent اور جاہل ignorant ہے تو ہم اپنے رب کی اس statement کو کیوں نہیں مانتے کہ ہم جاہل ہیں ؟؟ مانیں گے نہیں تو جہل کا طلسم کیسے ٹوٹے گا ؟؟
    إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
    ہم نے آسمانوں اور زمین پر اور پہاڑوں کے سامنے اپنی امانت پیش کی انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا ، اور اس سے ڈر گئے ، اور انسان نے اسے اٹھا لیا ، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل تھا
    (سورہ احزاب آیت 72)
    علم اور عقل کے علاوہ ہمارے پاس ایک شے ہے جسے شعور کہا جاتا ہے یہ ایک بڑی وسیع آنکھ اور وسیع تر زاویہ نظر ہے ، ہمیں ایک لمحے میں پتہ ہے کہ کہ ہم کون ہیں، پانی ساری زندگی سے ہم ایک ایک لمحہ باخبر ہیں ، اس کے لیے ہمیں کسی علم و عقل کی ضرورت نہیں ہے ، ہم باخبر ہیں aware ہیں کہ ہم زندہ ہیں، ہمیں اپنے حواس جسم اور علم و عقل کا شعور ہے ہمیں کچھ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں یہی ہمارا شعور ہے !!!!
    ایک مثال دیکر سمجھاتا ہوں ۔۔۔۔
    اپ نے اکثر ڈائری کے شروع میں دنیا کا نقشہ دیکھا ہوگا اس نقچے میں اگر کوئی آپ شہر ڈھونڈ رہے ہوں تو آپ نقشے میں گم ہوجاتے ہیں آپ کچھ ڈھونڈ رہے ہیں یہ ہمارا علم و عقل ہے ، اس نقشے کو اس map کو ایک نظر میں پورا دیکھنے کے کے لیے آپ کو کچھ وقت کے لیے عارضی طور پر منزل destination چھوڑنا ہوگی ، سوال چھوڑ دینا ہوگا ، آپ کو احساس ہوگا کہ اگر آپ کچھ نہیں ڈھونڈ رہے تو آپ پورا نقشہ دیکھ سکتے ہیں اب پوری دنیا ایک نظر میں آپ کے سامنے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس یہی آپ کا شعور ہے
    کیا انسان اس بات پر قادر نہیں کہ اپنی پوری زندگی پر ایک نظر ڈالے اور سب دیکھ لے ؟؟ کیا آپ نے کبھی ایسا کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہم باشعور ہونے کے باوجود بے شعوری کی زندگی کو ترجیع دیتے ہیں ؟ ہمیشہ ساری زندگی چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل میں مصروف آدمی خود کو پورے طور پر دیکھنے کو تیار ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ کیوں؟؟؟
    تمام جہانوں کا رب فرماتا ہے کہ ہم نے انسانوں کو ایک ہی نفس پر پیدا کیا ہے یعنی ایک ہی psyche پر ۔۔ ہم سب کی ایک ہی نفسیات ہے اس لیے جب میں لکھتے ہوئے میں لکھتا ہوں تو وہ آپ ہی لکھ رہے ہیں ۔۔۔ ایک ہی بات ہے سب میں ایک ہی نفس کارفرما ہے ۔۔۔۔۔۔
    خیال کیا ہے ؟؟؟ سوچ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس پر بات کریں گے اگلی تیسری قسط میں تب تک کے لیے اجازت چاہتا ہوں ۔ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار لازم کیجیے گا مضمون کو سمجھنے کے لیے گزشتہ اقساط مطالعہ بھی کیجیے ۔۔۔
    فقیر مدینہ غلام نبی قادری نوری
    [​IMG]

اس صفحے کی تشہیر